ماں اور خدا
ابھی؛ کچھ دیر پہلے، میں مر گیا ہوں۔
کچھ زور اُس نے لگایا، گاڑی کچھ میں نے کھینچی۔
آج بھی لہو بیچ کر آیا تھا، کہ اک اور شب کی گزر ہو پاے۔
بیوی بولی، تھک گئی ہے۔ اب اپنا جیون چاہتی ہے۔ اپنی مرضی سے رہنا چاہتی ہے؛ میرا لہو تو بک چکا تھا، سو لفظ حلق میں سوکھے پڑے ہیں۔
پھر میرے جیون کا کیا؟ ‘ (پہلا پیرا: بشکریہ ظفرعمران)۔
بیٹے نے چھوٹی بہن کو مارا، میں نے جو روکنا چاہا، اس نے میرا ہاتھ جھٹک ڈالا۔ مانو! میں تو مر گیا ہوں۔
اُدھر بستر پر بوڑھی ماں چپ چاپ پڑی ہے۔ میں پاس گیا، تو دیکھا؛ اُس کی آنکھیں خالی ہیں۔ نہ کوئی سپنا، نہ کوئی حسرت۔ بس وہ بے حس پڑی ہے۔ میں نے سوچا، یہ بدن اب تک کیوں کر زندہ ہے۔
مجھ کو وہ دن یاد آیا، جب میں نے سالن کی تھالی دیوار پہ دے ماری تھی۔ اس کے بعد جو ماں کو دیکھا، اس کی آنکھیں بجھ چکی تھیں۔ تھالی کے ٹکڑوں کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں کے سب سپنے کرچی کرچی بکھر گئے تھے۔
اب مجھ کو لگتا ہے، میری ماں اس دن پہلی بار مری ہوگی۔
اس کے بعد سے اک نحیف بدن میں، نہ جانے کتنے جنم لیے ہوں گے۔
میں تو ابھی ابھی مرا ہوں۔
بیوی اپنا جیون چاہتی ہے؛ بیٹا اپنی من مرضی کرتا ہے؛ تو میرے جیون کا کیا؟
ابھی؛ کچھ دیر پہلے، میں مر گیا ہوں۔
دوجا جنم لوں، یا مرا پڑا رہوں؟
اک فیصلے کی دوری پہ ہوں۔ فی الحال تو اتنی خبر ہے، ابھی ابھی میں مر گیا ہوں۔
اور میری لاش کو دفتانا باقی ہے۔ مگر یہ کرے گا کون، شاید کوئی نہیں اور آج کی رات بہت بھاری ہے ڈر رہا ہوں کوئی بدروح نہ حلول کر جائے مجھ میں کہ میری نعش کے سرہانے کوئی سورۃ بقرہ پڑھنے کے لئے بھی نہیں اور صبح تک تو میت بدبو چھوڑنے لگے گی دوسرا جنم، اس کے بارے میں میں سوچ رہا ہوں لے لوں مگر میں کوئی ماں تو نہیں ہوں کہ اتنا حوصلہ جُٹا پاؤں۔ ایک بار پھر زندہ ہونے کا اور پھر سے سفر شروع کرنے کا۔ نئے سرے سے خود کو خود جلانا پڑتا ہے نہ قدرت ہاتھ بٹاتی ہے نہ ماں ہی زور لگاتی ہے اور خود کووہیں سے زندگی کی ابتداء کرنا پڑتی ہے جہاں موت ہوئی ہو۔ یہ مرحلے اکیلے طے کرنے کا خیال ہی روح کرتا ہے۔
ہاں میری ماں زندہ ہے وہ سانس لے رہی ہے۔ کئی بار مرنے کے باوجود وہ سانس لے رہی ہے کئی جنم لئے ہیں اس نے کبھی میں نے اسے مار ڈالا تو بلکہ نہیں ہر بار ہی میں نے اسے مارا۔ وہ جب تھالی دیوار میں ماری تھی تب 15برس کا تھا میں ماں سے گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا تھا۔ 800 روپے مزدوری لیتی تھی ماہانہ فیکٹری سے اور خرچ پورا نہیں پڑتا تھا۔ فیکٹری سے آکر گوشت پکایا تھا اُس نے اس دن۔ میں سب سے بڑا تھا چھوٹی بہن کئی دن سے گوشت للچا رہی تھی۔ آج اُس سے رہا نہیں گیا تو وہ ہنڈیا سے دو بوٹیاں چرا کر کھا گئی۔ میرے حصے میں ایک ہڈی زیادہ اور گوشت کم والی بوٹی آئی۔ پاؤ بھر گوشت میں دم ہی کتنا تھا۔ 6 بہن بھائی تھے۔ میں نے اماں سے سوال کیا کہ گوشت کہاں سے آگیا آج گھر میں اماں بولی صدقے کا ہے۔ فیکٹری مالک نے دیا ہے۔
