وادی نیلم کی سیر – پلاننگ، مشورے اور اخراجات


نیلم گاؤں

اضافی نوٹس

۔ اس سال ہم آفس کے چند دوست مل کر سیر کو نکلے تھے اور گھر سے نکلتے وقت ارادہ تھا کہ رتی گلی اور چٹا کٹھا جھیلیں دیکھیں گے، مگر بارش اور ایک ساتھی کے گھر ایمرجنسی ہوجانے کے سبب ہمیں چٹا کٹھا ترک کرنا پڑی (ایک وجہ رتی گلی جھیل پر چڑھنے کی تھکاوٹ بھی تھی جس نے ہمیں ان دونوں وجوہات کو عذر بنا لینے پر راضی کیا)۔ البتہ شوقین حضرات کے لئے چٹا کٹھا جھیل تک رسائی کی تفصیلات بھی شئیر کرنا چاہوں گا۔

۔ کیل سے ایک جیپ ٹریک شاؤنٹر کی طرف نکلتا ہے، یہ مقام کیل سے تقریبا 3 گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں سے آگے جیپ ٹریک ختم ہوجاتا ہے اور پھر پیدل سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ تقریبا دو کلو میٹر اور باعتبار وقت دو گھنٹے کی مشکل پیدل مسافت کے بعد ڈیک ون کا مقام آتا ہے۔ شاؤنٹر اور ڈیک ون دونوں مقامات پر رہائشی کیپمس میسر ہیں۔ اس کے بعد تقریبا مزید 4 گھنٹے (6 کلومیٹر) کی خاصی مشکل پیدل مسافت کے بعد 13500 فٹ کی بلندی پر چٹا کٹھا جھیل واقع ہے۔ تصاویر اور روایت کے مطابق یہ وادی نیلم کی ایک خوبصورت ترین جھیل ہے (اگرچہ سائز میں رتی گلی سے چھوٹی ہے)۔ چٹھا کٹھا جھیل پر رہائش اور کھانے کا کوئی بندبست نہیں ہے، یہاں یا تو ذاتی کیمپنگ اور کھانے کا انتظام کرنا ہوتا ہے اور یا پھر رات ہونے تک واپس ڈیک ون آنا ہوگا۔ چٹھا کٹھا جھیل پہنچنے کے لئے تگڑے قسم کے بندے چاہئیں۔

۔ تو اگر آپ چٹھا کٹھا کو اپنے ٹور میں شامل کرنے کا ارادہ و ہمت رکھتے ہیں تو اوپر بیان کردہ وقت کے حساب سے ٹور پلان کرسکتے ہیں۔ مثلا ایک پلان یہ ہوسکتا ہے کہ تیسرے روز صبح شاردا سے نکل کر کیل آئیں اور یہاں سے شاؤنٹر، اور پھر پیدل سفر کرتے ہوئے شام تک ڈیک ون پہنچ کر رات قیام کیجیے۔ چوتھے روز صبح جھیل کے لئے نکلئے اور رات ہونے تک یا تو ڈیک ون اور یا پھر ہمت کرکے شاؤنٹرآجائیں۔ یہاں رات قیام کیجیے اور اگلے روز اسلام آباد واپس (یا جیسے آپ پلان کرنا چاہیں)۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر چٹھا کٹھا جانا ہو تو سیدھا اسی کا قصد کیجیے، درمیان میں رتی گلی جھیل وغیرہ کو پلان میں شامل نہ کیجیے کیونکہ اگر آپ چٹا کٹھا ٹریک تک پہنچنے سے قبل ہی تھک گئے اور آپ کی ٹانگیں پھول گئیں (جو یقیناً پھول جائیں گی اگر آپ مسلسل ٹریکنگ کے عادی نہیں) تو آگے اس کا پیدل سفر محال است۔ لہذا اگر یہاں آنا ہو تو اسلام آباد سے سیدھے کیل پہنچ کر رات قیام کیجیے، اگلے روز یہاں سے چٹا کٹھا کی طرف نکل جائیے۔

جاگراں گاؤں

گاڑی کہاں تک جاسکتی ہے؟

۔ اپنی گاڑی پر جانے والوں کے لئے یہ سوال اہم ہوتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مثالی طور پر کار اٹھ مقام تک لے جانی چاہیے کیونکہ مظفر آباد سے آگے سڑک کا یہ حصہ 2005 کے زلزلے کے بعد نیا تعمیر کیا گیا تھا اور نسبتا کھلا اور اچھی حالت میں ہے (ماسوائے نوسہری کے مقام جہاں بارش میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک خراب ہی رہتی ہے)۔ مزید کھینچ لیا جائے تو کار کو کیرن تک بھی لے جایا جاسکتا ہے، سڑک کا یہ سیکشن اگرچہ نسبتا تنگ ہے مگر اس میں بہت زیادہ ٹوٹے ہوئے حصے نہیں آتے (اگرچہ سڑک مخدوش الحال ہی ہے)، آہستہ آہستہ گاڑی نکالی جاسکتی ہے۔ اور اگر اخیر ہوگئی تو کار کو شاردا تک لے جانا چاہیے، مگر اس سیکشن پر سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کافی زیادہ ہے۔ اگر آپ کے پاس ہنڈا کار ہے جس کی لینڈ کلئیرنگ کم ہے تو نیچے لگتے رہنے کا شدید اندیشہ ہے، البتہ ٹیوٹا اور سوزوکی والے یہاں زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔

لوگ کار کو کیل تک بھی لے جاتے ہیں مگر میرے حساب سے یہ دانش مندی نہیں کیونکہ اس سیکشن پر سڑک کافی سے زیادہ خراب بھی ہے اور دو مقامات پر اوپر سے آنے والی آبشار سڑک کراس کرتی ہوئی دریا میں گرتی ہے جس کے سبب یہاں سڑک پر گہرے کھڈے پڑے رہتے ہیں جنہیں پتھر ڈال کر بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کیل سے آگے تاؤبٹ کار لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہاں جیپ جاتی ہے۔

۔ درج بالا رائے میری ذاتی رائے ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ایک ایسے شخص کی رائے ہے جو اپنی گاڑی کی صحت کے بارے میں خاصا محتاط ہے اور جس کی رائے میں چند ہزار روپے بچانے کے لئے گاڑی کو نقصان کے خطرے میں ڈالنا کوئی عقلمندی نہیں۔ کار نیچے لگنے سے بسا اوقات سلنسر کی ڈھولکی ٹوٹ جاتی ہے اور بعض اوقات ریڈی ایٹر یا گاڑی کے حصے کا کوئی مقام ڈیمیج ہوجاتا ہے جس سے ایسے علاقوں میں شدید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

زاہد مغل

محمد زاہد مغل نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ معاشیات کے پروفیسر ہیں

zahid-mughal-siddique has 1 posts and counting.See all posts by zahid-mughal-siddique