علی شیر نوائی، ازبکستان کا قومی شاعر

تاشقند کی اِس میٹھی سی دھوپ میں یہ سنتے اور نوائی کے چمکتے مجسمے پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں نے قدرے تعجب سے اپنی گائیڈ آریانا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ارے تمہارا شاعر کیسے ہوگیا۔ یہ تو افغانستان کے مغربی شہر ہرات جیسی تہذیبی اور علمی جگہ کا جم پل اور وہیں دفن بھی ہے۔…

Read more

قصّہ ایک افسانہ لٹنے کا

بنیادی طور پر میں ایک اُستاد ہوں۔ عرصے سے میری خواہش ایک اچھا ادارہ کھولنے کی رہی تھی۔ 1990 میں قدرت نے موقع فراہم کیا۔ تیرہ سال تک مخلوط تعلیمی سلسلہ چلتا رہا۔ گرلز سکول کا جب سیکنڈری بورڈ کے ساتھ الحاق ہوا تو لڑکوں کو الگ کرنا ضروری ٹھہرا۔ یوں بھی ہمہ وقت بچے…

Read more

بغداد یار تو نے کتنا اور جلنا ہے؟

ہماری آنکھ کے لیے یہ منظر بڑی تقویت والا تھا۔ چشم فلک تو خیر بڑی رجی پُجی ہے۔ صدیوں سے ایسے منظر دیکھتی چلی آئی ہے۔ اسی لیے بڑی بے حس سی ہے۔ بڑی کمینی سی خوشی اندر سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ گاؤں کے بڑے چودہری کو لتّر پڑ جائیں تو کمی کمینوں کی…

Read more

ترکی کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم ناول نگار اورحان پامُک

اورحان پامُک کو اس کے ناول بینم ادم قرمزی Benim Adim Kirmizi پر ملنے والا نوبل ایوارڈ کا سال وہی تھاجس سال میں استنبول گئی تھی یعنی 2006۔ کیا تکسیم میدان اور کیا استقلال سٹریٹ کی کتابوں کی شاندار دکانیں اس کی کتابوں اور اس کی بچوں جیسی معصوم ہنسی والے پوسٹروں سے سجی پڑی…

Read more

پاکستانی جاسوس اور بنگالی حسینہ کی کہانی جو آج تک نہ لکھ سکی

بنگال کی جادوئی خوبصورتی والے کردار توڈھاکہ کے لیے روانہ ہوتے ہوئے ساتھ ہی چلے تھے۔ مگر پہلے کچھ دنوں تک تو نسوانی حُسن میں مجھے وہ کچھ نظر نہیں آیا تھا جسے دیکھنے کا اضطراب بے چین کیے ہوئے تھا۔ وہ سب بس قصّے کہانیوں والا ہی لگا۔ گو نمکینی بہتیری تھی۔ ملاحت کی بھی کمی نہ تھی۔ تاہم ایک تشنگی ضرور تھی۔

ایک دن جب میں چٹاگانگ کی اردو اسپیکنگ لڑکی سے ملنے پانچویں تلے پر گئی اور دروازہ کھولا۔ لگا جیسے پاؤں میگنٹ بار پر پڑے ہوں اور چپک گئے ہوں۔ کمرے کے آخری کونے میں پانچ فٹ سات انچ کی قامت پر اودی رنگی ساڑھی اور کمرسے بہت نیچے تک جاتے سیاہ کھلے بالوں میں لشکارے مارتے ایک چنبیلی رنگے چہرے نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھیں نہیں تھیں دو روشن چراغ تھے۔ ناک، ہونٹ، ماتھا۔ قدرت کا ایک شاہکار چند فٹ پر کھڑا تھا۔ کرسی پر بیٹھی تمکنت آرا نے یوں مبہوت دیکھ کر کہا۔

Read more

ڈھاکہ: مسجد بیت المکرم سے دھان منڈی تک

چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیارِ حبیب ہیں انتظار میں "پچھلی" محبتوں کے مزار محبتیں جو فنا ہو گئیں ہیں میرے ندیم! اگلی نہیں کہوں گی۔ مجھے تو پچھلی محبتوں کا ماتم کرنا ہے۔ یہ دسمبر ہے۔ یادوں کی انیاں قلب و جگر میں اُتر آئی ہیں۔ یاد کرتی ہوں مصری سفارت خانے کے…

Read more

کچھ ستم وقت کے اور کچھ ہمارے

اب یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ ہمارے کالم نویس ایاز امیر بھی کیا دبنگ آدمی ہیں۔ پاکستانی جیسے منافقت سے بھرے معاشرے میں جودرست سمجھتے ہیں اُسے ڈنکے کی چوٹ پر کرنے اور برملا کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ چند دن پہلے میں رؤف کلاسراکا کالم پڑھ رہی تھی جس میں اُنھوں نے…

Read more

ہمارے چارہ گروں کو تماشا گری سے فرصت نہیں

ہائے یہ کیسی حسرت ہے میرے دل میں کہ کوئی معجزہ ہوجاتا۔ ہمارے پیارے جنرل صاحب اپنا استعفیٰ لکھ کر اِن سبھوں کے منہ پر مارتے اور کہتے ”لو سنبھالو اپنی یہ عنایت۔ مجھے نہیں چاہیے۔ نالائق لوگو تم لوگوں نے تو مجھے تماشا بنا دیا ہے۔ میری جگہ لینے والے کا حق کیوں مار…

Read more

چیئرمین ماﺅ پر ایک حیرت انگیز کتاب

کرپشن کرپشن سُنتے کان پک گئے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے تو لگتا ہے کوئی اور سبق پڑھا ہی نہیں بس اسی کا ڈھنڈورا پیٹے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہمارے وزیر اعظم کا دورئہ چین بھی اسی تذکرے کے گرد گھوما اور اس کا چرچا بھی خوب رہا۔ وہاں اُن کی کرپشن کے خلاف…

Read more

بابری مسجد اور رام مندر تاریخ کے آئینے میں

تو بابری مسجد کا بالآخر فیصلہ سُنا دیا گیا۔ فیصلہ غیر متوقع بھی نہیں تھا۔ ردّعمل بھی کچھ اسی نوع کا ہی ہونا تھا جو سُن اور پڑھ رہے ہیں۔ پہلی بات کہ کیا یہ فیصلہ منصفانہ ہے۔ اگر آرکیالوجیکل سروے انڈیا کی رپوٹس کو دیکھا جائے تو وہاں متنازع زمین پر صدیوں قدیمی مندر…

Read more