زبان اور ثقافت سے محروم نسل


جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ کوئی زبان اپنی اصلیت میں چاہے کتنی ہی بڑی اور وسیع کیوں نہ ہو، لیکن جیسے ہی وہ اپنی سرحد سے باہر نکلتی ہے، اُس کی ساری صفتیں اڑنچھو ہو جاتی ہیں۔ اپنی مادری زبان سے بچھڑنے کا مطلب دراصل اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور اپنی اصلیت سے بچھڑنا ہے۔ اس لئے پنجاب کی وہ نسل جس نے بولنا ہی اردو میں سیکھا ہے، وہ اپنی زبان کے علاوہ اپنی ثقافت سے بھی بچھڑ چکی ہے۔ اپنی ثقافت والدین نے اُن کی ہڈیوں میں رچنے نہیں دی، اور یو پی سی پی کی ثقافت تو یہاں کی تھی ہی نہیں۔

لیکن یہ مسئلہ صرف اس نسل میں آئی کمیوں کا نہیں ہے۔ زبان دراصل اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ایک مشترک سماجی ذریعہ، اور ہر طرح کے سماجی رابطوں کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ وہ دھاگہ ہے جو سماج کے تمام افراد کو ایک مالا میں پرو کر قوم بناتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اگر زبان کی بنیاد پر کوئی تقسیم پیدا ہو جائےتو پورا معاشرہ دھڑوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کا دُشمن بن جاتا ہے۔ ان دھڑوں کی یہ دشمنی اُتنی ہی شدید ہوتی ہے جتنا ان کے درمیان معاشی وسیلوں تک رسائی میں فرق ہوتا ہے۔ اور یہی تقسیم اس وقت پنجاب کے باسیوں میں بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کو اردو سکھا رہے ہیں وہ اس کے ساتھ بہت ہی واضح الفاظ میں اُن کے ذہنوں میں دھرتی کی مادری زبان اور اسے بولنے والوں کے خلاف نفرت کا زہر بھی بھرتے جا رہے ہیں۔

اس طرح ہماری نئی نسل کے وہ افراد جو پڑھ لکھ کر کسی سماجی مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں، وہ نہ تو سماجی سیڑھی پر اپنے سے نچلے ڈنڈے پر کھڑے بھائیوں کے ساتھ گھل مل کر جی سکتے ہیں، اور نہ ہی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری دھرتی پر اس وقت دو دھڑے اس طرح کے بن گئے ہیں جن میں سماجی سطح کا فرق ہونے کے علاوہ ان کی زبانیں بھی مختلف ہیں۔ سماج کی اونچی سطح پر کھڑے لوگوں کو اس کیفکر اس لئے نہیں ہے کہ اس کا خمیازہ تو زیادہ تر کمزوروں اور غریبوں ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب کی وہ پچاسی فیصد خلقت جو اپنی مادری زبان سے جُڑے ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ گئی ہے، وہ قومی ترقی کے دھارے میں اپنا حصہ ڈالنے سے بھی قاصر ہے۔ اب اگر کسی قوم کا پچاسی فیصہ حصہ قومی ترقی کے ہر کام میں سے باہر نکال دیا جائے تو اس سے بڑھ کر کوئی قومی حادثہ بھلا کیا ہوگا

یہ تو اس بات کا صرف ایک رخ ہے۔ اگر ہم اُن لوگوں کی طرف سے دیکھیں جنہیں اپنی مادری زبان کے علاوہ کوئی اور زبان آتی ہی نہیں، تو وہ دِھیرے دِھیرے، سماجی دھارے میں سے باہر نکالے جا رہے ہیں۔ دُکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا سماجی تعلق استوار کرنے کی کسی کو فکر بھی نہیں ہے۔ کوئی اُن سے اُن کے مسئلوں کے بارے میں بات کرنا نہیں چاہتا۔ انہیں صرف یکطرفہ خطبے سُننے کو ملتے ہیں اور وہ بھی اردو میں۔ ان لوگوں میں اپنی زبان کے حق میں کسی تحریک کے نہ اُٹھنے کو اس بات کی دلیل سمجھ لیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی زبان سے ہو رہی زیادتی کو دل سے قبول کر لیا ہے۔ یہ دلیل سچی تو ہے لیکن پوری طرح سے نہیں۔ پنجابی زبان کے حق میں چاہے کوئی بڑی تحریک دکھائی نہیں دیتی، لیکن اپنی ثقافت کے بارے میں پنجابی اتنے مردہ نہیں ہیں۔

پرائی زبانوں(اردو اور انگریزی) کے ساتھ پرائی ثقافتوں کی یلغار کو ہمارے نچلے طبقوں نے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ اپنی زبان اور ثقافت کی ترویج کا حق تو ہمارا آئین بھی دیتا ہے، اور دوسرے صوبوں نے ایس حق کا فاعدہ پنجاب کی نسبت بہت زیادہ اُٹھایا ہے۔ پنجاب کا اونچا طبقہ جس کے کاروبار، کمائیاں اور نوکریاں اردو کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں، اور جس کے ہاتھ میں سارے اختیار ہیں، وہ اپنے ذاتی لالچ کی وجہ سے پنجاب کی وسیع تر ترقی کے سامنے بند باندھ کر کھڑا ہے۔ لیکن جب کسی کا جائز حق اس سے چھین لیا جائے تو آج یا کل، ایک دن تو اس کی سمجھ اُسے آ ہی جاتی ہے، اور اگر کسی وقت کمزور اور غریب پنجابیوں کو بھی آ گئی تو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آخر اس وقت ہم عالمی سطح پر ایک جمہوری دور میں جی رہے ہیں، اور جمہوریت کی بدلیاں کبھی کبھار ہمارے ملک میں بھی ایک آدھ چھینٹا دے ہی جاتی ہیں۔ اپنا یہ حق تو پنجاب کی خلقت ووٹ کی پرچی پر مہر لگا کر بھی لے سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو خلقت کا یہ حق انہیں خود ہی لوٹا دیا جائے۔

لیکن کیا ضرورت ہے ہمیں اتنا دور جانے کی۔ کیوں نہ ہم اپنے دیس کی خلقت میں ہوتی ہوئی ایک غیر ضروری تقسیم کا راستہ روکنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ جو لوگ اپنے بچوں کو بولنا ہی اردو میں سکھا رہے ہیں وہ اردو کو درحقیقت پنجابی سے کوئی بہتر زبان سمجھنے کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے۔ وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ انسان کی خوشحالی، اور ترقی کے تمام وسیلے اس وقت اردو سے جُڑے ہوئے ہیں۔ آج اگر ان تمام وسیلوں تک پہنچ پنجابی زبان میں بھی اتنی ہی سہولت سے ہونے لگے، تو یہی لوگ اپنے بچوں کو پنجابی سکھانے میں اردو سے بھی زیادہ چست نظر آئینگے۔ لیکن یہ کام تو حکومت کا ہے اور حکومت کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف خلقت کے درمیان غیر ضروری تقسیم سے بچنے اور دیس کی ترقی ہی کا نہیں، بلکہ دراصل یہ معاملہ اپنی دھرتی کے کمزور اور غریب طبقوں کو اپنی زمین پر عزت اور مان سے جینے کا حق دینے کا بھی ہے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2