بیجنگ نے تو مجھے تتّے توے پر بٹھا دیا

بیجنگ میں میرا حال تتّے توے پر بیٹھنے جیسا ہوگیا تھا۔ پہلی حیرت اسلام آباد سے بیجنگ کے لیے جانے والے مسافروں کو دیکھ کر ہوئی۔ ان میں اکثریت تو نوعمر بچیوں اور بچوں کی تھی۔ جن کی بہار آئی پڑی تھی۔ دوسری پختہ عمر کے لوگوں کی تھی جن کے چہرے مہرے، لباس اور…

Read more

دمشق اور بغداد کے گھروں، کیفوں میں ہمارے فائٹر پائلٹوں کی کہانیاں

حامد میر کے کالم ”عزت چاہیے یا ذلت“ نے مجھے کیا کیا نہیں یاددلایا۔ تین کہانیاں جو دمشق کے گھروں، دجلہ کے پانیوں، بغداد کے کیفوں اور مسجدوں میں بکھری مجھے ملی تھیں۔ فخرو عزت کی داستانیں جنہیں سُن کر میرے دل نے آصیل مرغ کی اپنے پر پھیلائے تھے اورذلت کا سُن کر میرا سر ندامت سے جُھک گیا تھا۔توآیئے پہلے آپ کو دنیا کے کلاسیکل حُسن رکھنے والے شہر دمشق لے کر چلتی ہوں۔ جنگ سے پہلے کا دمشق جسے ابدیت کا شہر کہا جاتا تھا۔ جس کا جادوئی حُسن کا سحر آنکھوں میں رقصاں پتلیوں کو منجمند کرتا تھا۔ جس کے بارے مارک ٹوئن نے کہا تھا۔ دمشق کو کبھی ماہ و سال کے پیمانوں سے مت ماپنا۔ اس کی صورت گری صرف سلطنوں کے عروج و زوال کے آئینوں میں ہی ممکن ہے۔

Read more

بھئی ہم نے ایف سولہ کا کوئی اچار ڈالنا تھا

لو بھئی یہ بھی خوب رہی۔ یعنی اُلٹے بانس بریلی کو۔ بجائے اس کے کہ زیادتی کرنے والے کو لعن طعن کیا جاتا کہ ڈوب مرو۔ نہتے اور معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہو۔ ہمسائے کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہو۔ اب رات کے اندھیرے میں اس کے گھر پر چڑھ دوڑے ہو۔ تو اب وہ اپنے دفاع میں کوئی ہتھیار اٹھائے تو پہلے یہ سوچے کہ بیچنے والے نے اس کے استعمال پر کون سی شرطیں عائد کی تھیں۔

میں بات کررہی ہوں دنیا کے اِس بڑے تھانیدار کی۔ کوئی اُس سے پوچھے تو سہی کہ بھئی ایف سولہ کیا ہم نے اچار ڈالنے کے لیے خریدے تھے یا انہیں سجانے کا چاؤ تھا۔ ہماری ساکھ، ہماری عزت داؤ پر لگی ہو اور ہم ہینگروں میں سجے کھڑے اِن سوپر سونک کو بس للچائی نظروں سے دیکھتے رہیں اور خوش ہوتے رہیں کہ یہ ہمارے پاس ہیں۔ اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں۔ سچی بات ہے ذرا اِن سامیوں کو تو دیکھو اور سُنو۔ سارے جہان کا درد ہمارے جگر میں ہے کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔

Read more

درویشوں کا ڈیرہ

ڈاکٹر خالد سہیل سے ہلکی پُھلکی شناسائی ان کے مضامین کے حوالے سے ہی تھی۔ یہ امیر حسین جعفر ی تھے۔ اردو ادب کے مایہ ناز شاعر اختر حسین جعفری کے منفرد شاعر اور دانش ور بیٹے جنہوں نے کینیڈا میں اُن کی قربت میں بارہ تیرہ سال کا عرصہ گزارا۔ پاکستان آئے اور ہمارا…

