رہنما تحریک انصاف راجہ بشارت اور سیمل کامران کی شادی کا مقدمہ: چیف جسٹس نے وکیل کو عدالت سے نکال دیا


سپریم کورٹ میں سیمل کامران کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستا ن نے بدتمیزی پر پنجاب کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت کے وکیل اور ملازم کو عدالت سے باہر نکال دیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چودھری برادران کو آج ہی عدالت طلب کر لیتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سیمل کامران کی درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے بدتمیزی پر راجہ بشارت کے وکیل اور ملازم کو باہر نکال دیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے راجہ بشارت سے کہا کہ آپ کے ساتھ آنے والوں نے مزید ایسی حرکت کی توآپ کے تمام کیس منگوالوں گا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران پنجاب اسمبلی کی سابق رکن سیمل کامران دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان سے کہا کہ آپ خاموش ہوجائیں، ہمیں قانون کے مطابق انصاف کرنا ہے۔

سیمل کامران نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ بشارت اور ان کی پہلی بیوی پری گل آغا نے جائیداد میں حصہ نہ دینے کیلئے میرے بیٹے کو مروا دیا، منکوحہ ہونے کے باوجود راجہ بشارت بیوی تسلیم نہیں کر رہا۔ سیمل کامران نے کہا کہ شادی کا علم مسلم لیگ (ق) کے چودھری برادران کو بھی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چودھری برادران کو آج ہی عدالت طلب کرلیتے ہیں۔ اس پر راجہ بشارت نے کہا کہ جو بھی فیصلہ کریں گے، منظور کر لوں گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ دونوں چیمبر میں مل لیں، آپ کا موقف وہاں سن لیتا ہوں۔ چیف جسٹس نے سیمل کامران اور راجہ بشارت کو چیمبر میں طلب کر لیا۔

Facebook Comments HS