عمران خان کے اپنے مطالبات اور وعدے وزیر اعظم کے پاؤں کی زنجیر


وزیراعظم منتخب ہونے والے عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج حزب اختلاف نہیں بلکہ ان کے اپنے ماضی کے مطالبات اور بیانات ہوں گے۔

عمران خان کے لیے اپوزیشن کی تنقید سے یا مطالبات سے بڑا چیلنج خود اپنے ماضی کے بیانات سے درپیش ہے،جو وہ مختلف ایشوز پر وقتاً فوقتاً دیتے رہے ہیں، انہی میں سے ایک سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے 14افراد کے لواحقین کا انصاف دلانا ہے۔ عمران خان پنجاب حکومت پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے تھے مگر اب پنجاب میں بھی ان کی حکومت ہے اور وفاق میں بھی اور انصاف دلانے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔

اسی طرح پاناما لیکس میں شامل چار سو افراد کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر عمران خان نے نیب کے ساتھ ایف بی آر، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب یہ تمام ادارے عمران خان کی حکومت کے ماتحت ہی ہوں گے جن سے ان کا مطالبہ تھا کہ وہ پاناما لیکس میں شامل اداروں کے خلاف کارروائی کریں۔

گزشتہ 10 سال سے عمران خان نے مسلسل ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر مُک مُکا اور ایک دوسرے کی کرپشن کی پردہ پوشی اور پچھلی حکومت کی کرپشن پر کارروائی نہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ اب ن لیگ اور اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی حکومتوں کا احتسا ب بھی عمران خان کا اپنا طے کردہ چیلنج ہو گا۔

خیبرپختونخوا میں پانچ سالہ حکومت کے دوران پی ٹی آئی گزشتہ حکومتوں کی کرپشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی تھی۔ اسی طرح پی ٹی آئی میں شامل علیم خان اور جہانگیر ترین پر زمینوں پر قبضے اور قرضے معاف کرانے کے الزامات پر بھی عمران خان ہمیشہ یہ کہہ کر بات ٹالا کرتے تھے کہ انہیں پکڑنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

حکومت میں آنے کے بعد یہ سارے مطالبات عمران خان کی اپنی میز پر رکھے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم اپنے ماضی کے مطالبات خود پورے کرتے ہیں کہ نہیں۔

Facebook Comments HS