13 جولائی اور 13 اگست
سیاست عوامی خدمت کا نام ہے مگر کسی نے خوب کہا ہے سیاست بڑی ظالم ہوتی ہے۔ اس میں اقتدار اور اختیار کی خواہش رشتوں کا لحاظ نہیں رکھتی۔
نواز شریف گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ شاید ان سے زیادہ کسی بھی پاکستانی کے علم میں ہے۔ تیسری بار اقتدار سے ہٹائے جانے کے تازہ ترین عمل پر بہت بات ہوچکی، نواز شریف سے روا رکھے جانے والا سلوک بھی میڈیا کے توسط سے سب جانتے ہیں۔ ان کی جماعت کہاں کھڑی ہے اور ان کے بھائی سمیت قیادت کیا سوچ اور قدم اٹھا رہی ہے یہ الیکشن کے دوران اور اس کے بعد اب تک واضح نہیں ہو پارہا۔ اگر اختلافات ہیں تو کسی عمل سے انکار کی صورت دکھائی دینے چاہئیں۔
نوازشریف 13 جولائی کو لندن سے بیٹی کے ہمراہ واپس آئے اس وقت یہ قدم بہت زیادہ سیاسی اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا تھا ان کے استقبال کو لے کر پہلے ایسا تاثر دیا گیا کہ نگران حکومت بلکہ ایسٹبلشمنٹ نے رکاوٹیں کھڑی کردیں ورنہ لاکھوں افراد نے ایئرپورٹ پہنچ کر اپنے قائد اور دلوں کے وزیراعظم کا والہانہ استقبال کرنا تھا۔ کئی تجزیہ کاروں نے اس دن لاکھوں افراد بتا بھی دیے تھے۔ اس روز جنہوں نے کھلی آنکھوں سے یہ سب باہر نکل کر دیکھا انہیں کچھ نہیں، کافی اندازہ ہوگیا تھا۔
الیکشن سے پہلے ہی انہیں تجزیہ کاروں میں سے چند ایک نے کچھ اس طرح اعتراف کرلیا کہ شہباز شریف اگر ایئرپورٹ کا رُخ کرلیتے تو انتخابی مہم کا رُخ بھی کسی اور جانب ہوتا۔ نتائج اس سے مختلف ہوتے۔ بہرحال رزلٹ آنے کے بعد کی صورتحال میں بھی احتجاج اور دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کا عمل کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ پارٹی کے ہارنے والے فطری طور پر مایوس تھے لیکن جیتنے والوں کے ساتھ بھی کوئی کھڑا دکھائی نہ دیا۔ اگر دوسری طرح بات کریں تو وہ خود کو کسی کے پیچھے کھڑا نہیں پا رہے تھے۔
اڈیالہ میں قید کاٹنے والے پارٹی کے حقیقی قائد کی صحت پر سب کو تشویش تھی، لیکن کتنے جیل یا پمز ہسپتال کے باہر بھی گئے۔ دلوں کے وزیراعظم کا حال جانے کے بجائے انہیں اپنے دل میں رکھ کر شاید بھول گئے۔ قیادت نے بھی 13 جولائی کے بعد اپنے فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس نہ کی۔ بظاہر تاثر یہی دیا جارہا تھا کہ جیل سے ہدایات لی جارہی ہیں۔ لیکن شہباز شریف کہیں ایسا کرتے دکھائی کم ہی دیے۔ 13 اگست کو اسمبلی میں حلف اٹھانے گئے انہیں معلوم تھا اسی وقت قائد کو جیل سے عدالت لایا جانا ہے، باقی رہنما سینیٹر، ملک بھر کے عہدیدار تو فارغ تھے۔ کوئی عدالت نہ پہنچا، نواز شریف کو بکتر بند گاڑی میں لانے کا علم بھی میڈیا کے ذریعے لیگی قیادت کو ہوا، شام کو پارلیمانی پارٹی کے کھانے نما اجلاس میں چند ایک نے شہباز شریف سے احتجاج کیا کہ پارٹی کو اسمبلی کے اندر اور باہر اس پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ جس دباؤ کو دیکھنے شہباز شریف نے بار بار مذمت کی۔
اپوزیشن اتحاد میں بڑی جماعت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے سے رابطوں کا فقدان ہے۔ تحریک انصاف نے حکومت بننے سے پہلے اپوزیشن کو اخلاقی طور پر کمزور قرار دے دیا۔ اور یہ بات ثابت بھی ہوگئی۔ 13 اگست کی کارروائی نے پارٹی کے اندرونی خدوخال مزید نمایاں کرکے رکھ دیے۔ ایسی جماعت جس نے اسٹیبلشمنٹ سے اصولوں کی بنیاد پر ٹکر لے رکھی ہے، جمہوری قوتیں اور انصاف پسند طبقات اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ انہیں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی دیکھ کر مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔
مسلم لیگ ن الیکشن نتائج میں اتنی بُری شکست سے دوچار نہیں ہوئی جتنی حکومت سازی کے عمل کے دوران اپنی حکمت عملی میں دکھائی دی۔ نواز شریف کی شخصیت اب بھی اتنی مضبوط ہے کہ اسے کمزور کرنے کے لئے کئی ذھن کام کررہے ہیں لیکن ان کی غیر حاضری میں ان کی پارٹی کو درست انداز میں چلانے والے ذھن شاید ماؤف ہوگئے ہیں۔ حکمت عملی کے بجائے مصلحت پسندی اپنا لی ہے۔ مسلم لیگی قیادت ایوان میں تنہائی کا شکار دکھائی دینے لگی ہے۔ نواز شریف کو بھی احساس ہوگیا ہوگا کہ اس بار بھی قدم بڑھانے پر کوئی پیچھے دکھائی نہیں دے گا تو شہباز شریف بھی مخمصے کا شکار ہیں کہ کیا ایسا کریں کہ پارٹی ان کا ساتھ دے۔ بہرحال 13 جولائی اور 13 اگست نے پارٹی کی سیاست کو کھول کر رکھ دیا ہے۔


