سیاسی تفریح
عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتے، یہ دعویٰ کئی تجزیہ کار چند ماہ پہلے کرچکے تھے اور اس کی بنیاد پر کئی شرطیں بھی لگی تھیں، الیکشن ہوا، اس میں بھی تجزیئے ،اندازے، قیاس آرائیاں ایک طرف پڑی رہ گئیں، شرطیں ہارنے والے غمزدہ ہوکر مُکر ہی گئے۔ انتخابات اپنی نوعیت میں اتنے منفرد ثابت ہوئے کہ نئے ووٹر حیران رہ گئے۔
خیر یہ سب باتیں اب چلتی رہیں گی، اصل توجہ اور دلچسپی کا موضوع حکومت سازی اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ہے،کپتان نے اپنے وکٹری خطاب میں کئی اعلانات کئے، اس کے بعد یہ کہا گیا کہ وہ عوامی اجتماع پریڈ گراؤنڈ میں حلف اٹھائیں گے، شاید انہیں دھرنے کی یادیں بھولی نہ ہوں۔ ہاں یہ دھرنا،ناصرف اس وقت کی حکومت کیلئے بڑا تکلیف دہ تھا، اس سے شہر اقتدار کے باسی بہت زیادہ پریشان رہے، لیکن اس کے ساتھ کپتان کو بڑی سیاسی تقویت ملی، وہ اس کو اپنی بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں۔
تقریب حلف برداری عوامی مقام پر نہیں ہوسکتی، نہ ایسی روایت رہی ہے،بحث شروع ہوگئی، حتیٰ کہ ایوان صدر سے بھی وضاحت جاری ہوئی کہ کسی کی خواہش کے مطابق مقام کا تعین نہیں ہوتا، یہ تقریب صرف قصرصدارت میں ہی ہوگی۔
عمران خان نے ابھی مسند اقتدار پر بیٹھنا ہے، جس کے لیے ایک طویل جدوجہد کی، بہت کچھ سوچا ہوگا، بہت کچھ اب بھی ذھن میں چل رہا ہوگا۔
مبارکبادوں کاسلسلہ بھی چل نکلا ہے، باقی سب کے ساتھ کھلاڑی اور فنکار بھی اس قطار میں شامل ہیں، اب ٹاک آف ٹاؤن،تقریب حلف برداری میں کون کون آرہا ہے، سب کی نگاہیں لگ گئیں،
سارک اور دیگر دوست ممالک کی سربراہان کو مدعو کئے جانے کی خبریں ہیں، لیکن اس سب میں بھارتی کھلاڑیوں اور فنکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔
سپر سٹار عامر خان، سنیل گواسکر،کپل دیو، نوجود سنگھ سدھو بھی آئیں گے۔ سنا ہے عامر خان کو انتخابی مہم میں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر انہوں نے کپتان سے الیکشن کے بعد آنے کا وعدہ شاید ویسے ہی کرلیا تھا، جیسے شرطیں لگی تھیں، انہوں نے بھی ہوسکتا ہے دل رکھنے کیلئے کہہ دیا ہو۔
اقتدار کی اس منتقلی کو سیاست کی تلخی اور انتخابی نتائج پر اعتراضات کے شور سے نکل کر کچھ ہلکے پھلکے انداز میں لیا جائے تو تحریک انصاف ایک بار پھر عوام کو سیاسی تفریح کا موقع فراہم کرنے جا رہی ہے۔
اگرچہ ان تمام شخصیات کی آمد خبر ہے،لیکن سربراہان مملکت کا آنا بھی نئی بات ہے، اس کے ساتھ ساتھ فنکاروں اور کھلاڑیوں کی شرکت غیر معمولی ہوگی۔
اس سب کو دیکھ کر ہر کوئی یہی کہنے پر مجبور ہوا، تقریب عوامی مقام پر ہونی چاہیئے۔
سوشل میڈیا پر اچھے برے کھٹے میٹھے کمنٹس آنا شروع ہوگئے ہیں، مین سٹریم میڈیا نے بھی موضوع بنالیاہے، گیارہ اگست تک اچھا مصالحہ مل گیاہے، خوب سیاسی تفریح رہے گی،کسی کھلاڑی نے کپتان کو اچھا مشورہ دیا۔آنے والے دن یہ بھی خبر رہے گی۔


