اٹھارواں خواب نامہ۔۔۔۔ تنہائی۔۔۔خاموشی۔۔۔دانائی


25 مئی 2018
رابعہ کو شام بخیر!
رابعہ کا خط پڑھ کر درویش کافی دیر تک سوچتا رہا۔ اسے اب یقین ہو گیا ہے کہ رابعہ گہرے پانیوں میں اتر گئی ہے۔ اتنی گہرائی تک جہاں پاؤں زمین کو نہیں چھوتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان یا تو ڈوب جاتے ہیں یا تیرنے لگتے ہیں۔ اب رابعہ آگہی کے سمندر میں تیر رہی ہے۔
جہاں رابعہ ایک طرف گہرے پانیوں میں اتر رہی ہے وہیں وہ پہاڑوں پر چڑھ کر تخیلات کی اونچی فضاؤں تک پہنچ گئی ہے اور اڑ رہی ہے۔

درویش کو احساس ہو رہا ہے کہ اگر اسے رابعہ کا تخلیقی ہم سفر رہنا ہے تو اسے بھی آگہی کے گہرے پانیوں میں اترنا ہوگا اور تخیلات کی اونچی فضاؤں میں اڑنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو رابعہ کے خطوط ڈائلاگ کی بجائے مونو لوگ بن جائیں گے۔ اگر رابعہ اور درویش میں تخلیقی مکالمہ قائم رہ سکا تب ہی ان کی ادبی دوستی برقرار رہ سکے گی۔ مخلص دوستی کا راز مکالمہ ہی تو ہے۔
درویش کا خیال ہے کہ وہ مرد اور عورتیں خوش قسمت ہیں جن کی آپس میں دوستی ہو جاتی ہے۔ وہ دوستی کی محبت، شادی اور جنسی رشتوں سے زیادہ قدر کرتا ہے کیونکہ وہ دوستی کی معصومیت‘وقار اور بے ساختگی کو مجروح کر سکتے ہیں۔

درویش کی زندگی میں اس کے دوستوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کینیڈا میں ان دوستوں نے ایک درویشوں کا ڈیرا بنایا ہے جس میں وہ جمع ہوتے ہیں اور اگر کسی اور شہر سے بھی کوئی درویش شاعر یا ادیب آتا ہے تو اسے ڈیرے پر بلایا جاتا ہے۔ اگر کبھی رابعہ کینیڈا آئی تو درویش اس کو درویشوں کے ڈیرے پر لے جائے گا‘ اس کا دوسرے درویشوں سے تعارف کروائے گا اور درخواست کرے گا کہ وہ انہیں اپنا کوئی افسانہ سنائے۔ ایسا افسانہ جس کا ایک پاؤں شعور میں اور دوسرا پاؤں لاشعور میں ہو اور پھر سب درویش اس افسانے کی معنویت پر تبادلہِ خیال کریں۔ درویش جانتا ہے کہ ہر جینون شاعر اور ادیب‘ فلسفر اور دانشور اندر سے درویش ہی ہوتا ہے۔

رابعہ نے درویش سے پوچھا ہے کہ اس نے بچے کیوں نہیں پیدا کیے خاندان کیوں نہیں تخلیق کیا۔ اس حوالے سے درویش رابعہ سے اپنی زندگی کے دو اہم واقعات شیر کرنا چاہتا ہے۔
درویش جب دس برس کا تھا تو اس کے والد عبدالباسط جو ایک دہریہ تھے اور کالج میں ریاضی کے استاد تھے ایک نفسیاتی بحران کا شکار ہوئے۔ جب ایک سال کے بعد وہ اس بحران سے باہر نکلے تو وہ صوفی بن چکے تھے۔ ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کا خیال تھا کہ ان کا NERVOUS BREAKDOWN ہوا ہے جبکہ ان کو کامل یقین تھا کہ ان کو SPIRITUAL BREAKTHROUGH ہوا ہے۔ درویش کا خیال ہے کہ بچپن کی اس واردات نے لاشعوری طور پر اسے ایک ماہرِ نفسیات بننے پر MOTIVATE کیا ہوگا۔ جب درویش کو پتہ چلا کہ ذہنی بیماری بھی موروثی ہوتی ہے تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کوئی ذہنی بیماری اگلی نسل تک منتقل کرے۔ اس لیے بچے نہ پیدا کرنے کی ایک یہ وجہ تھی۔