Read more

چلو شکر دہشت گرد ملک کی کالک تھوڑی سی تو چھٹی

عثمان امجد بھٹی کی فیس بک پر لگائی گئی د نیا کے نمبر ون انٹرنیشل بزنس میگزین فوربز کی رپورٹ ہمارے لیے جہاں ایک طرف خوشی و مسرت کا باعث ہے وہیں حکومتی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اس فوربز نے 2019 ء میں جن دس ممالک کو عالمی سیاحت کے لیے منتخب کیا ہے اُن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

سچی بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی سیاحت کے لیے کچھ سنجیدہ ہی نظرآتی ہے۔ اخبارات کی بیان بازیاں اپنی جگہ مگر اِس ضمن میں عملی طور پر سمجھداری سے بھرپور جو اقدام سامنے آئے ہیں اُن میں پہلا اور اہم تو دربار صاحب کرتار پور کا ہے۔ مذہبی سیاحت کے پیش نظر اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس پر فوری عمل کرنا اہم تھا اور وہ کیا گیا۔

Read more

آئیے دوستووسکی اور اینا سے ملیں

میری طرح پاکستانیوں کی ایک اکثریت آج کل ملکی حالات کی وجہ سے ڈپریشن میں ہے۔ سوچا کہیں چلتے ہیں۔ کراچی سے فون پر میرے ویزا اور ٹکٹ ایجنٹ کی آواز حیرت وتعجب میں ڈوبی سنائی دیتی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں اتنے دن؟ کوئی آپ کا ہے وہاں؟ وہاں میرا گُرو رہتا ہے۔ یہ جملہ میرے ہونٹوں نے نہیں میرے دل نے کہا تھا۔ ہم لکھنے والوں کے جو بندھن اجنبی سرزمینوں کے کاغذ، قلم اور فن سے رشتہ جوڑنے والوں سے ہوتے ہیں وہ عام لوگوں کی سمجھ میں کب آتے ہیں؟

بھلا دوستو وسکی سے بڑا کون اپنا ہوسکتا ہے۔ تو میں زاروں اور انقلابیوں کے محبوب شہر میں ہوں۔ پرانی یم سکایا سٹریٹ جو اب دوستو وسکی کہلاتی ہے۔ یہیں کونے پر وہ چار منزلہ عمارت کھڑی ہے جس کے ایک اپارٹمنٹ میں اکتوبر 1878 ء میں وہ میرا محبوب لکھاری اپنی فیملی کے ساتھ شفٹ ہوا اور یہی وہ گھر تھا جہاں 1846 ء میں بھی اس نے کچھ وقت کرایہ دار کی حیثیت سے گزارا تھا۔ گویا یہ گھر اس کی تخلیقی زندگی کی ابتداء اور انتہا تھا۔

Read more

الطافِ صحافت

”الطافِ صحافت“ کے لیے پہلا شکریہ تو مجھے ڈاکٹر طاہر مسعودصاحب کا ادا کرنا ہے۔ مگر ٹھہریے کتاب پر بات کرنے سے پہلے کچھ کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے ابھی تک میری براہ راست ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ٹیلی فونک رابطہ بھی بس دو تین کالوں تک ہی محدود رہاہے۔ مگر اِن کالوں یا ملاقاتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دراصل میں اپنے طور پر سمجھتی ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان ایک گہرا ناتہ اور واسطہ اُس درد کے حوالے سے ہے جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور جہاں کی وہ جم پل تھے اور جس کے فراق کا اظہار مجھے کہیں کہیں اردو ڈائجسٹ میں اُن کی تحریریں پڑھنے سے ملتا تھا۔ مشرقی پاکستان جو میری بھی محبت تھی اور جس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے میں بھی وہاں گئی تھی۔

Read more

لینن کی بیوی کرپسکایا کیسی شخصیت تھی

انیس ہارون کی آپ بیتی میں فہمیدہ ریاض کا بہت ذکر ہے۔ دوستی تھی دونوں میں۔ ترقی پسند نظریات میں بھی دونوں ہم رائے اور ہم نوا تھیں۔ لینن سے بڑی عقیدت اور روس سے وابستگی تھی۔ ایک جگہ انیس لکھتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر سے بہت محبت تھی۔ میاں کا کام کرنے سے وہ خوشی محسوس کرتی تھیں۔ یہاں فہمیدہ انہیں لتاڑتی تھیں۔ ستی ساوتری جیسے طعنوں سے نوازتی تھیں۔

دراصل یہ سوچ فہمیدہ کے ہاں ہی نہیں بلکہ بیشتر ترقی پسند خواتین کے ہاں غالب نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں یہ بچگانہ سوچ ہے۔ انسانوں میں محبت کا جذبہ اُن کی بنیادی جبلت ہے۔ اگر جوڑے میں پیار ہے تو ایک دوسرے کا کام کرنے میں کیا شرمندگی اور کیا توہین۔ چلئے عظیم مسلمان عورتوں کا اس ضمن میں کیا کردار تھا اُسے تو چھوڑئیے۔ اُن کے اپنے لیڈرلینن کی بیوی کرپسکایا جو رول ماڈل کی صورت میں ان عورتوں کے سامنے ہے۔ اُس کی ازدواجی زندگی کی جھلکیاں دیکھئیے کہ وہ بطور بیو ی کس قدر محبت کرنے والی، کتنی باوفا، ہمدرد، کتنی غم گسار، غریبی اور دُکھ کے دنوں میں ہر لمحہ ساتھ دینے والی شوہر کی طبیعت اور مزاج کی نرمی گرمی برداشت کرنے والی۔ کیسی عظیم عورت تھی۔

Read more

سندر بن کے جنگلات، عید اور میں

یہ دسمبر 1969 کا رمضان ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بندہے۔ رقیہ ہال میں بشمول میرے خال خال لڑکیاں رہ گئی ہیں۔ کچن کی بوڑھی دادیوں کو میری سحری افطاری کا بڑا فکر رہتا ہے۔ اُنہیں میری عید کی بڑی فکر ہے۔ یہ جاننے پر کہ میں عید منانے اپنی دوست کے ساتھ باریسال سے بیس میل دور صاحب رائے گاؤں جارہی ہوں اُن کے چہروں پر طمانیت بھری مسکراہٹ پھیل گئی ہے۔ یہ ممتا سے بھری بوڑھیاں جنہیں بنگالی، بہاری، پنجابی کی سیاست سے کچھ سروکار نہیں۔ بس محبت میں لُتھڑی انسانیت کے ماتھے کا جھومر کیسے اس وقت بے طرح یاد آرہی ہیں۔

اس بوڑھے ڈرل ماسٹر کی یاد نے بھی آنکھیں بھگو دی ہیں۔ عصر سے افطاری تک آڈیٹوریم کے چکنے فرش پر میری دھواں دھار قسم کی اسکیٹنگ اُسے مضطرب کیے رکھتی۔ ”بس کرو۔ روزہ ہے تمہارا اور ہاں عید کرنے گھر جاؤ گی۔ “ نہیں تو۔ اپنے گھر ہی تو عیدیں کرتے کرتے اتنی بڑی ہوئی ہوں۔ اس بار تو پوربو دیس میں عید ہوگی۔ ”میری بات پر وہ کھل اٹھتا ہے۔ لفٹ مین نورالزماں، گیٹ کے دربان نومی اور مونو، دھوبی، موچی جن سب سے میری محبتیں تھیں۔ میری پوربو پاکستان میں عید منانے کو مسرت بھرے جذبوں سے سراہ رہے ہیں۔ شوق وارفتگی کے جذبات میرے بھی انگ انگ سے پھوٹ رہے ہیں۔

Read more

مشرقی پاکستان اور دادی امّاں کی کھٹی میٹھی یادیں

پاکستان کی نئی نسل کی ایک اکثریت شاید یہ جانتی ہی نہ ہو کہ آج کا بنگلہ دیش کبھی اِس ملک کا حصّہ تھا۔ اس کا بازو تھا۔ اس کا مشرقی پاکستان تھا۔ ہماری جوانی میں یہ ہمارا پوربو پاکستان تھا۔ جہاں خوبصورت جزیرے تھے۔ حسین آبشاریں گنگناتی ندیاں اور دریا تھے۔ جس کے بے…

Read more