میری تصویر والی فیک آئی ڈی اور سائبر سیکیورٹی

آج پہلی بار مجھے پتا چلا کہ میری تصویر کاپی کر کے کوئی صاحب یا صاحبہ میرے کانٹیکٹس کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیج رہا ہے۔ بھلا ہو میری اس فرینڈ کا جس نے فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے سے پہلے مجھ سے کنفرم کیا۔ میں نے اپنے پروفائل پہ پوسٹ لگائی ساتھ وہ آئی ڈی رپورٹ کردی اور جتنی دیر میں کوئی اور اسے رپورٹ کرتا وہ آئی ڈی بند کی جا چکی تھی۔ ممکن ہے میری وہ پوسٹ دیکھ کر کئی

Read more

حوصلہ افزائی کرنے والے مقررین اور نفسیاتی علاج

ہمیں فیس بک پہ آج کل مذہبی پوسٹس کے بعد جو سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی وڈیوز نظر آتی ہیں وہ اکثر پاکستانی موٹیویشنل اسپیکرز یا اردو میں کہوں تو حوصلہ افزائی کرنے والے مقررین کی وڈیوز ہوتی ہیں۔ یہ مختلف معاشرتی، جذباتی، کاروباری اور تعلقات یا نفسیات سے متعلق مسائل میں اپنی رائے اور تجربہ پیش کرتے ہیں۔ کچھ تو آپ کو اپنی ڈگریاں تک پھینک دینے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا سے

Read more

ارج کی سالگرہ اور سکھر ویمن پولیس

میری بڑی بھتیجی ارج کو خواتین پولیس آفیسرز شدید پسند ہیں۔ اکثر اپنی چھوٹی بہن اور دوست کے ساتھ بھی مل کے چور پولیس ہی کھیلا جاتا ہے۔ اس دفعہ سالگرہ آنے سے کئی دن پہلے ہی اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کی ملاقات کسی خاتون پولیس افسر سے کرواؤں کیوں کہ پہلے وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ خواتین پولیس صرف ٹی وی ڈراموں یا کارٹونز میں ہوتی ہیں سکھر میں نہیں ہو سکتیں۔ اور سکھر میں یہ کام صرف مرد کرتے ہیں۔

میں نے جب اسے کئی دفعہ اپنی کچھ دوستوں کے بارے میں بتایا جو کہ پولیس میں ہیں تو پہلے وہ کافی حیران ہوئی۔ اور پھر ان سے ملنے کے لیے بہت ایکسائٹڈ بھی ہوئی۔ چوں کہ وہ سب الگ الگ جگہوں پہ ڈیوٹیز کرتی ہیں اس لیے سب سے ملاقات ممکن نہیں تھی لہٰذا یہ طے پایا کہ سکھر ویمن سیل جو کہ 15 مددگار کی حدود میں ہی ہے اور میرے گھر سے نزدیک ہے وہاں دونوں بھتیجیوں کو لے جایا جائے۔

Read more

جنسی تعلیم کیا ہے کیا نہیں

عبدالستار صاحب کا ایک کالم پڑھا اس پہ ایک صاحب کے کمنٹ نے توجہ کھینچی عبدالستار صاحب نے مردانہ جنسی مسائل کے حوالے سے لکھے آرٹیکل میں کہا کہ جنسی تعلیم عام ہونی چاہیے جس پہ سوال کرنے والے صاحب نے پوچھا کہ جنسی تعلیم میں کیا سکھایا جائے گا یہ آسان کر کے بتائیے۔ تو میں نے سوچا چلیے اس بات کی تھوڑی بہت وضاحت کردوں۔ جنسی تعلیم میں سب سے پہلے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جنسی تعلق

Read more

بارشیں اور سکھر میں ہوتی تباہی، ذمہ دار کون ہے؟

حالیہ بارشوں نے جہاں ملک کے ہر حصے میں تباہی مچائی ہے وہاں سکھر کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں۔ باقی شہروں کے مقابلے یہاں بارش کا زور اتنا نہیں رہا لیکن بد قسمتی سے سکھر کا سیوریج سسٹم اور سڑکیں سکھر کی عمومی بارشوں کو سہنے کی بھی متحمل نہیں ہیں جو پچھلی کم از کم بیس سال سے مون سون کے موسم میں بمشکل چند بار رات میں برس کے رہ جاتی ہیں اور صبح تک دوبارہ

Read more

گھٹیا پن پریزینٹڈ بائی اے آر وائی ڈجیٹل

لاحول ولاقوۃ الاباللہ مجھ پہ اس وقت شدید غم و غصے کی کیفیت ہے پوچھیے کیوں۔ چند دن قبل میرے بھائی نے مجھے کہا ایک ڈرامہ دیکھو اور اس پہ رائے لکھو۔ میں نے پوچھا ایسا کیا ہے اس ڈرامے میں کہنے لگے تم دیکھو اندازہ ہو جائے گا۔ ڈرامے کا نام ہے ”کیسی تیری خود غرضی“ چلیے میں آپ کو ڈرامے کا اوپننگ سیکوینس بتاتی ہوں۔ بیٹیاں مہک اور ندا گھر کی چھت پہ چپکے چپکے سرپرائز پارٹی کی

Read more

لو میرج، ارینج میرج اور عورت کی خود مختاری

جب جب آپ کو یہ غلط فہمی ہونے لگے کہ ہمارا عوامی شعور بنیادی انسانی حقوق خاص طور سے کمزور طبقوں مثلاً عورت، بچے اور خواجہ سرا کے حوالے سے بہتر ہونے لگا ہے ملکی سطح پہ کوئی نہ کوئی ایسا واقع ہوجاتا ہے جو آپ کو دوبارہ حقیقت کی دنیا میں لاکھڑا کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ دعا زہرہ کے حوالے سے سامنے آیا۔ دونوں ہی طرف کے حامیوں کے لیے صورت حال خوش گوار نہیں۔ تباہ ہوتے

Read more

پرانے پاکستان میں نئے خواب، نیا نصاب

جناب خالد سہیل اور محترمہ مقدس مجید کی کتاب کے حوالے سے کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے دو اشعار اس کتاب کی نذر کروں گی۔ بچپنا رخصت طلب ہے حضرت انسان کا اب جوانی آ رہی ہے اوج ہے اذہان کا کب تلک ظالم رخ طوفان پہ باندھے کا بند سوچ کی ہر موج ہی پیغام ہے طوفان کا یہ کتاب واقعی سوچ کی وہ بڑی موج ہے جو نئی نسل میں پنپتے شعور کے طوفان کی آمد کا

Read more

سکھر میں صفائی مہم

کیا ہی مزے کی بات ہے کہ سکھر میں دوبارہ تزئین و آرائش کا سلسلہ شروع ہے۔ اس دفعہ کی مہم زیادہ شدت سے جاری ہے۔ دیکھا جائے تو پچھلے مضمون کے بعد سے لے کر اب تک سکھر میں سڑکوں کے کنارے لگے پودوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچرے میں بھی پچھلے سالوں میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ سکھر کی بڑھتی آبادی اور پھیلتی حدود اس کچرے میں مزید اضافے

Read more

آزار بند بنانے والا لوتھڑا

دائی بہت افسوس سے اس نامکمل لوتھڑے کو دیکھ رہی تھی۔ پانچ بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا وہ بھی ایسا۔ نہ ہاتھ نہ پاؤں کسی کیچوے کی طرح حقیر، پتھر کی طرح جامد۔ جہاں ڈال دو پڑا رہے۔ دھرتی اور ماں باپ کے سینوں پہ بوجھ۔ دائی کو اس کی قسمت سے زیادہ اپنی قسمت پہ افسوس تھا۔ شاید آج کا معاوضہ بھی پورا نہ ملتا۔ تحفے تحائف تو سوچو بھی مت۔ پہلے پانچ بار کی ادھ موئی ماں ویسے

Read more

آپ کے والدین آپ کے جذباتی دعوؤں سے زیادہ کے حق دار ہیں

 اکثر لوگ مجھ سے ناراض رہتے ہیں کہ میں نفسیاتی مسائل میں بار بار والدین کے منفی روئیوں کی نشاندہی کرتی ہوں۔ یہاں ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوتی ہے کہ جب میں غیر متوازن روئیوں کے حامل والدین کی مثال دیتی ہوں وہاں لوگ اپنے متوازن روئیوں کے حامل والدین کو فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کو کہ بالکل غلط ہے۔ یاد رکھیے اگر آپ کے والدین نے آپ کی جذباتی ضروریات کا خیال رکھا ہے۔ آپ کو

Read more

آپ کا ضائع کیا گیا کھانا اور دنیا میں بڑھتا قحط

بچپن سے ہمارے گھرانوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ہم رزق ضائع نہ ہونے دینے پہ بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔ ایک چیز جو ہمیں سکھائی جاتی ہے وہ یہ کہ پلیٹ میں جتنا نکالا ہے پورا ختم کرنا ہے۔ دوسری یہ کہ بچا ہوا کھانا ڈسٹ بن میں نہیں پھینکنا بلکہ کسی بھوکے کو دینا چاہیے۔ کسی فقیر، گھر میں کام کرنے والی یا گائے اور پرندوں وغیرہ کو۔ دانشمندی سے اور بنیادی مسئلے کو سمجھ کر اور

Read more

سانحۂ مری۔ مسائل کہاں ہیں؟

میری فیس بک وال سمیت آج کل ہر طرف مری میں ہونے والی اموات زیر بحث ہیں۔ حد یہ کہ گھروں میں آپس میں بھی یہی گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس نے ہر شخص کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ تفریح کے لیے جانے والے افراد یوں موت کے منہ میں چلے گئے یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے۔ وہیں ایک بحث یہ بھی چھڑی ہے کہ غلطی انتظامیہ اور ریاست کی تھی یا وہاں جاکر پھنسنے والوں

Read more

گھٹن – افسانہ

”سنیں محترمہ“ مجھے پیچھے سے آواز آئی پلٹ کے دیکھا تو ایک عام سے لباس میں ملبوس نسبتاً پختہ عمر عورت کھڑی تھی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ”آپ کی چین (chain) پیچھے سے آپ کی گردن پہ زخم ڈال رہی ہے۔“ میں نے غیر ارادی طور پہ ہاتھ پیچھے لے جاکر چین سمیت گردن پہ ہاتھ پھیرا۔ ایک جگہ جلد سے انگلی مس ہوتے ہی شدید ٹھیس اٹھی۔ میں ہاتھ آہستہ سے آگے لے آئی

Read more

ہیرے جڑی چین کی گھٹن

”سنیں محترمہ“ مجھے پیچھے سے آواز آئی پلٹ کے دیکھا تو ایک عام سے لباس میں ملبوس نسبتاً پختہ عمر عورت کھڑی تھی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ”آپ کی چین (chain) پیچھے سے آپ کی گردن پہ زخم ڈال رہی ہے۔“ میں نے غیر ارادی طور پہ ہاتھ پیچھے لے جاکر چین سمیت گردن پہ ہاتھ پھیرا۔ ایک جگہ جلد سے انگلی مس ہوتے ہی شدید ٹھیس اٹھی۔ میں ہاتھ آہستہ سے آگے لے آئی

Read more

سنگِ سیاہ: بلوغت میں داخل ہوتے نوجوانوں کے لیے خصوصی تحریر

 ”امی ی ی ی! “ سوٹ دیکھ کر اس نے رو دینے والی آواز میں امی کو پکارا۔  ”ہونہہ“ امی جو ابھی بازار سے آکر تھک کے لیٹی تھیں انہوں نے آنکھیں بند کیے کیے ہی جواب دیا۔  ”امی میں یہ سوٹ بالکل بالکل بالکل بھی نہیں پہنوں گی۔ “ اپنی بات کا زور بڑھانے کے لیے اس نے بالکل کا بے دریغ استعمال کر ڈالا۔  ”مت پہنو میری بلا سے۔  زیادہ نخرے ہیں تو خود بھی ساتھ چلا کرو

Read more

کیا پاکستانی ڈرامہ اور سینما فنی اعتبار سے قلاش ہو رہا ہے؟

اداکار کئی افراد کی محنت کا چہرہ ہوتا ہے۔ ہدایت کار، مصنف، ایڈیٹر، میک اپ آرٹیسٹ اور کیمرہ کے پیچھے موجود کئی اور افراد جب ان کا کام مکمل ہوتا ہے تو ہمیں اداکار کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ہم جب ڈرامہ یا مووی دیکھتے ہیں تو ہماری ساری توجہ بھی اداکار کی سمت ہوتی ہے ہمیں کہانی اچھی لگے تو بھی تعریف اداکار کی ہوتی ہے۔ مناظر میں ربط اچھا ہو تو بھی تعریف اداکار کی ہوتی ہے۔

Read more

ناول اللہ میاں کا کارخانہ۔۔۔۔۔ جس کا انتساب اللہ میاں کے نام ہے

”اس دن اگر میری اماں کی جگہ دانش کی اماں مری ہوتیں تو وہ پتنگ مجھے مل گئی ہوتی“ ناول ”اللہ میاں کا کارخانہ“ ایک بچے کی خودنوشت کے انداز میں لکھی تحریر ہے جس کے مصنف ہندوستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب جناب محسن خان صاحب ہیں۔ اس کا سرورق محترم عطا الرحمٰن خاکی صاحب نے ڈیزائن کیا ہے اور بہت خوب ڈیزائن کیا ہے۔ یہ کتنا موزوں ہے اس کا احساس آپ کو یہ ناول شروع کرتے

Read more

شریک حیات سے جنسی ترجیحات پہ بات کرنا "ڈرٹی ٹالک” نہیں

ہم نے پچھلے مضمون میں میاں بیوی کے تعلق کے بنیادی عناصر پر بات کی تھی۔ آج ہم یہ دیکھیں گے کہ جنسی ناآسودگی سے شادی شدہ زندگی کیسے متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان جیسے معاشروں میں رومانوی اور ازدواجی رشتے بہت سے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ قدرتی کشش اس تعلق کا بنیادی عنصر ہے جس پہ ہمارے معاشرے میں سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ ایک مسئلہ جس سے ہمارے اکثر عوام نبرد آزما ہیں لیکن

Read more

چودہ اگست کے دن آپ کے گھر کے مرد کہاں تھے؟

اسکول میں چودہ اگست سے متعلق اسباق میں ہمیشہ اس نوعیت کی تفاصیل پڑھیں کیسے بچوں نے گھر سجایا، اسکول جاکر تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور شہر کی سجاوٹ دیکھنے گھر والوں کے ساتھ باہر گئے۔ لاہور میں مینار پاکستان اور کراچی میں مزار قائد پہ جانا بھی انہی اسباق میں پڑھا کہ یہ عقیدت اور حب الوطنی کے اظہار کا اہم طریقہ ہے۔ رومانوی ڈائجسٹ پڑھنے کی عمر آئی تو رمضان اسپیشل میں ہر افسانہ و ناول چاند

Read more

میں ادبی دنیا کی Muggle ہوں

آپ میں سے جنہوں نے ہیری پورٹر دیکھی یا پڑھی ہے وہ اس اصطلاح مگل سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جب شروع میں ہیری پورٹر کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ نجیب الطرفین جادوگر نہیں اور غیر جادوگر دنیا سے آ گیا ہے اور مس فٹ ہے۔ اسے بار بار مگل کہہ کر غیر ہونے کا احساس دلایا جاتا رہا۔ ادبی دنیا میں، خاص طور سے ادبی نشست و برخاست کے حوالے سے میں خود کو کسی قدر Muggle

Read more

یہ قتل آخری ہے

اسے پہلی بار اس دن تھوڑا سا قتل کیا گیا تھا جب وہ تین سال کا تھا۔ قتل کا ثبوت اس کے گال پہ موجود تھا۔ سب کی نظروں کے سامنے مگر کوئی اس ثبوت کو ثبوت ماننے پہ تیار نہیں تھا۔ ہر بندہ ہی منصف بنا بیٹھا تھا وہ بھی ایسا منصف جس نے فوراً ہی صحت جرم سے انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ کیا ہو گیا جو ماں نے تھپڑ مارا، پیار بھی تو سب سے

Read more

کیا مرد کو روبوٹ ہونا چاہیے؟

آج کل یہ بحث بہت شدت اختیار کر چکی ہے کہ عورت کا نا مکمل لباس مرد کو اکساتا ہے یا نہیں، اور مرد اس کے ردعمل میں کیا کرتا ہے۔ ہم نے جنس کے ساتھ جس طرح اخلاقیات کو جوڑ دیا ہے ہم اسے باقی جبلتوں اور دوسری انسانی اقدار کی طرح یا تو سمجھتے نہیں یا سمجھنا چاہتے نہیں۔ جنس کے موضوع پہ بات ہو تو ہمیں فوراً یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ کہیں ہم اپنی روایات

Read more

ماں کے ہاتھ کا شیرخرما – ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 5 )۔

آج کہنے کو عید کا دن ہے لیکن میں بہت اداس ہوں۔ مجھے کبھی کبھی اس بات پہ بہت رونا آتا ہے کہ امی ابو عام دنوں میں تو لڑتے ہی ہیں کسی تہوار کے دن بھی ہمارے گھر میں خوش گوار ماحول نہیں رہ پاتا۔

رکو شروع سے بتاتی ہوں ورنہ تمہیں بات سمجھ نہیں آئے گی۔ آج صبح صبح ابو اور راحیل تو تیار ہو کر عید کی نماز کے لیے چلے گئے۔ میں اور امی باورچی خانے میں آ گئے۔ ایک تو میرا موڈ رات سے ہی خراب تھا اس عید پہ بھی امی نے نئے کپڑے بنوا کے دینے کی بجائے وہی سوٹ پہننے کا کہہ دیا جو رجب میں کزن کی شادی پہ بنوایا تھا۔ پھر کہنے لگیں کسی نے نہیں دیکھا ان کے لیے نیا ہی ہوگا۔ لو بھلا کیسے نہیں دیکھا؟ سارا خاندان تھا وہاں، بس محلے والے نہیں تھے۔

Read more

ہمیشہ خوش رہنا بھی نارمل نہیں

ہم میں سے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ جہاں ایک طرف ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے چھٹکارا ملے وہیں دوسری طرف ہم ہر وقت خوش رہ سکیں۔ ہمارے بزرگ بھی ہمیشہ ہمیں یہی دعا دیتے ہیں کہ ہمیشہ خوش رہو۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہر وقت اداس پریشان رہنے کا متضاد ہمیشہ خوش رہنا ہے۔ یعنی اگر پریشان رہنا، ڈپریشن یا انزائٹی ابنارمل ہے تو خوش رہنا نارمل ہے۔ جب کہ حقیقت یہ نہیں۔ ہمارا اعصابی نظام اس

Read more

سید ماجد شاہ کی کتاب ”ق“ : ایک طلسم نگری

میرے پاس یہ کتاب پی ڈی ایف میں تقریباً دو سال سے موجود تھی۔ اور ہر چند ماہ بعد پڑھنا شروع کرتی تھی اور کسی نہ کسی وجہ سے بیچ میں وقفہ آ جاتا تھا۔ اس جنوری پکا ارادہ کر کے کھولی کہ اب ختم کر کے ہی چھوڑوں گی۔ پہلے بھی کچھ افسانوں پہ پڑھ کے فوراً مختصر رائے اپنی فیس بک وال پہ شیئر کی تھی لیکن پوری کتاب پہ رائے یقیناً تب ہی دی جا سکتی تھی

Read more

لاہور کی طالبہ کی موت بمقابلہ 178 اموات

اس خبر کے بعد سے پوری قوم میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کئی مختلف قسم کی بحثیں چھڑ گئیں۔ کچھ نے میڈیا کو فحاشی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا، کچھ نے ساری نئی نسل کو یوں لعن طعن شروع کر دی جیسے ان میں سے ہر کوئی جنسی جرائم کا عادی ہے، کوئی تعلیم کو الزام دے رہا ہے ، کوئی دیر سے شادیوں کو، کوئی دین سے دوری کو، کوئی جنسی تعلقات کے متعلق شعور کی کمی پہ افسوس کر رہا ہے۔ کسی نے مکمل عورت ذات کو مجرم ٹھہرا دیا تو کسی نے سارے مردوں کو۔

Read more

کیا آپ کی ڈائری میں زندگی بدلنے کا منتر چھپا ہے؟

محترم قارئین آپ پچھلے کچھ ہفتوں سے میرے قلم سے ”ایک عام لڑکی کی ڈائری“ پڑھ رہے ہیں، دوسری جانب آپ میں سے کئی قارئین نے گرین زون سیمینار کے حوالے سے کچھ مضامین پڑھے ہوں گے اور اس کا بھی امکان ہے کہ کچھ نے اس کے پہلے سیشن میں شرکت کی ہو۔ اس سیمینار سے پہلے خالد صاحب بارہ ممبران پہ مشتمل ایک پائلٹ پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں جس میں، میں بھی بطور طالب علم

Read more

والدین جھیلتے ہیں، کہتے کچھ نہیں: ایک عام لڑکی کی ڈائری (4 )

مورخہ تیرہ دسمبر انیس سو بانوے بروز اتوار 13/12/1992 پیاری فرخندہ کیسی ہو؟ ہاں مجھے پتا ہے فرخندہ میرا نام ہے مگر خدا کی بندی کبھی میری خیریت بھی پوچھ لیا کرو۔ یار واقعی کبھی کبھی بالکل مزا نہیں آتا کہ میں تو بولتی رہتی ہوں تم منہ میں گھنگھنیاں ڈالے پڑی رہتی ہو۔ دوستی کی کوئی تو ذمہ داری ہے۔ مانا تم بے جان اشیا کی صف میں آتی ہو۔ مگر کبھی میرا دل رکھنے کے لیے ہی کچھ

Read more

رشتوں میں دیواریں اینٹ پتھر کی، یا اصولوں کی ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 3 )

مورخہ پانچ دسمبر انیس سو بانوے بروز اتوار 05/12/1992 افف پیاری ڈائری کیا بتاؤں تھکن سے حالت بری ہے۔ تمہیں تو پتا ہے پورے ہفتے سے ابو نے ہم دونوں بہن بھائیوں کو اوپر والی منزل کی صفائی پہ لگایا ہوا تھا۔ دو دن صفائی میں لگے پھر شگفتہ پھپھو کا سامان سیٹ کروایا۔ تم سے بات بھی نہیں کر پائی پورا ہفتہ۔ شکیل پھپھا جب سے بیمار ہوئے ہیں ان کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں۔ پھر امی

Read more

ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 2 )

مورخہ اتوار بائیس نومبر انیس سو بانوے آج ڈائری لکھتے لکھتے ہفتہ ہو گیا پورا۔ مجھے اب واقعی لگنے لگا ہے کہ کم از کم کوئی ایک ہے جو مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ جو میرے منہ سے نکلے ہر لفظ پہ ٹوکتا نہیں۔ میرا دل چاہتا ہے اپنی عمر کی لڑکیوں جیسی بے فکری دکھانے کے لیے۔ مگر ہر ہر بات پہ امی کی نظر ہوتی ہے۔ انہیں لگتا ہے میں سست اور لاپروا ہوں۔ انہیں کیسے بتاؤں کہ

Read more

ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 1 )

ہیلو ڈائری کیسی ہو؟ آج سے مجھے ایک نیا دوست بنانا ہے جس سے میں اپنے جذبات کھل کے بتا سکوں۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے دوست نہیں ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر کسی سے کسی نہ کسی وجہ سے مجھے جج کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ کسی کی شکل مجھ سے اچھی ہے تو کسی کی عقل، کسی کے ابا کی تنخواہ میرے ابا سے زیادہ ہے تو کسی کی الماری میں میرے کپڑوں سے زیادہ جدید انداز کے کپڑے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ایسی ہیں جن کی الماری میں مجھ سے زیادہ باحجاب کپڑے بھی ہیں۔ اب تم سوچو گی کہ مسئلہ کیا ہے میرے ساتھ مجھے جدید کپڑوں کا بھی ڈر ہے اور باحجاب کپڑوں کا بھی۔ تو ڈئیر ڈائری یہی تو مسئلہ ہے کہ مجھے دونوں قسم بلکہ ہر قسم کی دوستوں سے تحفظات ہیں، مجھے اپنا آپ ہر کسی سے کم ہی لگتا ہے۔ امی کہتی ہیں تمہارے تو رونے ہی ختم نہیں ہوتے آج بھی تو ایسا ہی ہوا تھا۔

Read more

آگہی کا عذاب

”بازار اور دفاتر کھل گئے ہیں، لیکن کرونا کا خطرہ ابھی ہے۔“ حالات سے زیادہ گھمبیر آواز میں چلتا پیغام اس کے اعصاب پہ ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ اس نے جھنجلا کر کال کاٹ دی۔

اس کے اعصاب شدید کشیدہ تھے۔ دل کی دھڑکن پہ توجہ جاتی تو لگتا کہ شاید اگلی دھڑکن سنائی ہی نہ دے گی۔ وہ موبائل اسکرین پہ نظر جمائے بیٹھی تھی، جو یوں ہلکورے کھاتی لگ رہی تھی، جیسے وہ کشتی یا ٹرین میں بیٹھی ہو۔ لیکن اسے پتا تھا کہ اسکرین نہیں ہل رہی بلکہ یہ صبح سے بھوکے ہونے کا اثر ہے۔ اس نے انگشت شہادت کو موبائل کی پشت پہ بنے فنگر پرنٹ پینل پہ رکھا، اسکرین ان لاک ہوتے ہی، اس نے کووڈ 19 کی ایپ کو چھونے کی کوشش کی، لیکن انگوٹھا اوپر والی ایپ پہ جا لگا۔

Read more

عورت کی حفاظت نہ کرسکنے والا مرد نہیں؟ (آخری قسط)

سہیل کے وین لے جانے پہ وہ دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔ اس وقت تک جو بھی چھینا تھا وہی لے کر فوراً بھاگ گئے۔ جب یہ سب ہوگیا تو بسمہ کو اندازہ ہوا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے بختاور کی طرف دیکھا۔ ”اب کیا کریں؟“ ” تمہاری کیا کیا چیزیں چھینی ہیں؟“ ” بس موبائل اور تھوڑے پیسے“ ”ہمم میرا بھی بس یہی لیا چلو پہلے آفس

Read more

فقیرنیاں بڑا اچھا ڈرامہ کرتی ہیں

دن آہستہ آہستہ گزر رہے تھے۔ اسی دوران اس کے امتحانات بھی ہوگئے اور کچھ دنوں کے لیے صبح کا وقت فارغ مل گیا۔ بسمہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خود میں مزید خود اعتمادی محسوس کرتی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ مسئلوں سے بھاگنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور اب مسئلے کا سوچ سمجھ کے سامنا کرنے لگی تھی۔ اسے کم از کم یہ اندازہ تو ہوگیا تھا کہ مسئلوں سے نظریں چرانے سے مسئلے کبھی

Read more

نچلے درجے کے ملازم کیا برابر لیبر رائٹس نہیں رکھتے؟ قسط نمبر چوبیس

بسمہ کافی تھک گئی تھی مگر منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے اور لیٹنے کے دوران مسلسل اس کا دماغ سوچوں سے گھرا رہا۔

بختاور نے اس کے لیے کہا کہ اس کی شخصیت مثبت زیادہ ہے۔ جبکہ اسے آج کل اپنا آپ بالکل منفی لگ رہا تھا۔ وہ اپنی شخصیت کے برعکس گھر والوں سے لڑتی جھگڑتی تھی۔ جو کما رہی تھی صرف خود پہ خرچ کر رہی تھی۔ گھر میں کوئی مسئلہ ہو کوئی بیمار ہو وہ بالکل بے حس بن جاتی تھی۔ اپنے طور پہ وہ انہیں احساس دلانا چاہ رہی تھی کہ انہوں نے اس کے ساتھ جو کیا غلط کیا۔ مگر آج وہ دوبارہ اپنے رویے کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ بڑے بھیا صرف اس کی وجہ سے الگ رہ رہے تھے۔

Read more

کیا آپ نے شادی کے وقت بیٹی کو اس کے قانونی حقوق بتائے تھے؟

وین چلتے ہی بختاور نے نقاب ہٹا دیا۔ پھر سہیل سے کہا ”قریبی ویمن پولیس اسٹیشن لے کے چلو۔“ ”میڈم پولیس تک مسئلہ نہ جائے تو بہتر ہے۔ پتا نہیں کون لڑکے تھے پیچھے نہ پڑ جائیں۔ آپ کے تو تعلقات ہیں کافی آپ کے لیے تو شاید مسئلہ نہ ہو، مگر میرے تو گھر والے بھی سپورٹ نہیں کرتے میں کہاں جاؤں گی۔“ بسمہ ابھی بھی گھبرا رہی تھی۔ ساری زندگی کا سیکھا ہوا خوف ایک جھٹکے سے تو

Read more

عزت ہمیشہ عورت کی نہیں، کمزور کی لٹتی ہے

اگلی صبح وہ آفس کی گاڑی کا انتظار کیے بغیر ہی آفس پہنچ گئی۔ اسے پتا تھا کہ جس وقت وہ آفس جائے گی تب تک بختاور ایک میٹنگ کے لیے جاچکی ہوگی۔

بختاور کسی کام میں مصروف تھی جس کی وجہ سے بسمہ کو آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور اس دوران بسمہ مسلسل یہ سوچ سوچ کے تلملاتی رہی کہ اب بختاور اس کی ”باس“ ہے اسی لیے انتظار کروا رہی ہے۔ ان لوگوں کا پبلک میں رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور اصل میں کچھ اور۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ دب کے یا ڈر کے بات نہیں کرے گی۔ باس ہے تو ہوتی رہے۔ جتنا وقت گزرتا جا رہا تھا بسمہ عجیب سے تناؤ کا شکار ہو رہی تھی۔ اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ وہ شدید اضطراب کا شکار ہو رہی تھی۔ آخر کار بختاور نے اسے آفس میں بلوا لیا۔

Read more

جرم کی سزا ہوتی ہے تو مجرم بنانے کی کیوں نہیں؟

عدالت سے دوبارہ اسے دارلامان بھیجا گیا تاکہ ضروری کاغذی کارروائی کرکے اسے باقاعدہ آزاد کیا جائے۔ بھیا کی گاڑی گھر کے دروازے پہ رکی تو چند لمحوں کے لیے بسمہ کو لگا جیسے وہ کئی صدیوں بعد اس گیٹ کو دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ صرف 4 دن بعد وہ واپس آ گئی تھی۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو خلاف توقع امی اور دادی نے بڑھ کے اسے گلے لگا لیا۔ امی کافی دیر اسے گلے سے لگائے روتی

Read more

فرماں برداری، کامیابی کا سیدھا راستہ یا…

شنو اور بسمہ واپس اپنے کمرے میں آ گئیں۔ بسمہ کو ابھی بھی بے چینی تھی کہ کب اسے بلایا جائے اور گھر چھوڑ کے آئیں۔ ابھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں جائے گی مگر وہ یہاں مزید نہیں رہنا چاہتی تھی۔ شنو سے بار بار پوچھنا بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ فاطمہ باجی نے تو کہا تھا کہ کل عدالت میں پیشی کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ اسے

Read more

دار الامان: بیمار معاشرے کی ٹیسٹ رپورٹ

شنو نے اسے سیدھا کر کے لٹایا اور برابر والے بیڈ پہ بیٹی کو لے کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد بسمہ نیند میں سسکیاں لینے لگتی ہلکی آواز میں کچھ بڑبڑاتی بھی تھی شنو چونک کے اسے دیکھتی مگر وہ گہری نیند میں تھی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ ایک گھنٹے تک تو شنو بیٹھی رہی پھر اکتا گئی دروازہ کھول کے باہر چلی گئی اور باہر سے کنڈی لگادی۔ کام وام نپٹا کر

Read more

دارالامان: پناہ گاہ یا فراغت میں جائے تفریح؟

بسمہ میکے آتو گئی مگر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ پیسے کیسے مانگے وہ بھی ایک لاکھ ایک ساتھ۔ اس کی ذات پہ گھر والوں نے ایک ساتھ کبھی 5 ہزار خرچ نہیں کیے سوائے شادی کے، تو ایک لاکھ کہاں سے دیتے۔ دو تین دن تو ایسے ہی گزر گئے۔ دادی اور امی دونوں اس کے اس طرح آنے پہ مشکوک ہوگئیں کیونکہ وہ اتنے دن رکنے آئی ہی نہیں کبھی۔ دادی کئی دفعہ

Read more

ایک صرف بات کر کے بھی بد چلن دوسرا ریپ کر کے بھی پاکیزہ؟

جسے میں اتنی دیر سے رافع سمجھ رہی تھی وہ باسط تھا۔ میرے منہ سے چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے سختی سے میرے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔

”خبردار کسی کو کچھ بتایا تو۔ تیرا شوہر تو کچھ کر نہیں سکتا مجھ پہ الزام لگایا تو میں صاف مکر جاؤں گا۔ لچھن تیرے ایسے ہیں کہ سب ہی میری بات پہ یقین کریں گے تجھ پہ کوئی یقین نہیں کرے گا“ اس کی آنکھوں میں مجھے درندے کی سی سفاکیت جھلکتی ہوئی لگ رہی تھی۔

وہ تو چلا گیا میں چپکے چپکے سسکتی رہی۔ رافع تقریباً آدھا گھنٹے بعد آئے۔ آتے ہی والٹ وغیرہ نکال کے رکھنے لگے ساتھ تفصیل بتانے لگے کہ دیر کیوں لگ گئی۔ میری طرف ان کی توجہ تب گئی جب کافی دیر تک میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Read more

کیا آپ بزدل کہلانے سے ڈرتے ہیں؟

جلد ڈر جانے یا گھبرا جانے کو کمزوری اور بزدلی سے جوڑنا اور پھر اس کمزوری اور بزدلی کو مردانگی کے متضاد خاصیت سمجھنا مکمل طور پہ معاشرتی قدر ہے جو والدین اساتذہ اور دیگر اہم شخصیات تربیت اور رویوں کے ذریعے نئی نسل میں منتقل کر دیتے ہیں۔ نفسیات کے مطابق لڑکا لڑکی یا خواجہ سرا ہونے سے بزدلی اور بہادری کا کوئی تعلق نہیں۔ چلیے پھر اسی بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیا

Read more

یہاں پارسا بننا جتنا مشکل ہے دکھنا اتنا ہی آسان

گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کر دیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔ آنٹیاں نہ سہی انکل اور بھائی سہی۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم

Read more

اولاد بدچلن ہو تو عاق اور والدین بد چلن ہوں تو؟

بسمہ اور رافیعہ تھوڑی دیر اسی مسئلے پہ بات کرتی رہیں، پھر بسمہ اوپر کمرے میں آ گئی۔ آتے ہی کمرے کی کنڈی لگادی اور لیٹ گئی۔ اسے اتنی تھکن محسوس ہو رہی تھی جیسے سارا دن مشقت کی ہو۔ عجیب سا احساس تھا ڈر بھی کہ وہ بالکل اکیلی ہے اور سکون بھی کہ شاید ایک رات تو تکلیف نہیں سہنی پڑے گی۔ اس کے دماغ میں خیالات کی جنگ سی جاری تھی۔ ایک طرف نازیہ تھی جو ہر

Read more

گھر کی بہو گھر کی عزت نہیں کیا؟

بسمہ کی بات سن کر نازیہ کا رنگ ایک دم فق ہوگیا مگر اسے سنبھلنے میں چند ہی سیکنڈ لگے
اس نے آگے بڑھ کر بسمہ کے چہرے پہ طمانچہ مارا۔

”تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ اتنا گھٹیا الزام لگانے کی بدکردار عورت۔ میں تیرا منہ نوچ لوں گی۔ جیسی خود ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتی ہے اللہ کرے تجھے موت آ جائے تو جہنم کی آگ میں جلے میری جیسی باکردار عورت پہ اتنا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آئی نیچ عورت۔“

نازیہ کا جیسے ذہنی توازن بگڑ گیا تھا وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر بسمہ کو گندی گندی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھی۔ سنیہ نے آگے بڑھ کر نازیہ کو مزید مارنے سے روکا۔

Read more

مشک: پاکستانی ڈرامہ، فلم اور تھیٹر کا معیاری امتزاج

پاکستان فلم انڈسٹری یقیناً اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جب ایک مخصوص قسم کی فلموں کی بھرمار تھی غیر معیاری اداکاری، بے ربط ایڈیٹنگ، شہوت زدہ موسیقی، بے رنگ پرنٹ اور غیر حقیقی ڈبنگ۔ جس کی وجہ سے ناصرف معیاری اور گھریلو گھریلو قسم کی تفریح کے خواہاں سینما سے دور ہوگئے تھے بلکہ سینما بھی بند ہوتے چلے گئے، کئی سینیماز کی جگہ شاپنگ مالز نے لے لی۔ انہی دنوں میں ہمارے شہر کا آخری بچ جانے

Read more

عورت ذات بہکنے کو ہر وقت تیار؟

بسمہ کو شدید تذلیل کا احساس ہوا کہ اب اسکول کا بچہ بھی اسے کم عقلی کا طعنہ دے گا۔ ” ”کیا مطلب، کیا ہوتا ہے سامنے“ اس کا لہجہ تھوڑا تیز ہوگیا۔ ”چھوٹی چاچی آپ بہت معصوم ہیں۔ مگر بڑی چاچی کو معصوم مت سمجیے گا۔ یہ جو چاچو کے لیے بھائی ہے بھائی ہے کا شور کرتی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں“ ”فہد بری بات ہے بچے ایسی باتیں نہیں کرتے وہ دونوں تمہارے بڑے ہیں۔“ ”یہ تو

Read more

” اپنے حق میں بولنا نہ آئے تو ہر کوئی بے عزتی کرتا ہے“ قسط نمبر 12

ایک دن رات کھانے کے بعد انہوں نے مجھے سٹنگ روم میں ہی روک لیا کہ کوئی اہم بات کرنی ہے۔ ”نفیس ہماری شادی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ آج ہم اس موضوع پہ بات کر لیں تو بہتر ہے۔“ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاید ہمارے ازدواجی تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور میرا اندازہ درست نکلا۔ ”کیا تم نے کبھی مجھ میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس

Read more

میک اپ اور پردہ، نسوانیت کے متضاد یا لازم جزو؟ قسط نمبر 11

اس گھر میں نازیہ بھابھی کی اگر بنتی تھی تو بڑی نند زیبا باجی سے بنتی تھی۔ ان دونوں کی سوچ پسند ناپسند سب ایک جیسا تھا دونوں مل کر بیٹھتیں تو گمراہ نئی نسل، کام چور بہوئیں اور بد کردار تقریریں جھاڑنے والی عورتوں پہ بلا تکان گھنٹوں تبادلۂ خیال کر لیتی تھیں۔

ان دونوں کو ہی نئی دلہنوں کا شوہر سے بات کرنا دن میں اپنے کمرے میں رہنا، شوہر کے ساتھ اکیلے باہر جانا گناہ جیسا معیوب لگتا اور فی الحال ان کے اس نظریے کی زد پہ بسمہ تھی۔ شکر یہ ہوا کہ باسط خود بھی زیادہ گھومنے پھرنے کا شوقین نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے گھر کی خواتین کو باہر لے کر جانا پسند نہیں دوست دیکھتے ہیں اچھا نہیں لگتا۔ اسی کے کہنے پہ بسمہ نے نقاب کے ساتھ حجاب کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ مگر ایک بات جو بسمہ نے بہت عجیب نوٹ کی وہ یہ کہ باہر بازار وغیرہ میں گھومتے ہوئے باسط کی توجہ خریداری اور بسمہ کی باتوں سے زیادہ اردگرد کھڑی عورتوں پہ ہوتی اور پھر وہ ان کے آگے بڑھتے ہی ان کی ڈریسنگ، فگر اور بے پردگی پہ کافی کھلے الفاظ میں تنقید کرتا تھا۔

Read more

میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔ ”بسمہ!“ باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے، وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا

Read more

منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔ گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی

Read more

سفید موت کے کارندے

رات کا اندھیرا تھا۔ موسائی قبیلے کی حدود میں باقی قبیلے سے ذرا دور ایک بڑے جھونپڑے میں پانچ نفوس بیٹھے تھے۔ سامنے ایک بہت بوڑھی عورت ذرا اونچی نشست پہ تھی جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ ان سب کے لیے سب سے زیادہ محترم ہے۔ اس کے سامنے تین مرد اور ایک عورت مؤدب بیٹھے تھے۔ ان کے لباس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ستر پوشی کے مقصد سے نہیں پہنا گیا بلکہ اپنے مقام

Read more

ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔ ”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے

Read more

جہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6

بسمہ نے تصویر پلٹ کر دیکھی ایک کونے میں شاید اس کا نام لکھا تھا۔ ”رانا عبدالباسط“ بسمہ کو ہنسی آگئی ایک اور نام جو افسانے کے ہیرو جیسا بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں دہرایا بسمہ باسط، اور ہلکے سے مسکرا دی۔ صورت حال تو افسانوں جیسی ہی تھی اس کا نام ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی مگر اس کی نکھری گندمی رنگت چمکیلے سیاہ بال اور

Read more

گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی ”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “ اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی ”اتنی جلدی کیا ہے جس کام

Read more

محبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہے

گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔

دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔

Read more

گل بانو کی بچپن میں اچانک شادی, افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 3

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئی تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب

Read more

منیر بھی نمک حرام نکلا

فہمیدہ دکان میں داخل ہوئی تو سلائی مشینوں کی مخصوص گڑ گڑ کا شور گونج رہا تھا۔ ” اسلام علیکم حاجی صاحب! منیر کو بلوائیے گا پلیز۔ “ فہمیدہ نے کپڑوں کا تھیلا حاجی صاحب کے سامنے کاونٹر پہ رکھ دیا مگر نظریں دکان میں ادھر ادھر گردش کر رہی تھیں۔ اس نے زمین پہ بکھری کترنوں کو پیر سے ذرا سائیڈ پہ کیا اور قدم رکھنے کی جگہ بنائی۔ کافی کوشش کے باوجود سلائی مشین پہ جھکے کئی سروں

Read more

زبردستی کی شادی رومانوی ہوتی ہے کیا؟

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 2 اصل ارمغان اس کے لیے ”عام سا اسلم“ تھا اور بسمہ کو اُس سے بلاوجہ چڑ تھی۔ اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کے تخیل میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں، فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ

Read more

”جوڑوں کا درد“ اور گھریلو عورت کی معاشی خود مختاری

ہمارے یہاں یہ اصطلاح مشہور ہورہی ہے اور زبان زد عام ہے۔ یہ دیکھنے میں بے ضرر مزاح لگتا ہے جب کہ یہ جنسی تفریق کی ہی مثال ہے اور وہ ہے کہ موسم بدلتے ہی خواتین کو ”جوڑوں کا درد“ ہونے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کی معاشی ذمہ داری نبھانے کا وعدہ کرنے والا مرد، خصوصاً شوہر کیا یہ نہیں سمجھتا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ گھر کے ہر فرد کو مناسب لباس کی

Read more

افسانے کی حقیقی لڑکی

اپنی زندگی کی افسانویت اور حقیقت میں پھنسی لڑکی جو کہیں نہ کہیں ہر لڑکی جیسی ہے۔ ”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے“ معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار

Read more

کیا آپ اپنی کامیابیاں جانتے ہیں؟

اگر میں پوچھوں کہ آپ میں سے کتنوں کے والدین کے پاس آپ کے پہلے قدم اٹھانے کی تصویر ہے۔ یا پہلے دن اسکول کی تصویر ہے تو شاید بہت سوں کے گھر میں نکل آئے۔ لیکن کیا آپ کے والدین نے آپ کو یہ احساس دلایا کہ یہ آپ کی اہم کامیابی تھی؟ کیا آپ نے اپنی اولاد کو کبھی یہ احساس دلایا کہ پہلا قدم اٹھانا، پہلا لفظ بولنا، پہلا لفظ لکھنا اور پڑھنا، پہلے دن اسکول جانا

Read more

دو بوری عزت والا

وہ اپنی پانچ چھ بکریوں کو لیے گھومتی گھامتی گاؤں سے ذرا دور نالے تک نکل آئی تھی۔ چلتی جاتی تھی اور ہر ہر چیز کو غور سے دیکھتی جاتی تھی۔ کسی چیز کو دیکھنے میں زیادہ مگن ہوتی تو اردگرد کا دھیان ہی نہیں رہتا تھا۔ اب بھی جھاڑی میں لگے ایک جالے کو دیکھنے میں میں لگ گئی جس پہ ایک مکڑی بیٹھی تھی اور ادھر ادھر منڈلاتی مکھی کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مکھی قریب

Read more

پیر سائیں کا شمامۃ العنبر عطر اور لچھی کی اقلیتی کرسی

”لچھی“ اس نے دونوں ہاتھ پلنگ کے کناروں پہ جما کے گھٹنا اوپر رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک دم اماں کی آواز نے اسے وہیں روک دیا۔ یہ بالکل پہلی یاد تھی جو اس کے دماغ میں پتھر پہ کھدی تحریر کی طرح پختہ اور واضح تھی۔ اس سے پہلے کبھی اسے پلنگ پہ بیٹھنے سے منع کیا گیا ہو یا بیٹھنے دیا گیا ہو اسے بالکل یاد نہیں۔ تب اس کی عمر شاید تین یا اس سے

Read more

جب مجھے کلینیکل فائیبرومائلجیا ہوا

تحریر ابصار فاطمہ تعاون اختر علی شاہ مجھے کافی عرصے سے جسم میں تکلیف کی شکایت رہتی تھی جسے میں کیلشئیم کی کمی سمجھ کے نظر انداز کرتی رہی بلکہ نظر انداز نہ کہوں تو بہتر ہے. میں نے اسے بہتر کرنے کے لیے کئی کوششیں کیں، روز دودھ پینا شروع کیا، جو کہ دمے کی شکایت کی وجہ سے میں سردیوں میں چھوڑ دیتی ہوں۔ ایک لمبے عرصے سے ناشتہ نہ کرنے کی بری عادت پہ قابو پایا، دن

Read more

اسقاط حمل: کچھ پہلو یہ بھی ہیں

اسقاط حمل سے متعلق ہمارے یہاں شاید اتنی ہی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جتنی کسی غیر بالغ کو جنسی تعلق کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ اور اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک اسے غلط سمجھنا دوسرا اس پہ بات کرنے کو برا یا غیر ضروری سمجھنا۔ برا سمجھنا ذاتی اخلاقیات کے ذمرے میں آتا ہے جس کا ہر کسی کو حق ہے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ ہم کسی عمل کو درست یا غلط سمجھ رہے

Read more

آپ کا باس بھی آپ کا ”محتاج“ ہے

رشتوں اور جذبات کی نفسیات۔ ”غیر متعلق“ لوگوں سے جذباتی تعلق۔ ہم نے اس مکمل سلسلے میں مختلف رشتوں اور ان میں موجود جذباتی انحصار کے پہلو دیکھے۔ اس کے بعد کا مضمون ممکنہ طور پہ اس سلسلے کا آخری مضمون ہے اور میری کوشش ہے کہ وہ بھی جلد آپ تک پہنچ جائے۔ جب ہم رشتوں اور جذباتی تعلقات پہ بات کرتے ہیں تو اپنے اس تعلقات کے دائرے میں گھر والے، شریک حیات، دوست، حد یہ کہ کسی

Read more

کنوار (دلہن)۔

”واؤ مجید صاحب، آپ ڈبل ایم اے ہیں۔ اور اتنے سارے کورسز بھی، زبردست، آپ کی سادہ سی شخصیت دیکھ کے اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ آپ اتنی عمر کے ہیں۔ “ وہ تیزی سے ٹائپ کرتے کرتے ٹھہر گئی اور توصیفی نظروں سے مجید کی طرف دیکھا۔ سلیقے سے تراشی گئی مونچھیں اور تازہ بنی ہوئی شیو میں بتیس سالہ مجید اپنی عمر سے کم از کم پانچ سال چھوٹا لگ رہا تھا۔ ” جی میڈم ہم تو واقعی

Read more

شخصیت کے بناؤ یا بگاڑ میں بچپن کے تجربات کی اہمیت

عموما لوگوں کا ماننا ہوتا ہے کہ تجربہ اچھا ہو یا برا کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے کچھ کا ماننا ہوتا ہے کہ برے تجربے ہمیں مضبوط بناتے ہیں۔ چلیں ہم ارلی چائلڈ ہڈ ایکسپیرئینسز یا ابتدائی بچپن کے تجربات سے شروع کرتے ہیں۔ یعنی اوائل بچپن کے تجربات۔ نفسیات دانوں کا ماننا ہے اور اس ماننے کی وجہ ”تجربات“ سے حاصل شدہ نتائج ہیں کہ بچے رحم مادر میں ہی بہت سے تجربات سے سیکھنا شروع کر دیتے

Read more

دوست ”شریکِ جرم“ ہوتا ہے اسی لیے بھائی سے زیادہ عزیز ہوتا ہے لیکن کیا واقعی؟

رشتوں اور جذبات کی نفسیات دوستوں سے تعلق ہمارے اردگرد والدین بہن بھائی اساتذہ رشتے دار شریکِ حیات سب ہوں اس کے باوجود ایک رشتے کی ہمیشہ جگہ رہتی ہے اور وہ ہے مخلص دوست۔ ایسا دوست جو ہماری بات سنتا ہو، جو ہمارے احساسات سمجھتا ہو۔ جس قسم کے معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں یہ رشتہ نسبتاً ہر رشتے سے زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ غور کیجیے کہ پچھلے جتنے رشتوں پہ بات

Read more

دو ٹکے کی عورت یا ذہنی مسائل کا شکار مرد

”دو ٹکے کی عورت“ والے سین کو جتنی دفعہ دیکھا تھا ذہن میں پہلا خیال یہ آیا تھا کہ شاید یہ سین غلط کونٹیکسٹ میں شئیر ہورہا ہے اور یہاں ہمایوں سعید جس کے کردار کا نام شاید دانش ہے عدنان صدیقی کو اس کی کسی بات کا جواب دے رہا ہے اور شاید یہ اصطلاح عدنان صدیقی کے کردار نے ادا کی ہو۔ رائے دینے سے پہلے سوچا کہ مکمل سین دیکھنا کہیں بہتر ہے تاکہ اندازہ ہو کہ

Read more

تشدد اور رٹے کا کلچر بچوں کی شخصیت مسخ کر رہا ہے

9 رشتوں اور جذبات کی نفسیات پچھلے مضمون میں ہم نے بات کی کہ چھوٹے بچے جہاں ایک طرف معلم یا مولوی صاحب جن سے پہلی دفعہ پڑھنا شروع کرتے ہیں اور جس کے ساتھ گھر کے علاوہ سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں ان سے بہت مضبوط جذباتی تعلق محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ تعلق بچوں کو بہت کمزور اور ولنرایبل مقام پہ لے آتا ہے۔ محبت اور احترام بچے کو بہت سی زیادتیاں ماننے اور برداشت کرنے پہ

Read more

اسکول کا پہلا دن بچوں کے دماغ میں ہمیشہ کے لیے اسکول کا خوف بٹھا سکتا ہے

پاکستانی معاشرے میں بچہ عموماً ڈھائی سے تین سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کردیتا ہے۔ تقریباً اسی عمر میں اس کو یا تو گھر پہ مولانا صاحب قرآن کی تعلیم دینے کے لیے آنے لگتے ہیں یا وہ بچہ خود کسی مدرسے جانے لگتا ہے۔ اس عمر میں بچے کی زندگی کا محور والدین اور ددھیال ننہیال سے بڑھتا ہے اور اس میں کئی نئے افراد شامل ہوتے ہیں۔ ان نئے افراد میں سب سے اہم کردار استاد

Read more

بہو چڑیل اور ساس ڈائن: بنے بنائے سانچے

ہمارے ہاں ہر رشتے کا تعلق میاں بیوی کے رشتے سے جا جڑتا ہے۔ سسرالی رشتوں کا تعلق بہت واضح طور پہ اور بہت غیر جذباتی انداز میں میاں بیوی کے کاغذی رشتے سے منسوب سمجھا جاتا ہے. اسی لیے وہ تمام رشتے جن کا کسی بھی حوالے سے سسرالی تعلق بنتا ہو انہیں کمزور اور غیر جذباتی تعلق گردانا جاتا ہے. انگریزی کی اصطلاح "اِن لاز” معاشرتی طور پہ اس رشتے کی کم جذباتی اور زیادہ قانونی نوعیت کو

Read more

پاکستان میں سب سے جھگڑالو جوڑا کامیاب ارینج میرج کے لیے اپنی مثال دیتا ہے

ہم نے پچھلے دو مضامین میں میاں بیوی کے تعلق کی مختلف جہتوں پہ بات کی۔ پہلے مضمون میں اس بات کا تذکرہ ہوا کہ اس رشتے کے بننے سے پہلے فریقین عموماً کئی نفسیاتی مسائل سے گزر چکے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے مضمون میں بات ہوئی کہ ایک نئے بننے والے تعلق میں جنسی حوالے سے کیا مسائل آسکتے ہیں اور پچھلے نفسیاتی مسائل اس رشتے پہ کیا اثر ڈالتے ہیں۔ یہ اس سلسلے کا چھٹا مضمون جبکہ میاں

