اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوازشریف اور دیگر کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائیکورٹ کے بینچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کسی پارٹی کو بنچ پراعتراض ہے؟ دو رکنی عدالتی بنچ نے سماعت سے قبل اپیل کنندگان اور نیب سے پوچھا کہ کیا آپ کو عدالت پر اعتماد ہے؟ نیب پراسیکیوٹر، نواز شریف، مریم اور صفدر کے وکلاء نے جواب دیا مکمل اعتماد ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سزا معطلی کی درخواست پر پہلے سماعت کریں گے۔ کم سزا کو پہلے سنتے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے اعتراض کیا اور کہا کہ اپیلیں پہلے سنی جائیں۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل پہلے نہیں سن سکتے بلکہ سزا معطلی کی درخواست پہلے سنیں گے۔ اپیل اپنے نمبر پر سنی جائے گی۔ عدالت نے نیب کا اعتراض مسترد کردیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سزا معطلی کی اپیل 6 ماہ کے بعد سنی جاسکتی ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا آپ کی بات ٹھیک ہے تو کیا ہائیکورٹس قانون کی خلاف ورزی کررہی ہیں کیونکہ مشال خان کیس میں ملزمان کی سزا معطلی کی درخواست منظور ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت پندرہ اگست تک ملتوی کرتے ہوئے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ سولہ اگست تک دلائل ہر صورت مکمل کریں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کیا نیب نے سیکشن نائن اے فور میں ملزمان کی بریت کو چیلنج نہ کر کے تسلیم کرلیا ہے کہ لندن فلیٹس کرپشن یا بدنیتی سے نہیں خریدے گئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احتساب عدالت میں ثابت کیا ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جائز پیسوں سے نہیں خریدے گئے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نیب نے معلوم ذرائع آمدن اور اثاثوں کی مالیت کا پتہ لگائے بغیر اثاثوں کو آمدن سے زائد قرار دیا ۔ نیب نے کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر سے سوالات کئے۔ پوچھا گیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کیلئے معاونت کیسے ثابت ہوتی ہے؟ کیا زیر کفالت ہونا یا بے نامی ہونا بھی جرم ہے؟ ۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ 1993 میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کتنے میں خریدنے گئے؟ جس پر سردار مظفرنے کہا ان کو معلوم نہیں مگر پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں جائیداد کرپشن سے بنائی گئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے دستاویزات سے ثابت کر دیا کہ مریم نواز نیلسن اور نیسکول کی بینیفشل مالک ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے پاس کیلیبری فونٹ کے علاوہ کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف کے مالک ہونے کا کہا ہے مریم نواز کا نہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم نواز کے بینفشل مالک ہونے اور جائیداد چھپانے کے دستاویزی ثبوت بھی عدالت میں پیش کر دیے تھے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کے جعلی ہونے شواہد بھی دیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •