جنوبی ایشیا میں مذہبی جماعتوں کی پسپائی
پاکستان کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی انتہائی خراب کا رکردگی نے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ جنوبی اشیا میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے کبھی بھارت، پاکستان یا بنگلہ دیش میں کوئی بڑی انتخابی کامیابی حاصل نہیں کی، لیکن یہ لوگ اقتدار کا مزہ چکھنے کے لیے شاطرانہ اتحاد تشکیل دینے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ جماعت اسلامی جنوبی ایشیا میں ہمشہ ہیئت مقتدرہ کی حامی قوت رہی ہے۔ اس تناظر میں کشمیر کے انتخابات اور اقتدار کی سیاست میں جماعت اسلامی کا کردار دلچسبی سے خالی نہیں ہے۔
سال 1971-72 میں محاز رائے شماری کے رہنماوں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کے بعد ریاست جموں کشمیر میں انتخابات ہوئے، جس میں کانگرس نے بھاری اکثریت حاصل کرنے کا پہلے ہی بندوبست کر رکھا تھا۔ چنانچہ ان انتخابات میں کانگرس نے پارلیمان کی چھ میں سے پانچ اور قانون ساز اسمبلی کی تہترمیں سے چھپن نشستیں جیت لیں۔ اس برس متنازع ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی بھی سامنے آئی، اور اس نے جموں میں دو نشستیں جیت لیں۔
اس وقت ایک اور غیر متوقع اور دلچسب پش رفت یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی جو کشمیر کے بھارت سے الحاق کو ہمشہ رد کرنے پر اصرار کرتی رہی ہے، اور جو اس وقت بھی کشمیر میں انتخابات کے سخت خلاف ہے، ان انتخابات میں کانگرس کے ساتھ شاطرانہ سمجھوتے کے ذریعے قانون ساز اسمبلی میں اپنے پانچ ممبر داخل کرانے میں کامیاب ہو گئی۔
کشمیر کے انتخابات کی تاریخ میں 1977 کے انتخابات سنگ میل کی حیثیت رکھتے تھے، جس میں شیخ عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس نے کانگرنس کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھنکتے ہوئے پچھتر میں سے 47 نشستیں لیکر غیر متنازع اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات میں کانگرنس کی طاقت گیارہ نشستوں تک محدود ہوگئی تھی، جس سے کانگرنس کی مصنوعی عظیم حیثیت ختم ہو گئی تھی۔ جماعت اسلامی بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کو ووٹ کی التجاوں سے پریشان کرنے کے باوجود صرف ایک نشست جیت سکی تھی۔ یہ شفاف انتخابات تھے، اور دنیا بھر میں کئی سیاسی تجزیہ کاروںنے ان انتخابات کی شفافیت کو تسلیم اور اجاگر کیا تھا۔ ان انتخابات نے ریاست میں سال 1951 اور 1972 کے احمقانہ اور بے معنی انتخابات کا حساب برابر کر دیا۔ ان جمہوری انتخابات کے نتیجے میں نمائندہ حکومت کے قیام اور مختلف نظریات کو مناسب جگہ دینے کی وجہ سے ایک آزادانہ اور خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔
سال 1987 کے انتخابات کے دوران عام دھارے سے کٹے ہوئے گروہوں پر مشتمل مسلم متحدہ محاز نامی اتحاد نیشنل کانفرنس کی مخالفت میں انتخابی میدان میں اترا۔ یہ ایک ایسا اتحاد تھا جس کا کوئی خاص تنظیمی ڈھانچہ یا کوئی ایک سیاسی نظریہ نہیں تھا۔ انڈیا ٹو ڈے نے انتخابی مہم کے دوران یہ تجزیہ کیا کہ وادی میں رائے عامہ مسلم متحدہ محاز کے نام پر جمع ہونے والے ہزاروں نئے کارکنوں اور نیشنل کانفرنس کی اس پارٹی مشینری کے درمیان تقسیم ہے، جو نیشنل کانفرنس کے روایتی ووٹ کو کنٹرول کرتی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر زکر کیا کہ متحدہ محاز میں کئی سیای تنظیمیں شامل تھیں، جس کا سب سے بڑا جزو سیدعلی گیلانی کی قیادت میں جماعت اسلامی تھی۔ سال 1972، 1977 اور 1983 کے انتخابات میں حصہ لینے، اور پھر 1987 میں مسلم یونائٹیڈ فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑنے کے باوجود جماعت اسلامی کشمیر کی سیاست پر کوئی خاص اثر قائم کرنے میں میں نا کام رہی ۔ تاہم اس نے کشمیر میں کچھ مدرسوں پر اثر ضرور قائم کر لیا ، جن کو شیخ عبداللہ نے اپنے دور اقتدار میں کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
چند سال پہلے میں نے امینہ جمال کی کتاب پاکستان میں جماعت اسلامی اور عورت، نئی جدیدیت کے نقیب پر ریویو لکھا تھا۔ اس کتاب میں پاکستان میں اسلام پسندوں کے منصوبوں کا اچھا تجزیہ ہے۔ امینہ جمال لکھتی ہیں کہ ہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ فروری دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں اسلامسٹ ہار گئے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام پاکستانی اگر اسلام پسند تحریکوں کے مذہبی رحجان سے نہ سہی، ان کے مستبد طرز عمل سے ضرور تنگ ہے۔ میں اس نقطہ نظر کو ایک اور اہم مثال سے ثابت کروں گی۔ انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈین سمتھ لکھتے ہے کہ جو لوگ سماج میں خواتین کے کے کردار کے بارے میں بنیاد پرستانہ نظریات رکھتے ہیں، وہ عموما اپنی بات کی وضاحت کرنے یا خواتین کے تجربات اور قابلیت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس طرح کے خیالات کی تائید اس تبدیلی کا راستہ روکتی ہے، جو تنازعات کے پر امن حل، روایتی دشمنوں کے درمیان مفاہمت، اور مختلف نسلوں اور جنس کے درمیان مساوات کے لیے ضروری ہے۔ میرے خیال میں جماعت اسلامی جیسی سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ان سے منسلک دوسرے خود ساختہ چوکیدار گروہ ایک ایسا ہم جنس اور یکساں کلچر تشکیل دیناچاہتے ہیں، جس میں وہ آزادیاں نہ ہوں جو جنوبی ایشیا کی عورتوں کو روایتی طور پر حاصل رہی ہیں۔ ان کی طرف سے کشمیر میں عورتوں پر پردہ مسلط کرنے کا ظالمانہ طریقہ ایک ایسے پدرانہ نظام کو بحال کرنے کی کوشش ہے، جو عورت کو سماج میں مزید کمزور اور غیرمحفوظ بناتا ہے۔ یہ نظام ٹیکنالوجی کی سوجھ بوجھ رکھنے والی نوجوان نسل کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے۔ اور جنوبی ایشیا کی اپنی فلسفیانہ اور اخلاقی اقدار کو عربی کلچر کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ریاست میں سماجی و سیاسی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر، سول سوسائٹی کی بحالی، عوام کو ذرائع آمدن کی فراہمی، تباہ حال معشیت کی بحالی، اور قومی تشکیل کے واضح پروگرام کے لیے جماعت اسلامی اور اس قبیل کی دوسری جماعتوں کو راستے سے ہٹنا ہو گا۔
( ترجمہ: بیرسٹر حمید باشانی)