Read more

محبت میں ناکامی کا صدمہ شادیاں متاثر کرتا ہے

ہم نے پچھلے تین حصوں میں دیکھا کہ کس طرح ہر رشتہ چاہے وہ والدین کا ہو یا اولاد کا یا بہن بھائیوں کا باہمی انحصار کی بنیاد پہ ہی پنپ سکتا ہے۔ جہاں باقی ہر رشتے میں باہمی انحصار اہم ہے وہاں ایک رشتے میں یہ شاید باقی تمام رشتوں سے زیادہ اہم ہے اور معاشرے کے تمام رشتوں کے تانے بانے آکر یہیں جڑتے ہیں وہ ہے شوہر اور بیوی کے آپس کا رشتہ اگر یہ رشتہ اپنی

Read more

”تم بڑے ہو“ کہہ کر بڑے بہن بھائیوں کو چھوٹوں سے دور نہ کریں

۔ جب بھی تعلق پہ بات کی جاتی ہے تو بہت قریبی ہونے کے باوجود اس اہم تعلق کے جذباتی اور نفسیاتی پہلو پہ بہت کم بات ہوتی ہے۔ والدین اور اولاد کے تعلق کی طرح اس تعلق کو بھی حقیقی بنیادوں پہ دیکھنے کی بجائے ایسے غیر حقیقی پیمانے بنا لیے گئے ہیں جو بہن بھائیوں کے آپس کے رشتے کو مضبوط بنانے کی بجائے مزید الجھاؤ کا شکار کردیتے ہیں۔ مثلاً بھائی، بہنوں کی ہر فرمائش پوری کرنے

Read more

والدین سے جذباتی تعلق کی نفسیات

 کچھ رشتوں سے جذباتی تعلق ہماری بقاء (زندہ رہنے) کے لیے ضروری ہے ان تعلقات میں سب سے بنیادی تعلق والدین اور اس میں بھی ماں کا تعلق ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق ماں اور بچے کا تعلق بچے کے پیدائش کے فوراً بعد سے ہی باقاعدہ شروع ہوجاتا ہے اور بچے کی بقاء کے لیے اس کا ماں سے قریب ہونا بہت ضروری ہے۔ یہاں بھی ہم قدرتی بقاء کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو یہ یک

Read more

رشتوں اور جذبات کی نفسیات

جذباتی تعلق کی ضرورت۔ ہم خود کو معاشرتی حیوان کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارا خیال ہے کہ انسان وہ واحد جاندار ہے جو کمیونٹی یا برادری بنا کے رہتا ہے اور اس نظرئیے کی بنیاد پہ ہم خود کو بحیثیت اشرف المخلوقات ایک اور مثبت پوائنٹ دے دیتے ہیں۔ جبکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان وہ واحد جانور نہیں ہے جو برادری بنا کے رہتا ہے بلکہ کم و بیش ہر جاندار میں یہ خصوصیت موجود ہے۔ ہاں یہ

Read more

جذباتی تعلق کی ضرورت

ہم خود کو معاشرتی حیوان کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارا خیال ہے کہ انسان وہ واحد جاندار ہے جو کمیونٹی یا برادری بنا کے رہتا ہے اور اس نظریے کی بنیاد پہ ہم خود کو بحیثیت اشرف المخلوقات ایک اور مثبت پوائنٹ دے دیتے ہیں۔ جبکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان وہ واحد جانور نہیں ہے جو برادری بنا کے رہتا ہے بلکہ کم و بیش ہر جاندار میں یہ خصوصیت موجود ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ انسان

Read more

منٹو کا افسانہ ”ساڑھے تین آنے“: اگلی نسل کے لیے لکھی ایک تحریر

میں نے منٹو پہ بہت تنقید و توصیف پڑھی، لکھی اس سے بھی زیادہ گئی ہے۔ میں یہ دعوی ہرگز نہیں کر سکتی کہ میں نے منٹو کی ہر تحریر پڑھ لی مگر جب ”ساڑھے تین آنے“ پڑھی تو مجھے حیرت یہ ہوئی کہ منٹو کے مشہورِ زمانہ اور رسوائے زمانہ تحاریر میں اس کا ذکر کہیں موجود نہیں۔ اور اس پہ غور کرنے کے بعد مجھے ایک احساس یہ ہوا کہ یہ تحریر بنیادی طور پہ اردو سمجھنے والے

Read more

ایک اور کلیشے کردار

کبھی کبھی لایعنی باتیں کرنے کا دل چاہتا ہے۔ اردگرد پھیلی ہر چیز علامت لگتی ہے۔ کمرے میں پھیلی کمزور سی روشنی، اس پہ حاوی بے نام سی تاریکی جو محسوس زیادہ ہوتی ہے۔ ہڈیوں میں اترتی ٹھنڈ اور دل میں اٹھتی ہلکی ہلکی ٹیسیں، یخ ہوتے پاؤں کے پنجے، خاموشی میں گونجتی گھڑی کی ٹک ٹک، اور کبھی کبھی سناٹے کو چیرتی کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی آواز۔ دل چاہتا ہے ہم اس منظر سے باہر بیٹھے یہ سب دیکھ رہے ہوں اور اس کے تخلیق کرنے والے کی مہارت پہ داد دینا چاہتے ہوں، جس نے اتنا مکمل منظر تخلیق کیا کہ آپ خود کو اس کا حصہ سمجھنے لگیں۔

Read more

میں، چھپکلی اور خوف

بچپن میں بلکہ چند سال پہلے تک، میں بھی پاکستانی اسٹینڈرڈ نسوانی رویے کے تحت چھپکلیوں سے ڈرتی رہی ہوں۔ یہ ڈر کب اور کیسے بیٹھا اس کا اندازہ کبھی نہیں ہو پایا مگر کچھ دھندلی سی یاد یہ بھی ہے کہ بالکل بچپن میں چھپکلیوں سے یہ چھتیس کا آکڑہ نہیں تھا۔ چھپکلی بچاری زندگی میں گن کے چند بار ہی حملہ آور ہوئی ہوگی اور اس حملے کا مطلب یہ کہ جب وہ بچاری ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور چھت سے ٹپ سے کسی پہ بھی آن گرتی ہے۔چھپکلی دیکھنے میں جتنی کراہت آمیز لگتی ہے اس کا لمس اتنا ہی ملائم ہوتا ہے۔ یہ میرا تجربہ ہے۔

اس کے باوجود اس مخلوق کے بارے میں بہت سی ”لیجنڈز“ مشہور ہیں جو ہم آپ جیسی کئی سادہ دل خواتین اور شاید بہت سے حضرات کے بھی خوف کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان لیجنڈز میں چھپکلی کا نوبیاہتا دلہن کے کپڑوں میں موجود ہونا اور شادی کی رات بچاری کا اس کے قاتل زہر سے دارِفانی سے کوچ کرجانا ایک پر اثر کہانی ہے جو تھوڑی بہت علاقائی تبدیلیوں کے ساتھ تقریباً سب نے ہی سن رکھی ہے۔

Read more

وہ لال اوڑھنی والی

وہ خوف اور تجسس آنکھوں میں لیے جنگلے سے سرکی ہوئی چادر سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں بڑی آپا کے ساتھ ہی کوئی اور بھی تھا۔ وہ چادریں لے کر نکلنے کے لیے تیار ہی تھی جب بڑی آپاکو بھی اماں جنگلے میں چھوڑ آئیں۔ مگر انہیں کمرے سے نکالنے سے پہلے پہلے صحن کے کونے پہ پڑا تازہ اچار کا مرتبان چھپانا نہیں بھولیں۔ وہ خاموشی سے سب ہوتا دیکھ رہی تھی اور ہولے ہولے

Read more

نیوزی لینڈ کے مجرم کو دہشت گرد کہیں یا ذہنی مریض؟

نیوزی لینڈ، کرائسسٹ چرچ کے علاقے میں دو مساجد پہ حملے کے بعد سے زیادہ شور اس بات پہ اٹھا کہ حملہ آور کو واضح الفاظ میں دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔ کم و بیش ہر شخص نے اس پہ اظہارِ رائے کیا، غم و غصے کا اظہار کیا۔ بلا وجہ لبرل یا مذہبی طبقات پہ الزامات لگائے گئے۔ جب کہ کم و بیش سب ہی مذمت کر رہے تھے۔ ہم یقین کر کے بیٹھے تھے کہ چوں کہ نیوزی لینڈ ایک غیر مسلم ملک ہے اس لیے وہاں حملہ آور کو انتہا پسند یا ذہنی مریض گردانا جائے گا جب کہ بطور مسلم، اکثریت کا یہ مطالبہ تھا کہ اسے دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔

اگلے دن یہ سب دیکھ کر میں نے اپنی فیس بک وال پہ یہی سوال پوچھا بھی، کہ چلیے مان لیتے ہیں کہ دہشت گرد کہا جانا چاہیے۔ لیکن کیوں؟ عجیب بات یہ تھی کہ اسلام کے نام پہ ہرجگہ جھگڑنے کو تیار عوام میں سے عموماً نے جواب دینا مناسب نا سمجھا۔ جب کے عورت مارچ سے متعلق ایک نقطہ بھی لگایا جارہا تھا تو ڈھیروں مباحثے کو تیار تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا واقعی ہمیں پتا بھی ہے کہ ایسے حملوں کو دہشت گردی کیوں کہنا چاہیے؟ صرف اس لیے کہ جب حملہ آور مسلمان ہوتا ہے تو اسے دہشت گردی سے منسوب کیا جاتا ہے؟ یعنی ہم پرائمری کلاس کے بچے ہیں کہ کیوں کہ فلاں بھی شور مچا رہا تھا تو اسے بھی سزا دیں صرف مجھے شور مچانے پہ سزا کیوں۔

Read more

کیا اچھے بچے غصہ نہیں کرتے؟

آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا باس آپ کے انتہائی محنت سے کیے گئے کام کی باقی تمام محنت نظر انداز کر کے ایک چھوٹی سے غلطی پہ ایک گھنٹہ ڈانٹے؟
اور آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا ماتحت ہر بار بچوں کی طرح الٹا سیدھا کام کر کے آپ کے سامنے لاکر رکھ دے؟

ظاہر ہے یہ ایک ہی واقعے کے دو پہلو ہیں جس میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ غصہ محسوس کرتے ہیں۔ مگر کیا دونوں کا ردعمل ایک ہوگا۔ بلکہ پہلے یہ دیکھیں کہ کیا دونوں کا مسئلے کے حوالے سے زاویہءنگاہ ایک ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ ایک کی توجہ کی گئی محنت پہ ہے اور دوسرے کی غلطی پہ۔ پھر اس کے بعد ایک کواپنی جاب جانے کا خوف ہے جبکہ دوسرے کو؟ دوسرے کو بھی خوف ہی ہے۔ ردعمل نا دکھانے کی صورت میں اپنے اختیار اور طاقت چھن جانے کا خوف کہ میں نے اسے ابھی ٹوکا نہیں تو یہ دوبارہ میری بات نہیں مانے گا۔ مگر اس کے علاوہ بھی کئی عوامل ہیں جو ”غصہ“ پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

Read more

روٹی اور امن کے حصول میں عورت کی شمولیت

بطور ایک تقریباً غریب گھرانے کی سانولی فیشن سے نابلد لڑکی ہونے کے، لڑکپن سے لے کر بس چند سال پہلے تک زندگی ہمیشہ مفت کے سیلف گرومنگ کے مشوروں سے اٹی رہی۔ چہرے پہ دانے ہیں کچھ لگاتی کیوں نہیں؟ بال گھنگریالے ہیں سیدھے کیوں نہیں کراتیں؟ آئی بروز کیوں نہیں بنواتیں؟ جیولری کیوں نہیں پہنتیں؟ اتنی دبلی کیوں ہو؟ فیشل کیوں نہیں کراتیں؟ جب تک کچھ کچھ احمق تھے ان مشوروں پہ عمل کرنے کی بھی کوشش کی۔

Read more

کیا صرف میری ایک کمی ہی میری شناخت ہے؟

”اللہ کی شان تنکے میں جان“ وہ اسکول میں داخل ہوا توکسی جانب سے آواز آئی۔ دو قدم چلا ہوگا کہ دوسری طرف سے آواز آئی ”ارے جیب میں دو پتھر رکھ لیا کر بھائی کسی دن اڑ جائے گا۔ “ اس میں ماتھے پہ آتا پسینہ بھی صاف کرنے کی ہمت نہیں تھی، قدم تیز کرنے کی کوشش کی مگر لگتا تھا پیروں میں جان ہی نہیں وہ بمشکل کلاس تک پہنچا۔ یہ روز کا معمول تھا ایسا نہیں

Read more

کتابوں والی الماری اور ذات کا قید خانہ

مجھے اپنا کمرہ بہت پسند ہے آپ جیسے علم دوست شاید اس کی صرف حسرت ہی کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کمرہ جس کی دیواریں چاروں اطراف سے کتابوں سے مزین ہیں۔ جہاں باہر کی دنیا کی کوئی آلودگی نہیں۔ صرف کتابیں، ہنستی مسکراتی، زندگی کے ہنر سکھاتی، میرا شاندار ماضی اور حال بتاتی، مجھے زندگی کے اصول پہ عمل کرواتی کتابیں۔ ایسے مت دیکھیں مجھے، یہ جوش خطابت نہیں ہے میری کتابیں واقعی انسانوں کی طرح مجھ سے باتیں

Read more

کیا ماہرینِ نفسیات خود بھی پاگل ہوتے ہیں؟

اس موضوع پہ بہت عرصے سے لکھنے کا سوچ رہی تھی۔ ”سائنس کی دنیا“ پہ ایک پوسٹ پہ چند کمنٹس آئے تو سوچا اس پہ بات کر ہی لی جائے۔ مزے کی بات بتاؤں کہ انٹر کرنے تک نفسیات کی طرف کوئی رجحان نہیں تھا۔ ایک غیر معیاری انسٹیٹیوٹ میں پہلے ڈی آئی ٹی میں داخلہ لیا اور پھر انتظامیہ نے کچھ جادو دکھانے کی کوشش کی اور اسی کو بی ایس بے اے میں بدل دیا۔ ایک سال اس

Read more

مجرم کے حقوق اور ماورائے عدالت قتل

ہمارا مجموعی معاشرتی رویہ ہے کہ ہم قوانین کی پاسداری، حب الوطنی اور محترم اداروں کے بنائے گئے ضوابط کی بجا آوری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم سزا دینے اور دلوانے کے بہت شوقین ہیں۔ گھر کی ملازمہ پہ چوری کا شک ہے سزا دینی ضروری ہے، اولاد نے آپ کے اصولوں کے مطابق بد تمیزی کی اب سب کے سامنے بے عزتی کی جائے تاکہ آئندہ وہ ایسی بدتمیزی نہ کرے، کوئی بچہ روٹی چراتا پکڑا

Read more

پرزور احتجاج

مومنہ نے الماری میں ٹنگے سلیقے سے استری شدہ مختلف ڈیزائنز کے سیاہ ماتمی ملبوسات میں سے ایک منتخب کیا اور جلدی جلدی جلوس میں جانے کے لیے تیار ہونے لگی۔ کپڑے تبدیل کرکے بہت مبہم سا فیس پاوڈر لگایا اور پھیکے رنگ کی لپ اسٹک لبوں پہ پھیری کہ حسن سوگوار ضرور لگے مگر حسن ہی رہے۔ دھیمی سی خوشبو کا اسپرے کیا۔ تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ دماغ میں وہ نکات مسلسل دہرا رہی تھی جو اسے جلوس

Read more

ہسٹیریا ایک جنسی مرض ہے، روحانی عارضہ یا نفسیاتی الجھن؟

صبح کا وقت ہے ایک مشہور چینل کا مارننگ شو چل رہا ہے آج کا ٹاپک ہے آسیب اور جدید سائنس۔ میزبان خاتون کے سامنے ایک جدید تراش خراش کے سوٹ میں ایک صاحب موجود ہیں جن کا دعوا ہے کہ وہ جدید سائنسی طریقوں سے آسیب کا حل نکالتے ہیں۔ میزبان :” جی ڈاکٹر جعفری صاحب (فرضی نام) آپ ہمیں کچھ بیک گراونڈ اور ہسٹری بتائیں کہ آسیب کیا ہوتے ہیں اور سائنس انہیں کس طرح سے بیان کرتی

Read more

میڈیا اور سوشل میڈیا، بچوں کا بچپن کھانے والی چڑیلیں

چند دنوں سے یوٹیوب اور فیس بک پہ ایک بہت معصوم گپلو سے بچے احمد کی وڈیو وائرل ہے۔ احمد کا انداز دل موہ لینے والا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسے اس انداز میں بات کرنے پہ اکسانے والے درست ہیں؟ اسے تنگ کر کے لطف لیا جارہا ہے۔ پھر وڈیو وائرل ہوتے ہی یہ بچہ احمد ٹی وی چینیلز پہ بھی نظر آنے لگا۔ ہر جگہ اس سے کوئی چیز چھین کر اسے اکسایا جاتا ہے کہ

Read more

کیا عمران علی کو پھانسی دینے سے انصاف مل گیا؟

آج زینب کے قاتل عمران کو پھانسی دے دی گئی۔ عوام میں ایک نئی امید جاگی کہ شاید اب ہماری بچیاں محفوظ ہوسکیں۔ شاید اب کوئی بکھری کلی کچرے سے نا ملے۔ شاید اب کسی کا معصوم بچپن کسی کی وحشت کے بھینٹ نا چڑھے۔ مگر مسئلہ آتا ہے اسی شاید پہ۔ کہ کیا یہ شاید یقین میں بدل سکتا ہے؟ صرف ایک پھانسی سے ملک محفوظ ہوجائے گا؟ پچھلے 6 ماہ میں زینب سمیت 15 لڑکیوں اور 12 لڑکوں

Read more