کیا نواز شریف کو جیل میں رکھنا ممکن ہے یا باہر نکالنا پڑے گا؟
نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا ملنے کے بعد جب ان کے وکیل خواجہ حارث نے سزا کی معطلی کے بعد اپیل کی تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 17 جولائی کو یہ فیصلہ دیا کہ چھٹیوں کی وجہ سے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک سزا کی معطلی کے خلاف اپیل جولائی کے آخری ہفتے میں سنی جائے گی اور سزا کے خلاف اپیل نو ستمبر کے بعد سنی جائے گی۔
سزا کم مدت کی ہو تو دوران اپیل ضمانت وغیرہ آسانی سے ہو جاتی ہے لیکن نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال کی سزا ملی ہے۔ یعنی نواز شریف کی رہائی عام حالات میں ممکن نہیں ہے۔ لیکن حالات اب عام نہیں ہیں۔
نواز شریف کی طبیعت خراب رہ رہی ہے۔ وہ شوگر اور دل کے مریض ہیں۔ ابتدائی دو دن شدید حبس اور گرمی میں ان کو ائیرکنڈیشنر فراہم نہیں کیا گیا تو جسم سے پسینے کے زیادہ اخراج کے سبب وہ جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہو گئے۔ راولپنڈی انسیٹ ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میجر جنرل ڈاکٹر کیانی کی رپورٹ کے مطابق ان کے گردے فیل ہونے اور دل کا دورہ پڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
جیل انتظامیہ نواز شریف کو ہسپتال اور مریم کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن دونوں مصر ہیں کہ وہ جیل میں ہی رہیں گے۔ آج نواز شریف کے سینے اور بائیں بازو میں تکلیف کے سبب ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا جس کے بعد انہیں فوری طور پر کورنری کیئر یونٹ (سی سی یو) منتقل کرنے کا مشورہ دیا جس کے بعد نگران حکومت نے انہیں پمز اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر کے مطابق نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اسپتال منتقل ہونے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ذاتی معالج کو جیل میں ہی بلانے کی درخواست کی جس کے بعد جیل انتظامیہ نے سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹس دیکھتے ہوئے ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو جیل بلالیا۔
اب حال یہ ہے کہ ایک طرف نگران حکومت اور جیل حکام منتیں کر رہے ہیں کہ جیل سے نواز شریف کو نکالا جائے مگر وہ کہتے ہیں کہ میں درویش ہو گیا ہوں، یہیں رہنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کیوں ان کو جیل سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے؟
نگران اور فوجی ڈاکٹروں کی رپورٹیں یہی آ رہی ہیں کہ پریشان کن گڑبڑ ہے۔ دوسری طرف جیل میں چوبیس گھنٹے مریض کی نگہداشت ممکن نہیں ہے۔ خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی ہو گئی تو پنجاب میں لگنے والی آگ نگران اور آئندہ حکومت اور ان کے حامیوں کا دامن ایسے جلائے گی کہ سنبھالے نہیں سنبھالا جائے گا۔ اس خوفناک منظر کے بارے میں سوچنا ہے تو 27 دسمبر 2007 کے بعد کا سندھ یاد کر لیں۔ عوام کی نظروں میں ایسے واقعے کا مجرم بننا کوئی پسند نہیں کرے گا۔
اب ان حالات کے پیش نظر 31 تاریخ کو پیشی پر سرکاری وکیل سزا کی معطلی کی نواز شریف کی درخواست کی حمایت کرے گا یا مخالفت کرے گا تاکہ یہ بھار حکومت کے سر سے اترے؟ کیا عدالت کے لئے سزا معطل کرنا آسان ہو گا؟ آئیے خواجہ حارث کے دلائل پر بات کرتے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ احتساب عدالت کا زیادہ انحصار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کے بیان پر ہی تھا لیکن جے آئی ٹی کے سربراہ نے نہ تو تحریری ثبوت فراہم کیے اور نہ ہی عدالت میں دیے بیان میں کہیں بھی یہ کہا ہے کہ ان کے پاس شواہد ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لندن کے فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ جب فلیٹس خریدے گئے تھے تو نواز شریف کے بچے ان کے زیر کفالت تھے۔ ایک طرف عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرمان کے خلاف بدعنوانی کے شواہد نہیں ملے اور دوسری طرف اُنہیں سزا بھی سنا دی گئی۔
مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ احتساب عدالت نے ان کی موکلہ کو کیلبری فونٹ استعمال کرنے پر سزا سنائی ہے اور عدالت نے اپنے فیصلے میں اس فونٹ کو جعلی قرار دیا جبکہ سرکاری گواہ رابرٹ ریڈلے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کیلبری فونٹ سنہ 2005 میں بھی دستیاب تھا اور سرکاری گواہ نے خود بھی اس فونٹ کو استعمال کیا تھا۔
کیا نواز شریف کی تشویشناک صحت کی بنیاد پر ان کو جیل سے باہر کرنے کی حکومتی کوششوں کے پیش نظر احتساب عدالت کا وکیل ان دلائل کی بہت زیادہ مخالفت نہ کر کے سزا کو معطل کرنے اور پھر ستمبر میں احتساب عدالت کے فیصلے کی اپیل تک بات ٹالنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے؟ امکان تو یہی ہے کہ وکیل یہی کرے گا۔ ویسے بھی انتخابات کا نتیجہ اچھا نکل آیا ہے۔ بس اگلے چند دن میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو جائے، تحریک انصاف کا سپیکر اور حکومت بن جائے، پھر کسے فکر ہو گی کہ نواز شریف کون ہے اور مسلم لیگ نون کون؟


