انسانوں کو دوبارہ جینا سکھانے والی ریحانہ ویبسٹر کی داستانِ حیات


میں نے اپنی تمام تر توانائیاں دنیا کے مشکلات میں پھنسے بچوں کے لیے وقف کردیں۔ تعلیمی اعتبار سے میں ایک ماہر علم بشریات ہوں مگر میں نے اپنے والد کو جنگی قیدی بنتے اور اس سے ان کی زندگی متاثر ہوتے دیکھی ہے۔ میرے والد جنگ کے ان عقوبت خانوں میں رہے جہاں زخمی تو تھے مگر ان کے علاج کے لیے ادویات نہیں تھیں۔ انہوں نے وہ تکلیف سہی جب لوگ ان کے پاس یہ امید لے کر آتے تھے کہ وہ مسیحا ہیں اور اس زخمی کو بچا لیں گے مگر وہ نہ بچا پاتے۔ وہ اپنی استعداد کی حد تک اپنی ذمہ داری بھی نبھاتے مگر کچھ جگہ مجبور تھے۔ 4 سال انہوں نے جاپان کے عقوبت خانے میں قیدی کے طور پہ گزارے اور جنگ کا بدترین تحفہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ساتھ لائے۔ اس زمانے میں اسے وار شاک کہا جاتا تھا مگر کوئی مناسب علاج نہیں تھا میں نے ساری زندگی اپنے والد کو اس ٹرامہ سے جھگڑتے دیکھا۔

مجھے پاکستان سے تو نوجوانی میں ہی تعلیم کے لیے باہر جانا پڑا مگر عالمی سطح پہ مسائل دیکھ کر اور خاص طور سی ان مسائل کے بارے میں پڑھ کر صحیح طرح اندازہ ہوا۔ فلسطین، یمن، عراق، کشمیر، شام اور وہاں سسکتے انسان جنہیں مسلمان کہہ کر عالمی تنظیمیں نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔ تعلیم کے سلسلے میں میرا کئی افراد سے واسطہ پڑا جو میرے والد کی طرح جنگ کے صدمے سے نبرد آزما تھے۔ مجھے قریب سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی علامات دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نے جانا کہ ذہنی صدمہ ہمارے جسم اور ذہن کو کیسے ایک ساتھ متاثر کرتا ہے۔ کئی برس نفسیاتی علاج کی مائنڈ باڈی تکنیک کا مشاہدہ کیا۔ جیلوں میں موجود قیدیوں کے ساتھ وقت گزارا جو بچپن کے حادثات اور صدمات کے زیر اثر مجرم بننے پہ مجبور ہوجاتے تھے۔ یہیں سے ٹرامہ بسٹنگ ٹیکنیک پہ کام کی شروعات کی۔

مجھے دسیوں سال لگ گئے ایک ایسی تکنیک بنانے میں جو کم وقت میں جلد سے جلد صدمے سے متاثرہ شخص کو عام زندگی کی طرف واپس لے آتی ہے۔ اب تک میں دنیا بھر میں اپنی اس تکنیک سے سینکڑوں نفسیاتی معالجین کی تربیت کر چکی ہوں جو کہ بحثیت ٹرینر آگے دوسرے لوگوں کو یہ تکنیک سکھا رہے ہیں۔ میرا اپنا ذاتی وقت دنیا بھر میں وسائل کی کمی کا شکار اور جنگ زدہ افراد کو اس تکنیک کے ذریعے صدمے سے نکالنے میں گزرتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ اس تکنیک سے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکوں۔ میری زیادہ سے زیادہ بس اتنی گزارش یہ ہوتی ہے کہ میرے آنے جانے کی ذمہ داری لے لی جائے۔ اور جب مجھے اپنے ملک پاکستان آنا ہو تو یہ بھی میری ذاتی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ سندھ کا کوئی گاؤں ہو یا گلگت کی وادی پنجاب ہو یا بلوچستان مجھے جب جہاں بلایا جاتا ہے وہاں بنا کسی پیسوں کے میں نا صرف پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس کا علاج کرتی ہوں بلکہ لوگوں کو یہ تکنیک سکھا کر اپنی مدد آپ کا قابل بناتی ہوں۔

میں نے زندگی سے بہت کچھ سیکھا اور سیکھ رہی ہوں اور اس کے چند سبق میرے لیے بہت اہم ہیں اور انہی اسباق نے میری زندگی کا مقصد چننے میں مدد کی۔ اگر کوئی ایک نوجوان بھی میری زندگی سے اپنی زندگی کے لیے کوئی بامعنی مقصد سیکھ جائے تو میری محنت کا پھل سمجھیں اسی دنیا میں مل گیا۔

یہ بائیو گرافی سیو دی اینجلز اینڈ فئیریز کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔ ”سیو دی اینجلز اینڈ فئیریز“ بچوں کے مسائل پہ کام کرنے والی فلاحی تنظیم ہے۔ محتاط رہیں محفوظ رہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima