وادی نیلم کی سیر – پلاننگ، مشورے اور اخراجات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وادی نیلم کی سیر اختتام کو پہنچی، حسب اصول شوقین حضرات کی راہنمائی کے لئے کچھ تفصیلات بیان کی جاتی ہیں:
ٹور پلان: یہ تفصیل اسلام آباد کو ابتدائی مقام فرض کرکے بیان کی جائیں گی۔

پہلا دن

۔ صبح اسلام آباد سے روانگی اختیار کیجیے اور براستہ مری و مظفرآباد وادی نیلم میں ”اٹھ مقام“ تک جا پہنچیے۔ براستہ ”مری“ اس لئے کہا کیونکہ مری ایکسپریس وے سے آگے جو راستہ مظفرآباد کو جاتا ہے، وہ راستہ سڑک پر کام جاری ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ خراب ہے، لہذا جو حضرات اس سال سیر کا ارادہ رکھتے ہیں وہ مری ایکسپریس وے کے آخر سے مری کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرتے ہوئے مظفرآباد کی طرف جائیں۔ یہ 31 کلومیٹر راستہ کوہالہ سے 4 کلومیٹر پہلے جا اترے گا۔ دھیان رہے، مری سے کوہالہ جاتے ہوئے اس راستے پر مسلسل اترائی ہے، لہذا بریک کا استعمال کم سے کم کیجیے اور چھوٹے گئیر میں چلئے۔ البتہ کوہالہ کی طرف سے آتے ہوئے اس راستے پر مسلسل چڑھائی ہے، تو ضروری ہے کہ آپ کی گاڑی کا کولنگ سسٹم ٹھیک ہو (یعنی گاڑی پانی زیادہ کم نہ کرتی ہو، ورنہ گرم ہونے کا خدشہ ہے)۔

۔ مظفرآباد سے وادی نیلم کی طرف جاتے ہوئے جاگراں کے مقام کے پاس ایک چھوٹا راستہ الگ ہوجاتا ہے جو اس پرنالے کی طرف جاتا ہے جہاں چند روز قبل ایک پل ٹوٹ جانے کے سبب بہت سارے طلباء فوت ہوگئے تھے۔ یہاں تک رسائی کے لئے آپ کو جیپ لینا ہوگی جو تقریبا آدھا گھنٹہ لیتی ہے (اور یا پیدل جانا ہوگا جو کافی وقت کا متقاضی ہے)۔ آپ چاہیں تو جاتے ہوئے اس مقام سے ہوتے ہوئے جائیں (ہم چونکہ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب گھر سے نکلے تھے لہذا ہم نے اس مقام کو ترک کردیا)۔

۔ چنانچہ مظفرآباد سے آگے پٹیکا، نوسہری، چلیہانہ و کنڈل شاہی (وادی نیلم کا پہلا نسبتا بڑا شہر) کے مقام سے گزرتے ہوئے آپ ”اٹھ مقام“ جاپہنچیں گے۔ نوٹ کیجیے کہ نوسہری سے گزرتے ہوئے آپ سڑک سے ”نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ“ ملاحظہ کرسکیں گے۔ اس پاور پراجیکٹ کے تین سیکشنز ہیں (اور یہاں اس کا پہلا سیکشن ہے)، نوسہری کے مقام پر دریائے نیلم پر ڈیم بنا کر پانی روکنے کے لئے جھیل بنائی گئی ہے، اس جھیل سے پانی زیر زمین ٹنلز میں داخل ہوتا ہے اور یہ پانی تقریبا پچاس کلومیٹر طویل ٹنل سے گزر کر بجلی پیدا کرنے والی ان ٹربائینوں پر جا گرتا ہے جو مظفرآباد کے قریب نصب ہیں۔ چلیہانہ کے مقام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے مقبوضہ کشمیر داخل ہونا ممکن ہے (بذریعہ پاسپورٹ اور ویزہ)۔

۔ ”اٹھ مقام“ کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا کیونکہ ہم نے یہاں اپنی گاڑی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا (سڑکوں کی صورت حال اور گاڑی کہاں تک جاسکتی ہے، اس پر میں ان شاء اللہ الگ سے کچھ گفتگو کروں گا)۔ اسلام آباد سے مظفرآباد تک 140 کلومیٹر سفر تقریبا چار گھنٹے پر محیط ہے اور مظفرآباد سے اٹھ مقام تک 80 کلومیٹر طے کرنے میں تین ساڑھے تین گھنٹے لگ جائیں گے۔ یعنی آرام سے اور رک رک کر چلتے ہوئے آپ آٹھ سے نو گھنٹے میں باآسانی اٹھ مقام پہنچ سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو اٹھ مقام پر ہی رات قیام کیجیے اور اگر چاہیں تو اس سے مزید آدھا پونا گھنٹہ (12 کلومیٹر) آگے ”کیرن“ کے مقام پر بھی رات رک سکتے ہیں۔ ”کیرن“ کا مقام اٹھ مقام کے مقابلے میں نسبتا زیادہ خوبصورت ہے۔ کیرن سے ایک راستہ ”اپرنیلم“ کی طرف نکلتا ہے، یہ بھی ایک خوبصورت مقام ہے، آپ چاہیں تو پہلی رات یہاں بھی قیام کرسکتے ہیں (البتہ میرے حساب سے یہاں کار لے جانا مناسب نہیں)۔ کیرن سے اپرنیلم تک بیس سے تیس منٹ لگ سکتے ہیں۔

۔ اگر آپ اسلام آباد کے بجائے سفر کا آغاز لاہور سے کرتے ہیں تو علی الصبح 5 بجے لاہور سے نکل کر شام 7 بجے تک اٹھ مقام یا کیرن وغیرہ پہنچ سکتے ہیں، زیادہ دیر ہوجائے تو رات مظفرآباد قیام کرلیجیے اور دوسرے روز علی الصبح یہاں سے نکل جائیے۔

۔ دوسرا دن

اس روز آپ رتی گلی جھیل (جس کا پورا نام برکاتیہ رتی گلی جھیل ہے) جائیے۔ اس کے لئے آپ کو جیپ بک کروانا ہوگی اور یہ جیپ آپ کواٹھ مقام یا کیرن ہی سے بک کروالینی چاہیے۔ کیرن سے تقریبا آدھا گھنٹہ آگے ”دواریاں“ کا مقام آتا ہے جہاں سے رتی گلی جھیل جانے والا راستہ الگ ہوجاتا ہے۔ یہ راستہ خاصا مخدوش الحال ہے اور آپ کی پسلیوں کو خوب ہلا دے گا۔ پیٹ بھر کھانا کھا کر یہ سفر مت کیجیے گا کیونکہ کھانے کے فوری بعد معدے کی زیادہ حرکت الٹی کا باعث بن سکتی ہے۔

دواریاں سے لے کر جھیل کے بیس کیمپ تک یہ تقریبا ڈھائی گھنٹے کا سفر ہے۔ یہاں سے آگے جھیل تک جانے کے لئے آپ کو پیدل چل کر جانا ہوگا۔ اگر آپ نوجوان یا اچھے اتھلیٹ نہیں ہیں اور کوئی آپ کو یہ کہے کہ جھیل تک کا یہ پیدل سفر آسان اور آدھے گھنٹے کا ہے تو اس کی بات پر ہرگز یقین مت کیجیے گا، دو عدد پہاڑوں پر مشتمل سوا گھنٹہ طویل یہ سفر کافی تھکا دینے اور سانس پھلا دینے والا ہے۔ یہاں آپ کو گھوڑے و خچر بھی میسر ہوں گے جو دو طرف سفر کے ہزار روپے اور ایک طرف کے پانچ سو لیتے ہیں۔

رتی گلی جھیل

گھنٹہ سوا گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ رتی گلی جھیل پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک خوبصورت اور خاموش مقام ہے۔ جھیل سیف الملوک کے مقابلے میں اس کی خوبی یہ ہے کہ یہاں جیپوں اور ڈھابوں کا رش نہیں ہوتا۔ رتی گلی جھیل سطح سمندر سے تقریبا سوا بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے، تو آکسیجن کم ہونے کے سبب ممکن ہے پیدل جاتے ہوئے آپ کو کچھ چکر بھی محسوس ہوں، لہذا اپنے ساتھ چکروں کے لئے stemetil دوائی رکھیں، بالخصوص اگر آپ کو سانس کی تکلیف ہے (پہاڑی علاقوں کے سفر پر یہ دوائی ویسے بھی احتیاطا ساتھ رکھنا چاہیے)۔

۔ آپ یہاں حسب ضرورت و میسر وقت انجوائے کیجیے اور شام چار بجے جھیل سے واپسی کا سفر شروع کیجیے (جھیل پر انجوائے کے لئے مناسب وقت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ صبح آٹھ بجے تک جیپ پر سوار ہوجائیں)۔ پانچ بجے تک آپ کو بیس کیمپ سے جیپ پر سوار ہوجانا چاہیے تاکہ دن ڈھلنے سے قبل آپ دورایاں اتر آئیں۔ رتی گلی جھیل بیس کیمپ پر کافی تعداد (سو سے زیادہ) میں رہائشی کیمپ بھی میسر ہیں، لہذا اگر آپ چاہیں تو یہاں رات قیام بھی کرسکتے ہیں۔ اگر تو آپ کا پروگرام یہ ہے کہ علی الصبح رتی گلی جھیل کا منظر انجوائے کرنا ہے (جس میں بڑا عنصر بادل کا نہ ہونا ہے تاکہ سورج کی کرنیں اس پر پڑ سکیں) تو یہاں رات قیام کیجیے، بصورت دیگر نیچے اتر آئیے۔

یہاں نوٹ کیجیے کہ دوسری رات قیام کے لئے آپ نے اٹھ مقام یا کیرن کی طرف واپس نہیں جانا بلکہ دواریاں سے آگے (کافی سارے علاقوں سے گزرتے ہوئے) ”شاردا“ کے مقام کی طرف جانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوسرے روز صبح آپ کو اپنے سامان سمیت نکلنا ہے۔ ”شاردا“ وادی نیلم کا سب سے بڑا شہر ہے۔ دواریاں سے شاردا تک تقریبا دو گھنٹے کا سفر ہے۔ دوسرے روز یہاں قیام کیجیے۔

شاردا

تیسرا دن

۔ اگر آپ تین دن کا چھوٹا پروگرام بنانا چاہتے ہیں تو دوسرے روز جھیل سے واپس کیرن یا اٹھ مقام آجائیے اور تیسرے روز اسلام آباد واپس (تیسرے روز صبح آپ ”اپرنیلم“ سے ہوکر بھی اسلام آباد واپس آسکتے ہیں، اگر جاتے ہوئے آپ اپر نیلم نہیں گئے تو)۔ اگر مزید آگے جانے کا پروگرام ہو تو دوسری رات شاردا قیام کیجیے۔

۔ تیسرے روز صبح ناشتے کے بعد شاردا کی قدیم یونیورسٹی کے کھنڈرات وزٹ کیجیے۔ یہ کھنڈرات تقریبا 2700 سال قبل دور کی ایک جامعہ کے ہیں۔ شہر سے بذریعہ جیپ جامعہ پہنچنے میں 15 منٹ لگیں گے۔ یہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد ”کیل“ شہر کی طرف سفر کا آغاز کیجیے۔ اس سے قبل نوٹ کیجیے کہ شاردا سے ”نوری ٹاپ“ کی جانب ایک ٹریک جاتا ہے، جو وہاں سے ناران جلکھنڈ روڑ پر جا نکلتا ہے۔ یہ تقریبا 4 سے 5 گھنٹے کا جیپ سفر ہے۔ یہ معلومات ان کے لئے جو نیلم سے ناران کی طرف نکلنا چاہتے ہوں۔

