بلاول کو لیڈر آف اپوزیشن بنایا جائے


انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کا مرحلہ درپیش ہے۔ اگرچہ یہ یقین کیا جارہا ہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے لئے اکثریت کی حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا اور وہ آزاد ارکان اور متعدد ایک رکنی اور دو رکنی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن پنجاب میں حکومت سازی کے لئے تحریک انصاف کو زیادہ سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ صوبے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) جو گزشتہ دس برس تک پنجاب میں حکومت کرچکی ہے، اب بھی اس مقابلے سے باہر ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کو علم ہے کہ اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار ہوئی تو مرکز میں حکومت کرنا آسان نہیں ہو گا۔

سیاسی جوڑ توڑ کے اس ہنگامے کی شدت اور سنگینی کا اندازہ ان خبروں سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ اڈجسٹمنٹ کے ساتھ انتخاب میں حصہ لینے والی مسلم لیگ (ق) کو اگرچہ پنجاب میں سات اور قومی اسمبلی میں چار نشستیں حاصل ہوئی ہیں لیکن اس کی طرف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ یا مرکز میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ مانگا جارہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ہدایت پر نواز لیگ کے لیڈروں نے بھی چوہدری پرویز الہیٰ سے رابطہ کیا ہے۔ اس طرح ایک بڑے صوبے کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی دونوں پارٹیاں ایک غیر اہم اور بہت ہی قلیل کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی کے مطالبات پر ’غور‘ کررہی ہیں۔

پنجاب کی حد تک آزاد ارکان کی کافی بڑی تعداد کامیاب ہوئی ہے جو حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ اب مسلم لیگ (ق) کے چوہدری بھی اپنی اہمیت اور سیاسی قوت کو مستحکم کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چوہدریوں کے پاس آزاد ارکان کے لئے یہ پیشکش ہوگی کہ ان کے ساتھ مل کر وہ اقتدار میں بہتر حصہ حاصل کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اپنی موجودہ حیثیت میں یا آزاد ارکان کو ساتھ ملا کر اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کے ذریعے دو بڑی پارٹیوں کے باہمی سیاسی تصادم میں اپنے سیاسی مفادات کے لئے جگہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کوششوں کو سیاست کہنا جمہوری سیاسی عمل کی توہین کے مترادف ہوگا۔

اسی طرح صوبائی اسمبلی میں ایک سو سے زائد نشستیں جیتنے والی پارٹیاں اگر حکومت سازی میں ایک چھوٹی پارٹی کے ہاتھوں ’بلیک میل ‘ ہو کر اس کے غیر ضروری مطالبات ماننے پر آمادہ ہوجاتی ہیں تو یہ بھی عوام کے ووٹوں کے ساتھ مذاق ہو گا۔ اس کا بہترین حل تو یہی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت بلوغت کا مظاہرہ کرے اور چھوٹے گروہوں یا آزاد ارکان کو اہمیت دینے اور بادشاہ گر کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی بجائے ایک دوسرے کی سیاسی اہمیت کا احترام کرتے ہوئے سیاسی لین دین کے نام پر ’بلیک میل‘ نہ ہو۔ اور اکژیت رکھنے والی پارٹی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ یہ کام مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بھی کرسکتی ہیں اور پنجاب اسمبلی میں بھی اس کی بے حد ضرورت ہے۔

شہباز شریف اقتدار کی ہوس میں ہاتھ پاؤں ضرور مار رہے ہیں اور اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتے ہیں لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں نہ صرف خود ان کے برابر (129 کے مقابلے میں 123) نشستیں حاصل کی ہیں بلکہ گزشتہ روز جہانگیر ترین کی کوششوں سے جنوبی پنجاب کے چند ارکان نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرکے تحریک انصاف کو عددی برتری بھی دلوا دی ہے۔ اس صورت میں ان کے لئے باعزت طریقہ تو یہی ہو گا کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر ان منصوبوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں جو گزشتہ دس برس کے دوران پنجاب میں شروع  کئے گئے تھے اور نئے منتخب لیڈروں کے اپنے منشور کے مطابق فیصلہ کرنے کے استحقاق کو قبول کریں۔

اگرچہ یہ ایک مشکل اور جاں گسل فیصلہ ہوگا لیکن اس سے ملک میں سیاسی مفاہمت اور احترام کے ایسے رویہ کی بنیاد رکھی جاسکے گی جو کاغذ پر لکھے کسی بھی میثاق جمہوریت سے زیادہ اہم ہو گا۔ اس طرح نہ صرف آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کو غیر ضروری سیاسی اہمیت دینے سے گریز ہو سکے گا بلکہ سیاسی عمل میں مثبت اور صحت مند تعاون کا آغاز کیا جاسکے گا۔ اس قسم کے تعاون کی صورت میں حکومت بنانے والی پارٹی کو بھی یہ احساس رہے گا کہ ان کے مد مقابل گروہ کو بھی مساوی تعداد میں سیٹیں حاصل ہوئی ہیں لہذا صوبے کی بھلائی کے لئے اقدامات کرتے ہوئے اس کے نظریات کا خیال رکھا جائے اور تجاویز کا مثبت جواب دیا جائے۔

مرکز میں ایسی ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی مضبوط حکومت کے قیام کی خواہش کو حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے جس کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن عملی طور سے صرف ایسی حکومت کو مضبوط سمجھتے ہیں جس کی قیادت ان کی پارٹی کررہی ہو۔ خواہ یہ حکومت کئی افراد اور چھوٹی پارٹیوں کے رحم و کرم پر قائم کی گئی ہو۔ قومی اسمبلی کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی دونوں پارٹیاں اگر اس سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر سکیں تو سیاسی عمل میں خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کے نام سے ہونے والی مداخلت کا راستہ بھی مؤثر طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔ سیاست دانوں سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جان سکتا کہ اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرنے والے اسی لئے کمزور پڑ جاتے ہیں اور انہیں اپنے نظریات کے برعکس مفاہمت کرنا پڑتی ہے یا تصادم کا شکار ہو کر اقتدار سے محروم کئے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال پیدا ہونے کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ سیاسی قوتیں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لئے ان عناصر کی امداد اور تعاون کو ترجیح دیتی ہیں جن پر جلسوں اور تقریروں میں سیاسی مداخلت کے الزام عائد کئے جاتے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali