شامی خانہ جنگی کا خاتمہ اور یورپ کی ہٹ دھرمی

بشار الاسد حکومت کی کامیابیاں داعش کی اقتدار سے بیدخلی سے شروع ہوئی اور اس کے بعد بڑے پیمانے پر جنوب مغربی شام میں باغیوں نے سرکاری فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے شروع کر دیے۔ ان ہتھیار ڈالنے والوں میں جہاں مذہب کی بنیاد پر مسلح عناصر شامل ہیں وہیں پر سیکولر عناصر نے بھی یقینی شکست دیکھتے ہوئے یہی راہ اختیار کی ہے۔ مگر اس کے باوجود صوبہ ادلیب ابھی سرکاری فوجیوں کے کنٹرول میں نہیں آیا اور بشار الاسد کے لئے یہ لازمی ہو گا کہ اب اس صوبے کو زیر نگین کرنے کے لئے فوجی کارروائی کا آغاز کریں۔
اس صوبے کی اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر جب آج سے سات سال قبل حالات خراب ہونے کی جانب چل پڑے تو شامی قوم نے سب سے زیادہ پناہ اپنے اسی صوبے میں حاصل کی۔ اس وقت وہاں پر پناہ گزینوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اور حکومت کے مخالفین جو چاہے مذہبی عناصر ہوں یا سیکولر انہوں نے بھی واپسی پر اپنی پناہ گاہیں اور بیس کیمپ ابھی یہیں پر قائم کر رکھے ہیں۔ لیکن اب اگر انہوں نے مقابلے کی ٹھانی تو ایسی صورت میں خون تو بہت بہنے کا امکان ہے مگر ان عناصر کو کامیابی ملنے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔
دمشق کے لئے ابھی تک دو معاملات ایسے ہیں کہ جو تاہنوز حل طلب ہیں۔ اس میں اول تو کرد علاقوں میں کرد مسلح افراد کی بغاوت کو کچلنے کے نام پر ترکی کی شامی علاقوں میں فوجی مداخلت ہے۔ ترکی نے ابھی تک ارفین اور حلب کے پاس اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور شامی حکومت یہ چاہتی ہے کہ ترکی اب جلد از جلد اس مقام سے شامی حکومت کے حق میں واپسی کا راسطہ اختیار کر لے۔ جبکہ دوسرا معاملہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا تاہنوز شام کے ایک چوتھائی حصے پر قبضہ برقرار ہے۔
سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے اپنا بازو سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے نام سے تخلیق کر رکھا ہے۔ اس گروہ کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور داعش کے مقابلے کے لئے یہاں پر امریکہ کے 2000 فوجی اور فضائی طاقت بھی موجود ہے۔ اور تصور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ یہاں پر صرف داعش سے لڑنے کے لئے موجود نہیں ہیں بلکہ امریکہ کے خطے کے حوالے سے ”بڑے مقاصد“ کی غرض سے امریکہ نے ان کو یہاں پر تعینات کر رکھا ہے۔ سیرین ڈیموکریٹک کونسل نے گزشتہ ہفتے دمشق میں بشار الاسد حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کیے۔ اس سے قبل وہ تبقہ اور دریائے فرات کے کنارے بھی مذاکرات کے ادوار کر چکے ہیں۔ سردست دونوں فریق اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ کیسے مقامی سہولیات کی فراہمی پر عملدرآمد کیا جا سکے۔ کیونکہ ملکی مسائل پر دونوں میں شدید اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔
بشار الاسد حکومت کا دعویٰ ہے کہ شام پر جیسے خانہ جنگی سے قبل دمشق کا مکمل اقتدار تھا۔ اسی طرح سے بحال ہونا چاہیے۔ جبکہ کردوں کی نمائندہ جماعت سیرین ڈیموکریٹک کونسل کا یہ مطالبہ ہے کہ شام کی حکومت میں عدم مرکزیت نافذ کی جائے اور کرد علاقوں کو مکمل داخلی خود مختاری حاصل ہو۔ اس معاملے پر تاحال دونوں فریق آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دونوں فریق اب مزید کسی خون خرابے سے بھی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
شام کے حوالے سے دو اہم کھلاڑی امریکہ اور روس کے صدور کی ملاقات ہیلسنکی میں ہوئی۔ اس ملاقات کی کوئی خاطر خواہ تفصیلات تو سامنے نہ آ سکیں۔ سوائے امریکی فوجی کمانڈر کے اس بیان کے کہ ہمیں ابھی تک کوئی تازہ ہدایات نہیں دی گئی۔ لیکن دونوں صدور اس بات پر راضی ہوئے گئے ہیں کہ شامی حکومت کی کامیابی کی متوقع صورت میں بھی اسرائیل کی سرحد پر شام یا ایران کسی قسم کی کارروائی سے دور رہیں گے۔ اس حوالے سے روس کے صدر ایرانی فورسز کو اسرائیل کی سرحد سے دور رکھیں گے تا کہ دونوں میں براہ راست مڈ بھیڑ کا امکان کم سے کم ہو۔ جبکہ صدر ٹرمپ بھی تقریباً اس پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ دمشق کے تخت حکومت پر بشارالاسد کو برداشت کرتے رہیں گے۔
خانہ جنگی کے خاتمے کے قریب ہونے کے امکان کی وجہ سے شامی مہاجرین جو شام کو ترک کر کے دیگر ملکوں میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ انہوں نے واپسی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ لبنان میں 10 لاکھ شامی مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس واپسی کے لئے ضروری ہے کہ شام کی تباہی کے بعد اس کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے شام کی حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کو 200 ارب ڈالر اور پندرہ برس کا عرصہ درکار ہے۔ لیکن یورپی طاقتیں ابھی بھی ان حالات کو بشار الاسد کے خلاف استعمال کرنے کی غرض سے ایک چونی بھی دینے کو تیار نہیں۔
انہوں نے اپنے مؤقف کا اظہار اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر کے اس بیان کے ذریعے کیا ہے کہ جب تک آئینی اور قابل قبول انتخابی عمل وہاں نہیں ہو جاتا۔ ہم بحالی میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔ جبکہ روس کا مؤقف یہ ہے کہ بحالی کو سیاسی عمل سے مت جوڑا جائے۔ شام اگر اسی طرح تباہ حال رہا تو وہاں حکومت کے زمینی اقتدار کے باوجود امن کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔

