کل پڑوس میں میلاد تھا، قادر کے آنے کی خوشی میں۔ وہ واقعی موت کے منہ سے نکل کر آیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ہاتھوں قادر کے اغوا کا پتا چلا تھا تو پہلا خیال یہی آیا تھا کہ اب اس کا زندہ واپس آنا ممکن نہیں، پڑوسن خالہ تو بیٹے کے اغوا کا سن کر نیم پاگل ہو گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے مغوی کارکنوں کی ماؤں کا بھی یہی حال ہوا ہوگا۔ وہ تو فوج نے آگے بڑھ کر دونوں جماعتوں کے مذاکرات کرائے۔ پورے تین دن چلے تھے مذاکرات، جیسے دو ملک قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت کر رہے ہوں، تینوں دن پڑوس میں آیت کریمہ کا ورد ہوتا رہا تھا۔
اخبار میں تھا کہ کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز کی ہدایت پر فوج بیچ میں پڑی پھر دونوں نے ایک دوسرے کے اغوا شدہ کارکنوں کا آپس میں تبادلہ کیا۔ کچھ ہی عرصے میں فوج نے یہ دوسری بار لوگوں کی جان بچائی ہے۔ پچھلے سال حیدرآباد پولیس نے لوگوں پر قیامت ڈھائی تھی تب بھی فوج ہی کام آئی تھی۔ غنی بھائی بتا رہے تھے کہ پولیس نے جب اچانک پکے قلعے کا محاصرہ کیا تو پہلے بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی بند کردی۔ عورتیں بھوک سے روتے بلکتے بچوں کو لیے سروں پر قرآن رکھ کر رحم کی اپیل کرتی گھروں سے نکلیں لیکن رحم تو کیا کیا جاتا ان پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پولیس والے دو دن تک پکا قلعہ گھیرے رہے تھے۔ آخر مکینوں کی بیس جانیں لے کر قلعہ فتح کر لیا گیا۔ پھر فوجی آئے اور انھوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، حالات سنبھالے۔ انھیں آنا ہی تھا تو پہلے کیوں نہیں آئے؟ خیر کوئی مجبوری ہوگی۔ کہتے ہیں قلعے کے اندر اسلحہ تھا، دہشت گرد تھے۔ تھا بھی تو قلعے میں بسنے والے عام لوگوں کا کیا قصور؟
Read more