مرد مومن کا خط ۔۔۔ نو منتخب وزیر اعظم کے نام
عزیز من عمران خان۔
مملکت خداداد کی امارت اور مجلس شوریٰ کی قیادت ملنے پر اہل بہشت کی جانب سے دلی مبارکباد۔ سارا دن دل اداس رہا۔ تمہارے انتخاب کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اب سے تیس سال قبل آموں کے موسم میں مملکت خداداد کی مخلص ترین قیادت کو عالم بالا کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا۔ ملک میں تبدیلی کی جو کوشش ہم نے شروع کی تھی اس کی آخری رسومات فیصل مسجد میں ادا کی گئیں اور وہی پرانا پاکستان پھر سے زندہ ہو گیا۔ میں بہرحال مطمئن تھا کہ میری روحانی قوتیں نواز شریف کو توانا رکھیں گی اور وہ بھٹو کی بیٹی کو اپنے باپ کے انجام تک پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن یہ نوابزادہ صاحب یہاں آتے آتے بھی اپنا کام دکھا آئے۔ نواز شریف نے میری محبت کا یہ صلہ دیا کہ بھٹو کی بیٹی کو بہن بنا لیا۔ جلاوطنی کے دوران ہی بے نظیر سے میثاق جمہوریت کر لیا۔ اور 90 کی دہائی میں جو رونق لگی ہوئی تھی وہ نئی صدی کی پارلیمنٹ میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ وہ اپوزیشن ہی کیا جو فرینڈلی ہو ۔ یہ تو بھلا ہو تمہارا اور تمہارے سیاسی کزن کا کہ کچھ ہلہ گلہ لگا رہا۔ ورنہ مجھے تو خطرہ ہو چلا تھا کہ ایمپائر کا کردار بالکل ہی ختم نا ہو جائے۔ وہ کھیل ہی کیا جس میں امپائر ریڈ کارڈ نا دکھا سکے۔ میں تو کہتا ہوں کہ وزیر اعظم بنتے ہی آئی سی سی پر دباؤ بڑھا کر کرکٹ میں بھی ریڈ کارڈ شامل کرواؤ۔ جو کھلاڑی امپائر کی نا مانے اسے دس سال کے لیے یا پھر عمر بھر کے لیے میچ سے باہر نکال دیا جائے ۔
مجھے ہمیشہ یہ قلق رہا کہ میں نے غلط آدمی کا انتخاب کیا۔ جس کو میں نے اپنی عمر لگ جانے کی دعا دی وہ ایک جھٹکے سے ہی بدل گیا۔ معاملہ اس کا مشرف سے خراب ہوا لیکن رگڑنا مجھے بھی شروع کر دیا۔ بلکہ میرے سے بھی پہلے کے دو محترم جنت مکانی قائدین کا تذکرہ ایک ہی سانس میں کرتا تھا۔ اس میں قصور وار تم بھی ہو۔ مجھے اس سال فیس بک پوسٹوں سے معلوم ہوا کہ میں نے تمہیں بھی ملکی سیاست اور قیادت کی آفر کی تھی۔ لیکن تم نہیں مانے۔ ویسے تو میری یادداشت میں ایسا کوئی واقعہ محفوظ نہیں ۔ لیکن تمہارے ٹائیگرز اگر نئی تاریخ مرتب کر رہے ہیں تو سچ ہی کہتے ہوں گے۔ کاش تم اس وقت یہ مبینہ آفر مان لیتے تو نیا پاکستان آج 30 سال کا ہو چکا ہوتا۔ ویسے تمہارے ٹائیگرز سے یاد آیا کہ یہ تاریخ مجھے کچھ پسند نہیں آئی۔ 17 اگست کو تمہارے ٹائیگرز نے نواز شریف کے پردے میں میری شان میں گستاخی بھی کی۔ صبح سے دل ملول تھا۔ اوپر سے کھانے کے بعد میٹھے میں انور رٹول کی پیٹیاں رکھی گئیں۔ مجھے قطعاً توقع نہیں تھی کہ تم بھی نواز شریف کی طرح محسن کش نکلو گے۔ یاد کرو وہ وقت جب تم 1987 کا ورلڈ کپ ہارنے کے بعد ریٹائیر ہونے پر تلے ہوئے تھے۔ اور میں نے تمہیں روکا تھا۔ سوچو تو اگر میں نا روکتا تو 1992 کا ورلڈ کپ تم کیسےتن تنہا جیت پاتے۔ اور یہ ون میں شو کا صلہ وزارت عظمی کی صورت میں کیسے تمہیں ملتا۔ ورلڈ کپ کے بعد پیدا ہونے والی نسل اپنی کسی پوسٹ میں میانداد، انضمام یا وسیم اکرم کا ذکر نہیں کرتی۔ اور یہی جوشیلے نوجوان ہر ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتے ہیں۔
مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے آج بھی اپنی پہلی تقریر میں مجھے مایوس نہیں کیا۔ میں تو تاریخ کے غلط چناؤ کی وجہ سے تمہارے چناؤ سے بالکل لا تعلق تھا کہ چوہدری ظہور الہی صاحب اور جنرل عمر صاحب زبردستی مجھے اپنے ہاں لے گئے۔ وہاں تو رونق لگی ہوئی تھی۔ مخدوم سجاد قریشی صاحب، جسٹس مولوی مشتاق صاحب، ایئر مارشل صاحب اور دیگر ہم خیال معززین بھی مدعو تھے۔ بامر مجبوری میں بھی بیٹھ گیا۔ تمہاری تقریر چل رہی تھی لیکن میں بالکل انٹرسٹڈ نہیں تھا۔ جب تک کہ چوہدری صاحب نے بتایا کہ تم بھی ملک کو ”اسلامی فلاحی مملکت” بنانے کا عزم رکھتے ہو۔ یقین مانو کہ ساری کوفت ایک لمحے میں دور ہو گئی۔ جو مشن سترہ اگست کو ادھورا رہ گیا تھا وہ سلسلہ وہیں سے جڑ گیا۔ صرف چند سال اور مل جاتے تو میرا گیارہ سالہ مشن ادھورا نا رہتا۔
قوم تو اگلے ریفرنڈم میں بھی تیار تھی کہ اسلامی فلاحی مملکت کی خاطر اپنے محبوب صدر کو مزید پانچ سال کے لیے منتخب کرے۔ مگر تقدیر کے آگے کس کی چلی ہے۔ دست قضا نے مہلت دی ہوتی تو یہ وعدہ بھی میں وفا کر جاتا۔
وعدے تو نواز شریف بھی بہت کرتا تھا۔ کہ میرا مشن پورا کرے گا۔ لیکن سب جھوٹ۔ تاریخ نے اس کو مجھ سے بے وفائی کی سزا دے دی۔ اب سب امیدیں تم سے وابستہ ہیں۔
تم نے بلا امتیاز احتساب کی جو بات کی ہے، یہی ایک مرد مومن کے شایان شان ہے ۔
عوام بہر حال جذباتی ہو جاتی ہے۔ بلا امتیاز احتساب اپنی جگہ، لیکن شاعر مشرق حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم رہنے کا جو سبق دے گئے ہیں اس کو کبھی مت بھولنا۔ سنا ہے جہانگیر ترین، علیم خان ، نذر گوندل وغیرہ نے یاری نبھانے کا حق ادا کر دیا۔ ہو سکے تو اپنے پہلے ہی دورہ سعودی عرب میں ان کو اپنے ساتھ عمرے پر لے کر جانا۔ حقوق العباد کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
تم نے جب کہا کہ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا تو اس وقت چوہدری صاحب پانی پی رہے تھے۔ ایک دم پھندہ لگ گیا۔ بڑی مشکل سے سانس بحال ہوا۔ سپیکر پر اعلان کروا کے ان کے لیے ریسکیو 1122 طلب کی گئی۔ ویسے سنا ہے پنجاب میں بھی یہ شاندار سروس شروع کروانے میں چوہدری صاحب محترم کے ہی ہونہار فرزندان کا ہاتھ ہے۔
تم نے اگر احتساب کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو جسٹس وجیہہ الدین جیسے لوگوں سے ہوشیار رہنا۔ ورنہ کے پی کے کی طرح وفاق میں بھی انصاف کی تحریک سست پڑنے کا خدشہ ہے۔ عدل وہی جو ہوتا نظر آئے۔ مولوی مشتاق بھی تمہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ قبول کرو۔ اور ہو سکے تو نواز شریف کا فیصلہ بھی جلد ہی کرا لو۔ خود کو بھٹو سمجھنا شروع ہو گیا ہے بے چارہ۔ یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ بیٹی اور داماد بھی ساتھ ہی فارغ ہو گئے۔ موروثی سیاست کا خاتمہ ہوا۔ مخدوم سجاد قریشی صاحب اس پر تمہیں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ ان کے ہونہار فرزند کی صلاحیتیں اب تمہارے پاس امانت ہیں۔ بلکہ ان کا پوتا بھی سنا ہے بہت لائق بچہ ہے۔ تمہیں مبارکباد دینی چاہیے کہ ایسے ایسے ہیرے جمع کر لیے۔ سب سے انمول رتن تو وہ فواد چوہدری اور عامر لیاقت ہیں ۔ ابھی دو دن میں ماشااللہ ایسی پرفارمنس دی ہے کہ یہاں ہر چہرہ کھل اٹھا ہے۔ خصوصاً وہ تمہارے ہر جملے پر فواد چوہدری کا انداز داد۔ مزہ آ گیا۔ لیکن ایک تنبیہہ۔ تمہاری قیادت کو نا تو جنرل عمر کے صاحبزادے سے خطرہ ہے نا ہی مخدوم صاحب کے فرزند سے۔ بس وہ پنڈی کے بڑے وکیل سے بچ کر رہنا۔ بھٹو صاحب کی موت پر مٹھائی بانٹی اور گیارہ سال میرے گن گاتا رہا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ اسی بھٹو کی پارٹی میں صدر کا عہدہ اس کے لیے تخلیق کیا گیا۔ آج کل سنا ہے تمہارا نفس ناطقہ بنا ہوا ہے۔ لفاظی اس پر ختم ہے۔ ذرا بچ کے۔
اب 18 اگست کو تمہاری حلف برداری ہے۔ نواز شریف بھی سوچتا ہو گا کس مشکل میں پڑ گیا۔ اس کے سب سے بڑے دشمن مشرف نے اس دن اقتدار چھوڑا تھا۔ اس کی خوشی منائے یا اس سے بھی بڑے حریف کا اقتدار شروع ہونے کا سوگ۔ سچ ہے محسن کشوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ چوہدری فضل الہی کہہ رہے ہیں کہ ممنون حسین کو ان کا سلام کہنا۔ اور میری خواہش ہے کہ ہو سکے تو 4 ستمبر والے دن اعجاز الحق کو یاد رکھنا۔
گاہے بگاہے رابطہ رہے گا۔ پاکستان کے متحدہ عوام کے ذریعے لندن والے مخلصین کے لیے دعا پیار۔ زہرا آپا بھی تمہیں یاد کرتی رہتی ہیں۔ بس کچھ چپ چاپ سی ہیں آج کل۔ خیر۔ چھوڑو۔ اپنے مشن کو یاد رکھو بس۔
گڈ لک۔ آل دی بیسٹ ڈیئر
تمہارا خیر خواہ
مرد مومن مرد حق