درویش کو نوجوانی میں ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے ننھیال بہت محبت کرنے والے لیکن مذہبی اور روایتی ہیں جبکہ اس کے ددھیال غیر روایتی اور غیر مذہبی ہیں۔ بیس برس کی عمر میں جب درویش نے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کو بتایا کہ برسوں کے غور و فکر کے بعد اس نے مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ دیا ہے تو اس کے چچا نے درویش سے مسکراتے ہوئے کہا ’بیٹا ہر قوم میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پہلا گروہ اکثریت میں ہوتا ہے جو روایت کی شاہراہ پر چلتا ہے اور دوسرا گروہ اقلیت میں ہوتا ہے جو اپنے من کی پگڈنڈی پر چلتا ہے۔ اس اقلیت میں شاعر اور ادیب‘ فنکار اور صوفی‘ فلاسفر اور دانشور سبھی شامل ہوتے ہیں۔ اس اقلیت کے چند آدرش ہوتے ہیں اور انہیں اپنے آدرشوں کی بھاری قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔ بیٹا تم بھی اسی اقلیت کا حصہ ہو‘۔

درویش کو نوجوانی میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ اگر وہ مشرق کے روایتی اور مذہبی ماحول میں رہا تو اسے بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یا تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا یا وہ دیوانگی کا شکار ہو جائے گا اور یا وہ خود کشی کر لے گا۔

ان حالات پر غور کرتے ہوئے درویش نے نوجوانی میں دو فیصلے کیے۔
پہلا یہ کہ اسے خاندان نہیں بنانا اور دوسرا یہ کہ اسے مشرق کے روایتی ماحول میں نہیں رہنا۔
چنانچہ ایک دن اس نے چند کتابیں اور چند کپڑے ایک سوٹ کیس میں ڈالے اور مشرق کو الوداع کہہ کر انجانی منزلوں کی طرف چل پڑا۔

رابعہ کو خط لکھتے ہوئے درویش کو اپنی زندگی کا پہلا شعر یاد آ رہا ہے جسے اس نے کبھی اپنے کسی دیوان میں شامل نہیں کیا اور وہ شعر ہے
؎ میں تنہا تھا و تنہا ہوں و تنہا رہنا چاہتا ہوں
میں تنہائی کی دنیا میں ہمیشہ بسنا چاہتا ہوں

درویش کو اپنی تنہائی عزیز ہے اسی تنہائی میں اس نے نجانے کتنی کتابیں پڑھیں اور لکھی ہیں۔ اب وہ جانتا ہے کہ تنہائی‘ خاموشی اور دانائی کا گہرا رشتہ ہے۔
اور جب وہ مغرب میں آ بسا اور ایک ماہرِ نفسیات بن گیا تو اس کے مشاہدے‘ تجربے‘ مطالعے اور تجزیے نے زندگی کے اس راز سے متعارف کروایا کہ
CREATIVITY/ INSANITY/SPIRITUALITY کا گہرا رشتہ ہے۔ اگر کبھی رابعہ کی خواہش ہوئی تو درویش اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرے گا۔
درویش یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا رابعہ کے ننھیال یا ددھیال میں کوئی شاعر‘ ادیب‘ فلافسر یا دانشور موجود تھا اور کیا انہیں کسی قسم کے نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔

درویش کی جب سے اس راز سے آگاہی حاصل ہوئی ہے وہ اب اپنے کلینک میں بہت سے فنکاروں کا نفسیاتی علاج کرتا ہے اور انہیں کامیاب زندگی گزارنے میں مدد کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے کلینک کا نام بھی CREATIVE PSYCHOTHERAPY CLINIC رکھا ہے۔ اب درویش کا یہ خیال ہے کہ تخلیقی کام ہماری ذہنی صحت کے ضامن ہیں۔
اے رابعہ‘ اب رات بھیگ چکی ہے اور درویش کو صبح کلینک بھی جانا ہے اور دکھی دلوں کا علاج بھی کرنا ہے اس لیے رابعہ سے اجازت چاہتا ہے۔ شب بخیر۔

Facebook Comments HS