عیدِ قرباں، موسمی قصابوں اور غلط عمومی رویّوں سے چھٹکارے کا شاندار موقع


اِس بات میں کوئی شُبہ نہیں کہ چھوٹی عید پر نائی اور بڑی عید پر قصاب مشکل سے ہی ملتا ہے۔ عیدالاضحٰی پر قصاب کا مِل جانا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔ آپ سب کو ایک واقعہ سناتا ہوں کہ ایک دوست نے کسی شخص سے کہا کہ مجھے عید پر قربانی کرنی ہے اور مجھے کوئی قصاب نہیں مل رہا۔ تمہاری نظر میں کوئی ایماندار اور ماہر قصاب ہے؟ اُس شخص نے کہا کہ پہلے تم اِس بات پر اکتفا کر لو کہ جو قصاب تمہیں چاہیے وہ ایماندار ہو یا ماہر؟ دوست نے کہا کہ آپ کوئی ایماندار قصاب ہی ڈھونڈ کر لا دو۔ اس شخص نے کہا کہ بے فکر ہو جاؤ، مل جائے گا۔ عید کا دن کا آگیا۔ قصاب دوست کے گھر پہنچ گیا۔

جانوروں کی قربانی کرنے کا وقت آیا تو اُس قصاب کے ہاتھ کانپنے لگ گئے۔ ایک جانور کی قربانی تو اُس نے جیسے تیسے کرلی۔ جِس دوران وہ ہر پانچ منٹ بعد پانی مانگتا رہا اور مسلسل وِرد کرتا رہا۔ اسی اثنٰی میں دوپہر کا وقت ہوگیا اور اُس نے کافی دیر کردی۔ اور ابھی مزید دو جانوروں کی قربانی ہونا باقی تھی۔ دوست نے غصے میں آکر قصاب کو واپس بھیج دیا۔ اُس شخص سے دوبارہ رابطہ کیا اور کوئی ماہر قصاب بھیجنے کا کہا۔ تھوڑی ہی دیر میں ماہر قصاب پہنچ گیا۔ اُس نے آتے ساتھ ہی یہ شرط رکھی کہ قربانی کے گوشت میں سے ایک حصہ اُس کا ہوگا۔ دوست یہ شرط ماننے پر مجبور ہوگیا کیونکہ اِس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک ہی ماہر قصاب ملا تھا اور وہ بھی بڑی مشکلوں سے۔ جانوروں کی قربانی کا کام شروع ہوگیا اور دو گھنٹے میں ہی کام انجام کو پہنچ گیا۔ جب گوشت کا وزن کرنے کا وقت آیا تو اُس نے چالاکی سے ایک سے زائد گوشت کا حصہ اپنے لیے رکھ لیا۔ اور قربانی کرنے کی اُجرت بھی دو گُنا زیادہ لے گیا۔

آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان اِس وقت ایک سو تین بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ ہمارے ہاں ماہرِ معاشیات تو بے دریغ ہیں۔ تمام کے تمام معاشیات کے حوالے سے ماہر تو ہوتے ہیں مگر ایماندار بالکل بھی نہیں۔ یہی بے ایمانی ہمارے مُلک پر دن بدن بڑھتے قرض کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اور اِس بے ایمانی کا نام کرپشن ہے۔ کرپشن مطلب کہ چوری۔ جس طرح قصاب نے اپنے مخصوص حصے سے زیادہ گوشت رکھ لیا۔ یعنی کہ اُس نے اپنے اُس کام میں چوری کہ جِس میں وہ ماہر ہے۔ ہمارے ہاں مہر اور ایماندار وزراء کی کمی کے باعث اِس وقت ہر پاکستانی کم و بیش چار لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ یہ تو آپ کی اپنی پرکھ ہے کہ آپ کتنا ماہر قصاب اپنے جانور کی قربانی کےلئے چُنتے ہیں یا کتنا اچھا راہنما جو کبھی بھی آپ کا نقصان نہ ہونے دے۔

عیدالاضحٰی کی آمد آمد ہے۔ ایک اچھے قصاب کے چناؤ کے علاوہ میں اِس عیدِ پر کچھ غلط عمومی رویّوں کی جانب بھی آپ کی توجہ چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ رشتوں میں موجود کڑواہٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں۔ برف ہر وقت ٹھنڈی کیوں رہتی ہے؟ اُسے پتہ ہے کہ اُس کا ماضی اور مستقبل دونوں پانی ہیں تو گرمی کس بات کی۔ اس طرح انسان کا بھی ماضی اور مستقبل مٹی ہے۔ تو پھر ایسا غرور کس لیے جو ایک دن خاک میں مل جائے گا۔ اِس عید قربانی کے جانوروں کے ساتھ ساتھ رشتوں میں موجود نفرتوں اور دوریوں کو بھی قربان کر دیجئے گا۔ اور ہاں بات بات پر مَیں مَیں کرنے والی اپنی اَنا کو بھی ساتھ ذبح کر دیجئے گا۔

ایک اور غلط رویّہ جو کہ عید کے اگلے دن یا عید کے بعد ملنے والے اپنے عزیز و اقارب سے روا رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے، ”قربانی کون سی تھی، چھوٹی یا بڑی؟ “ جس عزیز نے قربانی کی ہوگی وہ تو بڑے فخر سے آپ کو بتا دے گا۔ لیکن جو معاشی تنگدستی یا کسی اور وجہ سے قربانی نہ کر سکا اُس کے لئے ہمارا یہ سوال کس حد تک شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے یہ وہ اور اُس کا خدا ہی جانتا ہے۔ کیا خیال ہے اگر اس عید کے بعد کسی دوست یا عزیز سے قربانی کے متعلق سوال کرنے کی بجائے یہ پوچھ لیا جائے، ”عید کیسی گزری؟ “ اگر انہوں نے قربانی کی ہو اور وہ ذکر بھی کرنا چاہیں تو کر دیں گے۔ لیکن اگر کسی بھی وجہ سے قربانی نہ کر پائے ہوں تو بھی انہیں جواب دینے میں شرمندگی ہرگز نہ ہوگی۔ اگر وہ قربانی کا ذکر کریں تو پھر بڑی چھوٹی کا پوچھا جاسکتا ہے۔ کیا خیال ہے؟

ہر شخص کو اپنا ہی کام اچھا لگتا ہے۔ جس طرح قصاب صرف بکرا کاٹ سکتا ہے، آپریشن نہیں کرسکتا۔ قصاب اور ڈاکٹر میں فرق ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کو خیال کرنا چاہیے جو صرف پیسے کمانے کی خاطر موسمی قصاب بنے پھرتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے موسمی قصابوں کی نشاندہی کریں اور اُنہیں سبق سکھائیں۔ عیدِ قرباں ہم سب کے پاس موسمی قصابوں اور اپنے غلط عمومی رویّوں سے چھٹکارے کا شاندار موقع ہے۔ یاد رہے کہ ہمارا دین صرف گائے، دُنبے یا کسی اور جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ خواہش و آرام، غرور و تکبّر اور اَنا کی بھی قربانی مانگتا ہے۔ جو جانور کے ساتھ ساتھ ان رویّوں کو بھی ذبح کرے گا وہی اللہ کے زیادہ قریب ہوگا۔

Facebook Comments HS