نواز شریف طیب اردوان بننا چاہتا تھا


اُس کے ہاں سیاسی بصیرت کی کمی تھی؟ واقعات و حالات کو ان کے گہرے تناظر میں دیکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے عاری تھا؟ یا پھر ضدی ہے۔ انا کے خول میں نرمی اور لچک کی گنجائش نہیں رکھتا۔ پاکستانی بدن میں رچی بسی آمرانہ ذہنیت کو ذہانت، سمجھ داری، حوصلہ مندی اور تیل دیکھ تیل کی دھار دیکھ جیسے فارمولے پر عمل کرنے کی بجائے اناً فاناً اُسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی عجلت کا شکارتھا۔ طیب ایردوان بننے کے لئے جس فراست، عوامی اور خدمت گار بننے کی ضرورت تھی کیا اس کا عشر عشیر بھی نواز شریف کے پاس تھا۔ جواب اس کا نفی میں ہے۔
اقتدار کتنی بار اس کے پاس آیا۔ بھاری مینڈیٹ ملا۔ مگر ہوا کیا؟ تھوڑا سا تقابلی جائزہ تو ہوجائے جو میں سمجھتی ہوں کہ ہم جیسے لکھاریوں جو سیاحت کے دلدادہ اور دوسرے ملکوں کے لیڈروں اور ان ملکوں کی ترقی کا جائزہ لینے اور اُن کے اپنے ملک سے موازنے کرنے میں بڑے تگڑے ہیں۔

بیٹا بیس جون 2018 کو اپنی فیملی کے ساتھ استنبول گیا تھا اور چوبیس کو الیکشن کے پیش نظردو دن پہلے ازمیر کے مضافاتی شہر کاپادوکیا میں چلاگیا جہاں عام لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے اُسے احساس ہوا تھا کہ کہیں کہیں اینجے محرم کی حمایت کی ایک بڑی وجہ تبدیلی کی وہ ازلی خواہش تھی کہ جو انسانی فطرت کے اُس پہلو کی عکاس ہے کہ جہاں وہ گوشت کھاتے کھاتے اُکتا جاتا ہے تو لہسن پودینے کی چٹنی کے لئے مرا جاتا ہے۔ مسلسل ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے رہنے کی بجائے نیا چہرہ دیکھنے کا تمنائی ہوتا ہے۔

لیجئیے اب میں ٹکڑوں کی صورت اپنے ذاتی تجربات آپ لوگوں سے شیئر کرتی ہوں۔ 2011 میں استنبول میں ہمارے وارد ہونے کے اس زمانے میں ایردوان ملک کا وزیر اعظم تھا۔ سلطان احمت کے علاقے کے ایک جنرل سٹور میں سیاسی حوالے سے میری کچھ جاننے کی خواہش پر مرد نے طیب ایردوان کے بارے ہنستے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں پراذان دینے کے انداز میں رکھتے ہوئے اس کے مذہبی ہونے کا تاثر دیتے ہوئے یہ کہا۔ ”اچھا کام کرتا ہے۔ مہنگائی تو ہے پر عوام کو سہولتیں بے شمار حاصل ہیں۔ استنبول کا جب مئیر بنا تھا تو اس کی حالت بدل دی۔ ارے استنبول تو اتنا گندا تھا۔ پینے کا پانی نہیں۔ اسپتالوں میں غریب کا علاج نہیں۔ صفائی ستھرائی نہیں، ٹریفک کا بے ہنگم پھیلاؤ۔ اُس نے بڑا کام کیا اور لوگوں نے اِسے حکومت دے دی۔ تو بادشاہو لوگ تخت پر بیٹھا دیتے ہیں اگر آپ کام کرتے ہیں۔

لیجیے چند اور دلچسپ باتیں سُن لیں۔
اس میں تو دو رائے نہیں کہ جمہوریہ بننے کے ساتھ ہی ترکی میں فوج نے ملک کے سول معاملات تک میں اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔
توپ کاپی پیلس کی افطار کنوپی پر ہماری ملاقات سکاریا کے حمز ہ پاشا سے ہوئی تھی۔

حمزہ اُس کہانی کی تفصیلی جزئیات سے آگاہ تھا جو ہندی مسلمانوں کی ترکی اور خلافت سے محبت کی غماّزتھی۔ ہندی مسلمانوں کا وفد سونا اور لاکھوں کی رقم لے کر جب ترکی پہنچا۔ اتاترک نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ ان کے جذبہء محبت اور خلوص کا تہہ دل سے شکرگزار ہوا۔ اُس کے حکم دینے پر ملّت بینک نے اُس عطیہ کو تاسیسی فنڈ میں جمع کرلیا۔ حمزہ کا دادا اسی بینک میں ملازم تھا۔
”محبت کے رشتوں کے علاوہ کچھ خرابیوں میں بھی ہماری اقدار مشترک ہیں۔ ‘‘

