مولانا اعظم طارق کے بیٹے معاویہ اعظم نے تعاون کے بدلے صوبائی وزارت مانگ لی
کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے مقتول سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق مرحوم کے صاحبزادے اور اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما مولانا معاویہ اعظم نے جھنگ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے بعد اس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جو انہیں صوبائی وزارت دے گی۔
تفصیلات کے مطابق مولانا معاویہ اعظم طارق نے پی پی 126 جھنگ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا اور 65 ہزار 252 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے ان کے مدمقابل امیدوار نے 32 ہزار 774 ووٹ حاصل کیے۔
پنجاب میں حکومت سازی کیلئے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی جانب سے آزاد امیدواروں سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ معاویہ اعظم سے جہانگیر ترین اور شہباز شریف نے رابطہ کیا ہے اور اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ معاویہ اعظم نے نہ کسی کو انکار کیا اور نہ ہی کسی کو شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو وزارت دے گا اس کی طرف جائیں گے۔ جو ملنا چاہتا ہے جھنگ آئے۔ معاویہ اعظم کے مطالبے کے بعد شہباز شریف نے اپنا نمائندہ جھنگ بھجوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ مولانا معاویہ اعظم کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں جنوری 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہیں نواز شریف کی ناہلی کے دو روز بعد 30 جولائی 2017 کو رہا کر دیا گیا تھا۔ جون 2018 میں الیکشن کمیشن نے ان کی نااہلی کے بارے میں درخواستیں مسترد کر دہی تھیں

