اپوزیشن منتشر ہے، جمہوریت صبر طلب ہے اور زاد راہ موجود نہیں


قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد اپوزیشن کے نام نہاد اتحاد میں دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ متحدہ اپوزیشن کے فیصلہ کے برعکس شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم حمایت نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف غیر واضح اور سیاسی بددیانتی پر استوار ہے تو مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف بھی وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے بہر صورت اقتدار کا تھوڑا بہت حصہ حاصل کرنے کے لئے کاشت کرنے کی کوشش کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پہلےاپوزیشن کی آل پارٹی کانفرنس میں اس اصول سے اتفاق کیا تھا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) وزیر اعظم کا امیدوار لائے گی، پیپلز پارٹی اسپیکر کی نشست پر مقابلہ کرے گی اور ایم ایم اے کا امیدوار ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر تحریک انصاف کا مد مقابل ہوگا۔

اسپیکر کے انتخاب سے پہلے اگرچہ یہ اشارے آنا شروع ہو گئےتھے کہ پیپلزپارٹی کو شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر اعتراض ہے اور وہ مسلم لیگ (ن) کو شہباز کی بجائے کسی دوسرے امیدوار کو کھڑا کرنے کا مشورہ دے گی۔ تاہم اس مؤقف کا کھل کر اظہار نہیں کیا گیا اور خورشید شار کے بطور اسپیکر مقابلہ تک پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے امید وار کی حمایت کرنے سے صاف انکار نہیں کیا تھا۔ اس حکمت عملی کا مقصد اپنے امیدوار کے لئے حمایت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو انکار کرنا تھا۔ البتہ اس طرز عمل سے اپوزیشن کی صفوں میں جو انتشار اور بد اعتمادی پیدا ہوئی اس کی وجہ سے خورشید شاہ کی کامیابی کا امکان بہت پہلے ختم ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے اس سیاسی کنفیوژن کو جاری رکھنے سے گریز نہیں کیا۔

گزشتہ ہفتہ عشرہ کے دوران رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی روشنی میں اس بات کا امکان ختم ہو چکا تھا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو تحریک انصاف کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی کامیابی مل سکتی۔ اس دوران تحریک انصاف کے لئے راستہ ہموار کرنے والی طاقتوں کی سرگرمی بھی اپنی جگہ پر موجود رہی ہے لیکن اپوزیشن نے بھی سیاسی مسائل کے حل اور جمہوریت کی بنیاد پر پالیسی اختیار کرنے کی بجائے جوڑ توڑ اور خاندانی سیاست کو ترجیح دی۔ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے لئے حمزہ شہباز سے بہتر امیدوار ملنا محال تھا اور قومی اسمبلی میں شہباز شریف خود اپنے علاوہ کسی کو وزارت عظمی کا اہل سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الر حمان نے بھی ایم ایم اے کی طرف سے کسی دوسرے رکن کو موقع دینے کی بجائے اپنے ہی صاحبزادے کو ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار بنانا ضروری سمجھا۔ اس سےاپوزیشن میں انتشار بھی بڑھا اور عام لوگوں میں ان جہاں دیدہ سیاسی شخصیات اور تجربہ کار سیاسی پارٹیوں کے بارے میں منفی رویہ بھی مزید راسخ ہؤا۔ اپوزیشن کے سیاسی ہتھکنڈوں سے تحریک انصاف اور اس کی سرپرستی کرنے والی قوتوں کا کام آسان کردیا۔ اب تک سامنے آنے والی تصویر سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ ملک میں سیاست اقتدار اور اختیار کے لئے کی جاتی ہے اور کوئی شخص یا خاندان ملک میں عوامی حکمرانی کے بنیادی اصول کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس لئے یہ تعجب کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ مختلف شخصیات اور خاندان مختلف پارٹیوں پر تسلط کے ذریعے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کی خواہش و کوشش میں جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی بدحواسی قابل فہم ہے۔ اسے سندھ میں اقتدار ضرور مل گیا ہے لیکن قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے مقابلے میں اس نے مسلم لیگ (ن) کےساتھ مل کر ایک مضبوط اپوزیشن بنانے کی بات کی تھی۔ اس طرح یہ امید کی جا رہی تھی کہ قومی سطح پر مثبت اور اصولی سیاسی مؤقف سامنے آ سکے گا اور تحریک انصاف کی حکومت پر مناسب چیک و بیلنس کی صحت مند روایت فروغ پا سکے گی۔ اسی طرح جب حکومت کو اسٹبلشمنٹ کے عتاب کی وجہ سے پارلیمنٹ میں حمایت کی ضرورت ہوگی تو ماضی میں اس تکلیف دہ تجربہ سے گزرنےوالی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں تحریک انصاف کا ساتھ دیں گی۔ اس طرح ملک میں سہ پارٹی سیاسی نظام استوار ہو سکے گا جو پارلیمانی طرز حکومت میں دو نمایاں پارٹیوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ اس طرح ان پارٹیوں پر افہام و تفہیم کے ذریعے باریاں لینے کا الزام بھی نہ لگتا اور عوام کے پاس بھی سیاسی آپشن موجود رہتا ہے تاکہ مختلف پارٹیاں انتخابی وعدوں کے مطابق پالیسیاں بنانےاور حکومت کرنے کی پابند رہیں۔ دوسری طرف تین بڑی سیاسی قوتوں کے جمہوری اصولوں پر اتفاق اور پارلیمنٹ کے اندر تعاون کی روایت کے باعث ان اداروں کو بھی کان ہو جاتے جو ملک کی پالیسیوں کو مرضی کے مطابق طے کروانے کے عادی ہوچکے ہیں اور سیاست دانوں کو انگلیوں پر نچاتے ہیں۔

ابھی جمہوریت کے حامی اور ملک کی سیاسی پارٹیوں کو خود مختار دیکھنے کے خواہاں عناصر پارلیمنٹ میں بین الجماعتی اتحاد و اشتراک کے ذریعے عوامی حکمرانی کے اصول کو مستحکم ہوتا دیکھنے کی امید ہی کررہے تھے کہ اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کی خود پسندی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے ملک ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جس میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہی نشانے پر ہے۔ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے علاوہ زرداری کے قریبی دوستوں کے خلاف آئین کی شق 184 (3) کے تحت سپریم کورٹ کی گرم جوشی پیپلز پارٹی کی قیادت دفاعی پوزیشن پر جانے اور ذاتی مفاد کو سیاسی اصول پر ترجیح دینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ اس طرح یہ شبہ یقین میں تبدیل ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کے درپردہ محافظ کا کردار ادا کرنے پر مجبور رہے گی۔ البتہ جس دن تحریک انصاف کے وزیر اعظم نے اپنا اختیار مانگنے کی خواہش ظاہر کی یا ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جو پوری دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کا سبب بنی ہوئی ہیں لیکن ملک کی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کےاندازوں کے مطابق ملک کے بہترین مفادمیں ہیں۔۔۔ اس دن پیپلز پارٹی ہی تحریک انصاف کے زوال میں مہرے کے طور پر استعمال ہوگی۔

شہباز شریف بطور سیاست دان مکمل طور سے ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے نہ تو اہل ہیں اور نہ اس کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ مسلم لیگ (ن) کو ملنے والی کامیابی کو اپنی ذاتی اور اپنے صاحبزادے کی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی دھن میں ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ ایک ایسے موقع پر جب پارٹی کے قائد اور بانی نواز شریف قید میں ہیں، مسلم لیگ (ن) کو خاندانی لمیٹڈ کمپنی بنانے کی بجائے ایک متحرک سیاسی قوت بنانے کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ (ن) کو تمام تر مخالفت اور انتخابی عمل کے دوران حائل دشواریوں کے باوجود قابل ذکر سیاسی قوت حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں 82 اور پنجاب اسمبلی میں 164 ارکان پارٹی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس سیاسی قوت کے ساتھ پارٹی اپوزیشن کا اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن شہباز شریف ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کو اپنانے اور ملک میں جمہوری کلچر کے فروغ کے لئے کام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ شہباز شریف، نواز شریف اور مریم نواز کی قید، انتخابات میں پیش آنے والی مشکلات، گزشتہ ایک برس کے دوران مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے راستے میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں اور اس واضح پیغام کے باوجود کہ اب شریف خاندان سیاسی حقیقت کے طور قابل قبول نہیں ہے، ایک ذمہ دار سیاست دان کے طور پر پارٹی کو منظم کرنے، سیاسی نقطہ نظر واضح کرنے اور اسمبلیوں میں مثبت اور بامقصد سیاست کی روایت قائم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کے ساتھ جو طریقہ کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے، اب اسے مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف اس عمل میں خود ہی پارٹی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا سیاسی مؤقف کمزور اور طریقہ کار غیر عوامی ہے۔ وہ اب بھی مل جل کر چلنے اور طاقت ور اداروں کے چہیتے بننا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ اسٹیٹس حاصل کرنے کے لئے وہ بھائی سے راستہ علیحدہ کرنے کی قربانی دینے کا حوصلہ نہیں کرسکے۔ ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ وہ بھائی کا دکھایا ہؤا سیاسی راستہ اختیار کریں یا اس سچ کو قبول کرلیں کہ مشکلات کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو جو کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ نواز شریف کے بیانیہ ہی کی بدولت مل سکی ہے۔ نواز شریف نے پارٹی میں اپنی میراث (Legacy) کی حفاظت کے لئے بھائی کا انتخاب کیا تھا لیکن وہ بھائی خود نواز شریف ہی کی سیاست کو دفنانے میں مصروف ہے۔ شہباز شریف کی خواہش ہے کہ وہ بھائی کی سیاسی وراثت کو اپنے بیٹے کے نام منتقل کرسکیں۔ اس کوشش میں شہباز شریف کو پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ملنے والی سیاسی ہزیمت بھی راستہ درست کرنے میں معاون نہیں ہو سکی۔ شہباز شریف نے یہ سیاسی طریقہ تبدیل نہ کیا یا مسلم لیگ (ن) کی قیادت کسی بہتر اور سیاسی طور سے مستعد فرد کے ہاتھ میں نہ دی گئی تو نواز شریف کے رہا ہونے تک مسلم لیگ (ن) نام کی سیاسی پارٹی کا وجود ختم ہو جائے گا۔

ملک کی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کی اقتدار کے لئے لگن اور جدوجہد کے نتیجہ میں اس وقت غیر جمہوری ادارے بے حد طاقتور ہیں اور سیاسی لیڈر کٹھ پتلیوں کی طرح تھرکنے پر آمادہ و تیار ہیں۔ ملک کا میڈیا پابند اور عدالتیں سو موٹو کی اسیر ہیں۔ جمہوریت کا سفر طویل اور جان گسل ہے لیکن قوم کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali