کہ دن ہی کم تھے محبت میں فروری کی طرح

محبت ایک بہت ہی مضبوط اور خوبصورت جذبہ ہے۔ محبت ایک زبردست طاقت کا منبع ہونے کا ساتھ خوشی اور نقصان کا بھی باعث ہے۔ محبت ایک خاص جذبہ ہوتا ہے جو کہ صرف خاص لوگوں کے لئے ہوتا ہے۔ محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ محبت قربانیاں مانگتی ہے، کبھی روح کی، کبھی جان کی اور کبھی خواہشات کی۔ ہر سال 14 فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ کے نام سے محبت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی ابتداء 279 عیسوی کو ہوئی۔

اس دن کا آغاز رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے ہوا۔ سینٹ ویلنٹائن کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ قید کے دوران ہی اسے جیلر کی بیٹی سے عشق ہو گیا۔ جیلر کی بیٹی روز اس کے لئے پھول لاتی۔ جب بادشاہ کو یہ ماجرا پتا چلا تو اس نے ویلنٹائن کو پھانسی کی سزا دینے کا حکم سنا دیا۔ ویلنٹائن نے پھانسی پر چڑھنے سے پہلے جیلر کی بیٹی کو الوداعی خط لکھا۔ جس پر اس نے دستخط سے پہلے لکھا تھا، ”تمہارا ویلنٹائن“۔ اسی واقعہ کی یاد میں آج بھی یہ دن منایا جاتا ہے۔

Read more

آخرکب تک؟

جنت نظیر وادئِ کشمیر ایک عظیم ریاست اپنی دلکشی کے لیے مقبول نظر ہے۔ اس کی سرحد پاکستان سے سات سو کلومیٹر تک ملی ہوئی ہے۔ پاکستان اور کشمیر کے درمیان یہ تعلق نہ صرف سرحدی بلکہ مذہبی اور معاشرتی لحاظ سے بھی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ پاکستان کے چاروں دریا کشمیر سے نکلتے ہیں۔ بڑے سے بڑے لکھاری یا ادیب بھی وادئِ کشمیر کو دنیا کی جنت لکھے بغیر نہیں رہ سکے۔ اور بلاشبہ کشمیر جنت کا استعارہ ہے۔ دل کو موہ دینے والے وادی کے دلکش اور روح افزاء مناظر دیکھ کے یوں لگتا ہے کہ جیسے اللّہ تعالٰی نے بہشت بریں کو اتار کے پہاڑ کے دامن میں رکھ دیا ہو۔ لیکن بدقسمتی سے یہ وادی اور اس کے باسی غلامی کی سانس لے رہے ہیں۔

Read more

سانحہ پشاور، ہم نہیں بھول سکتے

سولہ دسمبر 2014 ء کا سورج طلوع ہوا تو اپنے ساتھ ان گنت غم لے کر آیا۔ کسی کو کیا خبر تھی کہ یہ دن ملک کی تاریخ میں ایک اور دلخراش سانحے کے طور پر لکھا جائے گا۔ یہ سورج طلوع ہوا تو اپنے ساتھ رنج اور دکھ لے کر آیا۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں نے پشاور کے حساس دلوں، پھول جیسے بچوں کو خون میں رنگ دیا تھا۔ ہر صاحبِ دل اس واقعے کو سوچ کر اشکبار ہوتا ہے۔ دہشتگردوں نے سکول میں گھس کر معصوم بچوں کو ایک ایک کر کے گولی ماری۔ یہ سفاکی کی انتہا تھی۔ ہر ایک ذہن اس سوچ میں مبتلا تھا کہ انسان اس حد تک بھی درندہ ہو سکتا ہے؟

