آؤ آؤ مریخ چلیں


”ہندوستان مریخ پر جا پہنچا ہے “۔ یہ الفاظ ہماری حسرت و یاس کا اظہار بن کر کئی دفعہ ہر پاکستانی کے منہ سے نکلتے ہیں۔ کیوں؟ شاید اس لئے کہ علم و عمل کا وہ میدان جس میں ترقی کرنا اب دنیا میں زندہ رہنے کے لئے ناگزیر ہے، اس میدان میں ہماری کارکردگی صفر ہے جبکہ ہمارے ہمسائے اس میدان میں اس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ ساری دنیا کی آنکھیں ان کی طرف لگی ہوئی ہیں۔

16ستمبر 1961ء پاکستان کی تاریخ کا اہم دن تھا، ایک اہم موڑ تھا جب پاکستان کے سب سے عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام کی مسلسل کوشش اور پاکستان کی معاشی ترقی کے سب سے بڑے کردار فیلڈ مارشل ایوب خان کی قیادت میں پاکستان نے اپنے خلائی تحقیق کے سفر کا آغاز کیا اور SUPARCO کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد پاکستان کو خلائی تحقیق کرنے والے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کرنا تھا۔ چنانچہ اگلے ہی سال یعنی 1962ء میں پاکستان Space Flight کرنے والا ایشیاء کا تیسرا اور دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔ 1972ء تک، یعنی صرف 10 سال میں پاکستان خلا میں 200 کے قریب راکٹس بھیج چکا تھا۔ اور یہی وہ سال تھا جس کے بعد پاکستان کے سپیس پروگرام کے لئے حکومت پاکستان کے پاس وسائل اور بجٹ اور توجہ ختم ہو گئی اور SUPARCO پاکستان پر بوجھ بن گیا اور حقیقت کو مناسب الفاظ کے چناؤ کے بغیر بیان کیا جائے تو پاکستان میں سائنسی خلائی تحقیق کا بیڑہ غرق ہو گیا۔

اس کے بالمقابل ہمارے ہمسائے ہندوستان کو 1969ء میں، یعنی پاکستان سے آٹھ سال بعد، خلائی تحقیق کا ادارہISRO قائم کرنے کا موقع ملا لیکن اس وقت اس کی ترقی کی یہ حالت ہے 2008ء میں ہندوستان نے چاند پر اپنا مشن بھیجا، 2013ء میں مریخ پہ مشن بھیجا اور 2017ء میں یعنی گزشتہ سال 104 سیٹلائٹس خلا میں بھیج کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ہندوستان کے اپنے 60 سے زائد سیارچے اس وقت اپنے مداروں میں گردش کر رہے ہیں اور دنیا کے چپے چپے کی خبر اس تک پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان میں اس کے برعکس کسی حکومت کو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ہاں 80ء کی دہائی میں ایک کوشش یہ کی گئی کہ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاورا ور کوئٹہ میں 5 وسیع قطعات زمین حکومت پاکستان نے اس لئے مختص کیے کہ یہاں Planetariums یعنی سیارہ گاہیں بنا کر طلباء میں خلائی تحقیق کا شوق بیدار کیا جائے۔ تا کہ خلائی برتری کی اس دور میں کہیں پاکستان کو منہ کی نہ کھانی پڑے۔ لیکن یہ دریا دلی کرنے کے فوراً بعد حکومت پاکستان کو بعض زیادہ ضروری اور اہم کام یاد آ گئے جس کی وجہ سے کوئٹہ اور اسلام آباد کی زمینیں واپس لے لی گئیں۔ کراچی، لاہور اور پشاور میں البتہ سیارہ گاہیں قائم ہوئیں اور ان کو PIA کے ایک ذیلی ادارے IPAC SOCIETY کے حوالہ کر دیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز نے ان احاطوں میں اپنے پرانے گراؤنڈ کیے ہوئے جہاز بھی کھڑے کیے جن میں پاکستان اور قومی فضائی کمپنی کے حوالہ سے معلوماتی پروگرامز دکھائے جانے لگے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹرز قومی فضائی کمپنی کے ہی ملازمین ہوتے ہیں اور ان کی دیگر بہت سی ذمہ داریوں میں سے اس ادارے کی دیکھ ریکھ کرنا بھی ایک معمولی ذمہ داری ہے۔