کیل

۔ شاردا سے کیل تک کا سفر تقریبا سوا سے ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ہے۔ کیل سے قبل ایک آبشار سڑک سے گزرتی ہوئی دریا میں گرتی ہے، کچھ دیر وہاں انجوائے کرنے کے بعد کیل پہنچیے۔
۔ کیل سے آگے آپ کے پاس دیکھنے لائق تین مقامات ہیں، ارنگ کیل، تاؤ بٹ اور چٹا کٹھا جھیل۔ ان میں سے کون کون سے مقامات آپ کو دیکھنا چاہیے اس کا انحصار وقت، پیسہ و ہمت پر ہے۔ یہاں تینوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۔ چنانچہ تیسرے روز صبح کیل پہنچنے کے بعد آپ ”ارنگ کیل“ جائیے۔ یہاں پہنچنے کے لئے پہلے آپ کو کیل سے بذریعہ کیبل کار نما ڈولی میں دریا کی دوسری جانب جانا ہوگا جو کل ایک منٹ چوبیس سیکنڈ کا سفر ہے۔ اس کے بعد پہاڑ پر چڑھنا ہوگا، تقریبا 45 سے 50 منٹ۔ یہ چڑھائی بھی کافی تیز ہے البتہ رتی گلی کی نسبت یہاں آسانی یہ ہے کہ یہاں کافی ساری چڑھائی پتھروں و درختوں کی شاخوں سے سٹیپ نما بنی ہوئی ہے۔ بزرگ حضرات اور بہت چھوٹی عمر کے بچوں کے لئے یہ چڑھائی بھی مشکل کا باعث ہوسکتی ہے۔ یہ چڑھائی چڑھنے کے بعد آپ ارنگ کیل پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک خوبصورت میڈو نما گاؤں ہے۔ یہاں بھی رہائشی گیسٹ ہاؤسز اور کیمپ میسر ہیں۔ میرے حساب سے آپ کو یہاں رات گزارنا چاہیے، لیکن اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کے پاس دن کتنے ہیں۔ لہذا معین ٹور پلان بنا کر دینا ممکن نہیں، البتہ چند ممکنہ ٹور پلانز کی نشاندہی میں آگے عرض کرتا ہوں۔

ہملٹ

چوتھا دن

۔ تو اگر آپ نے تیسری رات ارنگ کیل گزاری اور آپ کے پاس کل چار ہی دن ہیں تو چوتھے روز اسلام آباد واپس لوٹ آئیے۔ اور اگر آپ کے پاس پانچ روز ہیں تو چوتھی صبح ”کیل“ سے نیچے اتر آئیے (کیبل کار صبح 6 بجے چل پڑتی ہے)۔ اب آپ کیل سے ”تاؤ بٹ“ جائیے جو کیل سے بذریعہ جیپ تقریبا تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ تاؤبٹ ہملٹ وادی نیلم کا ایک خوبصورت گاؤں ہے جو پاکستان کی سرحد پر واقع ہے، یہاں دریا کی دوسری طرف پھر مقبوضہ کشمیر ہے۔ تاؤ بٹ پر بھی رہائشی گیسٹ ہاؤسز میسر ہیں۔ آپ چاہیں تو چوتھی رات یہاں قیام کرسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو رات 8 بجے تک واپس کیل آجائیے۔

پانچواں دن

۔ اس روز آپ تاؤبٹ (یا کیل) سے نکل کر اسلام آباد واپس پہنچ سکتے ہیں۔ تاؤ بٹ سے اسلام آباد کا یہ سفر تقریبا پندرہ سے سولہ گھنٹے پر محیط ہوگا (سات سے آٹھ گھنٹے اٹھ مقام تک اور اتنے ہی آگے)۔

۔ اگر آپ کے پاس چار روز ہیں اور آپ جلدی جلدی ارنگ کیل اور تاؤ بٹ دونوں ہی دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر تیسرے روز صبح سویرے شاردا سے نکل کر پہلے کیل پہنچ کر ارنگ کیل جائیے، دوپہر دو بجے نیچے اترنا شروع کیجیے اور تین بجے کے قریب جیپ میں سوار ہوکر تاؤبٹ چلے جائیے۔ تیسری رات وہاں قیام کیجیے اور چوتھے روز اسلام آباد واپس۔ البتہ اگر آپ فیملی کے ساتھ ہیں تو اتنی پھرتی کا یہ پروگرام مزہ نہیں کرے گا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زاہد مغل کی دیگر تحریریں
زاہد مغل کی دیگر تحریریں

زاہد مغل

محمد زاہد مغل نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ معاشیات کے پروفیسر ہیں

zahid-mughal-siddique has 1 posts and counting.See all posts by zahid-mughal-siddique