خواب دبی ہوئی جنسی خواہش ہیں، مستقبل بینی یا حالیہ تجربات کا پرتو
ذہن کے دو حصے کہلاتے ہیں جنھیں دائیں و بائیں طرف کے ذہن کہا جاتا ہے۔ خواب دائیں ذہن سے تعلق رکھتے ہیں۔ دائیں طرف کا ذہن تصور و خواب کے قریب تر ہے، جب کہ بایاں ذہن منطق، ترتیب، زبان و تجزیے کا مرکب ہے۔ خواب کے موضوع بھی دائیں ذہن میں ترتیب پاتے ہیں۔ دن میں دیکھے جانے والے کھلی آنکھوں کے خواب بھی دائیں ذہن کی تخلیق ہوتے ہیں، جنھیں کارل یونگ فعال تصور کا نام دیتا ہے۔
ڈراؤنے خواب اکثر بچوں و بڑوں کی رات کی نیند خراب کر دیتے ہیں۔ خوابوں کو آڈیو بلاسٹک کہا جاتا ہے جو ہماری خواہشوں و خیالات کا ردعمل کہلاتے ہیں۔ ان ڈراؤنے خوابوں کے حصار سے نکلا جا سکتا ہے۔ جہاں خواب دیکھنے والا کسی مصیبت کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ خواب میں خود کو مظلوم، مصیبت زدہ دیکھنے کا تصور بدلا جا سکتا ہے۔
خواب کی تعبیر سمجھنا آسان ہے۔ مظاہر فطرت کی ہر تخلیق ایک استعارہ ہے۔ اس کی اپنی افادیت یا نقصان ہے۔ مثال پانی اپنی خاصیت میں شفایاب اور زندگی بخش ہے۔ پانی زندگی چھین بھی سکتا ہے۔ لہذہ دریا، سمندر، پانی کی طغیانی، میلاپن یا شفافیت کے معنی خواب کے تعبیر میں الگ ہوں گے۔ پانی کو علم کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے۔ پانی اپنی تاثیر میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ بلکل اسی طرح خواب میں آگ، درخت، بادل، پہاڑ اور بارش یا طوفان کے استعارے ہیں جن کی تعبیر ان کے اعتدال یا شدت پر منحصر ہیں۔
اگر ذہن میں خوابوں کے ماحول کو تبدیل کرنے کا سوچ لیا جائے تو خواب بھی مثبت تبدیلی کے زیر اثر تصویر کا نیا رخ دکھا سکتے ہیں۔ کیونکہ سوچ ایک طاقت ہے۔ ذہن کو اگر سوچ پر مرکوز رکھا جائے تو حالات و واقعات بھی سوچ کے رخ کے مطابق بدلنے لگتے ہیں۔ یہ خواب ہی ہیں جو خیال کو عمل کی طاقت عطا کرتے ہیں۔ اٹھتی جوانی کے خوابوں میں ایک گہری طاقت پائی جاتی ہے۔ اس دور میں پچوں کو بڑوں کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے خوف و بے یقینی پر قابو پا سکیں جو ذہن کی تصوراتی طاقت کو مصلوب کردیتے ہیں۔
خواب، انسان کو ہر تبدیلی سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انسان اپننے شعور و لاشعور سے آگاہ ہے تو وہ خوابوں کی نشاندہی سے ضرور فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ بجائے کہ لاحاصل کے پیچھے دوڑتا رہے!

