تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر17

کمرے میں پھیلی مدھم سی زرد روشنی میں اس نے دادی ماں کو دیکھا، وہ چوک پر بچھی نرم چٹائی پر دراز سکون کی نیند سوتی دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ چہرے پر بے چینی سی تھی۔ اس نے دوسری نظر دادو پر ڈالی، وہ کروٹ بدلے لیٹے تھے۔ لالٹین کو اس نے پھونک ماری اور اس کے بجھتے ہی کمرے میں گھپ اندھیرا پھیل گیا۔ اندر اندھیرے کا طوفان تھا اور باہر باد و باراں کا۔ آہستہ آہستہ چلتا

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول:قسط نمبر 16

یہ میرے بابا ہیں۔ سرجیکل وارڈ کے اس کمرے میں جہاں تیز دواؤں کی بو پھیلی تھی۔ انہیں اُجلے بستر پر سفید پٹیوں میں جکڑے جکڑائے دیکھ کر ابھی اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ تھا۔ ” کیا انہیں ایسی حالت میں دیکھنے کی مجھے توقع نہ تھی؟“ سوچتے ہوئے وہ ان پر جھکا، ان کے ہاتھ اس نے پکڑنے چاہے، پر وہ مجروح تھے۔ ان کے سینے پر اس نے سر رکھنا چاہا، پر وہ زخمی تھا۔ اس کا

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر 15

چلتے چلتے وہ رک گیا۔ جھک کر نگاہ اس نے اپنے پاؤں پر ڈالی۔ آج یہ کچھ زیادہ ہی گندے ہور ہے تھے۔ پیچھے خالی دھان کے پانی سے بھرے کھیتوں سے جو گزر آیا تھا۔ باڑی (مکان) اب قریب ہی تھی۔ بائیں ہاتھ میں پکڑی جوتے کی جوڑی دیکھ کر اس کا خوشگوار موڈ ایک ہی دم خراب ہو گیا۔ جُو کے کنارے بیٹھ کروہ غصے سے خود سے بولا: اتنے سالوں کا ہو گیا تو ڈھنگ کا جوتا

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (14)

اخبار کی یہ نمایاں سرخی انہوں نے ایک مرتبہ پڑھی دوبارہ پڑھی اور اب سہ بار اس پر جھکے ہوئے تھے۔ تب انہوں نے اپنا سفید بالوں والا سر اٹھایا اور بوجھل آواز میں اس سے مخاطب ہوئے، جو یہ اخبار لے کر تھوڑی دیر قبل ان کے پاس آیا تھا اور اب چوک کے پاس کھڑا پریشانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ ”حیدر علی! عظیم قائد نے یہ کیسا حکم دے دیا ہے؟ ہم تعلیمی اور سماجی طور پر

Read more

رخشندہ نوید اپنی شاعری کے آئینے میں

میرے لیے آج سے کوئی پچیس سال قبل فلیٹیز ہوٹل کے ہال میں فخر زمان کی زیرصدارت منعقد ہو نے والی ایک شاعری کے مجموعے ”پھر وصال کیسے ہو“ کی تقریب رونمائی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نئے لہجے اور تازگی کی خوشبو میں مہکتی شاعری کو سراہوں یا اس کی خالق جو ایک پر کشش موہ لینے والی شخصیت نام جس کا رخشندہ نوید تھا کو اس کے اس نئے فکری احساس پر خراج پیش

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول۔(13)

تب ان سب نے پوچھا۔ ” ہوں، تو شلپی کوئی نئی خبر؟“ اور اماوس رات کے ان لمحوں میں، جب ہوا بانس کے درختوں سے ٹکرا کر سائیں سائیں کرتی تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ اب انہیں کیا بتائے کہ اس کے پاس نت نئی خبروں کا سارا سٹاک ختم ہو گیا ہے اور اپنے ساتھیوں پر معلومات کا رعب جھاڑنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا۔ پھر بھی وہ بولا۔ ” دادو کہتے ہیں کہ اب پاکستان بن

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (12)

اور جب اسے نوکر نے یہ اطلاع دی کہ باہر منورنجن گپتا آئے ہیں تو ایک لمحے کے لئے وہ حیران ہوا اس نے اپنے خادم کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں شناخت کا یقین پا کر اس نے ستار خود سے جدا کیا اور اپنی دھرم پتنی کی طرف جھکا جو قالین پر تکیوں کے سہارے نیم دراز تھی۔ ”سومیتا تم نے سنا گپتا آیا ہے۔“ اس نے اپنی بیمار آنکھوں کو پوری طرح کھولا اور نحیف سی

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (11)

آج جب اس نے اپنی دھوتی کے ڈب سے ایک پیسہ نکالا تو اسے دکھ ہوا فیری گھرڑ گھرڑ کرتی کنارے سے لگ گئی تھی۔ لوگ دھڑا دھر اتر رہے تھے۔ اور جب وہ اپنے سبز رس دار خوشبوئیں اڑاتے آموں کے ٹوکرے کو اٹھانے کے لئے جھکا تو بڑبڑایا۔ ”یہ حرامزادہ اب یہیں بیٹھا رہے گا ہماری چھاتی پر مونگ دلنے کو۔ جا کیوں نہیں چکتا کلکتے، یہ دیش اب ہمارا ہے اس کا یہاں کوئی کام نہیں۔“ ابھی

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول ( 10)

اس نے خود سے کہا۔ ”شریر جانے مٹی کیوں ہوا جار ہا ہے اور من بھی کیسا اجڑا، اجڑا ہے؟ کسی کام کے کرنے پر طبیعت ہی مائل نہیں۔“ یوں کام کرنے کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس گھر میں تھوک کے حساب سے نوکر تھے۔ پر رسوئی گھر کا بیشتر کام اسے ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس کا سسر ڈاکٹر جو چند سال قبل بنگال کا وزیر صحت تھا کھانے پینے اور برتنوں کی صفائی میں کچھ زیادہ

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول: (9)

”ارے میرے اللہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ میں اسے اب دیکھ بھی نہیں سکتا۔ جس کے دیدار کے لئے میں یہاں آیا ہوں، پورے دس کوس کا فاصلہ طے کر کے۔ یہ ہاتھ ابھی تک سرخ ہیں، ان پر چھالے سے پڑ گئے ہیں۔ دس میل نوکا جو مجھے چلانا پڑا۔ میں اسے یہ سب کچھ کیسے بتاؤں میرے تو چاروں طرف انسانوں کا ہجوم ہے۔ جی چاہتا ہے اسے دھکیل کر اس تک جا پہنچوں۔“ ”ارے دادو میں

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (8)

وہ یہ سوچتا ہوا اندر آیا  اور لمبے کیل کے ساتھ لٹکتی بانس کے تنکوں کی چھاج اتار کر اپنے سر پر رکھی جب دادو کی آواز اس کے کانوں میں پڑی جو اس سے کہہ رہے تھے : ”تم کیا کہیں باہر جا  رہے ہو؟ پوکھر (تالاب) پر تمہاری دادی ماں پانی لینے گئی ہیں۔ تمہیں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کی جان اب بوڑھی  ہے۔“ تب باشا کی پچھلی سمت کیلوں کے جھنڈ کی طرف قدرے ڈھلانی

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔( 7)

پانی میں کوئی کوس بھر کا پینڈا مارنے کے بعد جب وہ احتشام چاچا کی باشا پر پہنچے وہاں مستفیض بھیا کے دوستوں اور ملاقاتیوں میں الیکشن اور مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑنے والے سبھی امیدوار زیر بحث تھے۔ مستفیض کے وجود سے پھوٹتی محبت اور خلوص کی روشنی میں پور پور نہانے کے بعد سب لڑکے مؤدب ہو کر بیٹھ گئے۔ مستفیض کی سیاہ آنکھیں چمکیں جب اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ تم سب دن رات

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر : 6

1946 کا زمانہ مقام باریسال کا گاؤں صاحب رائے : ”سؤر کہتا ہے پاکستان نہیں بنے گا۔ کہو نا ایک بار پھر۔ نہ میں تیرا جبڑا توڑ دوں تو میرا نام بھی شلپی نہیں۔“ یہاں تاڑ کے درختوں کے پاس کھڑا وہ قہر بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ جس کی ٹھوڑی پر ابھی ابھی اس نے ایک زور دار مُکہ رسید کیا تھا۔ وہ قد کاٹھ میں اس سے خاصا لمبا تھا اور کاہی رنگی چارخانہ دھوتی کو

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (5)

اس گھر میں پچھلے چند دنوں سے عجیب سا شور تھا۔ گھر کا معمر ترین فرد دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اٹھارہ گھنٹے ہر چھوٹے بڑے کو یہ سمجھانے میں صرف کر رہا تھا کہ اس نامعقول لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ لاڈ و پیار نے اس کا ستیاناس کر ڈالا ہے۔ وہ جوان ہے اور یوں ایک جوان لڑکی کا ہزار میل دور پڑھنے کے لئے جانے کی ضد کرنا قطعی احمقانہ بات ہے۔ اور

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (4)

”شات بائی چمپا۔ ہو جاگو رے جاگو۔“ اس نے نیم تاریک راہداری میں قدم رکھا اور اس شیریں آواز کو سنا۔ یہ پاکستان کونسل برائے قومی یکجہتی لاہور کی عمارت تھی جس کے ہال کی طرف وہ اس وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بڑھ رہی تھی۔ یہاں بنگالی بچوں کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی تھی۔ ممبر ہونے کی وجہ سے وہ بھی شرکت کے لئے آئی تھی۔ ہال میں داخل ہوئی۔ یہاں تیز جگمگاتی روشنیاں تھیں۔ سٹیج خوبصورتی

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (3)

آواز اب پھر تیز او ر اونچی ہو رہی تھی۔ برہم پتر اور جمونا میرے پرانے ساتھی۔ وہ ڈوبا، ابھرا اور پھر ڈوبا۔ باریسال کے ساحل تو اسے عشق تھا۔ صاحب رائے سے نوکے (کشتی) کو روز کھے کر ساحل تک لانے میں اسے کبھی دقت محسوس نہ ہوئی تھی۔ اور جزیروں کی اس چھوٹی سی بستی میں جہاں پانی نسبتاً کم گہرا ہوتا وہ مچھلیاں پکڑا کرتا اور ان کے جال میں پھنس جانے پر نوکے میں اچھلا کرتا۔

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثرانگیز ناول (2)

چھاؤنی کی یہ شفاف اور فراخ سڑک جس کے سینے پر میری جیپ اس وقت تیز رفتاری سے دوڑ رہی ہے ایلگن روڈ کہلاتی ہے اور میں افسران میس جانے کی بجائے وہاں جا رہا ہوں جہاں جانے کی مجھے ہمیشہ تمنا رہتی ہے۔ ہر دو حالتوں میں جب میں خوش ہوتا ہوں یا مجھ پر اداسی طاری ہو۔ میرے نزدیک بیٹھا یہ سرخ و سفید پنجابی نوجوان محسن میری قریبی نشست کی طرح میرے دل کے بھی اتنا ہی

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (1)

وہ فوجی افسر اُس سمے سخت الجھن میں تھا کہ الف ب سے کوری اپنی اس بھاوج، جسے وہ بھاوج تو کم پر ماں زیادہ سمجھتا ہے کیونکر سمجھائے کہ پھولدار گلابی ٹیونک کو دونوں ہاتھوں سے مسلتی یہ لڑکی پرابلم چائلڈ ثابت ہو ر ہی ہے اور ڈنڈا سونٹا اس کے لئے بیکار ہے۔ کھرے بان کی چارپائی پر بیٹھی وہ بھی جن کے کندھے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے جھکے ہوئے تھے اپنی سوچ میں کسی حد تک

Read more

فلسطینی ورلڈ لٹریچر ایوارڈ کی کہانی

میں بے حد جذباتی ہو جاتی تھی۔ اپنی بے حد فعال، متحرک، صحت مند اور تندرستی جیسی نعمت سے گزاری گئی زندگی کو یکسر بھول جاتی تھی۔ اور قدرت کے اس اصول کی نفی کر رہی تھی کہ صبح کے بعد شام اور رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات ربی کا اصول ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں خصوصی توجہ کی مستحق بننا چاہتی تھی۔ کیوں؟ کیوں؟ جیسے سوالیہ نشان بالک ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔

Read more

گئی تھی دل کی دوا لینے، نئے تحفے لے آئی

اسی دوران ایک ڈاکٹر نے آ کر کمرے میں شفٹ کرنے، نیز سٹریچر پر نہیں کرسی پر بٹھا کر لے جانے کا کہا۔ مستعد نرسیں جیسے گلو خلاصی کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ آناً فاناً بیڈ سے گھسیٹ کر سامنے پڑی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے گھٹنے کے نیچے لگے ٹانکوں پر خراشیں بھی آئیں اور تھوڑا سا وہ چھل بھی گیا۔ اب احتجاج کرنا کس قدر فضول لگا اس کا مجھے اچھی طرح احساس ہو گیا

Read more

کیا دیکھا، اپنے دل کی چیر پھاڑ کے دوران؟

چھوٹا بیٹا خاموش کھڑا جیسے الوداع کہتا ہو۔ اُسے یوں دیکھ کر بھی میرے اندر کچھ اُتھل پتھل نہ ہوئی۔ اگلے چند لمحے مجھے کسی اور دنیا میں لے جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ کون سی دنیا؟ جو زندگی سے جڑا ہر ناتا ختم کر سکتی ہے۔ اُسے از سر نو جوڑنے پر بھی قادر ہے۔

پھر معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب میں کسی انوکھے جہاں میں گم ہو چکی تھی۔ ایک عجیب سی طلسمی دنیا جو رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ جہاں مجھے احساس ہو رہا تھا کہ میں پاتال میں گری پڑی ہوں۔ جیسے میری موت ہو گئی ہے۔ میرے اوپر کہیں انسانوں کی وہ دنیا ہے جہاں میرے بچے رو رہے ہیں۔ میں ان کی آہ و بکا کی آوازیں سن رہی ہوں۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوتا ہے جیسے میں قبر میں لیٹی ہوئی ہوں۔ مگر پھر میں خود سے پوچھتی ہوں؟ اگر یہ قبر ہے تو مٹی کہاں ہے؟

Read more

میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی

دسمبر اگر قومی زندگی میں ایک دکھ بھرا ایک کرب انگیز مہینہ ہے تو اِس 2024 کا دسمبر میرے لیے بھی ذاتی حوالے سے کچھ ایسے ہی اندوہناک احساسات کا سامان لے کر آیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کھوتے کی طرح جیون کی بار برداری کی گٹھڑیاں اٹھاتے گزار دی۔ بیماری کیا ہوتی ہے؟ اس سے شناسائی ہی نہ تھی۔ کبھی سالوں میں ایک آدھ دفعہ نزلہ، فلو یا دانت کے درد کی اذیت کے سوا کچھ

Read more

 7 برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط

”سر مجھے آپ کا ہاتھ دیکھنا ہے۔ وقت آپ نے بتانا ہے کہ کب آپ کے پاس آؤں؟“ انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔ ”سر میں بہت اچھا ہاتھ دیکھتی ہوں۔ حسینہ واجد کا ہاتھ بھی میں نے دیکھا ہے۔ میرے پاس اس کے ہاتھ کے پرنٹ بھی ہیں۔ اُس وقت میرے تن پر آبی رنگی ٹنگائل کی خوبصورت ساڑھی تھی۔ شانوں پر گھنے سیاہ بال لہراتے تھے۔ سانولی رنگت کے

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر (رابندر ناتھ ٹیگور ) قسط 6

حسن فطرت سے اُسے عشق ہے۔ یہ صبح شام موسموں کے بدلتے رنگوں کے ساتھ کیسے پرانے پیرہن اُتار کر نئے پہنتی ہے۔ اُن پرانے اور نئے رنگوں میں حُسن و رعنائیوں کے جلوے اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرتے ہیں۔ اس کا اظہار بھی کیا خوب ہے۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہے بارش بند نہیں ہوتی میں نہیں جانتا میرے اندر کون سی بیتابی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں۔ طلوع آفتاب زمین کو زریں تاج

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط ( 5)

رمضان میں یونیورسٹی بند ہونے اور عید پر گھر جانے کا پوچھنے پر میں نے فوراً کہا تھا۔ ”ارے نہیں آپا عید اپنی کلاس فیلو کے ساتھ باریسال منانے جاؤں گی۔ اپنے دیس کے اِس حصے کے رمضان کی رونقیں اور عید کو بھی تو دیکھوں۔“ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عظیم اور لافانی شخصیت جن کی شاعری، مصوری، افسانہ، ناول، ڈرامہ، موسیقی، مقالہ نویسی غرض کہ کون سی صنف ایسی تھی جس کے وہ شہسوار نہ تھے۔ قلم اُن

Read more

بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور، قسط (4)

”چلو اب سنو۔“ فاخرہ نے پھر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ کہانی کے جلد ختم ہونے پر بھی مجھے ہمیشہ اعتراض ہوتا۔ خوف، ڈر، بے قراریاں، اضطراب سب میرے اندر سے نکل کر ہونٹوں پر سوال جواب کی صورت پھُدکتے۔ جہاں کہیں کہانی میں سنسنی خیز موڑ آتا۔ اضطراب میں ڈوبا ہوا جملہ ”پھر کیا ہوا“ فوراً لبوں پر آ جاتا۔ ایک اور کام کرنا بھی میرا معمول تھا۔ وہ تھا میری ماسٹری، میری اُستادی۔ گھر کے سارے ستون کھمبے

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)

اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور

Read more

بر صغیر کا نوبل ایواڑ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور – دوسری قسط (2)

سلہٹ کی خوبصورت مستورہ نے انگریزی میں مجھے اس کا ترجمہ بتایا۔ بتایا کیا اچھی طرح سمجھایا پھر لہکتے ہوئے ایک اور گیت گایا۔ جودی تور ڈاک سنے کیو نہ آشے توبے ا یکلا چولو ایکلا چولو ایکلا چولو رے اس کا بھی مطلب سمجھا اور ساتھ ہی میں نے جانا کہ یہ ٹیگور کے گیت ہیں۔ یوں اِن تین ماہ میں مجھے بنگالی کی کچھ شد بد ہوہی گئی تھی۔ اب میری شامیں اکثر و بیشتر پوکھر کنارے گزرنے

Read more

بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور۔ پہلی قسط

رابندر ناتھ ٹیگور سے میرا پہلا تعارف پانچ جولائی 1969 کی اُس شب ہوا جس کی دوپہر کو میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل رقیہ ہال میں بورڈر ہوئی تھی۔ آڈیٹوریم میں اُن کا ڈرامہ چترا نگدا سٹیج ہو رہا تھا۔ رم جھم برستی بارش میں رقص اور ان کی شاعری کے سنگ ڈھاکہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی یہ پیش کش حد درجہ کمال کی تھی۔ بنگالی زبان سے اِسے میں نے اُردو میں جیسور کی اُردو اسپیکنگ فاخرہ آصف سے

Read more

مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ

”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف(6)

وہ عرب دنیا کا ایک منتخب نام جس کی زندگی کا ہر اُتار چڑھاؤ، ہر موڑ، ہر تجربہ قاری کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اتنا سارا مال و متاع اس نے عربی زبان اور لوگوں کو تحفے کی صورت دیا۔ ابھی جو دو نظمیں آپ نے پڑھی ہیں۔ اِن میں مناظر رنگ، بچپن کی یادوں کی خوشبوئیں اور اس کے کرب کا اظہار نمایاں ہے۔ وطن سے جو قدم نکلا

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف:5

”میں وہ ہوں جس کے لکھے ہوئے کو اندھا بھی پڑھ سکتا ہے۔ میری شاعری جادوئی اثر رکھتی ہے۔ جسے بہرہ بھی سن سکتا ہے۔ جو کام تلوار اور تیر کرتے ہیں۔ میرا کاغذ، قلم اور حرف اُس سے زیادہ موثر ہیں۔“ المتنابی بازار اسی شاعر کی یاد میں ہے۔ میں کتابوں کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی۔ یہ کتابوں کا جہان تھا۔ یہاں کتابوں کی دنیا آباد تھی۔ صاف ستھرے فرشوں پر بکھری ہوئیں، تھڑوں پر دھڑوں کی

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر: سعدی یوسف

”دیکھو نا۔ ماموں نے میری طرف دیکھا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آپ اپنے وطن نہ جا سکیں۔ صدی کا چوتھائی حصّہ یعنی پورے پچیس سال ہوتے ہیں وہ عراق نہیں گیا۔ اس نے بغداد نہیں دیکھا۔ وہ بصرہ نہیں گیا۔ بصرہ جہاں اس نے جنم لیا، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس کا خاندان ہے، جہاں اس کی ماں جیسی بڑی بہنیں اس کی راہ تکتی ہیں۔ اس کا گہرا دوست الجواری بھی ابھی تک دمشق میں

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

یہ نظم نمائندہ تھی اُن مظلوم، لاچار اور بے بس عراقی لوگوں کے جذبات و احساسات کی۔ جن پر امریکہ اور اس کی لونڈی اقوام متحدہ نے زندگی کی بنیادی سہولتوں کی کھلی فراہمی پر پابندیاں لگادی تھیں۔ یہ بہت لمبی نظم تھی۔ میں تو دم بخود تھی۔ ساکت تھی۔ شاعر کی جی داری اور جرات رندانہ پر حیران تھی۔ امریکہ تو پھیتی پھیتی ہو کے فضا میں بکھرا پڑا تھا۔ شاعر نے کچھ بھی تو نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

عراق داخلی کشمکش کا خونیں انداز میں اظہار کر رہا تھا۔ صدام بائیں بازو کے ترقی پسندوں کا بیج مار دینا چاہتا تھا۔ ترقی پسند بھی سرکشی اور بغاوت کی انتہاؤں پر پہنچے ہوئے تھے۔ عراق کے شاعروں اور ادیبوں نے جھکنے اور مفاہمت کے الفاظ اپنی لغت سے خارج کر دیے تھے۔ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد صدام کا فیصلہ تھا کہ وہ بائیں بازو کی قیادت کا خاتمہ کردے گا۔ سعدی یوسف تو بڑی انقلابی نظمیں لکھ

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

سعدی یوسف سے میرا بھرپور تعارف کروانے میں ایک کردار قدیم بغداد کے اُن قہوہ کیفوں میں منعقدہ ادبی محفلوں اور شاعروں کا بھی ہے جو میرے لاہور کی ہی طرح ادبی بیٹھکوں، گھروں اور کیفوں میں ادبی نشستوں اور مشاعروں کی صورت نئے اور پرانے شعرا کے اوپر بحث و مباحثے کے لئے اور کبھی اُن کا کلام اور مفہوم سمجھنے کے لئے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ بغداد میں میری بھی چند شامیں اسی سرگرمی کی نذر ہوئیں۔ بلا

Read more

الوداع چترال اور اہل چترال – حصہ دوئم

دوپہر کا کھانا کھا کر ہم لوگ پامیر ہوٹل گئے جہاں سے بمبوریت کے لیے روانگی ہوئی۔ گاڑی کا ڈرائیور مقامی تھا۔ جس نے آیون گاڑی روک کر ہمیں وہ راستہ دکھایا جو فاریسٹ والوں نے بمبوریت تک کھرہ کے جنگل سے پہاڑوں کے گردا گرد کاٹ کر بنایا تھا۔ یہ راستہ دشوار گزاری اور خوبصورتی دونوں لحاظ سے بے مثال تھا۔ پتہ نہیں اسے کیوں بند کر دیا گیا۔ بمبوریت میں سچی بات ہے ویرانی کی دھول اُڑتی تھی۔

Read more

الوداع چترال اور اہل چترال

الصلوۃ خیر من النوم پہلی بار آہستہ پر دوسری بار اُونچی آواز میں پڑھتے ہوئے کوثر اُٹھ بیٹھی تھی۔ میرے جسم کی حالت کچھ اُس مظلوم عورت کی سی تھی جس کے خاوند نے اُسے چار چوٹ کی مار ماری ہو۔ بریر کی جنت نظیر وادی کے خوفناک راستے بدن کے لیے جیسے ظالم شوہر کا ڈنڈا ہی تو ثابت ہوئے تھے۔ آنکھ کی خفیف سی جھری سے میں نے کوثر کو دیکھا اور پھر اُسے بند کر لیا۔ نئے

Read more

کالاشی کلچر کا افسانوی نہیں حقیقی کردار بودلک

جب انسانی وجود کے آر پار کو کسی برچھی کی انی کی طرح چیرتی نورستان کے پہاڑوں سے آنے والی زمستانی ہوائیں دم توڑنے لگتیں تب بودلک کے چناؤ کے لیے سیمسن جیسے جری جوان کا انتخاب ہوتا تھا۔ اُسکے انگ انگ کی صحت مندی کی سند وادی کے وید حکیم کے جاری ہونے کے بعد پہاڑ کی چوٹی پر ایک الگ تھلگ گھر میں چھ ماہ تک بہترین کھانوں اور پھلوں کے ساتھ پرورش اور صنف مخالف سے میل

Read more

کالاشی ثقافت کے مزید دلکش رخ

ڈین کا مقصد دراصل کالاش قوم کو ضبط نفس کی تعلیم دینا ہے۔ بالعموم اس کا دورانیہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہے یعنی 14 اگست سے 29 ستمبر تک۔ بزکشی کی ادائیگی گویا اس قانون کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اس رسم کے بعد ایک دن کے وقفے سے پوڑ کا میلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب ہم سب کے چہروں پر بزکشی سے متعلق سوال رقم تھا۔ جسے انہوں نے پڑھا پر ان کے بولنے سے پہلے چائے آ

Read more

18: وادی بریر کی کہانیاں

پر جونہی جیپ نے آیون کے لیے عمودی اُترائی کا رخ کیا میرے ذہن نے قلابازی کھائی۔ بمبوریت کی بجائے بریر جایا جائے۔ اس خیال نے گاڑی کی رفتار پکڑنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑا یوں کہ میں نے اپنا ہاتھ مسز زہرہ ممتاز کے بھاری بھرکم شانے پر رکھتے ہوئے انہیں بریر وادی کے دلفریب نظاروں کی ایسی دلکش تصویر دکھائی کہ وہ بے اختیار بول اُٹھیں کہ بھئی مجھے تو سیر سے غرض ہے۔ ڈرائیور نے ذرا سی

Read more

چترال کا شاہی قلعہ اور البیلی ماہ لقا

یہاں برق گرانے والی ایک اور خبر تھی کہ ”شاہی محل کی وہ مہ لقا جسے دیکھنے کی میں آس لیے پھرتی تھی عرصہ سات سال سے زمین کا رزق ہو چکی تھی۔“ مسز تاج کے یہ الفاظ آتش شوق پر تیل اور تیلی گرانے کے مترادف تھے۔ چترال میں اس جیسی حسین اور طرحدار عورت کب دیکھنے میں ملے گی۔ اسے تو گھنٹوں دیکھو اور جی نہ بھرے والی بات تھی۔ اس ڈپریشن کو کم کرنے میں بیچارے قہوے کی

Read more

جانا کیلاشیوں کی تیسری وادی بریر کی جانب

چترال سے یہ میری تیسری ملاقات تھی۔ پوڑ (ستمبر کے آخر میں بالائی چراگاہوں سے مال مویشیوں کا نیچے وادی میں آنے اور اخروٹ و انگور پکنے کی خوشی میں منایا جانے والا تہوار) دیکھنے کی حسرت بھی اندر سے نکل کر آنکھوں میں ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی۔ تاج محمد فگار صاحب سے جو چترال کی بڑی علمی ادبی اور سماجی شخصیت ہیں فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس تہوار کے لیے تاریخ کے تعین کا جان کر مجھے مطلع کریں گے۔ میری ممیری بہن کوثر جمال اس بار میری ساتھی تھی۔ وہ یقیناً اپنے بچپن کے فوکر طیاروں میں جیالے پائلٹوں کے سنگ کیے گئے سفروں کے کسی ایسے عکس کو جو ابھی بھی اُسکی ذہنی دیواروں سے چمٹا ہوا تھا کو دیکھنے کے لیے چترال جانے کی آرزو مند تھی۔

Read more

جاپانی لڑکی ایکو کیلاشی لڑکے سے بیاہ کرتی ہے

میری انتڑیاں اُس وقت بھوک کی شدت سے بلبلا رہی تھیں۔ اُترائی کی دشواری بھی سامنے تھی۔

اُترتے سمے میری حالت اُس دلہن جیسی تھی جس نے بالشت بھر اونچی ایڑی کا جوتا اور زمین پر لُٹنیاں لیتا شرارہ پہنا ہو اور جو پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی ہو اس ڈر سے کہ کہیں لڑھک لڑھکا کر تمسخر کا باعث نہ بن جائے مجھے تمسخر کا نہیں ہڈی جوڑ کے اناڑیوں کے پاس پہنچنے کا ڈر تھا۔ گورڈن کالج راولپنڈی کے چند طلبہ کی ہرنی کی طرح چوکڑیاں بھرنے کی ادائیں دیکھ کر ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا یاد آیا تھا۔

ہوٹل میں لوبیا کا بد مزہ سا سالن تھا۔ اکڑی ہوئی روٹی تھی۔ شکوہ کرنے پر سُننے کو ملا تھا۔ آرڈر دے کر جانا تھا۔ اور اگر مُفتے کی مقامی ذائقہ دار چیزیں کھانی تھیں تو اوپر ٹھہرنا تھا۔ جش ( چربی میں بنایا ہوا نمکین حلوہ) اور اُبلا ہوا گوشت ملتا۔ جش نیچے کے حلووں ولووں اور اُبلا گوشت روسٹ کے سواد کو بھُلا دیتا۔

Read more

کیلاشیوں کی دوسری حسین وادی ریمبور

پشاور روڈ سے آیون کسی ایسی دُلہن کی طرح نظر آتا ہے جس کا ایک ایک انگ حُسن دلربائی کی تصویر ہو۔ پر جونہی نیچے اُتر کر نقاب کشائی ہوتی ہے تو ایک بھدا بے رونق اُجڑا پُجڑا چہرہ دیکھنے کو ملتا ہے یوٹرنز کی خطرناک چڑھائیوں اُترائیوں کے بعد بلندی پر گاڑی کے سیدھا ہونے پر وہی دلربائی دامن دل کو پھر کھینچتی ہے۔ ژوبار چیک پوسٹ سے ریمبور جانے کے لیے ڈرائیور نے گاڑی دائیں ہاتھ موڑ لی۔

Read more

کالاش مرد کا مرتبہ بیویوں کی تعداد سے متعین ہوتا ہے

کالاشی لوگ رومان پسند ہیں۔ اساطیری دیو کی طرح ان کی جان رقص و موسیقی کے طوطے میں ہے۔ اپنے دیوتاؤں کو منانے محبوب کو رجھانے لُبھانے نئی زندگی کو خوش آمدید کہنے اور دنیا سے رخصتی کے سمے انہیں رقص کرنا ہے ڈھول کی ڈھم ڈھم اور بانسری کی تانوں میں ان کے سانس چلتے ہیں۔ ان کے رقص کے نرت بھاؤ اور موسیقی کی تانوں کی مماثلت کسی قوم کے ثقافتی ورثے سے میل کھاتی ہے یا نہیں۔

Read more

کیلاشی کلچر کی لڑکیاں

برون گاؤں بہت نیچے نظر آتا تھا۔ جنگل بھی پیچھے رہ گیا تھا۔ یہاں مالوش (قربان گاہ) کس قدر خوفناک سناٹے میں سانس لیتا تھا۔ چوبی پھاٹک کھول کر میں اندر داخل ہوئی۔ خوف کی لہریں میرے رگ و پے میں دوڑنے لگیں۔ چوبی تختوں پر بے شمار اُلٹی سیدھی لکیریں اور شکلیں تھیں۔ قدرتی پتھروں کے سائے میں چار چوبی گھوڑوں کے سروں والے بت کھڑے تھے۔ ایک طرف آگ کی راکھ تھی اور انکے سروں کے نیچے تختوں

Read more

کالاشیوں کے دلفریب تہوار چلم جوشی کی تفصیلات

جب میں باہر جانے کے لیے جوتا پہن رہی تھی زار ولی خان چائے کی چھوٹی ٹرے کے ساتھ اندر داخل ہوا ۔ ’’ارے میں جیسے مسرت کی پھوار میں نہا سی گئی۔ گھر سے باہر گھر جیسی عیاشی دیتے ہو جیتے رہو۔‘‘ میں نے اُس چائے کو خنکی سے لبریز اُس صبح کو چسکیاں لیتے ہوئے یونہی پیا تھا جیسے واڈکا، شیمپئن یا وسکی کا ایک شوقین ڈرنکر اپنے من پسند ڈرنک کو اس سے پوری طرح لطف اندوز

Read more

بتریک گاؤ ں کے آتلاخ خان سے دلچسپ مکالمہ

اجنبی جگہوں پر دعائیں کتنی جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔ ریسٹ ہاؤس کے لان میں چند مقامی لوگ داخل ہوئے۔ یہ مشی خان کے ساتھ تصویریں اُتروانے کے خواہشمند تھے۔ مُڈ بھیڑ میرے ساتھ ہی ہوئی۔ میں مشی خان کو باہر لے آئی یوں ایک چھوڑ کئی تصویریں بن گئیں۔ عورتیں نہال ہو گئیں۔ میرے مسئلے کا جاننے پر فی الفور انہوں نے اپنے گھر کی پیشکش کردی۔ سفر وسیلہ ظفر یونہی تو نہیں کہا گیا۔ چلیے میں پروین کو

Read more

کیلاشی قبرستان، کیلاشی عورت اور اس کا مقام

پھر جیسے میرے اندر کھُد بُد سی ہونے لگی۔ اندر جا کر تو دیکھوں۔ پر لڑکا بھی بڑا کائیاں تھا۔ ”وہاں کوئی مقامی عورت نہیں جا سکتی۔ اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ “

میں نے پلٹ کر اس ایف۔ اے پاس گائیڈ کو دیکھا جو محاوروں کی صورت اپنی علمیت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ میرے بچے میں تو دو کنال کے گھر کی چھوٹی سی کیاری کی مولی بھی نہیں اور تم بات کرتے ہو کھیت کی۔ پھر یوں ہوا کہ بشالینی کے اندر کا اسرار گھسیٹ کر مجھے وہاں لے گیا۔

ادھ کھلے دروازے میں گاٹی ڈالنے کی دیر تھی کہ چار پانچ خونخوار آنکھیں چیلوں کی طرح مجھ پر جھپٹیں۔ بھاگی۔ ذرا فاصلے پر گائیڈ کی آواز سنائی دی۔ سامنے سے ایک جیپ بھی آتی نظر پڑی۔ غصیلی آواز کچھ ایسی تھی۔ آپ کو بتایا تھا کہ بشالینی ناپاک ہو جاتی ہے اور ایسی حماقت کرنے والا بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔ صد شکر کہ جیپ ڈرامہ یونٹ والوں کی تھی جو دوپہر کا کھانا کھانے ریسٹ ہاؤس جا رہے تھے۔ میں اس میں بیٹھی اور اونچے سے بولی۔

Read more

کیلاشی گھر ، بشالینی اور میں

ساری دوپہر ان کے دو منزلہ چوبی گھروں کی دید میں گزری ۔شیر خان نامی لڑکا میرا رضاکارانہ گائیڈ بن گیا۔ سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بہتا ٹھنڈا ٹھار پانی ندی نالوں کے ساتھ ساتھ زینہ در زینہ کھیتوں پھلدار اور سایہ دار درختوں سے گھرے یہ گھر جن کے آنگن دیودار جیسی قیمتی لکڑی کے ڈھیروں سے بھرے پڑے تھے۔ چوبی زینے جن پر سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا تھا۔

سیاہی سے اٹے ہوئے گھر کہ یوں گمان گزرے جیسے کوئلے کی کان میں داخل ہوئے ہوں۔ تختوں پر دھرے ایلومینیم چینی اور لکڑی کے برتن۔ تخت پوش اور کسی گھر میں ایک آدھ کرسی میز بھی۔ بڑے کمرے کے وسط میں آگ جلتی تھی اورچیستان (چاول کے بھُس اور رسیوں کی آمیزش سے بنی) چٹائیاں بچھی تھیں۔

Read more

یونانی لیڈی ٹیچرز کے ہاتھوں کالاش لڑکیوں کی تربیت

نور پیر کے تڑکے آنکھ کھلنا میرا ہمیشہ کا معمول ہے۔ ریسٹ ہاؤس میں سارا عالم ابھی سوتا تھا۔ باہر مظاہر فطرت جاگتے اور دل لُبھاتے تھے۔ نماز کے لئے مسجد بھی نظر آ گئی تھی۔ بلندوبالا چوبی ستون اپنے ڈیزائن اور بناوٹ و قامت کے اعتبار سے وادی کی طرح ہی منفرد تھے۔ مرکزی دروازے پر ’زخاک آفریدہ خداوند پاک‘ پس ای بندہ گی کن جونمرگ ’لکھا ہوا تھا۔ نمازی جانے کہاں تھے۔ مسجد میں سناٹا تھا۔ برآمدے کے

Read more

کافرستان کی پریاں اور ان کا رقص

صد شکر کہ یہاں پروانہ راہداری پاکستانیوں کے لیے بیس اور غیر ملکیوں کے لئے پچاس روپے تھا۔ چلو کہیں تو فارنرز کے مقابلے میں ان بے چاروں کو بھی عزت و تحریم ملی۔ چیک پوسٹ کا انچارج بڑا خوش و خرم اور چہچہانے والا مرد تھا۔ اس کی چترالی ٹوپی پر لہراتے مرغ زریں کے پر سیاہ لباس گوری رنگت اور ہنستا مسکراتا چہرہ بے رونق پہاڑوں سے گھری اُس اُداس سی شام میں تھوڑی سی رنگینی اور زندگی پیدا کرنے کا موجب تھا۔ انگریزی میں سڑک کے ایک طرف نصب بورڈ پر سیاحوں کے لیے ہدایت نامہ درج تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔

جب راستے کی تنگی کشادگی میں بدلنے لگی جب ہرے بھرے کھیتوں درختوں اور شام کی سرد ہواؤں نے استقبال کیا۔ تب اُس لڑکے کی دندل ٹوٹی۔ پتہ نہیں کیسے وہ بولا اور خوب بولا۔ ”بمبوریت تقریباً بارہ گاؤں پر مشتمل کالاش کی سب سے بڑی وادی ہے۔ چترال سے اس کا فاصلہ کوئی 38 کلو میٹر ہے۔ پہلوواندہ، کندیسار، احمد آباد میں مسلمانوں کی اکثریت جبکہ کراکال، انثیر برون اور بتریک میں کالاشیوں کی کثرت اور شیخاندہ میں مکمل مسلم آبادی ہے۔ “

Read more

کوہ قاف کی پریوں سے ملاقات کے لیے روانگی

جیپوں میں سامان کی لد لدائی اور ٹھونسا ٹھونسی بے سلیقگی اور بے ہنگم پن کو نمایاں کرتی تھی۔ پر جونہی ان پر کاجل سے بھری آنکھیں مٹکاتے اور ادائیں دکھاتے دو وجود بیٹھے سب کچھ جیسے پس منظر میں چلا گیا تھا۔

گاڑیاں پشاور روڈ پر تیزی سے آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً کوئی پون گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد سب سے اگلی گاڑی مین روڈ چھوڑ کر ڈھلانی راستے سے نیچے اُترنے لگی۔ ”آیون آ گیا ہے۔“ ڈرائیور نے کہا میں نے داہنی طرف دیکھا تھا اور ڈرائیور کو گاڑی روک دینے کے لیے کہا۔ نیچے اُتر کر سامنے دیکھا۔ سورج کی سنہری چمکیلی چھتنار کے نیچے بلندوبالا سنگلاخ خاکستری پہاڑوں کے دامن میں گہرے سنہرے میں لپٹی وادی نظروں کو حُسن کے نشیلے جام پلانے لگی تھی۔ دریائے چترال اس وقت چاندی کی کسی موٹی لکیر کی مانند آیون کے گرد نیم دائرہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چوکور اور تکونے کھیتوں کے ٹکڑے یوں جان پڑتے تھے جیسے وسیع و عریض قطعہ پر جا بجا سبز قالین بچھے ہوں۔ بلندی سے نشیب کے اس منظر کی دید اسے کچھ زیادہ ہی قاتل بنا رہی تھی۔

Read more

مشی خان کی چترال بازار میں مست خرامیاں

کہاں اور کیوں پینی باجی۔ ”آپ کی جیب میں پرنس محی الدین کاجو کارڈ ہے یہ کب کام آئے گا؟ میں قلعے کے اندر محل میں جانا چاہتی ہوں۔ جہاں اس جیالے مہم جو اور بہادر پرنس سیف الرحمٰن کی پری پیکر محبوبہ ہے جو دیر کے نواب کے کسی بیٹے کی منگیتر تھی۔ وادی کی سڑکوں پر سپورٹس کار دوڑانے اور ان خوفناک پہاڑوں میں جہاز اُڑانے والے اس شہزادے نے سینہ تان کر کہا تھا۔ وہ میری پسند

Read more

شاہی مسجد و شاہی قلعہ چترال

چیو پُل کے پاس ریسٹ ہاؤس کا نوکر رجسٹر ہاتھ میں پکڑے ڈی سی آفس کی طرف جاتا نظر آیا مجھے دیکھ کر رُکا۔ میں نے پوچھا۔

”کیا ایسا ممکن ہے کہ آج تم مجھے اپنے گاؤں لے چلو میں وہاں رات گزارنا چاہتی ہوں۔“

میں نے دیکھا تھا طنز سے بھری ہوئی زہریلی ہنسی اُسکے ہونٹوں سے پھسلتی اس کی آنکھوں میں گری اور وہاں سے سارے چہرے پر پھیل گئی اور جب اُس نے رخ پھیر کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ ”آپ نے وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟“

”کچھ جاننا چاہتی ہوں تم لوگوں کے بارے میں۔ “

Read more

چاؤ چترال کا

چار بجے ہم ریسٹ ہاؤس سے نکل آئیں۔ اب میں نے چترال کے ناک نقشے پر توجہ مرکوز کی۔ کوہ ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں میں چاروں طرف سے گھری ہوئی یہ وادی اپنی چند خصوصیات کی بنا پر ہر سیاح کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ شور مچاتا کف اڑاتا دریائے چترال شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ چُیو پل پر کھڑے ہو کر شہر کا نظارہ کریں یا کسی اور جگہ سے شاہی مسجد کے بلند و بالا مینار اس کا مغلیہ طرز تعمیر اس کے شاندار گُنبد سنگ مر مر اور سرخ اینٹیں آپ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مشابہت شاہی مسجد لاہور سے جوڑیں گے۔ کسی اونچی جگہ کھڑے ہو جائیں تو پچیس ہزار فٹ سے بھی بلند تر ترچ میر کی برف سے ڈھنپی چوٹی خوبصورت اور منفرد نظر آتی ہے۔

Read more

ہم تو چلے کیلاش

پشاور سے چترال کے لیے جہاز میں بیٹھنے سے قبل چیکنگ سکریننگ اور جہاز کی سیڑھیوں سے آگے دروازے تک کے مرحلوں میں میں نے اپنی تمام تر چالاکیوں اور ہوشیاریوں سے اپنے آپ کو کھڑکی کے ساتھ سیٹ لینے کے چکر میں گھُما پھرا کر آگے آگے رکھا۔ پر اس ساری تگ و دو پر پانی پھر گیا جب ایر ہوسٹس نے بورڈنگ کارڈ مانگا جو مجھے جلدی میں سٹیورڈ سے لینا یاد نہیں رہا تھا۔ نتیجتاً نیچے جانا پڑا۔ اور جب واپس آئی پروین عاطف کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر قبضہ جما چکی تھی۔ ہانپتے ہوئے میں سیٹ پر ڈھے سی گئی۔

Read more

جانا ہمارا کیلاش

یہ بات ہے اُن دنوں کی جب پروین عاطف اپنے ایک ڈرامے کے لئے اپنی ٹیم کے ساتھ کیلاش جا رہی تھی۔ نیلم احمد بشیر نے یونہی مجھ سے پوچھا کالاش جانا ہے؟ بھئی نیکی اور پوچھ پوچھ۔ جانے کے لئے جو جھمیلے سُننے کو ملے وہ میرے لئے قطعی اجنبی تھے۔ پروین عاطف فون پر بڑی دلگیر سی تھیں۔ مشی خان پلہ نہیں پکڑا رہی ہے وہ سید نور کی ”بلی“ کی شوٹنگ میں مصروف ہے میری ہزار خواریوں

Read more

عاصم بٹ منفرد ناول نگار

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کشمیریوں کی گوت بٹ سے تعلق رکھنے والا عاصم ان بہت ساری خصوصیات میں منفرد سا ہے جن کے لیے اس برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ لا ابالی، بے فکرے پن اور قہقہہ بار سی صفات سے عاصم بٹ کی ذرا کم کم ہی شناسائی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہری ذہانت آمیز سنجیدگی اور ہونٹوں پر جمی خاموشی پل بھر کے لیے دیکھنے والوں کو کئی سوالوں کی

Read more

”غروب شہر کا وقت“ اسامہ صدیق کا منفرد ناول

پتہ نہیں اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ ہاتھ میں تھامتے ہی رگ و پے میں ایک گہرا دکھ اور یاس سا کیوں اترنے لگتا ہے۔ شاید سینکڑوں سالوں سے بار بار بسنے اور اجڑنے والا یہ نوسٹلجیائی سی کیفیات کا حامل دلبر سا شہر جسم و جان سے روح کی طرح ہی چمٹا ہوا ہے کہ اس کے زوال بارے کوئی بھی بات انی کی طرح کلیجے میں اتر جاتی ہے۔ ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا،

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 18

بلی تھیلے سے باہر آ گئی تھی۔ ہیثم کے جیل سے سے نکل بھاگنے کا راز کھل چکا تھا۔ اور اس پر تحقیقات شروع ہو گئیں۔ اینا نے باہر جانے کے لئے درخواست دی۔ اس درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ پیوٹن بھی اول درجے کا کائیاں تھا۔ اپنے مخالفوں کو چن چن کر قتل کروا رہا تھا۔ وہ تو اب اس کوشش میں تھی کہ کب اسے اجازت ملے اور وہ روس سے باہر جائے۔ پر

Read more

وہ اک تارا (17)

رات کا تیسرا پہر ختم ہو رہا تھا جب اس کی واپسی ہوئی۔ جیپ سے اتر کر اس نے اک ذرا رک کر پہلے آسمان کو دیکھا۔ ماسکو اور پیٹرزبرگ کی سفید راتوں میں اسے ہمیشہ ایک عجیب سا فرق محسوس ہوتا۔ وہ ماسکو کی راتوں کو کبھی سفید راتیں نہیں کہتی تھی۔ اس وقت سیاحوں اور لوگوں کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ سناٹا اور تنہائی تھی۔ ملگجا اجالا تھا۔ وہ فلیٹ میں داخل ہوئی۔ کچن میں گئی۔ کافی بنائی۔

