عمران خاں کو معلق پارلیمنٹ میں ووٹ کی عزت کا علم ہونے کو ہے


تین دن کی تاخیر کے بعد بالآخر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج کا غیر حتمی اور غیر سرکاری اعلان کردیا ہے۔ اس طرح اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ صرف سندھ اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں میں بالترتیب پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اسمبلی اور بلوچستا ن اسمبلی میں کسی ایک پارٹی یا سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ تحریک انصاف نے اگرچہ انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی بننے کے علاوہ پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کی ٹکر پر نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ لیکن مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے اسے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کے علاوہ متعدد چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کرنی پڑے گی۔ اس طرح دیکھا جائے تو انتخابات سے پہلے معلق پارلیمنٹ کا جو اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا ، وہ درست ثابت ہؤا ہے۔ واضح اکثریت نہ رکھنے کی وجہ سے تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کو برقرار رکھنے کے لئے چھوٹی پارٹیوں کے ناز نخرے برداشت کرنا پڑیں گے اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنا ہو گا۔ یہ چھوٹے گروہ کسی سیاسی بحران کی صورت میں عمران خان کی وزارت عظمی کے لئے خطرہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

پنجاب کی صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔ وہاں مسلم لیگ (ن) کو 129 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہؤا ہے اور وہ بہر صورت پنجاب میں حکومت سازی کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار بھی ہوگی۔ لیکن موجودہ حالات میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے لئے پنجاب میں حکومت قائم کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ن) کو موقع دینے کی بجائے خود حکومت سازی کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ بلکہ پارٹی کے کئی سورما قائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے لئے تگ و دو بھی شروع کردی ہے۔ یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ عمران خان مرکز میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے قومی اور صوبائی نشستوں سے بیک وقت منتخب ہونے والے اراکین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ صوبائی کی بجائے قومی نشست کو ترجیح دیں لیکن ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ کا نشہ اور شوق اس وقت باقی سب ہدایات پر حاوی دکھائی دے رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر پنجاب میں کمزور ہی سہی حکومت بنانے کی شدید خواہش کا اظہار کرچکی ہے لیکن اس کے امکانات محدود ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ (ن) کی 129 نشستوں کے مقابلے میں 123 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ انتخابات کے دوران تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ اڈجسٹمنٹ کرنے والی مسلم لیگ (ق) کو بھی سات نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح تکنیکی لحاظ سے تحریک انصاف کو نواز لیگ کے مقابلے میں حکومت سازی کے لئے برتری حاصل ہے۔ گو کہ یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ مسلم لیگ (ق) اس تعاون کی قیمت اپنے حجم اور حصہ سے بڑھ کر ملنے کی توقع لگائے ہوئے ہے۔ تاہم پنجاب میں آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے 29 ارکان فیصلہ کن رول ادا کریں گے۔ آزاد ارکان کی پہلی ترجیح اختیار ہوتا ہے۔ صوبے کی حد تک تو وہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن تحریک انصاف چونکہ مرکز میں بھی حکومت بنانے والی ہے۔ اس لئے اقتدار کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے والے ان ’جان نثاروں‘ کی پہلی اور فطری ترجیح تحریک انصاف ہی ہو گی۔

مسلم لیگ (ن) اس وقت پنجاب میں اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہی ہے۔ شہباز شریف کو لگتا ہے کہ ان کی مصالحانہ سیاست کا صلہ اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب پنجاب میں ان کا اقتدار محفوظ رہنے دیا جائے۔ شہباز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنے کا کوئی عملی تجربہ بھی نہیں ہے ۔ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور بھی مس فٹ ہی ہوں گے۔ شہباز شریف پنجاب حکومت بچانے کے لئے جہاں سے امداد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں ، وہ حلقے ایک شکست خوردہ لیڈر کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے مرکز میں اقتدار سنبھالنے والی پارٹی اور لیڈر کو بے مقصد ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ اگرچہ یہ اندازہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ حکومتیں بنوانے میں کوئی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ مستقبل میں مرکز اور صوبوں میں بننے والی حکومتوں کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا نہ ہو تو وہ مرکز کی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کے لئے پنجاب میں اس کے مخالف گروہ کو حکومت دلوا سکتے ہیں۔ اس قیاس کے تحت ایسی صورت میں آزاد ارکان تحریک انصاف کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں اس کا امکان بہت کم ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اگر اسٹبلشمنٹ کی درپردہ طاقت نے مسترد کیا ہے تو عوام نے بھی 25 جولائی کو مسلم لیگ (ن) کو چیلنج کرنے والی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف کو کامیاب کروانے کے لئے ووٹ دیا ہے۔ اس صورت میں بھلے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں رسمی اکثریت حاصل ہے لیکن اسے اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت کی نگرانی کرنے کے کام کا آغاز کرنا چاہئے۔ یوں بھی ماضی کے تجربات کی روشنی میں اگر مرکز اور پنجاب میں مختلف پارٹیوں کی حکومتیں ہوں تو قومی معاملات تعطل کا شکار ہوتے ہیں اور ہر اہم مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ماضی کے اس تجربہ کی روشنی میں تحریک انصاف پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کے لئے تیار ہو گی تاکہ مسلم لیگ (ن) کو یہ اہم صوبائی حکومت دے کر اسلام آباد کے لئے غیر ضروری مسائل کا تدارک کیا جاسکے۔

پنجاب اسمبلی کے برعکس قومی اسمبلی کی صورت حال زیادہ گنجلک اور دلچسپ ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو 115 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اسے اکثریت کے لئے 272 کے ایوان میں سے کم از کم 137 ارکان کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے موقع پر اکثریتی پارٹیوں کا سہارا بننے والے آزاد ارکان اس بار قومی اسمبلی میں فیصلہ کن تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کل تیرہ ارکان آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ اگر وہ سب بھی تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں تو بھی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے مزید دس ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ اس صورت میں شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اپنی واحد نشست کے ساتھ عمران خان کا ساتھ دے گی ۔ شیخ صاحب اس کے بدلے میں اپنی مرضی کی وزارت کے امید وار بھی ہوں گے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کی چار، بلوچستان عوامی پارٹی کی دو اور سندھ کے گرینڈ نیشنل الائینس کی دو نشستیں ملا کر بھی واضح اکثریت حاصل کرنا محال ہو گا۔ اسی لئے جہانگیر ترین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مدد حاصل کرنے کے لئے کراچی پہنچے ہیں۔ اس طرح متعدد چھوٹے گروہوں کو ساتھ ملا کر اگرچہ عمران خان کو اعتماد کا ووٹ تو مل جائے گا لیکن ان گروہوں کو ساتھ ملانے اور مستقل طور سے ساتھ لے کر چلنے کی بھاری سیاسی قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ یہ قیمت وزارتوں کی تقسیم کے علاوہ اس سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے جس کی تکمیل کا وعدہ عمران خان انتخاب جیتنے کے بعد کی جانے والی تقریر میں بھی کرچکے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اکثریت کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ متعدد نشستوں پر دوبارہ ووٹ گننے کی درخواستیں منظور کی جاچکی ہیں اور یہ ری کاؤنٹ شروع ہورہا ہے ۔ اس سے بھی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہونے والے ارکان صرف ایک ایک نشست پر ہی حلف اٹھا سکتے ہیں۔ خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخاب کے ذریعے ارکان چنے جائیں گے۔ یہ بات حتمی طور سے کہنا مشکل ہے کہ تحریک انصاف تمام خالی کی ہوئی نشستوں کو دوبارہ بھی جیت سکے گی۔ اکثریت حاصل کرنے کے لئے ایک ایک نشست کا حساب کرنے والی جماعت کے لئے یہ صورت حال خوشگوار اور اطمینان بخش نہیں ہوگی۔

ایسی صورت میں پنجاب یا قومی سطح پر مسلم لیگ (ن) میں سیندھ لگا تے ہوئے فارورڈ بلاک بنوا کر تحریک انصاف کو ریلیف فراہم کرنے کی کوئی کوشش ملک میں سیاسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی۔ اس وقت جو لوگ انتخابات کے بارے میں شبہات کے باوجود ’ووٹ کو عزت دو ‘ کے نام پر عمران خان کے حق حکومت کی حمایت کر رہے ہیں ، وہ بھی عوامی رائے کو تبدیل کرنے کی ایسی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali