اب آ گیا ہے عمران، بنے گا نیا پاکستان ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قنوطیت پسندی کسی کے مزاج میں بھی ہو سکتی ہے مگر تجربات و حوادث بھی انسان لک قنوطی بنا دیتے ہیں۔ قنوطیت کا خاتمہ محض رجائیت پسندی پیدا کر لینے سے ممکن نہیں ہوتا تاوقتیکہ حالات اس جانب نہ لے جائیں کہ انسان قنوطیت سے نکلے اور پھر رجائیت پسندی اس کے اندر سے خود بخود پھوٹے۔

پروپیگنڈا بہت موثر طریقہ ہے جس سے لوگوں میں وفور پیدا کیا جاتا ہے مگر رجائیت پسندی پروپیگنڈے سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ پہلے زمانوں میں اور اب بھی جب بہت سے لوگ، جو عموما“ مزدور ہوتے ہیں اور اگر زلزلہ وغیرہ آ جائے تو بھاری ملبہ مل کر ہٹانے میں عام آدمی بھی حصہ لے لیتے ہیں، “ زور لگا کے ہے بھیا“، کہنے سے سب کو خواہش پیدا ہوتی ہے کہ پورا زور لگائیں مگر زور لگا کے ہے بھیا کہنے سے نہ تو ان مزدوروں کے کچے گھروندے پکے ہوتے ہیں اور نہ ہی پتلی دال، آلو گوشت میں بدلتی ہے۔

پاکستان میں انتخابات سے چند روز پہلے ماسکو میں پی ٹی آئی کی ایک میٹنگ کا پیغام مجھے بھی وٹس ایپ پر موصول ہوا۔ یہاں ایک بات کہنا بنتی ہے کہ میں نے کبھی نہیں سنا کہ نیویارک میں لیبر یا ٹوری کا چیپٹر یا شاخ ہو یا لندن میں ریپبلیکنز یا ڈیموکریٹس موجود ہوں۔ اور تو اور میں نے کہیں بھی چاہے لندن ہو، ماسکو یا نیویارک ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کی شاخیں ہونے کے متعلق بھی نہیں سنا مگر پاکستان کی ہر بڑی پارٹی دنیا کے سارے بڑے شہروں میں باقاعدہ پائی جاتی ہے، کیوں اور کیسے معلوم نہیں البتہ وہ کہیں بھی سرکاری طور پر رجسٹر نہیں ہوتی۔

خیر پیغام وصول ہونے کے دو چار گھنٹوں بعد ماسکو میں پی ٹی آئی کے جنونی کوآرڈینیٹر اعجاز احمد کا مجھے فون آیا، جس نے کہا کہ سر میٹنگ تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ہے مگر آپ بھی آئیں، میں نے جھٹ سے انکار کر دیا مگر اعجاز میرے لیے اپنی محبت کا اظہار کرکے مجھے پہنچنے پر منوا بیٹھا۔ اگر وہ اتنا کہہ دیتا کہ آپ بطور مبصر شریک ہوں تو میں انکار بھی نہ کرتا۔ اعجاز گا بھی لیتا ہے اور لگتا چالیس کا ہے مگر بتایا کہ باون کا ہو چکا ہے البتہ پی ٹی آئی کے لیے اسی طرح جذباتی ہے جیسے اٹھارہ بیس برس والے ہوتے ہیں۔ اس نے مجھ سے معذرت کرکے ”عمران نوں جتوانا اے بھانویں سر دی بازی لگ جاوے، وزیراعظم بنوانا اے بھانویں سر دی بازی لگ جاوے“ بھی گایا۔

میں نے اس ایونٹ بارے کچھ نہیں لکھا، تعصب کے سبب نہیں محض اس لیے کہ کیا لکھتا۔ اکٹھے ہوئے، کھانا کھایا، فوٹو سیشن ہوئے اور گیت گائے گئے۔ البتہ وہاں پی ٹی آئی کی ماسکو اشرافیہ کو یقین تھا کہ وہ جیتیں گے۔

جس روز انتخابات تھے، میں باتھ روم میں کھڑا شیو کرتے ہوئے گنگنا رہا تھا، ” جب آئے گا عمران۔ “ کیا گنگنا رہا ہوں، باور کرکے ماتھا ٹھنکا کہ کہیں ماقبل نتائج آگاہی تو نہیں مل رہی۔ اس سوچ پر میں نے لاحول پڑھی اور خیال کیا کہ ” زور لگا کے ہے بھیا“ کی طرز پر چور، لٹیرے، ڈاکو، پٹواری، بدعنوان کے ساتھ ساتھ جب آئے گا عمران یا روک سکو تو روکو تبدیلی آئی رے جیسی مقبول طرزوں سے جوان لوگوں کو چارج کر دیا گیا ہے، الیکٹیبلز کو شامل کرکے پی ٹی آئی کے ٹکٹ دیے جا چکے ہیں، عدلیہ کے ذریعے حکمران پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم کو نا اہل قرار دلوا کر ان کی ممکنہ وارث سمیت جیل بھجوایا جا چکا ہے۔ حنیف عباسی کو تین روز پہلے عمر قید دے کر زندان نشیں کر دیا گیا ہے۔ ہارون بلور شہید کیے جا چکے ہیں۔ مستونگ میں خوفناک دھماکہ ہو چکا ہے۔ پشاور کا ڈی سی ایک ہزار تیار کفنوں کی بات کر چکا ہے تو عیاں ہے کہ لوگوں کے اذہان ”تبدیلی ” چاہیں گے۔

انتخابات ہو گئے۔ پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی مل گئی کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کیے جانے کا شور مچ گیا۔ پی ٹی آئی کو اتنی نشستیں مل جانے کا شاید خود بھی یقین نہیں تھا مگر مل گئیں۔ جہاں ایک طرف چند ماہ پیشتر پی ٹی آئی میں ”الیکٹیبلز“ کو لیا جانا، نئے بنے سرائیکی محاذ کو پی ٹی آئی میں ضم کیا جانا، نواز شریف، مریم، صفدر اور عباسی کو سزائیں ملنے نے کام دکھایا وہاں اس بات نے بھی کام کیا کہ عمران جیسا بھی ہے مگر مالی حوالے سے بدعنوان نہیں ہے اسے آزما لینا چاہیے۔ یوں لوگوں نے ووٹ دیے۔ اور تو اور پنجاب میں بھی دیے۔ کراچی اور بلوچستان میں بھی۔

دیکھیں صاحبان، قنوطیت کی بات نہیں ہے بات ہے سیدھی سی کہ عمران خان نے ان کو لیا جن کے وہ خلاف تھے یعنی الیکٹیبلز کو۔ ابھی طے نہیں ہوا کہ وہ وزیراعظم ہوں گے مگر غالب خیال یہی ہے اور ان کی پارٹی کے واحد ”ماہر معیشت“ اسد عمر نے سابق حکمران جماعت کے واحد ”ماہر معیشت“ اسحٰق ڈار کی سی بات کہہ ڈالی کہ ” آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لیے بنا چارہ نہیں ہے“ جبکہ عمران خان پہلے کی ایک تقریر میں کہہ چکے تھے کہ میں خود کشی کر لوں گا مگر بھیک نہیں مانگوں گا۔ اب وہ کہہ دیں گے کہ یہ بھیک تھوڑا ہے، قرض لینے کو بھلا کیا بھیک لینا کہتے ہیں۔

نیا پاکستان لگتا ہے بننے سے پہلے ہی کچی اینٹوں کی بنیادوں پر استوار کیا جانے لگا ہے۔ اوپر سے جس پتے پر تکیہ تھا وہ ہوا دینے لگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کہہ بیٹھے کہ وہ اپنا گھر سیدھا نہیں کر سکے۔ اب عمران خان کے لیے فرض بنتا ہے کہ پہلے تو میاں صاحب کی مدد کرکے ان کا گھر سیدھا کروائیں۔ پھر خود کو وعدے کے مطابق شفاف احتساب کے لیے پیش کریں۔ باقی باتیں تین ماہ بعد کیونکہ ظاہر یہی ہوتا ہے کہ پاکستان پرانا ہی رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •