پچانوے سالہ بوڑھا آدمی اپنی بیوی سے ملنے کے لیے روزانہ 12 کلومیٹر پیدل چلتا ہے


’میں اپنی بیوی کے بغیر کچھ بھی نہیں اور۔۔۔‘ 95سالہ آدمی نے اپنی بیگم کے لئے ایسا کام کردیا جو آج کل کا کوئی نوجوان بھی نہیں کرسکتا، وہ خبر جو ہر بیوی اپنے شوہر کو زبردستی پڑھائے گی

عشق و محبت کی بہت سی داستانیں آپ نے سنی ہوں گی لیکن اس معمر شخص کی اپنی بیوی سے محبت کی کہانی نے تو بڑی بڑی رومانوی فلموں اور داستانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ”سپیکٹرم نیوز راچیسٹر“ کے مطابق 95 سالہ لوتھر ینگر کی اہلیہ فالج کے باعث ہسپتال میں داخل ہیں۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے چھ میل کا فاصلہ پیدل طے کرکے ہسپتال جاتے ہیں اور شام کو پھر چھ میل کا فاصلہ طے کرکے واپس گھر آتے ہیں۔

لوتھر اور ان کی اہلیہ ویورلی کی شادی کو 50 سال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی بیماری اور ان سے اپنی محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”ویورلی کے بغیر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ اس کی بیماری میرے لئے بہت بڑی پریشانی ثابت ہوئی ہے۔ میں روزانہ اسے دیکھنے کیلئے ہسپتال جاتا ہوں، چاہے بارش ہو یا آندھی آئے میں بہرصورت اس کے پاس جاتا ہوں۔“

لوتھر کی بیٹی لتھیٹا ینگر نے اپنے والدین کی محبت کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے والدین بہت بوڑھے ہوچکے تھے تو میں نے انہیں اپنے گھر منتقل کرلیا۔ ان کی زندگی یہاں بہت اچھی گزررہی تھی لیکن بدقسمتی سے میری والدہ فالج کا نشانہ بن گئیں۔ وہ ہمیشہ میرے والد کا خیال رکھتی تھیں۔ اب وہ ہسپتال میں ہیں تو میرے والد روزانہ ان کی دیکھ بھال کے لئے جاتے ہیں۔ وہ روزانہ صبح کے وقت چھ میل کا فاصلہ طے کر کے ہسپتال پہنچتے ہیں، سارا دن وہاں رہتے ہیں، اور پھر شام کو چھ میل کا فاصلہ پیدل طے کرکے گھر آتے ہیں۔ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں لیکن ہمارے روکنے کے باوجود روزانہ اتنا لمبا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اُن کی صحت اچھی ہے، لیکن پھر بھی لوگ یقین نہیں کر پاتے کہ وہ روزانہ اتنی دور واقع ہسپتال پیدل آتے جاتے ہیں۔“

Facebook Comments HS