کیلاش قبیلے میں سے منتخب ہونے والے اقلیتی نمائندے وزیر زادہ کون ہیں؟


پاکستان کی بے ضرر اقلیت کی تار یخ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ، وادیاں جھوم اٹھیں

واضح رہے چترال کی وادی کیلاش کے رمبور گاوں سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن اور کیلاش قبیلے کے رکن وزیر زادہ کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اقلیتی نشستوں کیلئے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ اب چونکہ صوبے میں بھاری اکثریت حاصل کرلی تو وزیر زادہ کیلاش اقلیتی برادری کی مخصوص نشستوں میں سے ایک پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وزیرزادہ کے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر وادی میں جشن کا سماں ہے اور جب سے انتخابات کا عمل ختم ہوا ہے تب سے مہمانوں کا تانتا باندھا ہوا ہے۔

حسب دستور سات جانور وں کی قربانی دی گئی اور کھانا تیارکرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کو سونپ دی گئی تاکہ دونوں قبیلوں کے لوگ اسے بلا جھجک کھا سکیں۔کیلاش قبیلے کے مرد اور خواتین نے اپنی روایات کے مطابق ڈھول کی تھاپ اور بانسری کے سر پر روایتی رقص بھی پیش کیا۔

وزیر زادہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا مقصد چترال بالخصوص کیلاش اور دیگرغیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا تخفظ کرنا ہے جبکہ ایک کیلاش لڑکی گل نظر کا کہناہے کہ وہ وزیر زادہ کے بطور اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر بہت خوش ہیں اور امید کرتی ہیں کہ عمران خان ان کو وزارت بھی دیں گے۔

33سالہ وزیر زادہ کا تعلق چترال کی کیلاش برادری سے ہے جو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ تین اہم وادیوں میں صدیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ وادی بمبوریت میں پیدا ہونے والے وزیر زادہ پشاو ر یونیورسٹی سے علم سیاست میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں جبکہ انہوں نے میٹرک اور بی اے چترال اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان نوشہرہ کے کالجوں سے پاس کیا ہے۔ وزیر زادہ شادی شدہ اور ایک بیٹے کے باپ ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی گریجویٹ ہیں۔ان کے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے سے علاقے کی فلاح وبہبود کے کام تیز ی سے ہونے کی توقع بھی کی جارہی ہے ۔

Facebook Comments HS