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر 16

اور اس وقت جب ماسکو کی کیرماوٹسکایا Karmavitsky سٹریٹ کے ایک فلیٹ اور انگلینڈ کے چیسٹر فیلڈ کے مابین کوئی ڈیڑھ گھنٹہ تک ہونے والی گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوئے بھی خاصی دیر ہو چکی تھی وہ ابھی تک کرسی میں دھنسی خود کو ڈھیلا چھوڑے ہوئے کہیں دور منظروں میں گم تھی۔ وہ منظر جو ان بوجھل دنوں میں اس کے لئے امید اور سکون کا باعث تھے۔ جب وہ ایسا کرتی تھی، نہیں جانتی تھی کہ رات کے

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 15

زندگی نے کیسے یکایک ڈرامائی موڑ مڑا تھا۔ دن رات کتنے حسین ہو گئے تھے۔ وہ ان مصائب اور مظالم کی تفصیل اسے سناتا۔ جس میں اس نے چھ سال کا طویل عرصہ گزارا۔ ”اینا تم یقین کرو گی ایسے بھی لوگ تھے جو ہم سے پیار کرتے تھے۔ وہ ہمارے دیوانے تھے۔ تمہارے بھی اور میرے بھی۔ الیکٹرک شاک کے لئے لے کر جاتے تو وہاں شاکس لگانے کی بجائے گپیں لگاتے۔ مجھے سکھاتے کہ مجھے کیسے Pretendکرنا ہے؟

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 14

ایک سال، دو سال، تین، چار، پانچ، چھ سال سے بھی زیادہ کا وقت بیت گیا تھا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کہیں آس کا مناسا دیا پھر بھی اس کے سینے میں جلتا تھا۔ اس کا فون ٹیپ ہوتا۔ اس کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ یہ پیوٹن کا دور تھا اور نوجوان پیوٹن سب کا استاد تھا۔ پانچویں سال کے وسط میں اسے پتہ چلا کہ وہ جنوبی سائبیریا کی اومسک جیل میں ہے۔ وہ بھاگی بھاگی

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر: 13

کوئی ڈیڑھ ماہ بعد کی بات ہے۔ اینا نے شام کو کام سے واپسی پر اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا۔ اسے امید تھی کہ ہیثم آ چکا ہو گا۔ صبح اس نے کہا تھا۔ ہیثم مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ ذرا وقت سے آجانا۔ گھر میں اندھیرا تھا اور سناٹا بھی۔ اس نے پورے گھر کی بتیاں جلائیں اور ہیثم کو کال کیا۔ اس کا موبائل بند تھا۔ چند لمحے وہ موبائل کو گھورتی رہی۔ ہیثم کبھی لا پروائی

Read more

وہ اک تارا (12)

گاڑی عام طور پر اینا کے پاس ہوتی تھی۔ ہیثم عام روسی مردوں کے برعکس زیادہ لبرل تھا۔ اس کے بہت اصرار کے باوجود کسی اشد مجبوری کے تحت ہی گاڑی لے کر جاتا۔ بالعموم وہ اکٹھے نکلتے۔ اینا اسے چھوڑتے ہوئے اپنے دفتر آجاتی۔ آج گاڑی گیراج سے نکال کر وہ خود اسٹیئرنگ پر بیٹھا۔ اسے دفتر اتارتے ہوئے اس نے کہا۔ ”تین بجے تک اپنے کام نپٹا لینا۔ کہیں چلنا ہے۔“ وہ پوچھتی رہی۔ کہاں؟ کہاں؟ اس نے

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر11

اگست کے تیسرے ہفتے کی وہ صبح بڑی روشن، چمکدار اور کھلی کھلی سی تھی۔ اینا نے سفید نیٹ کے پردے جھٹک کر اکٹھے کیے اور کھڑکی سے باہر جھانکا۔ سمولنسکایا چوک کا تھوڑا سا منظر اس کھڑکی سے نظر آتا تھا۔ سناٹا بکھرا پڑا تھا۔ دو ٹینک آہستہ آہستہ حرکت میں تھے۔ ”تو پھر فوج نے بغاوت کر دی ہے۔“ اس نے اپنے آپ سے کہا اور لاؤنج میں آ کر ٹی وی آن کر دیا۔ سکرین پر اہم

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر10

ہوائیں ظالم و جابر لوگوں کی طرح چنگھاڑتی پھرتی تھیں۔ ٹھنٹھ درختوں کی ویرانی اور ان کی سیاہی سفید اور کہر سے بھرے منظروں میں خوفناک سی دکھتی تھی۔ تھکاوٹ بھی تھی اور نڈھالی بھی محسوس کر رہی تھی جب کام سے لوٹی اور گھر میں داخل ہوئی تھی۔ آنے کے ساتھ ہی اس نے پرس کی سٹریپ کندھے سے اتار کربیگ کو یوں صوفے پر پھینکا جیسے وہ نہایت بیکار اور فضول چیز ہو۔ ہیثم کی طرف دیکھا۔ اس

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر 9:

ٹکٹ اس نے اس کے سامنے رکھ دیے تھے اور حتمی لہجے میں بولا تھا۔ ”دس دن سے کم کی چھٹی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کل شام اسولئے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں انشاء اللہ۔“ ”ارے مجھے سے مشورہ کیے بغیر ہی۔“ اس نے کچھ حیرت کچھ خوشی سے آنکھیں جھپکیں۔ ”بھئی تم سے مشورہ کرتا تو یہی سنتانا۔ ہیثم ڈارلنگ ابھی جانے کے دن نہیں۔ دیکھو نا ہمارے کیرئیر کا ابھی آغاز ہے۔ اخبارات میں بڑا مقابلہ ہے۔

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر8:

دوست تو دونوں کے مشترکہ تھے۔ وہ سب بھی ہیثم کی طرح چاہتے تھے کہ اب ان کی شادی ہو جانی چاہیے۔ نینا نے پورا پروگرام مرتب کر ڈالا تھا۔ سبھی تھوڑا ہلا گلا کرنے اور رونق میلہ منانے کے موڈ میں تھے۔ زیگ والوں نے دو ماہ کی تاریخ دی تھی۔ اس دن وہ شام کو واپس آئی۔ ہیثم گھر میں موجود تھا۔ ٹانگیں میز پر رکھے کسی کتاب کے مطالعے میں گم۔ ڈائننگ ٹیبل پر دو بڑے سے

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر7

ماسکو یونیورسٹی کے قیام نے ان کی ذہنی، فکری اور عملی تینوں طرح تربیت کی۔ مطالعہ کا تو انہیں شوق تھا ہی۔ اب عادی بھی ہو رہے تھے۔ لائبریری میں گھنٹوں بیٹھنا، نایاب اور اہم کتابیں پڑھنا، نوٹس لینے، سیاسی حالات پر ہفتہ وار، ماہانہ پرچوں اور ڈیلی اخبارات میں لکھنے کی چھوٹی موٹی مشق نے نہ صرف انہیں رواں کیا بلکہ تھوڑا سا قارئین سے متعارف بھی کروا دیا۔ دونوں بھرپور انداز میں میدان عمل میں اترے اور دن

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر 6

کچھ ہی دنوں بعد اینا اور ہیثم سائچیوفکا کے نفسیاتی اسپتال پہنچ گئے۔ وہی ہوا۔ وہاں ماریا جوفی سے دونوں کی ملاقات ہو گئی۔ وہ سٹالن کی نہیں خروشیف کے کسی معتمد رکن کے غصے کی بھینٹ چڑھی اور کئی سال جیل میں رہنے کے بعد اب اسپتال منتقل ہوئی تھی۔ اس نے ایسے ایسے دل خراش واقعات سنائے، وہ کانپ اٹھی تھی۔ عورتیں ان جیلوں میں کیسے کیسے طوائفیں بنیں؟ تفصیلات دہلانے والی تھیں۔ لیبر کیمپوں کی حالت زار،

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر: 5

سارے میں شور مچ گیا تھا۔ ”لد میلا آ گئی ہے۔ ارے بھئی کوئی ہے جو اس ارسلان کو بتائے کہ اس کی لدمیلا آ گئی ہے“ ۔ اینا ابھی اپنی کلاس روم میں داخل بھی نہ ہو پائی تھی کہ جب اس کا استقبال کوریڈور میں بکھرے اس کے ساتھیوں کی ان آوازوں سے ہوا تھا۔ تھوڑی سی حیرت سے اس نے سارے منظر کو دیکھا تھا۔ کسی نے اس سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ اسے کیوں اچانک

Read more

وہ اک تارا :قسط نمبر 4

ویک اینڈ پر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ان کی کلاس کی ایک خصوصی وزٹ کالوگا کے لئے تھی جہاں دنیا کا پہلا ایٹمی بجلی گھر ہے۔ دو دن کے اس پروگرام نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔ اگلے دن یونیورسٹی آئی تو جیسے ساری تھکن اڑنچھو ہو گئی تھی۔ ڈپارٹمنٹ میں خبر گردش کر رہی تھی کہ انقلابی شاعر یوجینی یوٹو شینکو کا لکچر ہے۔ ہیثم غالباً چھٹی منانے کے موڈ میں تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا۔ دوپہر

Read more

وہ اک تارا (3)

