تعلیم ترقی کی ضامن


انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
کچھ بچے ٹریفک سگنل پہ وائپر اور پانی کے ساتھ ہمیں ہر روز دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سخت گرمی کا موسم ہو یا سردی کی ٹھنڈی شام ہو گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے کے لیے سگنل بند ہونے کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ جونھی سگنل بند ہوتا وہ گاڑیوں کی طرف لپکتے کوئی ان کو روک ٹوک دیتا کوئی دس بیس دے دیتا اور کوئی ایسے ہے چلا جاتا کہ میرے منع کرنے کے باوجود آپ نے خود شیشہ صاف کیا۔ غرض ان بچوں کا دن ایسے ہی گزر جاتا ہیں۔ ان کی آنکھوں میں مستقبل کے خوابوں کی جگہ وہ ٹریفک کا کھمبا ہوتا جو ان کو بھگاتا ہے۔ جس لائن میں لال بتی جل رہی اس طرف کو دوڑتے اور اپنا کام جلدی جلدی نمٹانے کی کوشش کرتے تا کہ سبز بتی جلنے سے پہلے وہ شیشہ صاف کر دیں۔

کچھ بچے اپنے ہاتھوں میں مختلف قسم کی چیزیں اٹھا کر بیچ رہے ہوتے ہیں۔ ڈرائنگ بکس پنسل ہاتھوں میں تھامے درخواست کر رہے ہوتے ہیں، گھر کی پریشانیاں بتا کر خریداروں کو چیزیں لینے پر مجبور کر تے ہیں۔ کچھ بچے منڈی میں ریڑھی لیے خریداروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ وہ ان کا سامان ان کی مطلوبہ جگہ یا سواری تک مناسب اجرت کے عوض پہنچا دیں گے۔ کچھ بچے منڈی میں اپنے والد، بھائی یا عزیز کے ساتھ سبزی پھل بیچتے نظر آتے ہیں، جو خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں، اور پھرتیلے انداز سے خریداروں کو نمٹاتے ہیں۔

کچھ بچے کسی ہوٹل میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ بھاگ بھاگ کر آرڈر پوچھ لیتے اور ان کی مطلوبہ چیزیں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں، یا کبھی برتن دھو رہے ہوتے ہیں۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو گاڑیوں موٹروں کی ورک شاپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے استاد کی ہر بات پر کان دھرے، استاد کے کام پر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔ زرا سی کوتاہی پر استاد کے تھپڑ کھاتے، گالیاں سننے کے بعد یا تو وہ کام چھوڑ کر بھاگ جاتے یا وہ ایک مکینک بن جاتے ہیں۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کندھوں پر بوریا اٹھا کر کچرا کنڈی سے پلاسٹک، گتا، لوہے کی اشیا، یا دیگر کار آمد اشیا کی تلاش کرتے ہیں۔ تا کہ وہ یہ مواد بیچ کر اپنے گھر کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔

اسی طرح دیگر کام یہ بچے کرتے ہیں یا ان سے ان کے گھر والے اپنے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ان سے کرواتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کو اسکول جانے کا شوق نہیں ہوتا تو یہ کام کرتے ہیں۔ اکثر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے، مگر وہ اپنے گھر کے معاشی مسائل کے آگے بے بس ہو کر نہ چاہہتے ہوے بھی یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں جہاں ان کے کھیلنے کودنے کے، پڑھنے کے دن ہوتے ہیں؛ وہ اپنے ننھے خوابوں کو ادھورا چھوڑ کر اپنے آپ کو ان چیزوں سے لاتعلق کر کے حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ ان میں مختلف بچے وہ ہوتے ہیں جو بغیر کوئی چیز بیچے یا کوئی کام کیے بغیر بھیک جیسے ناسور کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ضرورت مند ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسے مافیا کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ان سے یہ کام کرواتے ہیں۔