سیما ہنستے ہوئے گفتگو میں شامل ہوئی۔ مثلاً ہماری فوجوں کو سیاست سے بہت پیار ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں اپنے اپنے لُچ تلنے بیٹھ جاتی ہیں۔ ترکی میں چار مرتبہ فوج اقتدار پر قابض ہوئی۔ پاکستانی ترکی کو ہمیشہ سے رول ماڈل بنانے، سمجھنے اور ائیڈیلائز کرنے والے ہیں۔ انہوں نے اِس معاملہ میں بھی پیچھے رہنا پسند نہیں کیا۔ چوکے والا کوٹہ ہمارا بھی پورا ہوا۔
ہمارے ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ترکی کے منتخب وزیر اعظم عدنان میندرس کا بھی فوج کے ہاتھوں عدالتی قتل ہوا تھا۔

میرے خیال میں یہاں مجھے اُس فرق کو واضح کرنے کی ضرورت ہے جو ترک فوج کو بہرحال ایک قابل فخر امتیاز دیتی ہے۔ پاشا بولا دراصل ترک ایک عسکری مزاج قوم ہے اور معاشرے کا ایک حصّہ ہے۔ فوج چھاونیوں میں نہیں رہتی۔ جبکہ پاکستانی آرمی کا پس منظر بالکل مختلف ہے۔ گو اسے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک کہا گیا ہے۔ مگر اس کا مزاج کلونیل ہے۔ یقینا اس کی وجہ ایک طویل مدت انگریزوں کا برصغّیر پرقابض رہنے سے ہے۔

تاہم یہ ہماری فوج ہی تھی کہ جس نے دائیں بازو کے مذہبی رحجان رکھنے والے انتہائی شریف النفس سے وزیر اعظم نجم الدین اربکان کو چلتا کیا۔ فوجی جرنیلوں نے اپنی مرضی سے تنسو چلر کو وزیراعظم بنا دیا۔ اس وقت پاکستان میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں۔ بلند ایجوت جیسے سوشلسٹ وزیر اعظم جنہوں نے اِن فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے کو ترجیح دی مگر اپنے نظریات پر کوئی سودا نہیں کیا۔ آپ صدر سلیمان دیمرل سے بھی اچھی طرح آگاہ ہوں گی کہ کیسے کیسے ہتھکنڈے ان کے خلاف استعمال ہوئے۔

میرے بچے پاشا پاکستان اور ترکی میں بہرحال مقابلے والی تو کوئی بات نہیں۔ پاکستان تو بیچارہ اپنی سا لمیت کی جنگ لڑرہا ہے۔ کہیں جمہوری عمل کو چلنے دیا جاتا۔ جاگیر داری نظام کی بساط اول دن سے لپیٹ دی جاتی تو حالات یقینا بہتر ہوتے۔ اب تو جاگیر دار، وڈیرے اور نواب اسے جونکوں کی طرح چمٹ کر اس کا خون چو س رہے ہیں۔ ترکی تو بہرحال خوش قسمت ہے کہ اسے اچھے اور مخلص لیڈر ملے۔ فوج نے من مانیاں ضرور کیں۔ سیاسی نظام کو معطّل کرتے رہے۔ تاہم ڈیفنس کالونیاں نہیں بنائیں۔ مال نہیں سمیٹا۔ بلند ایجوت کو سلام جس نے تین بار وزراتِ عظمیٰ کا تاج سر پر سجایا مگر درویش رہا۔ ایسا ہی وہ ترگت اوزال Turget ozal تھا۔ دراصل جمہوری عمل میں تعطل اور اچھے لیڈروں کا فقدان قوم کو بہت پیچھے لے جاتا ہے۔ تُرکی یوں بھی عظیم ترین سلطنتوں والا ماضی رکھتا ہے خدا اسے سدا سلامت رکھے۔

