کیا سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا امریکی دورہ فوج کے علم میں نہیں تھا؟
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل روزنامہ جنگ میں شائع شدہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں،
"وزیراعظم عباسی کے امریکا دورے اورہماری فوج کےعلم میں لائے بغیرنائب امریکی صدرکےساتھ خفیہ ملاقات پربہت کچھ کہاگیا۔ اور واپسی پر کپڑے اتارے جانے پر بھی بہت کچھ کہاگیا۔ سوشل میڈیاپرآنےوالی ان کہانیوں میں کوئی سچائی نہیں۔ وزیراعظم عباسی امریکا میں اپنی بہن کوملنے گئے تھے جو امریکامیں رہتی ہیں اور ان کی سرجری ہوناتھی۔ وہاں پر وہ نائب صدرمائیک پینس سے ملنا چاہتے تھے۔ انھوں نے مجھے خاموشی سےاس ملاقات کابندوبست کرانے کو کہا۔ صرف دو تاتین شہری اور دویاتین دیگر افراد پاکستان میں اس ملاقات سےقبل اس سے باخبر تھے اورپاکستان ایمبسی سے صرف ایک شخص ان کے ساتھ تھا۔ یہ خیال کہ انھوں نےاعلیٰ فوجی افسران کےعلم میں لائے بغیرنائب امریکی صدرمائیک پینس سے ملاقات کی تھی، یہ غلط ہے۔ عام طورپرجب پاکستانی اہلکار امریکاسےآتے ہیں تو ہمارے ایمبیسی کے پروٹوکول اہلکارانھیں خود دروازے تک چھوڑنے آتے ہیں اگر ان کے پاس انٹری پاس ہوں یا ٹی ایس اے ایجنٹ کو بتاتے ہیں جو اہلکاروں کو گیٹ تک چیک ان کائونٹر تک چھوڑتے ہیں۔
یہ ایک سٹینڈرڈ طریقہ کار ہے، وہ اتنا ہی کرتے ہیں جتنا ہم انھیں کہتے ہیں۔ لیکن وزیراعظم عباسی ایسے پروٹوکول سے بچتے ہیں اور انھوں نے فیصلہ کیاکہ معمول کی سیکیورٹی سے گزرنے کافیصلہ کیا جہاں انھوں نے اپنی ویسٹ بیلٹ اتاری جس پر ایک دھاتی بکسوا لگاتھاباقی تمام مسافر بھی یہ کرتے ہیں۔ کپڑے اترواکران کی تلاشی لینا یہ جھوٹ نہیں ہے لیکن اس جھوٹ کے پیچھےوجہ ہے۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر اپنی سادگی کیلئے مشہورتھے۔ لیکن ان کے نقاد کہاکرتے تھے کہ صدرکارٹر اپنے سادگی کی نمائش کرتے ہیں۔ یہ دیگر پاکستانی رہنمائوں کیلئے بھی کہاجاسکتاہے۔ لیکن عباسی کیلئے نہیں۔ بطوروزیراعظم انھوں نے سادہ زندگی گزاری لیکن اس کی نمائش نہیں کی۔ ان کی ایمانداری بھی ایسی ہی تھی۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جن کی ایمانداری پر سوال نہیں اٹھایاجاسکتا لیکن اس نے کبھی اس کی نمائش نہیں کی۔ غالباً یہ کم سے کم ہے جو ہم اپنی قوم کودے سکتے ہیں۔”