ان میں وہ بچے بھی ہیں، جن کی عمر محض چند ماہ سے لے کر تین چار سال تک کے درمیان ہوتی ہے۔ ان کے والدین ان کا سہارا لے کر بھیک مانگتے ہیں۔ بعض اوقات تو سردی کی یخ راتوں میں بغیر کپڑوں اور جوتوں کے ان بچوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا منظر کوئی دیکھتا ہے، تو ایک لمحے کو رک کر یہ ضرور سوچتا ہو گا، کہ یہ ان کی اپنی اولاد ہے یا کسی کی اٹھا کے لائے ہیں۔ کیا ان ماں باپ کا خون سفید ہو گیا ہے، کہ وہ موسمی اثرات کی پروا کیے بغیر اپنی اولاد کے ساتھ یہ سب کرتے ہیں؟ انسان کسی انسان کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتا، جب تک اس کی حقیقت جان لے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ گاڑیوں کے شیشوں پہ وائپر لگانے سے چائلڈ لیبر تک اور بھیک مانگنے کی نوبت تک قوم کے ان نونہالوں اور درخشندہ ستاروں کو یہاں تک پہنچانے میں کس کا ہاتھ ہے؟ ان کے خوابوں کو چکنا چور کرنے میں ان کے ہاتھوں میں کھلونے کی جگہ کشکول تھما دینے میں، ان کی آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرنے میں، ان کے کندھوں پر کتابوں کے بستے کی جگہ، بوریا رکھنے میں، ان کو پارکوں اور گراؤنڈ میں کھیلنے کے بجائے بھکاری بنانے میں، ان کے مستقبل کو تاریک بنانے میں، اور ان کو اس مقام تک لانے میں کس کا ہاتھ ہے؟

کیا ہم خود اس جرم میں برابر کے شریک ہیں؟ یا وہ لوگ جو ہمارے ملک پر قابض ہیں جن کی اپنی اولادیں آکسفورڈ، کنساس اور یورپ کے اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھتی ہیں اور اس ملک کے عوام بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ یا ذمہ دار ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، جو چائلڈ لیبر کے خلاف سرگرم نہیں ہیں؟ یا ہماری حکومت ہے، جو روزگار کے مساوی مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گی ہے۔ تعلیم کسی بھی بچے کا بنیادی حق ہے اور ریاست کو یہ حق ضرور دینا چاہیے۔ اس کے لیے میں موجودہ حکومت سے درخواست کروں گا، کہ کم سے کم ایسی پالیسیاں مرتب کریں، جس میں چائلڈ لیبر کا قانون مضبوط ہو، اس پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے۔

تعلیم ہر پاکستانی کے لیے لازمی ہو۔ ایسے بچے جو تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، ان کے لیے مفت تعلیم اور وظائف مقرر کیے جائیں۔ ایسے ٹیکنیکل تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے، جو نادار طلبا کو تعلیم کے ساتھ ہنر مند بھی بنا سکیں۔ بچوں کی جبری مشقت کا خاتمہ کیا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

جو عناصر گروہ یا مافیا بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے مجبور کرتے ہیں، ان کو بے نقاب کر کے، ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ گداگری کرتے ہیں، ان کو مناسب کام دیا جائے اور ان کی مالی معاونت کی جائے۔ بچوں کو گداگری سے روکا جائے اور ان کے خاندان کو اس کے بدلے کوئی مناسب نوکری یا کام دیا جائے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ جتنی کوشش بچوں کی تعلیم اور تربیت پر کریں گے، اتنا ہی ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گام زن ہو گا۔ یقین کیجیے یہ بچے اس ملک کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں، بشرط یہ کہ اس اثاثے کو ہم محفوظ کر سکیں۔ ان بچوں میں بہت سی صلاحیتیں موجود ہیں، اگر ان کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ہم یقینا اس قوم اور ملک سے زیادتی کریں گے۔ اللہ کرے اس ملک میں ایک مثبت تبدیلی آئے، تعلیم کی دولت عام ہو ہماری قوم کا مستقبل گداگر بننے کے بجائے ایک عظیم سائنسدان بزنس مین، دانشور بن کر اس ملک کا نام روشن کریں۔ آمین!

Facebook Comments HS