اٹلی کے شہر میلان کی بالکونی میں بیٹھی ریٹا اسمتھ کی یاد

اِن وبائی دنوں میں وہ مجھے یاد آتی ہے۔ دروازے کا پٹ ہاتھ میں تھامے نرم و ملائم نقش و نگار سجے چہرے اور نیلی کچور آنکھوں والی جو مجھے دیکھتے ہی چنبیلی کی طرح مسکراتی تھی۔ اٹلی میں کرونا وائرس کی سنگینی بہت زیادہ ہے۔ خوفناک بیماری اور ہلاکتیں تو اپنی جگہ مگر یہ…

Read more

ہم اللّے بللّے پاکستانیوں کا رب وارث

اب اس میں تو دو رائے نہیں پاکستانی جیالے اور جی دار ہیں۔ یہ آپ کی مرضی ہے کہ انہیں احمقانہ صف میں گھسیٹ لیں۔ دلیل کے ساتھ چلیں گے تو پھر اتفاق کرنا پڑے گا۔ پر جیالے پن کا بھی تو ایک اپنا حسن ہے۔ برصغیر کے دو ماں جائے جو ہمسائے بن گئے…

Read more

کرونا وائرس، روم اور ویٹی کن سٹی

کرونا وائرس کے بادلوں نے اٹلی پر بھی اپنی نحوست کی چادر تان دی ہے۔ سیاحت کے موسم کا آغاز ہے اور بندہ قید ہوگیا ہے۔ کہاں جائے۔ نہ مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ محفوظ اور نہ کیتھولک عیسائیوں کا ویٹی کن سٹی۔ چلیے ایسے میں کچھ میری سیر سے اپنی پیاس بجھا لیں۔ میں…

Read more

مایون ہم چترالیوں کے لیے کرونا وائرس نہیں لانا

مُبارکاں، ودھائیاں تمہاری سہیلی ثمینہ کے شوہر کو۔ ہاں تو وہ شاہکار وارد ہوگیا ہے جس کی آمد کے لیے فارموسیوٹیکل کمپنیاں چُھرے تیز کررہی ہیں۔ ان کی بیویاں سنہرے خواب بن رہی ہیں۔ چارارب، پانچ ارب کے تخمینے لگ رہے ہیں۔ چلو تمہاری ثمینہ کا ایک اور شاندار وِلا تیار سمجھو۔ فوزیہ ہماری مشترکہ…

Read more

میرے محبوب سے ملاقات

”اتوار کو اپنے محبوب سے ملیں۔ “ یاسر پیر زادہ کی تحریر۔ خوشی سے باچھیں چر گئیں کہ کیا ہی حسن اتفاق ہے کہ میرا اور اُن کا محبوب ایک ہی نکلا۔ لیجیے کچھ لوگ بڑے معترض ہوگئے ہیں کہ چلو یہ اچھی ایکٹویٹی رہی۔ بھتیجے نے تو محبوب کا ذکر ہی کیا۔ پھوپھی تو…

Read more

استنبول کی سلیمانیہ لائبریری اور خوبصورت ترک شاعری

سچ تو یہ ہے کہ سلیمانیہ لائبریری میں جانا اور ایک ہزار سال سے زیادہ کے ترک اسلامی کلچر کے فکری و علمی خزانوں کے مخطوطوں اور مسودات کو دیکھنا گویا اپنے آپ کو اس علمی ماحول میں تھوڑی دیر کے لئے محسوس کرنا اور سانس لینا ہی خدا کی ہمارے اوپر ایک بڑی عنایت…

Read more

چین پر ہمیشہ کی طرح اب بھی اعتماد کی ضرورت ہے

سچی بات ہے شورش کا یہ شعر ”طوائف گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں“ اِن دنوں مجھے خود پر اور ملکی حالات پر بڑا فٹ بیٹھتا نظر آتا ہے۔ گذشتہ کچھ دنوں سے ایکا ایکی ذاتی مسائل کے اژدہام نے یو ں طنابیں چاروں اور کَس دیں کہ ارد گرد بکھرے چیختے چنگھاڑتے واقعات کہیں…

Read more

علی شیر نوائی، ازبکستان کا قومی شاعر

تاشقند کی اِس میٹھی سی دھوپ میں یہ سنتے اور نوائی کے چمکتے مجسمے پر نگاہ ڈالتے ہوئے میں نے قدرے تعجب سے اپنی گائیڈ آریانا کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ارے تمہارا شاعر کیسے ہوگیا۔ یہ تو افغانستان کے مغربی شہر ہرات جیسی تہذیبی اور علمی جگہ کا جم پل اور وہیں دفن بھی ہے۔…

Read more

قصّہ ایک افسانہ لٹنے کا

بنیادی طور پر میں ایک اُستاد ہوں۔ عرصے سے میری خواہش ایک اچھا ادارہ کھولنے کی رہی تھی۔ 1990 میں قدرت نے موقع فراہم کیا۔ تیرہ سال تک مخلوط تعلیمی سلسلہ چلتا رہا۔ گرلز سکول کا جب سیکنڈری بورڈ کے ساتھ الحاق ہوا تو لڑکوں کو الگ کرنا ضروری ٹھہرا۔ یوں بھی ہمہ وقت بچے…

Read more

بغداد یار تو نے کتنا اور جلنا ہے؟

ہماری آنکھ کے لیے یہ منظر بڑی تقویت والا تھا۔ چشم فلک تو خیر بڑی رجی پُجی ہے۔ صدیوں سے ایسے منظر دیکھتی چلی آئی ہے۔ اسی لیے بڑی بے حس سی ہے۔ بڑی کمینی سی خوشی اندر سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ گاؤں کے بڑے چودہری کو لتّر پڑ جائیں تو کمی کمینوں کی…

Read more