کشمیر میں عوامی احتجاج ختم کیے بغیر اور فوج نکالے بغیر ترقی ممکن نہیں

سنہ 1947 کے ہنگام کے دوران جموں اور کشمیر نو آزاد کردہ برصغیر میں وہ واحد ریاست تھی جس کے پاس تحریر شدہ آئین کا پلان موجود تھا۔ یہ آئین تمام بالغ شہریوں، مرد و خواتین کو ووٹ کے حق کی گارنٹی دیتا تھا اور مذہبی اقلیتوں کے لئے عزت نفس اور مذہبی آزادی کا خاص خیال رکھتا تھا۔ یہ قابل تعریف مساوات اور جمہوری صفت کسی حد تک سیاسی جدوجہد اور بادشاہت کی مخالفت کے نتیجے میں ابھرنے والے

Read more

شیخ عبداللہ کی نواسی ڈاکٹر نائلہ کا کشمیر کی صورتحال پر مضمون

کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کیے بغیر کشمیر کی بھارت کے ساتھ جذباتی وابستگی یا انضمام ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار شیخ عبداللہ کی نواسی ڈاکٹر نائلہ علی خان نے کیا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کے عمل نے کشمیر کے سب ہی سیاست دانوں کوپس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ آرٹیکل تین سو ستر کی منسوخی، ریاست کی تقسیم اور اس کو یونین ٹیری ٹوری بنانا ایک طرفہ فیصلہ ہے، جس کا مطلب طاقت کا مرکز میں ارتکاز ہے، جو فیڈرل نظام کو نقصان پہنچائے گا۔

Read more

جموں کشمیر پر کیا گزری؟

شملہ سمجھوتے کی افادیت سے متعلق نئی دہلی حکومت کا حالیہ دعوی، جو سرکاری طور کشمیر مسئلے میں کسی تیسرے فریق کا راستہ روک لیتا ہے اور عالمی برادری کی مداخلت کو خارج کرتا ہے، کے پیش نظر ان حالات کا تذکرہ کرنا ضروری بن جاتا ہے جو تب کے حالات میں کشمیر سے متعلق پاکستان کی پوزیشن کو کمزور بنانے کے ذمہ دار بن گئے تھے۔ اس بات کو بھی یاد رکھنا ہو گا کہ دو ممالک کے درمیان

Read more

کشمیر میں بھارتی ہتھکنڈوں کا ایک باب

شملہ سمجھوتے کی افادیت سے متعلق نئی دہلی حکومت کا حالیہ دعوی، جوسرکاری طور پر کشمیر مسئلے میں کسی تیسرے فریق کا راستہ روک لیتا ہے اور عالمی برادری کی مداخلت کو خارج کرتا ہے، کے پیش نظر ان حالات کا تذکرہ کرنا ضروری بن جاتا ہے جو تب کے حالات میں کشمیر سے متعلق پاکستان کی پوزیشن کو کمزور بنانے کے ذمہ دار بن گئے تھے۔ اس بات کو بھی یاد کیا جانا ہوگا کہ دو ممالک کے درمیان

Read more

کہیں یہ تاریخ ساز دور کا اختتام تو نہیں!

کوئی صحیح مانے یا غلط سمجھے، شیخ محمد عبداللہ ہندوستان کے سیاسی آسمان پر پچاس سال تک چھائے رہے۔  وہ سیاسی سماجی طور ٹکڑوں میں بٹے اور مختلف مذہبی عقیدوں کو ماننے والے جموں کشمیر کے عوام کو بہت وقت تک اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب رہے۔  اس قدوقامت کے سیاسی کھلاڑی میدان میں اپنی کارکردگی اور کامیابی کے ان مٹ نشان چھوڑ دیتے ہیں اور تفرق کی نشانیوں سے بالاتر رہ کر سب کے دلوں میں گھر کر

Read more

ڈاکٹر نائلہ علی خان کا آکسفورڈ اسلامک سٹڈیز کی ڈی لانگ باس کے ساتھ انٹرویو

نتانا ڈی لانگ باس بوسٹن کالج میں تھیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ وابستہ ہے اور آکسفورڈ اسلامک سٹیڈیز آن لائین کی ڈپٹی ایڈیٹر بھی۔ میں اس وقت خود اوکلا ہامہ یونیورسٹی میں ویزیٹنگ پروفیسرکی حیثیت سے کام کررہی ہوں۔ آکسفورڈ اسلامک ادارے کے تحت اسلام کے امن اور صلاح پسندفلسفے کو امریکہ اور باقی دنیا میں عام کرنے کی غرض سے کافی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ڈی لانگ باس نے کچھ روز قبل میرے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران زیادہ

Read more

بھارتی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

جب ایک انسان کے حقوق چھینے جاتے ہیں‌ تو تمام انسانوں‌ کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ حال ہی میں‌ کشمیر میں‌ سات شہریوں‌ کے قتل سے برصغیر میں جمہوریت کے بدنما داغ نمایاں ہوئے ہیں۔ حکومت اور ریاستی اداروں کی بے حسی سے عوام کی آزدہ دلی میں‌ اضافہ ہوا ہے۔ کشمیر میں‌ مسلح شورش اور انسداد بغاوت میں‌ عوام کے حقیقی مسائل، صدمات اور مشکلات کا تذکرہ کہاں‌ ہے؟ کیا ہم اس باپ کی کتھا سن رہے ہیں جو