بس یہ سن کر میں طیش میں آگیا اور کہہ دیا 800 کماتی ہے اور کھلاتی صدقے کا گوشت ہے۔ اور تھالی دیوار پر دے ماری ماں خاموشی سے اٹھی اور اندر سے بچے ہوئے 200 میری مٹھی میں تھما دیے کہ بیٹا تو خرچہ دیکھنا میں اب سے تنخواہ تیری ہتھیلی پر پوری دھر دیا کروں گی۔ مگر میرے لال ناراض نہ ہو۔ منت کر کے ماں نے مجھے روٹی کھلائی اور میں نے دیکھا ماں مجھے روٹی کھلا کر اندر جا کر کعبہ کے فوٹو سے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی۔ جب واپس نکلی تو آنکھوں میں دیے روشن تھے۔ جیسے اس کو نئی زندگی ملی ہو۔ کوئی بہت اپنا مل گیا ہو۔
دو ہی ہفتے میں اگلے ماہ کی تنخواہ خرچ ہو چکی تھی اور منی اور کلن کو خسرہ نکل آیا تھا۔ مگر جیب میں دھیلا نہیں تھا۔ جی پھر کے میں نے ماں کو کوستے ہوئے کہاکہ یہ فوج کیوں پیدا کی۔ ماں نے آسمان کی طرف دیکھا کچھ بولے بغیر باہر نکل گئی۔ واپس آئی تو مغرب ڈھل کر عشاء ہو چکی تھی۔ ہاتھ میں دوا کی بوتل تھی اور موتیے کے پھول۔ حکیم کے ہاں سے آئی تھی۔ پھولوں کی مہک سے میرا دماغ سن ہو رہا تھا اور میں نے اُسے کہہ دیا کہ ابا مر گیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے کہ حکیم سے یار ی گانٹھ لے گی تو۔ ماں نے وہ پھول بچوں کے سرہانے رکھ کر دوا پلائی اور وہیں چار پائی کے پائے کے ساتھ جیسے ڈھے گئی۔
پھولوں کی مہک اور ماں کے میرے دماغ میں سن سن کر رہے تھے۔ ماں کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹا اور نکل جانے کو کہا۔ ماں نے جن نظروں سے مجھے دیکھا وہ نظریں مجھ سے برداشت نہیں ہوئیں۔ شکست شرمندگی اور التجا تھی اُن آنکھوں میں۔ اُس رات اپنی مرگ پر ماں بہت روئی تھی اتنا روئی تھی کہ اگر سارے شہر کے آنسو اکٹھے کرو کسی ایک مرگ پر تو وہ بھی کم پڑ جائیں۔ صبح تڑکے وہ میرے سرہانے کھڑی اللہ پاک سے کچھ کہہ رہی تھی۔ اس کی بڑبڑاہٹ میں میرے اللہ پاک کی صدا ہی سمجھ میں آئی تھی۔
اس نے مجھے ماتھے پر بوسا دیا اور اپنے وجود کو گھسیٹ کر کام پر چلی گئی واپسی پر 100روپے اس نے میری ہتھیلی پر رکھے کہہ رہی تھی مالک سے ایڈوانس لائی ہے۔ میں نے وہ نوٹ پرے پھینکتے ہوئے کہا کہ اپنی کمائی اپنے پاس رکھ۔
جب 8 جماعتیں پڑھ چکا تو خود کمانے لگا، بانو کی شادی طے ہو گئی تھی چار ماہ کے بعد وہ سسرال رخصت ہوئی تو ماں کی آنکھوں میں دیے جل رہے تھے۔ پان کا کھوکھا تھا اس کے میاں کا۔ ماں نے بھی دینے میں کوئی کسر نہیں رکھی۔ دو چارپائی، دو بستر، 4 جوڑے، چاندی کی چھاپ، 6 پلیٹیں، دیگچی، توا، گلاس، آٹا گوندھنے کو تھال دیا تھا۔ ماں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے اس سے بے خبر تھا مگر ایک زہر سا بھر گیا تھا دل میں۔ ایک لاوا ابلتا رہتا دماغ میں اماں کو لے کر۔
بانو نے بھی اپنے گھر کی ہونے کے بعد اس گھر میں آنا چھوڑ دیا تھا۔ اماں تو رہ اس جہنم میں، میں نہیں آؤں گی اب۔ ایک اور پھل پک کر اماں کی شاخ سے جدا ہو گیا۔ میں نے پائی پائی کمائی کی جمع کی۔ چوکیداری کی نوکری سے 300 ماہوار ملتے تھے جب سے نوکری شروع کی تھی نہ اماں کو ایک دھیلا دیا تھا نہ اماں سے بات کی تھی۔ رات کی روٹی اور صبح کا ناشتہ مالک دیتے تھے۔ دوپہر کو اماں کے ہاتھ کا کھاتا تو اماں کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگتیں۔ وہ مجھ سے کچھ نہیں مانگتی تھی پیاربھی نہیں۔ مگر آج لگتا ہے کہ ایک حسرت اس کے چہرے پر صاف دکھائی دیتی تھی جسے میں نے ہمیشہ نظر انداز کیا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