کچھ ہماری بدقسمتی کہ کولڈ وار کا لاوہ بھی ہمارے خطے میں پھوٹا۔ بڑی طاقتوں نے ہمیں استعمال کیا اور پھر ہمیں دھتکار دیا۔ اب اُن کے پالے ہوئے قاتل، مذہبی اور لسانی گروہ جن کی بیہمانہ دہشت گرد کارروائیوں نے ہمارے ماتھوں پر کلنک کے ٹیکے لگا دیے ہیں۔ اور ہم اپنے ہی زخموں کو نوچ کھوسٹ رہے ہیں۔
حمزہ نے ٹکڑا لگایا بہرحال اب ہمارے عوام بالغ ہو گئے ہیں۔ سیاست دانوں سے مل کر فوج کے سیاسی عزائم کے خلاف صف آرا ہیں۔
”دعا کرو کہ ہمارے عوام بھی بالغ ہو جائیں۔ ‘‘

اب عوام تو کچھ بالغ ہوگئے ہیں مگر کیا سیاست دانوں نے بھی کچھ سیکھا۔ اور اِس بھاری مینڈیٹ لے کر آنے والے نے تو سال ہا سال حکومت کے بعد بھی نہ جانا کہ پنگے لینے کی بھلا کوئی ضرورت تھی۔ سیاست کا گھمنڈاورگردن میں سریا زیادہ اکڑگیا تھا۔ زمینی حقائق اوجھل ہوگئے تھے کہ مصلحت سے راستے کے کانٹے چننے ہیں۔ آپ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جہاں اسٹیبلشمنٹ کے ارکان آپ کے اعتراضات خاموشی سے سُن رہے ہیں۔ سر بھی جھکا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ چاہتے ہیں کہ بس اب ان کا بھرکس نکال دیں۔ کوئی مشیر آپ کو یہ مشورہ نہیں دے رہا ہے کہ حضور اب بس کریں۔ شانتی اور صبر سے چلیں وگرنہ اوندھے منہ گریں گے اور یہ بھی یاد رکھنے والی بات تھی کہ حضور کی اپنی آمد کس کی مرہون منت تھی انہی فوجی اداروں کی۔ چلو محسنوں کے ساتھ عیاری سے چلتے کہ سانپ بھی مرجاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹتی۔ اوپر سے کارکردگی کا حساب کتاب بھی بس ماشاء اللہ سے سب کے سامنے ہے۔

نواز شریف کی سیاسی بصیرت نے کبھی اُسے یہ احساس نہ دلایا کہ طیب ایردوان کے ساتھ اس کے مثالی تعلقات ہیں۔ کبھی صلاح مشورہ تو کرو۔ چلو اگر براہ راست پوچھنے میں شرم مانع تھی تو پھر اپنے سمجھ دار خیر خواہوں سے کہتا کہ مجھے رپورٹ تو دو آخر طیب کے وہ کون سے کارنامے ہیں کہ جنہوں نے اس کے لوگوں کو فوجی ٹینکوں کے سامنے لیٹا دیا۔ بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ اُسے صدارتی تاج پہنا دیا۔ وسیع اختیارات کا مالک بنا دیا۔

بس تھوڑی سی توجہ، اپنے ملک سے تھوری سی محبت، تھوڑی سی چاہت کی ہی ضرورت تھی۔ اقتصادیات۔ فی کس آمدنی، قرضے اُتارنے کی سر توڑ کوشش اور سو فی صد کامیابی۔ یہاں رفاہ عامہ کے کاموں کی طرف پوری نہ سہی تھوڑی سی ہی نظر کرم کو ہوجاتی۔ طیب ایردوان نے کون سی بوٹی سونگھی تھی۔ بس یہی کہ اُسے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر چلانا نہیں بھگانا ہے۔ اور اس نے رینگتے ترکی کو کھڑا کرکے چلایا نہیں بھگایا اور جی 20ممالک کی فہرست میں لاکھڑا کیا۔

پہلے دونوں ادوار میں اس نے ہر قسم کی پھڈے بازی سے اجتناب کیا۔ کیا وہ اپنے خلاف سازشوں سے واقف نہ تھا۔ تھا۔ مگر سیاسی فراست نے سمجھایا۔ ابھی نہیں۔ کتنے حملے ہوئے۔ کہیں مذہبی بات کرنے پر جیل بھجوانے کی سزا، کہیں میڈیا کے ذریعے، کہیں عدلیہ کے ذریعے۔ اس کے پاس ایک ہی حربہ تھا۔ لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا۔ ترکی کو باوقار کرنا۔ پولیس اور عدلیہ کو نئے انداز اور نئے خطوط پر استوار کرنا۔ بہترین سہولیات کی فراہمی نے اُن کی سوچوں اور دائرہ کار کو سول حکومت کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کی پالیسی اپنانے پر مائل کیا اور انہوں نے ہر اُس کوشش پر پانی پھیر دیا جو حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کی گئی تھیں۔

Facebook Comments HS