انتخابی جانوروں پر کیا گزری
جارج آرویل کے شہرۂ آفاق ناول ’’اینیمل فارم‘‘ سے کرشن چندر کے ’’گدھے کی سرگذشت‘‘ اور بانو قدسیہ کی تخلیق ’’راجا گدھ‘‘ تک ادیبوں نے جانوروں کے احساسات اور خیالات ہم تک پہنچائے۔ بہت دنوں سے یہ سلسلہ رُکا ہوا تھا اور جانوروں کے جذبات ہم تک نہیں پہنچ پا رہے تھے، لیکن دنیائے حیوانات سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے انتخابات نے ان بے زبانوں کو زبان دے دی ہے، اور کچھ منہ چھپانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سُنا ہے ڈولفنیں شرمندہ ہوکر گہرے پانیوں میں چلی گئی ہیں۔ مگرمچھ، کچھوے، کیکڑے اور دیگر مچھلیاں انھیں دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتی ہیں اور ان کے پاس سے ’’تم تو ڈوبی ہو صنم ان کو بھی لے ڈوبی ہو‘‘ کہتی گزر جاتی ہیں۔ ایک بدتمیز مچھلی نے تو یہاں تک کہہ دیا،’’بی بی! سمندر میں کیا کر رہی ہو، تمھارے لیے تو چلّو بھر پانی کافی ہے۔‘‘
اُدھر عقاب پَروں سے منہ چھپائے اُ ڑ رہے ہیں۔ راستے میں کوے، کبوتر، چیلیں، فاختائیں انھیں روک روک کر پوچھتی ہیں، علامہ اقبال کے طائر لاہوتی سے پرویزمشرف کا زخمی پرندہ بننا کیسا لگ رہا ہے؟ بعض عقابوں نے لمبی پرواز کرتے ہوئے لندن جا کر پرویزمشرف سے گزارش کی ہے کہ آیندہ انتخابات میں وہ اپنی جماعت کے لیے ’’مُرغی‘‘ کو منتخب کرلیں، جو ہے تو پرندہ مگر اتنا ہی اُڑ پاتی ہے جتنی ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کی اُڑان تھی۔
ایک اطلاع کے مطابق پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات کا نتیجہ سن کر جنگل میں بچے کھچے شیر ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر دُہرے ہوگئے۔ درخت پر بیٹھے بندر نے انھیں حیرت سے دیکھا اور کہا، ’’یہ کیا چھچھورپَن ہے بے۔‘‘ ایک شیر پنجہ پیٹ پر رکھ کر بہ مشکل ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولا، ’’یار بات ہی ایسی ہے․․․․ہمارے نسل کی طرح ہمارے نام پر پڑنے والے ووٹ بھی معدوم ہورہے ہیں․․․ ہوہوہو، ہاہاہا۔‘‘
یہ سن کر بندر نے بھی قہقہہ لگایا ’’خی خی خی۔‘‘ اُس کے پہلو میں لٹکی بندریا آنکھیں مٹکاکر بولی، ’’اچھا بھیا یہ بتاؤ شیر کے شکار پر پابندی ہے، تو عمران خان کو سزا ملنی چاہیے ناں، میں تو کہوں مقدمہ ٹھوک دو۔‘‘ بندریا کی بات سن کر ببرشیر اتنا ہنسا کہ قلابازی کھا گیا، پھر بولا، ’’ارے باؤلی! شیر کو بندوق سے مارنے پر پابندی ہے، بَلّے سے مارنے پر نہیں۔‘‘ بندریا نے حیرانی سے پوچھا، ’’شیر کو بلے سے کیسے مارا جاسکتا ہے۔‘‘ دور بیٹھے ایک بوڑھے شیر نے مسکرا کر جواب دیا، ’’اے بھولی بندریا! اگر کرکٹ بیٹ سیالکوٹ کے بہ جائے راولپنڈی میں تیار کیا گیا ہو تو اس کا ہینڈل بندوق کی نال کا کام دیتا ہے۔‘‘