Read more

استاد اور استادیاں

گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو لاہور کی جانب سے پنجاب کی بڑی جامعات کے رئیس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ جس عمل نے ایک نئی مگر اہم بحث کو جنم دے دیا کہ استاد کی عزت اور حرمت کیا ہے۔ اس بحث نے ہر ایک استاد کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا وہ معاشرے میں رائج کیے گئے اس عزت افزاء مقام کا حق رکھتا ہے، کیا وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ تو وہ اپنے ضمیر کی آواز سن کر احساسِ ندامت سے چکنا چور ہو گیا۔

Read more

توں بڑا استاد ایں

گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو لاہور کی جانب سے پنجاب کی بڑی جامعات کے رئیس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ جس عمل نے ایک نئی مگر اہم بحث کو جنم دے دیا کہ استاد کی عزت اور حرمت کیا ہے۔ اس بحث نے ہر ایک استاد کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا وہ معاشرے میں رائج کیے گئے اس عزت افزاء مقام کا حق رکھتا ہے، کیا وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ تو وہ اپنے ضمیر کی آواز سن کر احساسِ ندامت سے چکنا چور ہو گیا۔

معاشرہ چاہے مشرقی ہو یا مغربی استاد کا احترام ہر جگہ ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ تاہم مشرقی معاشرے بلخصوص اسلامی تہذیب میں استاد کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیوں کہ استاد لوگوں میں ابتدائی علمی صفات پیدا کرنے سے لے کر پروان چڑھانے تک کے عمل میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ بھی ہے یہاں پر تدریسی و تکنیکی تعلیم دینے والوں جیسے سکول، کالج، جامعہ میں پڑھانے والوں، موٹر مکینک، مستری و دیگر کام سکھانے والوں کے ساتھ ساتھ ایک استاد وہ بھی ہوتا ہے جس کے لئے سب کہتے ہیں، ”توں بڑا استاد ایں“۔

انسان ماں کی گود سے پہلا سبق حاصل کرتا ہے پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے لوگ پروان چڑھتے ہیں۔ سکولز سے کالجز، کالجز سے

Read more

عیدِ قرباں، موسمی قصابوں اور غلط عمومی رویّوں سے چھٹکارے کا شاندار موقع

اِس بات میں کوئی شُبہ نہیں کہ چھوٹی عید پر نائی اور بڑی عید پر قصاب مشکل سے ہی ملتا ہے۔ عیدالاضحٰی پر قصاب کا مِل جانا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔ آپ سب کو ایک واقعہ سناتا ہوں کہ ایک دوست نے کسی شخص سے کہا کہ مجھے عید پر قربانی کرنی ہے…

Read more

پرانے پاکستان کی آزادی

یقیناً ہم سب جانتے ہیں کہ چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل قائدِاعظم کی انتھک محنت کے نتیجے میں ہوئی اور ایک آزاد اسلامی ریاست پاکستان کے نام سے معرضِ وجود میں آئی۔ اگست یعنی جشنِ آزادی۔ عید بھلے ہم الگ الگ منائیں لیکن جشنِ آزادی ہم ایک ساتھ…

Read more

جاگتے رہو، ہمارے پہ نہ رہو

پہلے تھوڑا چیخنا، پھر رو پِیٹ لینا اور آخر میں کچھ لکھ دینا، کیونکہ اِس کے علاوہ نہ ہم کچھ کرسکے ہیں اور نہ ہی کبھی کر پائیں گے۔ بحیثیت قوم بہت سے المیوں کا منہ دیکھ کر چھوٹے موٹے المیے ہمیں اب جھنجھوڑنے کی ہمّت نہیں رکھتے۔ افسوس کے طور پر چند جملے کہہ…

Read more

فٹبال ورلڈ کپ سے جُڑے جذبات ہمارے

کسی بھی کام سے لگاؤ اُس کا شوق رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مگر جب کسی کام یا چیز کا آپ کوئی شوق ہی نہ رکھتے ہوں اور ایک وقت ایسا آئے کہ آپ اُس کو پسند کرنے لگیں تو اُسے آپ کے شوق میں ایک خوشگوار اضافہ سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر آپ…

Read more