Read more

مذہب، اصلاح اور جدیدیت

تعلیم یافتہ مسلمانوں ‌ کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ عقلی اسلام کے لیے آواز اٹھائیں اور اسلامی تعلیمات اور جمہوریت میں ‌ مصالحت تلاش کریں۔ ہم مذہبی دائرے کو بنیاد پرستوں ‌ کے حوالے نہیں ‌ کرسکتے کہ وہ اس میں ‌ جو چاہیں ‌ کرتے پھریں۔ بنیاد پرست طاقتوں ‌ کو حدود میں ‌ رکھنے کے لیے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کو مذہب میں اصلاح‌ کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آج کے جدید دور میں ‌ مذہب کی آزاد خیال تشریح پیش کی جاسکے۔

ہم اسلامی ریاست کے تصور کو فلاحی مملکت کے اصولوں ‌ سے منسلک کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں جس میں ‌ سماجی برابری اور معاشرتی اور سیاسی جمہوریت کی وکالت ممکن ہو۔ ہمیں ‌ اس بات کو ذہن نشین کرنا ہو گا کہ جدید قومی اور بین الاقوامی طاقتوں کے ملاپ سے بننے والے ڈھانچے میں ‌ ہی برادریاں تاریخی طور پر پروان چڑھ سکتی ہیں۔

Read more

آسیہ بی بی کی رہائی: اسلامی انصاف کی خوش آئند تصویر

آسیہ بی بی کی رہائی، جن کو کئی سال پہلے توہین مذہب کے الزام میں‌ گرفتار کیا گیا تھا، پاکستانی سول سوسائٹی کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے جس سے خطے میں‌ انسانی حقوق کی راہ ہموار ہوگی۔ پاکستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے شدت پسندوں‌ کے اثر میں‌ کمی واقع ہوگی۔ یہاں‌ میں‌ یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں‌ نے ہمیشہ اسلام کو غلامی کا مخالف اور انسانی آزدیوں کا نقیب مذہب گردانا ہے جو سماجی

Read more

جموں کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کا کیا قضیہ ہے؟

کشمیر میں آرٹیکل پینتس اے کے بارے میں بہت شور وغوغا ہے۔ مگر کتنے کشمیری جانتے ہیں کہ یہ آرٹیکل کیسے معرض وجود میں آیا تھا ؟ کیا ان کو اس بات کا علم ہے کہ اس آرٹیکل کو ہندوستانی آئین کے اندر سمونا اور اس کا اطلاق کتنا کٹھن کام تھا ؟ پاکستان اور بھارت میں بھی میرے بہت سے قارئین اس آرٹیکل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جموں کشمیر کے لوگ

Read more

امن کی سڑک کشمیر سے گزرتی ہے

پاکستان اور بھارت سے کابل جانے والی سڑک کشمیر سے گزر کر جاتی ہے۔ کشمیر کی سرحدیں پاکستان، بھارت اور چین سے لگتی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام شمال مغربی کشمیر کی سرحدیں افغانستان اور چین سے لگتی ہیں۔ شمال مشرق میں اقصائی چن اور ٹرانس قراقرم ٹریک چین کے زیر انتظام ہیں۔ اس خطے میں کئی علاقائی تنازعے ہیں۔ ان تنازعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ افغانستان سمیت اس پورے خطے میں امن کے قیام کے لیے

Read more

جنوبی ایشیا میں مذہبی جماعتوں کی پسپائی 

پاکستان کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی انتہائی خراب کا رکردگی نے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ جنوبی اشیا میں مذہب کی بنیاد پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے کبھی بھارت، پاکستان یا بنگلہ دیش میں کوئی بڑی انتخابی کامیابی حاصل نہیں کی، لیکن یہ لوگ اقتدار کا مزہ چکھنے کے لیے شاطرانہ اتحاد تشکیل دینے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ جماعت اسلامی جنوبی ایشیا میں ہمشہ ہیئت

Read more

جموں کشمیر کی بدلتی ہوئی سیاست

جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی معطل ہے۔ چنانچہ آج کل یہاں ہارس ٹریڈنگ، اسمبلی ممبران کا ادل بدل، اور منتخب نمائدوں کی خرید و فروخت کا کاروبار عروج پر ہے۔ قانون ساز اسمبلی کے وہ ممبران جو سن دو ہزار چودہ میں وزارت اعلی کے امیدوار بھی نہیں تھے، اس نازک موڑ پر حکومت کی تشکیل اور وزرات اعلی میں شراکت داری کے دعوے دار ہیں، کیوںکہ وہ خرید و فروخت کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں۔ یہ

Read more

دو جاسوس کشمیر پر کیا کہتے ہیں؟

میں نے نومبر دو ہزار سترہ میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم جناب شاید خاقان عباسی کے ایک بیان کے رد عمل میں مضمون لکھا تھا، انہوں نے لندن سکول آف اکنامس کی ایک کانفرنس میں خود مختار کشمیر کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے کوئی حمایت یا مطالبہ موجود نہیں ہے۔ وادی کی ایک کشمیری مسلمان عورت کی حیثیت سے یہ میرے لیے یہ ایک ایسی خبر تھی، جس کا مطلب

Read more