ہیثم یہاں سے ٹرین میں اب سیدھا اپنے گھر چیچنیواینگوش جانا چاہتا تھا۔ پر اینا نے کہا۔ ”نہیں ہیثم منرالنئے وودی تک چلتے ہیں۔ تم نے یہاں کے شفا بخش چشموں اور حماموں کا ذکر کیا ہے۔ پھر پیاتی گورسک بھی وہیں قریب ہی ہے۔ ہمارے شاعر میخائل لیرمونتوف یہاں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایسے مواقع کب ملتے ہیں۔ تم تھے تو یہاں آ گئی ہوں۔ اب جو جو اہم چیزیں ہیں وہ دیکھتے جاتے ہیں۔ “ گاڑی سے کوئی

Read more

وہ اک تارا قسط نمبر2

جس شام وہ ماسکو ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹیں خرید کر گاڑی کے انتظار میں ویٹنگ لاؤنج میں پاس پاس بیٹھے۔ ہیثم نے اس کی قدرے سرخی مائل تھکی تھکی آنکھیں دیکھ کر پوچھا۔ ”خیریت؟“ ” ہیثم میں ساری رات اس خطے کو جوبحر منجمد شمالی کی برفانی دلدلوں سے تبت اور ہمالیہ تک پھیلا ہوا کبھی کا دشت ایشا اور آج کا وسط ایشیا کہلاتا ہے، پڑھتی رہی۔ یقین مانو اس کی دلچسپ تاریخ نے مجھے آنکھ نہیں جھپکنے دی۔

Read more

وہ اک تارا (1)

یہ 1985 ہے۔ مقام ماسکو یونیورسٹی کا انٹرنیشنل ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کا کلاس روم۔ جہاں سنہرے بالوں والی پونی ٹیل کو لہراتی اٹھارہ انیس سالہ ”اوسولئے“ (اس وقت کے سوویت یونین کا ایک شہر) کی اینا پولٹکو سکایا Anna Politkovskaya بے حد جذباتی انداز میں سوال پر سوال کیے جاتی تھی۔ ”سر گزشتہ پندرہ دنوں سے لائبریری میں پرانے“ پروادا ”کی ورق گردانی کرتے اور اپنے حکمرانوں بارے رپورٹیں پڑھتے ہوئے میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ مجھے تو

Read more

سعدیہ قریشی اور ”کیا لوگ تھے“

سعدیہ قریشی نے ”کیا لوگ تھے لکھی“ اور کیا خوب لکھی۔ افتخار عارف صاحب کے کتاب پر اظہار خیال کی پہلی سطر ہی پل جھپکتے میں مجھے اس دنیا میں لے گئی جب نسیمہ بنت سراج کے کالم پڑھے بغیر مجھے چین نہیں پڑتا تھا۔ اپنے وقت کی اِس اہم کالم نگار کو ہم لوگ کیسے بھولے بیٹھے ہیں؟ زبان و بیان کے حُسن میں ڈوبی ہوئی تحریر کی مالک اس خاتون بارے کبھی کہیں ایک لائن پڑھنے کو نہیں

Read more

پروردگار! کس کو آواز دیں؟

شادمان سے گاڑی نہر پر چڑھنے لگی تو ڈرائیور نے اک ذرا رخ پھیر کر پوچھا۔ ”ماں جی فاطمہ کو لیتے چلیں۔ اس کا ٹائم ہو رہا ہے“ ۔ میرے ہاں کہنے پر اس نے گاڑی ایف سی کالج کی طرف موڑ دی۔ پارکنگ ایریا کا نظم و ضبط اور کنٹرول دیکھ کر ہی اس بات کی صداقت کا یقین ہو گیا کہ یہ باوقار ادارہ اپنی سابقہ انتظامیہ کے پاس واپس آ کر اپنی اسی پرانی ساکھ پر جو

Read more

اسرائیل کا پاکستان کو انسانی حقوق پر سبق

لو اب کہنا تو یہی پڑے گا نا کہ چھاج تو بولے سو بولے پر بیبا اب تو چھلنی بھی بولنے لگی ہے جس میں ستر سو چھید ہیں۔ االلہ کی شان اسرائیل نے بھی پاکستان پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگادیا ہے یعنی نو سو چوہے کھا کر اب بلی خیر سے حج کو چلی ہے۔ یوں تو خیر سے یہ جتنے بھی بڑے بڑے پڑھے لکھے، ترقی یافتہ مہذب اور کلچرڈ ملک ہیں، جنہیں انسانیت کی

Read more

مہ پارہ صفدر کی خود نوشت: میرا زمانہ میری کہانی

آج بھی یاد ہے کسی کام سے لاؤنج میں آئی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ایک انتہائی دل کش چہرہ میری آنکھوں میں جیسے کھب سا گیا۔ کون ہے؟ کوئی نئی لڑکی۔ سوال جواب دونوں خود سے ہوئے تھے۔ لہجے کا اتار چڑھاؤ، تلفظ، ادائیگی اس پر ستم من موہنی سی صورت۔ مہ پارہ زیدی۔ بڑا رشک آیا۔ خبریں پڑھنا میرا بھی خواب تھا۔ مگر سب خواب کہاں پورے ہوتے ہیں؟ مہ پارہ زیدی سے محبت ہو گئی

Read more

داؤد فیملی اور ہمارے منفی رویے

لہجہ بڑا گلوگیر سا تھا۔ فون پر آواز جیسے بتا رہی تھی کہ کہیں آنسوؤں سے آنکھیں بھی بھیگی ہوئی ہوں گی۔ زینب میری ہم عمر ہی نہیں بچپن کی دوست بھی ہے۔ درمیان میں بنیروں کی سانجھ والا گہرا تعلق بھی تھا جو خونی رشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ زندگی کا ایک حصہ کراچی گزارنے کے بعد شوہر کی وفات کے بعد لاہور آ گئی تھی۔ آج وہ مجھ سے موبائل فون پر بات کر رہی تھی۔ شہزادہ داؤد اور اس کے جواں سال بیٹے کی موت کی خبر پر مجھ سے اپنا دکھ بانٹ رہی تھی۔

شہزادہ داؤد اور میرے محسن (بیٹے ) کی پیدائش ایک ہی ماہ میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عمر (شوہر) نے بڑے صاحب حسین داؤد کو شہزادہ کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے بیٹے کی پیدائش بارے بھی بتایا تو جانتی ہو حسین داؤد نے اپنی محبت کا اظہار اپنے اس ملازم سے کیسے کیا۔ اس ماہ عمر کی تنخواہ میں ڈبل بونس کا اضافہ تھا۔

Read more

میرے اسفار کی دلچسپ کہانیوں کا سلسلہ  (پہلی قسط)

تو لوٹتی ہوں اس زمانے میں جو 1986 کا تھا۔ ذکر ہے اس شب کا جب ایک فائیو سٹار ہوٹل کے ایک بزنس ڈنر میں شریک تھی۔ لاؤنج میں میرے دائیں ہاتھ بیٹھی ایک دل کش خاتون ”گیمبیا“ کے مشرقی حصے کے ”تاکی“ قبائل کے شادی بیاہ کی دلچسپ رسومات کا ذکر زور و شور سے کر رہی تھی۔ سچی بڑی کامیاب داستان گو نظر آتی تھی۔

”بالغ لڑکیوں کے گھر بسانے کے لئے ایک ایسی رات کا انتخاب کیا جاتا ہے جب آسمان پر چاند ہو نہ ستارے، مطلع ابر آلود اور ہر سو خاموشی، کسی شخص کو آگ تک جلانے کی اجازت نہیں ہوتی“ ۔

Read more

حمید شاہد کی ”خوشبو کی دیوار کے پیچھے“

افسانوں پر بات ہو، ناول زیر بحث ہو، تنقید جیسی مشکل اور خشک صنف ہو، شاعری میں کلاسیکل شاعر کی چنیدہ شاعری کا انتخاب ہو، غیر ملکی ادب پر اظہار خیال کرنا ہو۔ حمید شاہد نے ہر صنف میں اپنی انفرادیت ہی پیدا نہیں کی بلکہ گزرتے وقت نے ان کی ذات، حلقہ یاراں، ملکی و دنیا کے حالات سے جان کاری، مطالعے، تجربات اور مشاہدات سے حاصل شدہ قیمتی اثاثے کو جس جس صورت اور انداز میں ان کی

Read more

سنانے لگی ہوں چائے ڈے کی یہ داستان عشق

لو بھئی اب یہ دن منانے کی روایات تو خوب ہی پیر پسارتی جا رہی ہے۔ لیبر ڈے، ماں، باپ، عورت اور اب خیر سے چائے ڈے کا نیا اور جی جان جیسا پیارا شوشہ شروع ہو گیا ہے۔ ”ہائے چائے“ ۔ سچی بڑی ہی دلچسپ اور حسین یادیں اس سانولی سانولی محبوبہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اب پڑھیے۔ بچپن چائے کے حوالے سے ہرگز ہرگز خوشگوار نہ تھا۔ بلکہ اگر سچ کہوں تو کئی حوالوں سے بڑا باغیانہ سا

Read more

بلتستان کی قدیم نسوانی شاعری

ہمالیہ اور قراقرم کے عظیم سلسلہ ہائے کوہ کے علاقے جو کل کے بلورستان اور آج کے بلتستان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان دلکش وادیوں میں سفر کرتے ہوئے حیرت زدہ تھی کہ ان پر ہیبت، دشوار گزار راستوں اور جدید علم اور روشنی سے محرومی کے باوجود علاقے کے لوگ کتنے مہذب، پر امن اور فنکار ہیں۔ ان کے محلات اور قلعوں کے تعمیری انداز، موسیقی، شاعری اور معاشرتی آداب حیران کن تھے۔ یہ علاقہ تبت، لداخ،

Read more

سلطان محمد فاتح: بہترین منتظم، عادل، فوجی اور جنگی ماہر

استنبول تو مسجدوں کا گھر ہے۔ اس جیالے سلطان محمد فاتح کا مقبرہ، اس کی یادگار ”مسجد فاتح“ دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ یوں مسجدیں تو کم و بیش تھوڑے بہت فرق سے ایک جیسی ہی تھیں۔ مگر بات اس قلبی تعلق اور ناتے کی ہے جو آپ کو اس ہستی سے کہیں گوندھ دیتی ہے۔ سیما بھی ایسی ہی خواہش کی اسیر تھی۔ بس تو نکل پڑیں۔ آق سرائے سکوائر تک میٹرو کا سفر کیا۔ آق سرائے کا علاقہ

Read more

ایک خط ہرکیرت کورچاہل کے نام

ہرکیرت اس وقت میں تمھارے بہت سارے چاہنے والوں کے ساتھ لاہور جیسے ادبی اور تاریخی شہر میں بیٹھی تم سے مخاطب ہوں۔ ہاں تو سنو کیرت تمہارے ”لٹھے لوک لاہور دے“ کو اردو ترجمے کی صورت دلکش انداز میں چھپے سفر نامے کو جب میرے ہاتھوں نے تھاما تو ”اپنی بات سے“ ”مناں وے چل موڑ مہارا“ تک میری نظروں نے ادھر ادھر جانا پسند نہ کیا۔

ہرکیرت کور میں تمہاری شکرگزار ہوں کہ تم نے ہمیں اپنی خوبصورت تخلیق کا حسین تحفہ دیا۔ یقین کرنا یہ تو وہ آئینہ تھا جس میں مجھے اپنی ہی شبیہ نظر آئی تھی۔

Read more

ہمارے بچپن کا رمضان

رمضان سے پہلے نامور صحافی اسلم ملک کی ایک پوسٹ نے توجہ کھینچی۔ لکھا تھا کہ میرے گھر کے سامنے والی بڑی شاہراہ پر پھلوں کی ریڑھیوں پر دو تین دن سے میں مسلسل پپیتا اور خربوزوں کے سوا باقی پھل غائب دیکھ رہا تھا۔ پوچھنے پر ریڑھی بانوں نے بتایا جناب سیب، کیلا، امرود سب سٹوروں میں منتقل ہو گیا ہے۔ خیر سے رمضان شریف کی آمد پر ان کی نقاب کشائی منہ مانگے داموں پر ہوگی۔ حقیقتاً ایسا

Read more

کیا یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا؟

چھبیس سال پہلے یعنی 1997 کے موسم بہار کا ایک چمکتا دن ہے۔ جی ایٹ اسلام آباد کے 10 مرلے گھر کے ایک کمرے میں کھڑے نوجوان ڈاکٹر احمد نے دروازے میں کھڑی بیوی کو رخ پھیر کر دیکھا۔ وہ غصیلے چہرے کے ساتھ تلخی سے لبریز آواز میں کہتی تھی۔ ”کتنے دن ہو گئے ہیں آپ سے کہتے ہوئے کہ ان کاغذات میں درج چند مطلوبہ چیزوں کی فراہمی کر دیں۔ بس صرف یہی مرحلہ باقی ہے۔ کینیڈا کی

Read more

میری دھرتی میرے لوگ

11 مارچ کی شام پاک ٹی ہاؤس کا سارا ماحول ایک درد انگیز تاثر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اردو ادب کو اپنے تخلیقی اور تحقیقی کاوشوں سے حد درجہ امیر کرنے والی شخصیت ساکت انداز میں سٹیج پر ڈاکٹر جعفر حسن زیدی، ڈاکٹر غلام حسین ساجد اور پروین ملک کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ منظر آنکھوں کو بھگونے کے لیے کافی تھا۔ احمد سلیم کی حال ہی میں چھپنے والی اہم کتاب ”میری دھرتی میرے لوگ“ پر ایک بھرپور

Read more

5000 کا جعلی نوٹ اور میرے رنڈی رونے

جنرل اسٹور سے گروسری کی خریداری کے بعد ادائیگی کے لیے کھڑی تھی۔ پیسے نکال کر کاؤنٹر پر رکھ دیے تھے۔ دفعتاً کاؤنٹر کیشیئر نے 5000 کا نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”میڈم یہ جعلی ہے۔ آپ کی عمر رسیدگی کی وجہ سے اسے کراس نہیں کر رہا ہوں۔ اسے خود پھاڑ دیں۔“ ”جعلی وہ کیسے“ ۔ سر پر تو جیسے بھاری پتھر پڑا تھا اور زبان بھی لڑکھڑائی سی تھی۔ لڑکے نے بے نیازی سے کمپیوٹر سکرین پر

Read more

کون رخصت ہوا ماگھ میں؟ ہم سب کا امجد۔

باغ باغیچوں میں گیندے اور گلاب دونوں ہی کھلے پڑے تھے۔ شہر بھی میلوں ٹھیلوں سے سجنا شروع ہو گیا تھا۔ اور وہ جو جان تھا ان میلوں کی چپکے سے چل دیا۔ ارے اسے تو ان میں سے ہر ایک کا اہم حصہ بننا تھا۔ 6فروری کو ثروت محی الدین کے گھر کھانا تھا۔ امجد اس میں شریک تھے۔ سب کا کہنا تھا کہ وہ بہت خاموش تھے۔ ایک آدھ جملے کے سوا انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔

Read more

وجاہت مسعود، ہمیں بھی یہیں رہنا ہے

عزیز بھانجی زاہدہ رزاق عمرے پر تھی۔ مدینہ جانے کے لیے جو ٹیکسی لی اس کا ڈرائیور بنگلہ دیشی تھا۔ زاہدہ ملکی و غیر ملکی حالات و واقعات سے گہری دلچسپی رکھنے والی لڑکی ہے۔ پاکستان کا دو لخت ہونا اس کا گہرا دکھ ہے۔ اور یقیناً اس ٹیکسی ڈرائیور کا سر تا پا گہری نظر سے مشاہدہ کرنے میں بھی یہی جذبہ تھا۔ اس کا اعتماد، انگریزی بولنے میں روانی، شستہ انداز سب متاثر کن تھے۔ بنگلہ دیشی ہونے

Read more

فیصل عجمی حقیقت بھی فسانہ بھی

ستمبر 2022 کے آخری ہفتے کا ذکر ہے شاہد ماکلی فون پر تھے۔ شاہد ایک خوبصورت شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پیارا انسان بھی ہے۔ فیصل عجمی کی نئی کلیات ”سخن آباد“ کے بارے بات کی۔ تقریب کے وسط اکتوبر میں انعقاد کا ذکر اور کتاب پر اظہار خیال کی درخواست تھی۔ فیصل عجمی باکمال شاعر اور بڑا کہانی کار ہے۔ مجھے اس سے آگاہی تھی۔ یوں بھی وہ ایک بڑے افسانوی کردار کے طور پر میری یادوں میں

Read more

فرخ سہیل گوئندی: منفرد سیاح

فرخ سہیل گوئندی کی ذات کی کوئی ایک دو تھوڑی بہت ساری جہتیں ہیں۔ کتاب اور علم کا دیوانہ، سیاحت جیسے مشکل شغل کا پروانہ، سیاست جیسے گندے کھیل میں خوبصورت خواب دیکھنے والا مستانہ۔ اس کی سوچ انقلابی ہے۔ فکرو عمل میں دانشوری ہے۔ کم عمری میں اس صفت کا اس کے اندر نمو پانے کا سبب وہ بہت پڑھے لکھے لوگ تھے جن کے ساتھ اس کے شب و روز گزرے تھے۔ حرف لکھتا ہے اس سے محبت

Read more

خوبصورت، طرح دار اور متحرک لکھاری سائرہ ہاشمی

رضا رومی کا میسج تھا۔ آنٹی سائرہ ہاشمی کا نمبر چاہیے۔ ”سائرہ ہاشمی“ ۔ زیر لب دہرایا۔ ماضی کی خوبصورت، طرحدار اور متحرک لکھاری جو عرصے سے ادبی منظر نامے سے دور تھی۔ دوری کی ایک وجہ علالت بھی تھی۔ کوئی پانچ چھ ماہ قبل ان کا فون آیا تھا۔ نہ ملنے کا شکوہ، بزم ہم نفساں کا نیا اجرا۔ اپنی کتابوں کی دوبارہ اشاعت جیسے موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد پھر خاموشی تھی۔ مجھ جیسی لاپروا عورت

Read more

عکسی مفتی نے ”محمد ﷺ“ لکھ کر ہم جیسے پڑھے لکھے جاہلوں پر احسان کیا ہے

پاکستانی قوم کو عکسی مفتی کا مشکور ہونا چاہے کہ انہوں نے لوک ورثہ جیسا شاندار تحفہ اسے دے کر ثقافتی سطح پر کچھ تھوڑا سا معتبر کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1986 سے 1990 تک میرا بھی شمالی علاقہ جات میں آنا جانا مسلسل رہا۔ تب راستے بڑے دشوار گزار تھے۔ میں جہاں جاتی عکسی بارے سنتی۔ تب ان دور افتادہ علاقوں کی وادیوں میں گھومنا، لوک موسیقاروں کو کھوجنا، مقامی شاعروں اور داستان گو لوگوں کی تلاش، نادر

Read more