ماں اور خدا
چھوٹے بہن بھائی ایک ایک کر کے ٹھکانے لگتے گئے اور پھر باری آئی کلن اور میری شادی کی کلن کی اماں نے سبزی کی ریڑھی لگا دی تھی۔ ماں بڑے چاؤ سے ہمارے لئے دلہنیں لائی۔ وقت گزر رہا تھا ماں سویرے اٹھ کر گھر کا کام نبٹاتی اور کام کو چلی جاتی۔ گھر میں آج تک سوائے بانو کے کسی اور کو معلوم نہ تھا کہ اماں کے ساتھ کلام کیوں نہیں کرتا اماں مجھ سے کوئی چودہ برس بڑی ہوگی۔ تیرواں سن لگاتھا اماں کی شادی ہو گئی تھی ابا سے۔ اور پہلے ہی سال پیدا ہوا تھا۔ ابا دس سال اماں کے ساتھ رہے اور اجل نے انہیں آن لیا۔ گھر اپنا تھا۔ کلن اور میں گھر کا بٹوارہ چاہتے تھے۔ اماں اس کے سخت خلاف تھی۔ اماں زندہ تھی اور مزاحمت کر رہی تھی مگر ہم بھائیوں نے بٹوارہ کر لیا۔
اب اماں سے فیکٹری کا کام نہیں ہو پا رہا تھا۔ ہم دونوں بھائیوں کے اپنے اپنے بال بچے تھے۔ بہنوں کو سسرال میں رچنا بسنا تھا۔ اب ماں نے بہوؤں کے ہاتھ سے لے کر کھانا تھا۔ ایک دن اماں کو سر شام ہی بھوک لگی اور اس نے بہو سے روٹی مانگی میری بیوی اور کلن کی بیوی نے ہم بھائیوں سے شکایت کی۔ ہم دونوں بھائیوں نے اماں سے کہا کہ ویسے تو بیمار ہے اور روٹی کتنی بار کھاتی ہے اس کے بعد اماں نے بچوں کو قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔ کچھ رقم کا ہدیہ مل جاتا تھا۔ اماں کی خوددار طبیعت ہمارے لئے عافیت بنی۔ اپنا پکاتی کھا لیتی اور کسی بچے کے ہاتھ میں 10، 5روپے بھی ماہانہ رکھ دیتی۔
ہاں تو مکان کا بٹوارہ ہو گیا۔ میں نے کلن کو پیسے چکا دیے اور اماں کا ہاتھ بھی، کلن نے صاف انکار کر دیا۔ دونوں بھائیوں میں تکرار ہوگئی کہ اماں کو کون رکھے گا ماں نے چپ سادھ رکھی تھی فیصلے کی منتظر تھی کہ کون اُسے چھت دے گا کہ میرا پارہ اوپر ہو گیا۔ میں چلا کر بولا حکیم کی محبوبہ کے لئے میرے پاس کوئی جگہ نہیں۔ کلن کے سامنے یہ بات کہنا تھی کہ اماں غش کھا کر گر گئی۔ ایسی گری کہ آدھا دھڑ بیکار ہو گیا۔ اماں کھاٹ سے لگ گئی۔
ذرا جو بول پائی تو ایک بار کہا صدا سکھی رہو۔ اماں کے ہوتے سکھ کہاں تھا۔ کھاٹ پر پڑی کا گند صاف کرنا نسرین کو گراں گزرتا۔ دو تین بعد غلاظت صاف ہوتی۔ بالوں میں جوئیں تھیں کہ بستر پر رینگتی۔ ماسی مسترانی جو ہمسائی تھی وہ آ کر دو تین دن بعد اماں کی صفائی ستھرائی کر جاتی۔ اماں کو کھانا اور پانی کم دیتے تھے ہم کہ غذا ہاضمے کے بعد فضلے میں بدل جاتی تھی۔
اب میں 15سال کا نہیں 45 سال کا مرد تھا۔ اماں ہر وقت قدرے حرکت میں آنے والے ہاتھ سے آسمان کی جانب انگلی اٹھاتی تھی اور اپنی ویران آنکھوں کو بند کر لیتی تھی۔ لب ہلتے رہتے تھے۔
جس وقت میں مرا تو اماں کی چارپائی کے پاس آکر ڈھ گیا۔ اماں کے بدن میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ میں ماں کے اور قریب ہو گیا سوچا آج سنتا ہوں ماں کیا بڑبڑا رہی ہے میں نے فیصلہ جو کرنا تھا کہ دوبارہ جنم لوں یا مرا پڑا رہوں۔ ماں کے ہلتے لبوں میں دعا تھی یا اللہ میرے بچوں کو سُکھی رکھنا۔ بس ربا یہ مان لے ماں کی فریاد ہے۔
کوئی شکوہ حسرت کوئی سپنا نہیں تھا ماں کی آنکھوں میں۔ مگر ایک دعا تھی جس نے میری مشکل آسان کر دی۔ میں اب کسی فیصلے کی دوری پر نہیں ہوں۔ کہ اس قابل میں ہوں ہی کہاں کہ کوئی فیصلہ کروں۔ فیصلے اونچے لوگ کیا کرتے ہیں میرے جیسے نیچ لوگ نہیں۔ دوبارہ جنم لینا بس ماؤں کا ہی کام ہے۔ میری ماں چاہتی تو جیسے میری بیوی اپنی زندگی خود گزارنا چا ہ رہی ہے گزار لیتی مگر اس نے اولاد کے ہاتھوں سینکڑوں بار مر مر کر دوبارہ جنم لیا تاکہ ہم بھرپور زندگی گزار یں۔ وہ مرتی رہی جیتی رہی مرنے کے بعد مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ ایک عدالت لگی ہوئی ہے دنیا میں ہی میری ماں نے مجھے معاف کر دیا تھا ہمیشہ۔ پر خدا؟ اس عدالت کا فیصلہ خدا نے کرنا ہے اور میرے خدا نے ایک ماں کی ہتک معاف نہیں کی۔
میری ماں مجھ سے بے تحاشا پیار کرتی ہے۔ تبھی تو سالوں بعد آج اس کی خالی آنکھوں میں نے اپنی مرگ پر آنسو دیکھے۔ ٹوٹے پھوٹے ادھورے لفظوں میں کلن، بانو، گڑیا، منی اور میرے نام کا کلمہ پڑھتے ہوئے اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ خدا بڑا غیور ہے جیسی موت ہم بچوں نے ماں کو مارا وہی موت ہمارے دورازوں پر کھڑی ہے۔ آج مجھے سزائے موت ہوئی ہے کل باقیوں کو ہو گی۔ ہر ماں سے میری سزا برداشت نہیں ہوئی۔ آج اس کا ضبط ٹوٹ گیا اس کا دل بند ہو گیا وہ سانس لینا بھول گئی میری مرگِ ناگہاں پر۔

