فارغین مدارس دینیہ کو خود کفیل بنائیں
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا ضروری ہے کہ آپ مولوی کو محض دینی کتابوں میں قید کرکے رکھیں۔ اگر کچھ بنیادی کتابیں جیسے صحت عامہ، معلومات عامہ، تاریخ، ریاضیات، جنرل سائنس، دستور کے منتخب ابواب، شہری حقوق اور فرائض اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور مختلف ادیان کے کچھ حصے پڑھا کر ان طلبا کو اچھا عالم دین کے ساتھ ساتھ اچھا ذمہ دار شہری بھی بنا دیں گے، تو کیا آپ اس ”گناہ عظیم کے ارتکاب کے جرم“ میں ماخوذ عند اللہ ہوں گے؟ اور تیسری بات یہ کہ مدارس دینیہ کے فارغین کو ان اضافی بنیادی تعلیم دے کر آپ ان کے مستقبل کے لئے راہ ہم وار کریں گے۔ مزید عصری تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنے کے اہل بنائیں گے۔ آخر کتنے طلبا کو مدارس میں معلمی اور مساجد میں امامت کی خالی جگہیں ملیں گی؟ ان دو ملازمتوں کے علاوہ ارض اللہ واسعة میں بے شمار مواقع ہیں ان سے ان طلبا کو مستفید ہونے کا اہل بنائیں۔ یہ سوشل امپاورمنٹ social empowerment کی بہترین شکل ہوگی۔
یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ طلبا دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے متحمل نہیں ہوں گے، گم راہ کرنے کے مترادف ہے اور منتظمین یہ کہ کر فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ انسانی دماغ کا حالیہ ریسرچ کے مطابق، ایک بڑا حصہ خالی پڑا رہتا ہے۔ اس لئے اسے جتنا کام دیا جائے کم ہے۔
اختصاص یا تخصص کی اصطلاح اسی لئے وجود میں آئی ہے۔ تعلیم اور طریقہ تعلیم پر ریسرچ اور عرق ریزی کے بعد یہ طے ہوا کہ درجہ 8 تک مختلف مضامین اور آرٹ و پینٹنگ وغیرہ سکھایا اور پڑھایا جائے تا کہ تھوڑی تھوڑی واقفیت ہر قسم کے مضامین سے ہو۔ اس کے بعد درجہ 9 اور 10 میں خاص مضامین پر ارتکاز رہے اس کے بعد درجہ 11 اور 12 کے مضامین میں مزید کمی کرکے اسٹوڈنٹ کو ابھی سے ہی اپنے لئے مستقبل کی راہ اختیار کرنا لازمی بنایا گیا ہے۔ اب اسے مستقبل میں کیا بننا ہے اس کے لئے مختلف streams میں سے یعنی سائنس تو انجینئرنگ کی طرف جانا ہے تو سائنس ریاضیات کے ساتھ پی سی ایم، فزکس، کیمسٹری اور میتھمیٹکس اور میڈیکل کی طرف جانا ہے تو سائنس فزکس کیمسٹری اور بائیولوجی پی سی بی، یا اقتصادیات یا ادب، ثقافت اور فنون یا لسانیات کو اختیار کرے؛ اس درجہ 12 میں پاس ہونے کے بعد مزید اختصاصات آنرز یا پاس کو اختیار کرنا ہوتا ہے اس کے بعد معلمی اختیار کرنا ہے تو بی ایڈ، ایم ایڈ ورنہ گریجویشن میں اختصاص کے بموجب ایم اے اس کے بعد مزید اس کے کسی ایک مضمون میں اختصاص کے لئے ایم فل اور اس کے بعد پی ایچ ڈی۔
یہ درجہ بندی اور مختلف مراحل کے لئے مختلف کورس سالوں سال کی کاوش کا نتیجہ ہیں اور اس کا رزلٹ روز روشن کی طرح عیاں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اہل مدارس اس سے کتراتے ہیں۔ اگر وہ بھی اسی طرح درجہ 10 تک عام عالم بنائیں جس میں بنیادی علم دین کے ساتھ مذکورہ اعلاہ بنیادی عصری علوم بھی پڑھا دیں۔ اگر پانچ سات دس ہزار طلبا ہر سال مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو ہر ایک سے یہ مطلوب نہیں ہے کہ سب تفقھ فی الدین حاصل کریں۔ اس کے لئے مطلوب طائفة ہے۔ یہ طائفہ گروپ تخصص کرکے فقیہ مفتی اور مناظر بنیں۔ باقی طلبا درجہ 10 سے فراغت کے بعد عصری علوم حاصل کریں، جیسا کہ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی نے تجویز کی تھی۔ یہ مدرسے سے بنیادی علوم دینیہ پڑھ کر کالجوں میں اقتصاد، لسانیات، قانون اور سیاست کی تعلیم حاصل کریں گے تو Sharia compliance گریجویٹ کی کمی نہیں ہوگی اچھے وکلا کی کمی نہیں ہوگی۔ ابھی مسجد کے تعلق سے ہماری طرف سے مقرر غیر مسلم وکلا کے ذہن اسلام میں مسجد کا تصور کیا ہے، اسی کا پتا نہیں ہے۔
بہت سالوں پہلے ایک مسلم جج نے اسلام میں مسجد کا تصور کی غلط تشریح کی تھی عدالت عالیہ بار بار اسی کا حوالہ دیتی ہے۔ تو بات مسلم یا غیر مسلم وکیل کی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ مدرسے سے بنیادی اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جو فارغین قانون پڑھ کر وکیل بنے گا وہ وطن اور دین کی بہتر خدمت کرے گا۔ اس کے لئے بنیادی عصری تعلیم مدرسہ دے تا کہ اس کے بعد وہ باضابطہ کالجوں میں داخلہ کے اہل بن سکیں۔ دیوبند کی رٹ لگانے سے کوئی دیوبندی نہیں ہوگا، قاسمیت مزاج اور روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی کے الفاظ : ”اس کے بعد طلبا مدرسہ ہذا کو مدارس سرکاری میں جا کر علوم جدیدہ میں کمال پیدا کرنے کی سعی جاری رکھنی چاہیے“۔ (روداد 1290)