خلائی تحقیقی تعلیم کو ایک غیر متعلقہ ادارے کے تحت دینے کا پہلا نقصان تو یہ ہوا کہ نہ یہاں فلکیات کی تعلیم دی گئی، نہ اس کے ساتھ کوئی رصد گاہ قائم ہوئی، فلکیات سے متعلقہ کوئی فوٹو گیلیری بھی یہاں نہ بن سکی اور نہ ہی یہاں فلکیات کی کوئی لائبریری بنائی گئی چنانچہ یہ ادارہ اس طرح مفید ثابت نہ ہوا، جس طرح دنیا کہ باقی ممالک میں یہ سیارہ گاہیں مفید ثابت ہوئیں۔ پھر یہاں علم فلکیات کے حوالہ سے جو معلومات دی جاتی ہیں وہ انتہائی سطحی ہیں اور ایک ہی معلومات آوازیں بدل بدل کر سنہ 1983 سے دی جا رہی ہیں۔ بہر حال ان تمام باتوں کے باوجود PIA Planetarium پاکستان میں خلائی تحقیق کے اندھیرے میدان میں ایک مدھم سا چراغ بن کر امید اور آس دلاتا رہا ہے۔

اس مضمون کے لکھنے کی وجہ یہ بنی کہ اب اس مدہم چراغ کی لو بھی ہمارے ارباب حل و عقد کی نظروں میں چبھنے لگی ہے کہ آخر اتنے خوبصورت رقبے کسی مفید کام کے لئے کیوں نہ استعمال کیے جائیں۔ چنانچہ اسی منصوبہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پشاور کا Planetarium بند کر دیا گیا۔ لاہور کی سیارہ گاہ جو اپنا سارا خرچ خود اٹھاتی تھی وہ اورنج لائن ٹرین کی نذر چڑھا دی گئی اور گزشتہ بارشوں میں اس کی عمارت کی چھت اور مشینری بھی تباہ ہو گئی۔ رہ گئی کراچی کی سیارہ گاہ تو یہ سیارہ گاہ اس شادی ہال کی آمدن سے چل رہی ہے جو اس کے احاطہ میں اس کے خرچے پورے کرنے کے لئے بنوایا گیا ہے۔ یہاں جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آخری سیارہ گاہ بھی، اس کے احاطہ میں کھڑے ہوائی جہاز کی طرح شاید اپنے آخری سانس ہی لے رہی ہے۔

سیارہ گاہ کی سیٹیں شکستہ اور ٹوٹی ہوئی ہیں۔ ہر سیٹ کے پیچھے لگی سکرینوں میں سے اب ایک بھی نہیں چلتی۔ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا پینٹ اور یہاں کھڑے ہوئے جہاز کی خراب حالت۔ حتی کہ ایک عرصہ سے جہاز کے اندر لگایا گیا Air conditioning کا نظام خراب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے جہاز میں معلوماتی فلم دیکھنے کے شوقین 5 ہی منٹ بعد آدھی فلم چھوڑ کر پسینے میں شرابور باہر بھاگتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سیارہ گاہیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک پھوٹی کوڑی بھی PIA سے نہیں لیتیں اور نہ ہی شاید کوئی ادارہ ان کے اخراجات اٹھانے کو تیار ہو۔ ان اداروں کو صرف توجہ چاہیے لیکن افسوس کہ ملک اور قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت یہ درسگاہیں، کسی موقر ادارے کی توجہ پانے کی بھی اہل نہیں ہیں۔

قارئین کرام! یہ ہے ہماری حالت اپنے اس ہمسائے کے مقابل پر جو خلائی تحقیقات اور تعلیم کے لئے ہر سال ایک بڑا بجٹ صرف کر رہا ہے۔ جہاں کے ادارے اپنے ہاں دیے جانے والی تعلیم اور تحقیق کو سپانسر کرتے ہیں اور واقعی چاہتے ہیں کہ زمین کے علاوہ مریخ اور چاند پر بھی ان کی حکومت ہو۔

پاکستان نے بھی اب اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے نئے پروگرام کے مطابق 2040ء تک خود سیارچے بنانے اور انہیں خلا میں بھیجنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اس کے بالمقابل 2024ء میں ہندوستان کا مشن Aditya L1سورج کے لئے روانہ ہونا ہے اور امید ہے کہ 2040ءتک وہ سورج کو چھو کر واپس بھی آ چکے ہوں گے۔

Facebook Comments HS