عمران خان، نیا گلگت بلتستان اور پرانے کھلاڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس دن اتفاق سے فارغ وقت بھی تھا اور بجلی بھی؛ یوں ہمیں بھی عمران خان کی تقریر دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا بالآخر عمران خان نے وکٹری اسپیچ کر ہی دی اور وہ خواب پورا ہوا، جن کا ان کو کم و بیش دو دہایوں سے انتظار تھا۔ ایک دبی خواہش تھی کہ جب بھی خان صاحب کو جیت ملے تو اتنی اکثریت سے ملے کہ وہ اپنے دعوؤں کو عملی جامعہ پہنا نے کی پوزیشن میں ہوں، تا کہ کل کلاں کسی ناکامی کی صورت میں انہیں کوئی جواز نہ مل سکے۔ رزلٹ دیکھ کر خوشی ہوئی پی ٹی آئی کی مجموعی طور پر اچھی خاصی سیٹیں آ گئیں یا دلائی گئیں اور یوں وہ اس پوزیشن میں آ گئے کہ اپنی کہی ہوئی باتوں کو عملی جامعہ پہناسکیں۔ گو کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔

خان صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں گلگت بلتستان کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی، شاید مناسب نہیں سمجھا۔ شاید بھول گئے۔ تاہم یہ بات توطے ہے کہ ان کے لیے گلگت بلتستان ہمیشہ ہی سے اتنا اہم رہا ہے، جتنا یہاں بسنے والے لوگ۔ یا اگر یوں کہیں کہ یہ علاقہ ان کے لئے اتناہی غیر اہم رہا ہے جتنا یہاں کے لوگ، تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کے لئے یہ ثبو ت ہی کافی ہے کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کسی پی ٹی آئی رہنما کے لئے بنی گالا میں داخل ہونا ممکن نہیں۔

عمران خان اپنے دور جوانی میں اسکردو، استور وغیرہ سیر و تفریح کے لئے آتے رہے ہیں لیکن کبھی سنجیدگی سے یہاں لوگوں کو درپیش مسائل کے حوالہ سے کسی مقتدر فورم میں آواز نہیں اٹھائی۔ حد تو یہ کر دی کہ گلگت بلتستان میں اپنی پارٹی تنظیم کے حوالے سے بھی کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا بلکہ ہمیشہ کسی تیسرے غیر اہم اور ناواقف شخص کو جی بی کے معاملات کی ذمہ داری تفویض کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کبھی قابل ذکر سیاسی طاقت نہیں بن سکی۔ یکے بعد دیگرے ان تمام بانی رہنماوں اور کارکنان کو راستے سے ہٹایا گیا، جنہوں نے اپنا وقت، پیسا اور اولاد تک اس پارٹی کے لئے وقف کر دیا تھا اور نئے چہرے سامنے لائے گئے۔ اب تو یہ احوال ہے کہ مرکز میں تحریک انصاف نے برتری کیا حاصل کی کہ ایک دم سے کایا ہی پلٹ گئی ۔ سیاسی اور غیر سیاسی پرندے پی ٹی آئی کی یوں ترجمانی کرنے لگے جیسے وہ برسوں سے عمران خان کے ساتھی ہوں۔

کچھ تو یہ جواز پیش کر رہے ہیں چوں کہ عمران خان میں ان کو ایک امید کی کرن نظر آرہی ہے، اس لئے وہ ان کو اسپورٹ کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ان کو عمران خان میں امید کی کرن اس کے جیتنے کے بعد ہی کیوں نظر آنا شروع ہوگئی؟ بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے لیکن سیاسی تغیراتی کلچر ہمارے ہاں کوئی نیا نہیں، ایسا تقریبا ہر دور میں ہوتا رہا ہے؛ چاہے وہ مشرف کا دور ہو یا زرداری یا بھر نواز شریف کا۔ لیکن پی ٹی آئی کے حوالے سے اب تک جو ہوتا رہا ہے وہ ایک طرف، اصل کھیل تو آنے والے دنوں میں شروع ہوگا، جب وفاق اور صوبوں میں حکومتیں بنیں گی اور توجہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جانب مبذول ہو گی۔ پھر خدشہ ہے پی ٹی آئی کی موجودہ کابینہ و عہدیداران پر کلہاڑی گرے بالکل ایسے جیسے ان سے پہلے کے رہنماؤں پر گری تھی۔

میں ذاتی طور پر ایسے بہت سارے افراد کو جانتا ہوں، جنہوں نے سابق کنوینر حشمت اللہ کی قیادت میں اس نومولود پارٹی کوبغیر کسی امداد کے پورے گلگت بلتستان میں متعارف کروایا لیکن ان کی خدمات کو فراموش کر دیا گیا۔ صابر حسین، عزیز احمد اور سیکڑوں دیگر کارکن و رہنما (ان سب کا تذکرہ یہاں ممکن نہیں) اس کی زندہ مثال ہیں، جو آپس میں اختلافات کے باوجود اس پارٹی کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ بہرحال اب تو دور وفا نبھانے والوں کا نہیں، اب تو دور الیکشن جیتنے والوں (الیکٹ ایبل) کا ہے، جس کااعتراف خو د نئے پاکستان کے کپتان عمران خان کرتے رہے ہیں۔ تو اسی تناظر میں جی بی میں بھی آنے والا دور موسمی پرندوں یا الیکٹ ایبلز کا ہے، جن کا تعلق مسلم لیگ اور پی پی پی اور دیگر جماعتوں سے ہوگا۔ اورپرانے اور وفا دار کھلاڑی اس اڑتی دھول میں وفا کی تلاش میں بھٹک رہے ہوں گے۔

فی الحال تو یہاں ”کون بنے گا گورنر“ کی دوڑ لگی ہوئی ہے، بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے اور کئی اہم شخصیات اس وقت اسلام اباد میں ڈیرا لگائے بیٹھی ہیں۔ تاہم انہیں سوائے یقین دہانیوں کے، تاحال کچھ ہاتھ نہیں آ سکا۔ دوسری طرف یہ موضوع زیر بحث ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کا کیا کیا جائے؟ اگر آپ مقامی اخبارات کا مطالعہ کریں، تو لگتا ہے ہر پی ٹی آئی ممبر مختار کل ہے۔ کوئی حکومت گرانے کی بات کرتا ہے تو کوئی احتساب کی، کوئی ریفارمز متعارف کرانے کے بعد الیکشن کرانے کا حامی ہے تو کوئی فوری۔ کوئی صرف چیف سیکریٹری اور گورنر کو ہٹانے کی پیش گوئی کرتا ہے۔ بہر حال لگتا ہے ہنوز دلی دور است۔ نیا گلگت بلتستان کب اور کس طرح کا ہو گا، ہم سب کو انتظار ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شبیر میر کی دیگر تحریریں
شبیر میر کی دیگر تحریریں