سادگی کے دورے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سادگی کا تعلق اخلاق سے ہے نہ کہ کسی خاص مذہب سے۔ اسلام نے اگرچہ سادہ طرز زندگی پر بہت زور دیا ہے اور اس حوالے سے نبی پاک کی سیرت سادگی و اعتدال کا بہترین نمونہ تھی تاہم اس سے پہلے بھی دنیا کے نامور مصلح سادگی کی شاندار مثالیں پیش کر چکے ہیں۔گوتم بدھ، سقراط، بقراط، افلاطون، کنفیوشس اور بہت سے عظیم لوگوں نے سادہ طرز زندگی کو شعوری طور پر اپنا کر تکلف،تصنع،بناوٹ اور نمود و نمائش کی عملی طور پر نفی کی ہے۔ہمارے پیارے نبی اور صحابہ کرام نے اس روایت کو مزید جلا بخشی بلکہ اس میں نئی جہتیں اور زاویے متعارف کروائے۔استاد ذوق نے بھی سادگی و خلوص پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
اچھے ہیں وہ لوگ جو تکلف نہیں کرتے
سادہ طرز حیات سے یہ مراد ہے کہ انسان غم ،خوشی،رسوم و روایات،طرز رہائش، خور و نوش، لباس، سواری غرض ہر چیز میں سادگی و اعتدال اختیار کرے۔ اس سے زندگی آسان اور فطرت کے قریب ہو جاتی ہے۔ سادگی کا معیار البتہ مختلف ہو سکتا ہے۔ تین سو کنال کے محل میں رہنے والا اگر سادگی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سادگی کا کم تر معیار یہ ہو گا کہ وہ پچاس کنال کی پر تعیش رہائش گاہ میں منتقل ہو جائے۔لیکن ایک آدمی پہلے ہی دس مرلےکے مکان میں رہتا ہے تو اس کی ممکنہ سادگی کا پیمانہ اس سے بھی کم درجے کی سہولیات سے آراستہ رہائش ہو گی۔اس طرح کی روایات تو ہماری تھیں جن پر ہم اب تک فخر کر رہے ہیں،مگر افسوس کہ اہل مغرب نے باقی چیزوں کی طرح ہم سے یہ فخر بھی چھین لیا ہے۔ فی زمانہ اگر ہمیں کسی حکمران کی سادگی کی مثال دینا ہو تو 57مسلمان ملکوں میں سے شاید ایک بھی ایسا حکمران نہ ملے جس کی طرز حیات کوہم بطور نمونہ پیش کر سکیں۔اس حوالے سے ہمیں کینیڈا،برطانیہ،فرانس،جرمنی اور جاپان و چین جیسے "کافر”ملکوں کے سادہ منش حکمرانوں کو مثال بنا کر پیش کرنا ہو گا۔
ہمارے ہاں جب بھی کوئی جمہوری یا غیر جمہوری حکمران اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتا ہے تو سب سے پہلا دورہ اسے سادگی کا پڑتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سادگی کا یہ ڈراما اور ڈھونگ خلوص اور صداقت سے بہت دورہوتا ہے کیونکہ سادگی کے مصنوعی اظہارکے لیے تختہ مشق ہمیشہ سرکاری رہائش گاہ بنتی ہے; یہ لوگ کبھی اپنے وسیع و عریض محلات کو تج کر سادگی کی عملی تعلیم نہیں دیتے۔ان کی اس سادگی میں بھی پرکاری اور بے خودی میں ہوشیاری کا خاطر خوہ سامان ہوتا ہے۔اس ڈرامے کے ذریعے وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔عوام بھی بہت سادہ دل ہوتے ہیں جو ان کی اس دیرینہ چال میں آجاتے ہیں۔
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آجاتے ہیں
یہ سب کچھ ہمیں اس لیے یاد آیا کہ آجکل ہمارے نو منتخب وزیر اعظم بھی کئ ایکڑ پر پھیلے ہوئے پی ایم ہاؤس میں رہنے کو تعیش، اصراف اور نمود و نمائش کی قبیح علامت سمجھتے ہیں۔ان کے خیال میں پی ایم ہاؤس میں نہ رہنے سے سادگی اور اعتدال پسندی کی قابل تقلید مثال عوام میں بہت مقبول ہو گی۔ مگر انہیں یہ نہیں معلوم کہ ریڈ زون میں واقع اتنی قیمتی عمارت کا مصرف کیا ہو گا اور جس عمارت میں وہ رہائش و دفاترقائم کریں گے اس سارے اکھاڑ پچھاڑ پر پیسہ کتنا خرچ ہو گا۔ بہ الفاظ دیگر ان کی یہ سادگی کی مشق ستم غریب قوم کو کتنے کروڑ میں پڑےگی؟اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
ایسی ہی سادگی کی ایک مثال ترنگ میں آ کر ہمارےمرد مومن مرد حق نے بھی قائم کرنے کی کوشش کی تھی ،جب ان کےسائکل پر دفتر جانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا تو اس پر کئی گنا زیادہ اخراجات آئے تھے۔ جناب عمران خان سے قوم نے بےتحاشا امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ وہ عوامی توقعات کے بوجھ تلے بری طرح دبےہوئے ہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ آتے ہی کچھ ایسے نئے کام کیے جائیں جو عوام میں ان کی مقبولیت کے گراف کو مزید اونچا کر لیں۔ مگر انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عوام کا سیاسی شعور آہستہ آہستہ پختہ ہو رہا ہے،وہ اب آسانی سے ان فریب کاریوں اور فنکاریوں کے میں نہیں آئیں گے۔ البتہ خان صاحب اگر اپنا بنی گالہ والا قصر عظیم سادگی کے اظہار کے لیے تج دیں تو عوام واقعی ان کی سادگی اور درویشی پر ایمان لے آئیں گے۔ ہم ان کی حلف برداری کی تقریب میں سادگی کے علامتی انداز پر ان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں تاہم سادگی کے حقیقی اور ٹھوس تقاضے تو مستقبل میں قدم قدم پر سامنے آئیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ خان صاحب ان سے کیسے عہدہ برآ ہوتے ہیں؟ اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا تو ہم ان کے حوالے سے بھی بقول غالب یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
سرکاری رہائش گاہ استعمال نہ کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی کو مرمت اور تزئن و آرائش کے نام پر کروڑوں روپے ملتے ہیں۔ خاقان عباسی کی طرح بہت سے لوگ چند ماہ کے لیے ذاتی رہائش گاہ منتقل ہوتے ہیں تو اس کے نصیب کھل جاتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے لگا کر اسے ہم دوش ثریا کر لیا جاتا ہے۔ ہم جناب وزیر اعظم اور ان کے مشیروں سے دست بستہ عرض کریں گے کہ خان صاحب کو سادہ دکھانے پر وسائل ضائع کرنے کے بجائے اپنی اصل ذمہ داریوں پر توجہ دیں۔ پر تکلف سادگی پر بھی بے تحاشا اخراجات آتے ہیں،جیسا کہ گاندھی جی کے بارے میں سروجنی نائیڈو نے کہا تھا کہ گاندھی جی کو سادہ دکھانے کے لیے ہمیں بہت خرچہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم خان صاحب سےیہی کہیں گے کہ وہ بے شک پی ایم ہاؤس میں رہیں مگر عوام کے خوابوں کو حقیقت بنانے پر محنت کریں۔عوامی امنگیں اگر تشنہ رہتی ہیں تو اس طرح کے ڈھونگ ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).