کراچی میں پہلی بار بیلٹ باکس نہیں، ووٹ پڑے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ ہندو ستان سے ہجرت کرنے والوں کی آل اولادجو اردو بولتی ہے اور میرپور خاص ، حیدر آباد ، سکھر اور کراچی میں آباد ہے۔ایک زمانے میں ایم کیو ایم کا عروج ان ہی کی حمایت کا مرہونِ منت تھا۔ لیکن اس جماعت میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی آمیزش کے ساتھ یہ جماعت پڑھے لکھے اور متوسط طبقے کی سپورٹ سے محروم ہو تی چلی گئی۔
پرویز مشرف کے دور میں ایم کیو ایم کو کثیر بجٹ اور مکمل اختیار کے ساتھ کام کرنے اور مصطفی کمال کو اپنی صلاحیت آزمانے کا موقع ملا تو لوگوں نے دیکھا کہ کراچی ناصرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک مثال بن کر ابھرا۔ ایم کیو ایم سے دل برداشتہ لوگ ایک بار پھر ایم کیو کی حمایت کرنے لگے اور 2007 کے الیکشن میں کثیر تعداد میں اس کے حامیوں نے ووٹ اور اس کے کارکنوں نے پاکستانی الیکشن کی عام روایت کے مطابق بیلٹ باکس ڈالے۔ لیکن پھر متحدہ کے بانی کی بدلتی ذہنی کیفیت اور کراچی میں آئے روز جلاؤ گھیراؤ کے واقعات نے اس جماعت کے اردو بولنے والے برد بار طبقے کو ایک کوفت میں مبتلا کردیا ، ایسے میں تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے نے اس طبقے کے اندر امید کی ایک نئی کرن جگمگائی اور تبدیلی کے نعرے سے کم اور ایم کیو ایم سے جان چھڑانے کے جذبے نے کراچی کے عوام کے اندر ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ مگر ایم کیو ایم کے چندشدت پسند کارکنان کی دہشت کے خوف سے لوگ اپنی رائے کا کھلم کھلا اظہار کرنے سے ڈرنے لگے۔ مگر 2013 کے انتخابات کی مہم میں پی ٹی آئی اور پی پی پی کی جانب کراچی کے عوام کا بڑھتا میلان پھر بھی واضح دکھائی دے رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ الیکشن کے نتائج میں جب ایم کیو ایم کو واضح اکثریت ملی، تو اس جماعت سے بر گشتہ عوام میں اس جماعت اور اس کے قائد سے نفرت کا برملا اظہار کیا جا نے لگا۔
ایم کیو ایم کے بانی اور اس کے قائدین عوام کے بدلتے تیور میں اپنے مسقبل کو گم ہو تا دیکھ رہے تھے۔ اسی زمانے میں ان کے چند ٹارگٹ کلرز نے پھانسی سے قبل اس پارٹی کے خلاف خوفناک انکشافات کیے۔ دبئی سے مصطفیٰ کمال کی آمد سے اس جماعت میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔ 22 اگست 2016 میں الطاف حسین کو پاکستان مخالف بیانات، نعروں اور کارکنوں کو اکسانے پر بین کر دیا گیا۔ عشرت العباد نے بھی اپنا غبار نکالا یوں یہ جماعت خود ہی ایک دوسرے کے پول کھولنے میں مصروف ہو گئی۔ اب کراچی کے عوام بھی کھل کر اپنی رائے اوران کی مخالفت کا کھل کر اظہار کرنے لگے۔ رہی سہی کسر پی آئی بی اور بہا در آباد کے گروپس نے پوری کر دی۔ کراچی کے عوام ان زمینی حقائق سے خوب واقف ہیں۔ بہتر ہو گا کہ ہارنے والی جماعتیں بھی اسباب پر غور کریں۔
اس بار کراچی میں بالعموم الیکشن سے نالاں اور بالخصوص، پچھلے الیکشن سے دل برداشتہ ووٹرز بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلے وہ کھلم کھلا تحریک انصاف کے حق میں بات کرتے، ہم نے نوجوانوں اور خاص طور پر خواتین کو پی ٹی آئی کے لیے خاصا پرجوش دیکھا۔ الیکشن والے روز ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے الیکشن کیمپوں میں بیٹھے ایجنٹس اور مذکورہ جماعتوں کے کارکنوں کے چہروں اور باتوں سے ان کی مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔
پاکستان کے دیگر حلقوں میں اتنی تعداد میں مسترد ووٹوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، یہ تجزیہ کار بہتر بتا سکتے ہیں لیکن کراچی میں اتنی تعداد میں ووٹوں کا مسترد ہونا ثابت کرتا ہے کہ ووٹر پچھلے انتخابات سے کتنا لاتعلق رہا ہے۔ کراچی کی آدھی سے زیادہ آبادی نے پہلی بار اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ غیر تربیت یافتہ ووٹرز کی پر جوش حماقتوں نے ایک طرف ان کا ووٹ ضائع کر دیا تو دوسری طرف ہارنے والوں کو الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا نے کا موقع ہاتھ آ گیا۔
ہارنے والے خوش دلی سے عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔ عوام کو صحیح معنوں میں جمہوریت کے ثمرات سے محظوظ ہو نے دیں۔ کیوں کہ ووٹ خواہ مسترد ہوئے یا کسی بھی پارٹی کو پڑے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں پہلی بار بیلٹ باکس نہیں، ووٹ پڑے ہیں۔


