سندھ کے حیران کن انتخابی نتائج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باقی ملک کی طرح جب سندھ میں انتخابات کی گہماگہمی شروع ہوئی اور صوبے کی سابقہ حکمران جماعت کے امیدوار اپنی انتخابی مہم پہ نکلے تو مختلف جگہوں پر لوگوں کے تیز وتند سوالات کا سامنا ہوا۔ ایسے سوالات کی کئی وڈیوز سوشل میڈیا پہ بھی وائرل ہوئیں جن کو لے کہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تجزیہ نگاروں نے بڑی دھوم سے پی پی کا سندھ سے جنازہ نکال دیا حالانکہ زمینی حقائق اس سے مکمل طور پر مختلف تھے اور جب نتائج سامنے آئے تو سب حیران و پریشان ہو گئے۔

ہمارے جیسے ممالک میں انتخابات لڑنا بھی ایک سائنس ہے یہ مسلسل عمل ہے۔ پی پی نے سندھ میں انتخابات کی تیاری 2016 میں ہی شروع کر دی تھی جب اس نے شکارپور سے امتیاز شیخ، سانگھڑ سے جام مدد علی، تھر سے ارباب لطف اللھ، بدین سے پپو شاھ اور گھوٹکی سے خالد لنڈ کو پی پی میں لے آئی۔ جب سینیٹ کے انتخابات ہوئے تو جنوبی سندھ سے اقلیتوں کے ووٹ محفوظ کرنے کے لئے کرشنا کماری کو سینیٹر بنوایا اور سانگھڑ میں روڈز کا جال بچھایا اور دور دراز کے علاقے اچھڑو تھر کو پینے کے پانی کی فراہمی کرکے کامیابی کو یقینی بنایا۔

جب انتخابات کا عمل شروع ہوا تو ٹکٹوں کی تقسیم پہ کچھ لوگ پارٹی کو الوداع کر گئے جن میں گھوٹکی سے علی گوہر مہر، سکھر سے محمد علی شیخ، خیرپور سے غفار شیخ، نوشہرو فیروز سے مقصود خشک، عبدالحق بھرٹ اور عبدالستار راجپر اور میرپورخاص سے علی نواز شاھ نمایاں تھے۔ جب انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا تو حالات آہستہ آہستہ پی پی کے حق میں تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ لوگوں میں خراب حکمرانی پہ غصے کے باوجود پی پی امیدواران نے ہمت نہیں ہاری اور لوگوں سے اپنا رابطہ برقرار رکھا، اسی اثنا میں پی پی مخالف اتحاد جی ڈی اے کے لوگوں کی وڈیوز سامنے آئیں جس میں وہ کالاباغ ڈیم اور کچھ دوسرے متنازع معاملات پہ ایسا موقف دیتے دکھائی دیے جو سندھ کے لوگوں کی سوچ کے خلاف ہے۔ اور آخری بات جس نے پی پی کے حق میں رائے عامہ ہموار کی وہ تھا بلدیاتی نمائندے جن کی محنت نے بھی پی پی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ ایسے عوامل تھے جن سے ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے زیادہ تر تجزیہ نگار واقف نہیں تھے یا جان بوجھ کر صرف نظر کر رہے تھے۔ جب ہمیں یہ لگ رہا تھا کہ جی ڈی اے پانچ سے زیادہ قومی اسمبلی کی سیٹیں نہیں جیت سکے گی وہ اسے پندرہ سیٹیں دے رہے تھے جن میں این اے 208 بھی شامل تھی جس پہ شروع دن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •