پاکستانی جمہوریت: آگے راستہ ٹھیک نہیں ہے


نریندرمودی کی قیادت میں بھارت نے گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے اس لئے اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ بھارت کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے سوال پر کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے جبکہ پاکستان کا اصولی مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کوئی مذاکرات مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بغیر منعقد نہیں ہو سکتے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر پورے خطے میں پاکستان کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔ بھارت گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ کے قریبی حلیف کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔ یہ دونوں ممالک سی پیک منصوبوں کے بھی مخالف ہیں اور کسی بھی ہتھکنڈے سے انہیں مؤخر یا ختم کروانے کے خواہشمند ہیں۔

نریندر مودی نے عمران خان کی کامیابی پر فون کرکے مبارک باد دی ہے اور تعلقات کی بہتری کا عندیہ بھی دیا ہے۔ لیکن عملی طور سے بھارتی حکومت کے مؤقف اور طرز عمل میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں اگلے برس انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انتخابات میں جیتنے کے لئے مودی انتہا پسند ہندو ووٹر کو اپیل کرنے اور اکسانے کی کوشش کرے گا۔ یہ مقصد پاکستان کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

مالی اور خارجہ شعبوں میں درپیش مشکلات کا تعلق دراصل ملک کی سیکورٹی پالیسیوں سے رہا ہے۔ افغان طالبان سے پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے تصویر ہمیشہ غیر واضح رہی ہے۔ اسی طرح پاکستان ان چند عسکری گروہوں اور ان کی قیادت کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہؤا جن پر بھارت میں دہشت گردی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ پاکستان میں داخلی طور پر سیکورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود ابھی تک مکمل طور سے کنٹرول میں نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس بات کا انتباہ تھیں کہ دہشت گرد عناصر ابھی تک توانا اور منظم ہیں اور صرف افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر کو الزام دے کر یا یہ کہہ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا کہ بھارتی ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ ملک میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہؤا ہے اور فرقہ پرستی شدت پسندی اور نفرت کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ان حالات میں ٹیرر فنانسنگ کو کنٹرول کرنے والے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف نے بھی گزشتہ دنوں پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں ڈال دیا تھا جن کی نگرانی مقصود ہے۔ اس گرے فہرست سے نکلنے کےلئے بھی پاکستان کو انتہا پسند تنظیموں اور گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے پڑیں گے۔ المختصر پاکستان کے معاشی اور خارجہ مسائل سے نکلنے کی کنجی دراصل اس کی سیکورٹی پالیسی کی تہ در تہ بھول بھلیوں میں گم ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران فوج نے ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے اس میں بھارت سے مقابلہ اور افغانستان سے فاصلہ بنیادی نکات ہیں۔ افغان طالبان اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی کسی نہ کسی سطح پر حمایت بھی کی جاتی ہے اور مسلح تصادم کی بجائے ان کےساتھ سیاسی مذاکرات کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ملک کی منتخب حکومتیں بھی ان پالیسیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور رہی ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ حکومت افغانستان میں مذاکرات سےزیادہ طاقت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ بھی کیا گیا ہے تاکہ وہ سیاسی حل کی بات کرنے کی بجائے امریکہ کی جنگ کو اب خود لڑنے پر آمادہ ہوجائے۔

منتخب حکومت کو اس پیچیدہ صورت حال سے نکلنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ نو منتخب وزیر اعظم پر جوں جوں مملکت کے اسرار و رموز افشا ہونا شروع ہوں گے ان کا راستہ اتنا ہی مسدود ہوتا چلا جائے گا۔ اس راستے پر تحریک انصاف کی پہلی ترجیح قومی ضرورت کے تحت خارجہ اور سلامتی امور میں فوج کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ یہیں سے ہر حکومت فوج کے عتاب کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ سول ملٹری تعلقات کے اس نازک موڑ پر منتخب حکومت اپوزیشن کے عدم تعاون کی وجہ سے تنہا ہوتی رہی ہے۔ نو منتخب حکومت کو اس دلدل سے باہر نکلنے یا بچنے کے لئے پارلیمنٹ کی سب پارٹیوں کے ساتھ تعاون اور بہتر تعلقات کی بنیاد رکھنا ہوگی۔

سیاسی جماعتیں باہم متفق ہوسکیں اور پارلیمنٹ کو مکمل با اختیار ادارہ بنایا جائے تو اس راستے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو گزشتہ پانچ برس کے سیاسی مخالفت پر مبنی سخت اور انتہا پسندانہ طرز عمل کو ترک کرنا پڑے گا۔ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا زبانی وعدہ کافی نہیں ہو گا بلکہ اس کے لئے عملی اقدام کرتے ہوئے اپوزیشن کو کچھ گنجائش دینا پڑے گی ۔ ابھی تک اس حوالے سے تحریک انصاف کے وعدے اور عملی اقدامات میں تضاد دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی تعاون کا معاملہ صرف انتخابی دھاندلی کی گتھی کو سلجھانے تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نیب اور عدالتوں کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کرنے کے طریقہ کو بدلنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

عمران خان کو اس بات کا ادراک بھی ہونا چاہئے کہ فی الوقت ان کا سامنا منی لانڈرنگ کے معاملات میں الجھے آصف زرداری اور تصادم سے گھبرانے والے شہباز شریف جیسےکمزور اپوزیشن لیڈروں سے ہے۔ تاہم آنے والے مہینوں میں اگر نواز شریف یا مریم نواز رہا ہو جاتے ہیں اور حقیقی مزاحمتی سیاست کو سڑکوں گلیوں تک لاتے ہیں تو حکومت کی مشکلات میں حقیقی معنوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ انتقامی سیاسی رویہ اختیار کرتے ہوئے قید لیڈروں کو مقید رہنے دیا جائے اور موجودہ اپوزیشن کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سیاسی مفاہمت کو حقیقی معنوں میں اپنا کر سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائیندوں کو طاقت ور کیا جائے۔ عمران خان کسی بھی طریقہ کا انتخاب کریں انہیں حوصلہ اور جرات کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ تاہم پہلا طریقہ اختیا رکرنے اور اسٹبلشمنٹ سے دوستی جاری رکھنے کی صورت میں وہ ملک و قوم کے لئے کوئی نتیجہ خیز فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali