انور کی امی کا انتقال کب ہوا؟
وہی تصویر اس دن وہاں نہیں تھی، وہی خوبصورت شفقتوں سے بھرا ہوا، مسکراتا چہرہ جو گھر میں داخل ہوتے ہی نظر آتا تھا وہاں سے غائب تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ خالہ کی تصویر وہاں کیوں نہیں تھی۔
انور آیا تو میں نے پوچھا یار خالہ کی تصویر کہاں چلی گئی۔ جب سے آیا ہوں یہی سوچ رہا ہوں کہ کچھ غائب ہے، اب یاد آیا کہ تمہاری امی کی تصویر نہیں ہے۔
یار نازنین نے ساری تصویریں ہٹادی ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ گھر میں تصویریں لگانا حرام ہے۔ شاید ٹھیک ہی کہتی ہے۔ وہ بڑبڑایا تھا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ گھر سے تصویریں غائب ہوگئی ہیں، بچوں کی ہنستی کھلکھلاتی تصویریں۔ انور اور نازنین کی شادی کی خوبصورت تصویر، خاندان کا گروپ فوٹو، ایران کا قالین جس پر شیر بنا ہوا تھا، فرج پر لگی ہوئی جانوروں کے اسٹیکر جو اس کی بیٹی نے لگائے تھے۔ تصویروں سے گھر خالی ہوگیا تھا۔
نازنین اچھی خاصی ماڈرن لڑکی سے آہستہ آہستہ کافی مذہبی ہوگئی تھی۔
پہلے وہ ہر قسم کے تمیزدار کپڑے دوپٹے کے ساتھ پہنتی تھی پھر اس نے اسکارف لینا شروع کیا، تھوڑے دنوں میں حجاب کا نمبر آیا اور اب تو وہ اپنا چہرہ ڈھانپ کر ہی رکھتی تھی۔ اس نے مجھ سے پردہ تو نہیں کیا تھا مگر غیر ضروری طور پر میرے سامنے آنے سے اجتناب بھی کرتی تھی۔
جیسے جیسے وہ مذہب سے قریب ہوتی گئی، ویسے ویسے جل اور میں اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ جل عام طور پر یورپین کپڑے پہنتی تھی، لانبے اسکرٹ اور میچنگ کے بلاﺅز۔ عام طور پر یہ سیاہ رنگ کے ہوتے تھے جس میں وہ بڑی پُروقار لگتی تھی۔ شلوار قمیض اور ساری اس کے خوبصورت چہرے اور لانبے جسم پر لگتے تو بہت اچھے تھے مگر اس قسم کے کپڑے وہ دیسیوں کی تقریب میں پہنتی تھی۔ نازنین کے خیالات کی تبدیلی نے ہم دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھادیا تھا۔ ہم دونوں دوستوں کے درمیان فاصلہ ضرور بڑھا تھا مگر دوستی ختم نہیں ہوئی تھی۔ آخر ہم دونوں کا ساتھ تھا بھی بہت پرانا۔ پہلے انٹر پھر میڈیکل کالج اور پھر امریکا کا ساتھ اور ساتھ بھی ایسا جس میں ہم دونوں نے اچھے برے دونوں کام بھی ساتھ ہی کیے تھے۔
انور خود تو مذہبی نہیں ہوا تھا مگر اس نے بیوی کے سامنے کچھ کہنا چھوڑدیا تھا۔ وہ بچوں کے سامنے اس سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے اور نازنین کے تعلقات میں ایک خاص قسم کی دوری ہوگئی تھی۔ گھر میں وہ بچوں کے ساتھ کھیلتا کودتا یا ان کے پڑھائی لکھائی کے سلسلے میں بات کررہا ہوتا تھا۔ اس نے اب دو طرح کی زندگی گزارنی سیکھ لی تھی۔
کبھی کبھار ہم لوگ ابھی بھی ساتھ بیٹھ کر بیئر پی لیتے اور گزرے وقتوں کی اچھی باتیں یاد کرکے ہنس بول لیتے تھے۔ نازنین میں آنے والی مذہبی تبدیلی نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی تھی مگر وہ تھوڑا خاموش سا رہنے لگا تھا۔
بظاہر وہ نازنین اور بچے ایک ہنستی کھیلتی خوبصورت زندگی گزار رہے تھے مگر انور نے اب جھوٹ بولنا شروع کردیا تھا۔ اپنے بیئر پینے کے بارے میں، نماز کے لیے مسجد نہ جانے کے بارے میں اور اسی طرح کی دوسری جھوٹی باتیں جو وہ عام طور پر نہیں کرتا تھا۔
نازنین کو پتا بھی نہیں تھا وہ اپنے مذہبی فرائض اور درس وتبلیغ کی سرگرمیوں میں مصروف ہوکر جنت کا گھر تو بنارہی تھی مگر مجھے پتا تھا کہ اس کا اپنا گھر گھر نہیں، اب کچھ اور تھا۔ گھر میں جس دن جھوٹ چلا آتا ہے اس دن گھر گھر نہیں رہتا۔ وہ اکثر اپنے دل کی باتیں مجھ سے کرلیتا تھا مگر میں نے محسوس کیا تھا کہ کبھی کبھی وہ مجھ سے بھی جھوٹ بول دیتا ہے۔ شاید وہ سمجھتا ہو کہ اصل بات کرنے میں کہیں سبکی نہ ہوجائے۔
ایک دن وہ آیا تو اس کی گاڑی میں اس کی ماں کی تصویر کا فریم پچھلی سیٹ پر رکھا ہوا تھا جسے اس نے بڑی احتیاط سے اتارا اور میرے گھر میں داخل ہوا تھا۔
اسے دیکھ کر مجھے وہی خوشی ہوئی تھی جو ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ بچے سوچکے تھے۔ میں اور جل گرم کمرے میں گپیں مار رہے تھے۔ اور کافی پی رہے تھے۔ جل نے اسے بھی کافی کا پیالہ دیا تھا اور ہم دونوں کو چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
اس کے جاتے ہی اس نے کہا تھا کہ یار کل یہ تصویر مجھے بیسمنٹ کے ٹوائلٹ میں الٹی رکھی ہوئی ملی ہے جس کے بعد میں کافی پریشان سا ہوگیا ہوں۔ مجھے لگتا ہے ماں کی اس تصویر کے ساتھ میرا گھر بھی کہیں چلا گیا ہے۔ میں نازنین سے کچھ کہوں گا تو اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی، وہ اب کسی اور دنیا میں رہتی ہے۔ پڑھی لکھی لڑکی ہے اور نہ جانے کن لوگوں کے چکر میں پڑگئی ہے اس نے پہلی دفعہ اس کے بارے میں بات کی تھی۔
پھر وہ خاموش ہوگیا تھا۔ میں اس ک طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ اس نے کہا کہ یار یہ تصویر اپنے گھر میں کہیں رکھ لوگے۔ جل کو اعتراض تو نہیں ہوگا۔
کیوں نہیں یار میں اسے اپنے اسٹڈی میں لگالوں گا، بالکل فکر نہیں کرو۔ نہیں جل کو بھی اعتراض نہیں ہوگا آخر خالہ کی تصویر ہے۔ اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ مجھے پتا تھا کہ جل کو کبھی بھی اعتراض نہیں ہوگا وہ ایسی ہی تھی۔ اپنے کام سے کام رکھنے والی اور میری خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار۔
اس کے چہرے پر رونق بحال ہوگئی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ کیوں الجھ جاتے ہیں، کیا ہوجاتا نازنین کا اگر یہ تصویر اور تصویروں کے ساتھ لگی رہتی۔ ماں کی ہی تو تصو یر تھی مسکراتی ہوئی شفقتوں کے ساتھ۔ کیا بگاڑ رہی تھی کسی کا۔ یہ شریعت میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
اس نے کافی ختم کی تھی اور اٹھ گیا تھا، اچھا یار چلتا ہوں۔ یہ کہہ کروہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
تم ڈرائیو کررہے ہو ورنہ ایک جام ضرور پیش کرتا۔ میں نے مذاق میں ہنستے ہوئے کہا تھا۔ تمہارے گھر میں تو ہو گی نہیں۔
نہیں یار ابھی نہیں۔
میں بھی اٹھ کر اس کے ساتھ گاڑی تک گیا تھا۔
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی اور خدا حافظ کہہ کر ڈرائیو کرتا ہوا تھوڑا سا آگے گیا تھا، میں پیچھے مڑا ہی تھا کہ میں نے دیکھا وہ ریورس گیئر ڈال کر واپس پیچھے کی طرف آ رہا ہے۔ میں دو قدم بڑھ کر اس کی کھڑکی کی طرف چلا گیا۔
اس نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرکے مجھے بڑے غور سے دیکھا پھر آہستہ سے بولا۔
یار مجھے جِل کی طرح کی بیوی کیوں نہیں ملی۔ مل سکتی تھی نا؟ کیوں نہیں ملی؟
گاڑی چلی گئی تھی، مجھے ایسا لگا جیسے انور کی امی دوبارہ مر گئی ہیں۔