ابھی شیر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو ہی رہے تھے کہ دور سے بہت سے گدھے دوڑتے ہوئے آئے۔ وہ شیروں کے پاس آ کر ہانپنے لگے۔ ’’کہاں سے آرہے ہو بھئی؟‘‘ شیر کے سوال پر گدھوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایک گدھے نے روہانسی آواز میں جواب دیا، ’’پاکستان سے۔ وہاں یہ بیانیہ الیکشن کے دوران جاری ہو چکا تھا کہ تحریک انصاف کے مخالف گدھے ہیں، جس کے بعد ہمارا ایک بھائی تشدد کرکے مار ڈالا گیا۔ اب پاکستان میں تبدیلی آگئی ہے، ہمیں خطرہ ہے کہ نئے پاکستان میں ہمیں حکومت کا مخالف قرار دے کر مار ڈالا جائے گا اور گوشت چین کو بیچ دیا جائے گا۔‘‘ یہ بپتا سُن کر شگفتہ ماحول افسردہ ہو گیا۔ سن کر گدھے کی آہ و زاری بوڑھے شعر نے زرا برہمی سے کہا۔
’’تم بھی گدھے کے گدھے ہی رہے۔ ارے بے وقوفو! جب مشکل وقت آیا تھا تو گھوڑے کی کھال پہن لیتے، عزت بڑھ جاتی، الیکٹ ایبل ہوجاتے، وزارت مل جاتی۔‘‘
شیر کا طعنہ سن کر ایک نوجوان گدھے کو غصہ آگیا اور ہوا میں دولَتّی چلا کر بولا، ’’شیر چچا! آپ نے کیا سمجھ رکھا ہے ہم نے اپنے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں کیا ہو گا۔ ہم نے گھوڑے کی کھال حاصل کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا سارے گھوڑے الیکشن سے پہلے ہی چابک مار مار کر اصطبل میں بند کیے جا چکے ہیں۔ مایوس ہو کر ہم نے گایوں کے ایک ریوڑ سے ملاقات کی اور کھال مستعار مانگی۔ جواب ملا بھیا! ہماری کھال تمھارے کسی کام نہیں آئے گی، بقرعید قریب ہے مارے جاؤ گے۔ جس گائے کی کھال تمھارے کام آ سکتی ہے وہ ہے مقدس گائے، اس کا تو گوبر بھی ماتھے پر مل لو تو بچ جاؤ گے۔‘‘
شیر نے ہنکارا بھرکر پوچھا،’’تو پھر تم نے مقدس گائے سے رابطہ کیا؟‘‘ گدھے نے اثبات میں سر ہلایا پھر دکھی لہجے میں بتانے لگا، ’’ہاں رابطہ کیا تھا۔ مقدس گائے نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ ایک تو ہماری پالیسی ہے کہ سب اپنی اپنی کھال میں رہیں۔ دوسرے ہمیں دینا بھی ہو تو صرف دودھ دیتی ہیں، ہمارے دیے ہوئے دودھ کا کمال یہ ہے کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دودھ کے ساتھ ہم دعا دیتی ہیں کہ دودھوں نہاؤ پوتوں پلو، پھر تو ہمارا دودھ اور دعا پانے والا ایسا نہاتا ہے کہ ہر داغ دھبے سے چھٹکارا پا کر پاک صاف ہو جاتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ تم گدھے ہمارے کسی کام کے نہیں، ہمیں ریس کے گھوڑوں اور رٹو طوطوں ہی سے کام لینا ہوتا ہے۔‘‘
گدھوں کی دکھ بھری داستان سن کر شیر آگے بڑھے اور انھیں گلے سے لگالیا۔ بوڑھا شیر رندھی ہوئی آواز میں بولا، ’’پیارے گدھو! اب تم جنگل میں چین سے رہو، یہاں سیاسی اختلاف کی وجہ سے کوئی تمھیں نشانہ نہیں بنائے گا، رہا جنگل کے قانون کا خوف، تو اس قانون کا راج تمھارے لیے نیا نہیں ہو گا۔‘‘
یہ سن کر گدھے ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے ہوئے رقصاں ہوئے۔


