سینٹ ایلیزیبتھ کا اسپتال اور فلپ اول کی یونیورسٹی
چودہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہوگئی، بیس سال کی عمر کو وہ بیوہ بنی اور صرف چوبیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
اس مختصر سی زندگی میں وہ پیدا ہر کر پہلے شہزادی، پھر والی ریاست کی ملکہ، بیماریوں کے علاج کے لیے اسپتال قائم کرنے والی راہبہ اور انتقال کے چند سال بعد اپنے معجزوں کے باعث سینٹ جیسے مقدس مرتبے پر فائز ہوگئیں۔
جبکہ دوسری جانب پانچ سال کی عمر میں وہ یتیم ہوگیا۔ دس سال کی عمر میں ماں کی سرپرستی میں والی ریاست بنا۔ مارٹن لوتھر کے خیالات سے متاثر ہوکر بیس سال کی عمر کیتھولک فرقے سے بغاوت کرکے پروٹسٹنٹ بن گیا۔ جب وہ تئیس سال کا ہوا تو اس نے شہر میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جو آگے چل کر یونیورسٹی بن گیا۔
تھورنگیا کی سینٹ ایلیزیبتھ اور ہیسے کے فلپ اول کا تعلق جرمن ریاست ہیسے کے خوبصورت شہر مار برگ سے ہے۔ جہاں ان دونوں شخصیات کا سحر ان کے اداروں اور خدمات کی صورت میں آج بھی قائم ہے۔
سات جولائی بارہ سو سات کو ہنگری کے بادشاہ اینڈریو دوئم کے ہاں براٹسلا وا نامی شہر ( موجودہ سلواکیہ ) میں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ایلیزیبتھ رکھا گیا۔ چار کی ننھی شہزادی کو تربیت کی غرض سے اس دور کے جرمن ریاست تھورنگیا کے فرمانروا کے ہاں بھیج دیا گیا۔ مقامی زبان، ثقافت اور رسم و رواج سے وہ بہت جلد مانوس ہوگئیں۔ بارہ سو اکیس کو صرف چودہ سال کی عمر میں ریاست کے فرمانروا کے فرزند لوئی چہارم( ہیسے) سے اس کی شادی ہوگئی۔ شاہانہ مزاج کے برعکس وہ ہمدرد اور نرم دل کی مالک تھیں۔ کلیسا سے قربت اور مذہبی رجحانات کی وجہ وہ غریبوں کی مدد کرنے میں مصروف رہیں اور ریاست کی دولت کا ایک بڑا حصہ اس کام کے لیے وقف کردیا۔ بارہ سو چھبیس کو ریاست کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب اور پھر طاؤن نے تباہی مچا دی۔ آفت کی اس گھڑی اور پر آشوب حالات میں پہاڑی پر واقع اپنی محل کےعین نیچے اٹھائیس بستروں پر مشتمل ایک اسپتال قائم کیا گیا جہاں وہ بذات خود مریضوں کی تیمارداری میں پیش پیش رہیں۔

انیس سو اکتیس کو چوبیس سال کی عمر میں ایلیزیبتھ کا انتقال ہوا۔ صرف چار سال بعد ایک سے زائد معجزوں کی وجہ سے اس وقت کے مسیحی دنیا کے سب سےبڑے رہنما پوپ گریگوری نہم نے انہیں پچیس مئی بارہ سو پینتیس کو سینٹ کے درجے پر فائز کردیا۔
اس اعلان کے فورا بعد سینٹ ایلیزیبتھ کے مقبرے اور اسپتال کے قریب ہی ایک عالی شان گرجا گھر کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق قرون وسطی کے گوتھک طرز تعمیر کے اس دو میناروں والے گرجا گھر سے متاثر ہوکر جرمن شہر کولون کے مرکزی کیتھیڈرل کا نقشہ تیار کیا گیا۔ سینٹ ایلیزیبتھ کا اسپتال اب موجودہ نہیں تاہم اس کے کھنڈرات آج بھی شہر کے وسط میں گرجا گھر سے متصل موجود ہیں۔
سینٹ ایلیزیبتھ کی اس دنیا سے کوچ کر جانے کے تقریبا پونے تین سو سال بعد تیرہ نومبر پندرہ سو چار کو اسی مار برگ شہر میں ریاست کے فرمانروا ولیم دوئم (ہیسے ) کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ جس کا نام فلپ رکھا گیا جو بعد ازاں فلپ اول ( جرات مند ) کے نا م سے مشہور ہوا۔ پانچ سال کی عمر نوعمر فلپ والد کی سرپرستی سے محروم ہوگیا۔ دس سال کی عمر میں اس کی والدہ اپنے بیٹے کے لیے تخت و تاج حاصل کرنے میں کامیاب ہوکر اس کی سرپرستی کرنے لگیں۔ اس تگ و دو کے باعث اس کی تعلیم و تربیت بری طرح متاثر ہوئی۔ پندرہ سال کی عمر میں اس نے امور سلطنت مکمل طور پر سنبھال لیے۔ بہت کم عرصے میں اس نے تمام بنیادی تعلیم و تربیت سے خود کو آ راستہ کرلیا۔




