نیوزی لینڈ کو دیکھ کر دہشت گردوں کو کچھ تو شرم آنی چاہیے

نائن الیون کے بعد یورپ کے جس ملک نے دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ زخم کھائے وہ فرانس ہے۔ مارچ 2012 میں فرانس کے جنوبی شہر میں مسلم شدت پسند تنظیم کے ایک جنگجو محمد مراح نے فائنرنگ کرکے سکول کے تین طلبہ، ایک ربّی اور تین فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ نومبر 2015 میں فرانس کے دارالحکومت اور دنیا کے خوبصورت ترین شہر پیرس کے چھ مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے۔ دولت اسلامیہ کے انسان دشمن درندوں نے ریستورا نوں، پبلک مقامات، پارکوں اور فٹ بال اسٹیڈیم میں میچ دیکھتے پر امن شہریوں کو سفاکی سے نشانہ بنایا۔

Read more

ساہیوال اور کرائسٹ چرچ: دو تصویروں کی کہانی

دو تصویریں میرے سامنے رکھی ہیں۔ ایک تصویر بڑی د ل فگار و دل گیر دوسری حوصلہ افزا و پرتاثیر، ایک قابلِ صد رشک دوسری باعث دل صد چاک، ایک دردِ دل کی غمّاز دوسری دل گرفتہ و دل گداز، ایک اخلاص و بے لوث خدمت کی بہترین مثال، دوسری ریا کاری و تصنع کا وبال، ایک روح پرور دوسری روح فرسا، ایک ریاستی قہر و سفاکی کی آئینہ دار دوسری ریاستی تحفظ و رٹ کی شاہکار۔ یہ دو تصویریں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں کہ دو ریاستوں، مملکتوں اور معاشروں میں کتنا تفاوت ہے۔ یہ دو تصویریں نہیں درحقیقت دو ریاستوں کی کہانی ہے۔ دو تہذیبوں کی نشانی ہے۔ دو ملکوں کی ترجمانی ہے۔ دو معاشروں کی جولانی ہے۔ دو تمدنوں کا برملا و بے ساختہ اظہار ہے۔ دو سماجوں کے جینے کا برجستہ معیار ہے۔ دو طرح کے انسانوں کے رویوں کا بے تکلف شاہکار ہے۔

Read more

دو تصویروں کی کہانی!

دو تصویریں میرے سامنے رکھی ہیں۔ ایک تصویر بڑی د ل فگار و دل گیر، دوسری حوصلہ افزا و پرتاثیر۔ ایک قابلِ صد رشک دوسری باعث دل صد چاک۔ ایک دردِ دل کی غمّاز اور دوسری دل گرفتہ و دل گداز۔ ایک اخلاص و بے لوث خدمت کی بہترین مثال، دوسری ریا کاری و تصنع…

Read more

نیوزی لینڈ میں گزرنے والی قیامتِ صغریٰ

نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والے قتل و غارت گری کے واقعات نہایت افسوسناک، اندوہناک اور سفاکیت سے معمور ہیں۔ دو فیصد سے بھی کم مسلم آبادی کے چند پر امن لوگوں پر عین حالت نماز میں اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل عام کا اقدام انتہائی بزدلانہ، سنگدلانہ اور بے رحمانہ ہے۔ شہدا نے یقیناً میدان کربلا میں سجدے کی حالت میں مظلومانہ انداز سے جا ن جانِ آفریں کے سپرد کردینے والے ایمان افروز اور روح پرور سانحے کی یاد تازہ کر دی۔

مسلم امت کے ساتھ تمام انسانیت اس سفاک واقعے پر خون کے آنسو رو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ میں 1990 کے بعد ہونے والا قتل و غارت گری کا یہ سب سے بڑا اور کرب انگیز واقعہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی ممالک اور میڈیا نے اس سانحے کے حوالے سے وہ سرگرمی اور گرم جوشی نہیں دکھائی جو دنیا میں ایسے واقعات کے بعد عام طور پر دکھائی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم، حکومت، سکیورٹی اداروں کے کارکنان اور درد دل رکھنے والے شہریوں نے مسلمانوں سے بھرپور یکجہتی دکھائی۔

Read more

مودی کی سیاست،آرمی کیپ اور ہماری عبادت گزاری!

سیاست تو صرف مودی ہی کر رہا ہے۔ کبھی مبمئی حملے کروا کے، کبھی پٹھان کوٹ پر یلغار کر کے، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا کے، کبھی اوڑی میں ٹانگ اڑا کے، کبھی گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کے۔ اور اب پلوامہ میں اپنے نیم فوجی جوانوں کی لاشوں پر الیکشن کا تاج محل سجانا چاہتا ہے۔ مودی نہیں بلکہ سیاست گردی کا موذی کردار ہے جو پاکستان کے پہاڑی علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر کے جیش محمد کے تین سو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا اپنے سر باندھ کر آنے والے الیکشن میں تین سو نشستیں حاصل کرنے کے درپے ہے۔اس نے تو الیکشن میں بہر صورت کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا دیا ہے۔ مودی سیاست کاری کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ جب کہ اس کے ہم وطن حریف سیاست دان، ریٹائر جنرلز اور صحافی و تجزیہ کار دن رات مودی کی بازاری سیاست پر کیچڑ اچھال کے عین عبادت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اپوزیشن لیڈر اور جناب عمران احمد نیازی کے دیرینہ دوست نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے کو ڈراما اور بالا کوٹ سرجیکل سٹرائیک کو سیاسی سٹنٹ قرار دے کر ان کی بھرپور مذمت کی ہے۔

Read more

نواز شریف کی بیماری اور حکومت کا بے رحمانہ رویہ!

بیماری اللہ تعالٰی کی طرف سے آتی ہے اور وہی شفا دیتا ہے مگر استطاعت اور دستیاب وسائل و اسباب کے مطابق علاج معالجہ کی سہولیات حاصل کرنا سنت رسول بھی ہے اور انسان کی اہم ترین ذمہ داری بھی۔ ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم آج محاورتاً نہیں حقیقتاً زندگی اور موت کی…

Read more

نواز شریف کے بیانیے کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست!

جب سے وزیر خارجہ کا پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے والا بیان پڑھا، حکومت کا پاکستان میں بروئے کار دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم اور انتہا پسندانہ رویوں کے سد باب کے لیے کاوشوں کے نئے سرے سے آغاز کے بارے میں جان کاری ہوئی ہے ہماری توجہ گاہے منیر نیازی کی مشہور زمانہ نظم کی طرف چلی جاتی ہے جس کا عنوان ہی یہ ہے کہ ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ اور گاہے مرزا غالب کے اس معرکتہ آلارا مصرع میں اٹک جاتا ہے کہ ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“۔یہی نہیں بلکہ دنیا کے مکافات عمل کے اصول پر روایتی انداز سے ایمان نہ لانے کے باوجود ذہن کبھی کبھار اس نظریے کی طرف بھی منتقل ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ قانون مکافات عمل ہی کا شاخسانہ نہ ہو یا ہمارے ہاں ایک اور تاریخی جملہ تواتر سے ایسے مواقعوں پر دھرایا جاتا ہے کہ ”تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے“۔ اسی پر بس نہیں مختلف النوع خیالات کی وادیوں میں بھٹکنے والا ہمارا ذہن جناب وزیر خارجہ اور چیف جسٹس صاحب کے سنہری بیانات کی ٹائمنگ کے حسن اتفاق کی طرف بھی آوارہ گردی کرنے لگتا ہے کیونکہ جناب چیف جسٹس نے بھی کل ہی سے سچ کے نئے سفر کی بازیافت کا اعلان فرمایا ہے۔

Read more

جنگ، امن، خیر سگالی کا جذبہ اور نوبل انعام!

ہمارے ایک بذلہ سنج اور شگفتہ مزاج دوست نے ایک بار ایک لطیفہ سنایا تھا جو کچھ یوں تھا کہ کسی محلے میں ایک آدمی کو لوگ جج صاحب جج صاحب کہہ کرمخاطب کرتے تھے۔ جج صاحب کی ظاہری وضع قطع اور حال حلیہ ججوں والا ہرگز نہیں لگتا تھا۔ محلے میں ایک نو وارد یہ صورت حال دیکھ کر بہت سٹپٹایا کرتے۔ آخر ایک دن انہوں نے جج صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ آپ کس عدالت کے جج رہے ہیں۔ جج صاحب نے بے تکلفی اور برجستگی سے جواب دیا کہ حضرت ایک مرتبہ محلے میں مرغوں کی لڑائی ہورہی تھی۔ مجھے تماشائیوں نے اصرار کرکے مرغوں کے مقابلے کاجج مقرر کردیا۔ بس اس دن کے بعد سے محلے بھر میں جج مشہور ہوگیا ہوں۔یہ لطیفہ ہمیں فاقی وزیر اطلاعات جناب فواد چودھری اور پی ٹی آئی کے چند دوسرے قائدین کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کی گئی اس قرارداد کے بابت سن کر یاد آیا جس میں انہوں نے مطالبہ گیا ہے کہ خیر سگالی کے جذبے، امن اور انسانی ہمدردی کے تحت بھارت کے پائلٹ کو اپنے ملک واپس بھیجنے کے کارنامے پر جناب عمران خان کو امن کا نوبل انعام ملنا چاہیے۔ اگر ایک قیدی کو وطن مالوف بھیجنے کا صلہ نوبل انعام ہے تو پھر اندرا گاندھی کو تو امن کے ہزاروں نوبل انعامات ملنا چاہییں تھے جنہوں نے پاکستان کے تقریباً نوے ہزار جنگی قیدی اکہتر کی جنگ کے بعد ہمیں واہس کیے تھے۔

Read more

افسوس! کپتان چھکا لگانے کے بعد ہٹ وکٹ ہو گئے

ایک ایسا شخص شومی قسمت سے اگر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو کر سیاہ و سفید کا مالک بن کر ملک کے نازک اور حساس معاملات پر فیصلے کرنے کا اختیار استعمال کرنا شروع کردے جو اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے اس درجہ انتہا پسندانہ رویے کا حامل ہو کہ ایک طرف عین…

Read more

جنگی ماحول میں کپتان کا مودی کو امن کا پیغام

مہاراجہ اشوک اعظم موریہ خاندان کا تیسرا بادشاہ تھا۔ بادشاہ بننے کے آٹھویں سال اس نے ہندوستان کی مشرقی سرحدوں پر واقع ریاست کلنگا کو خوں ریز جنگ کے بعد حاصل کیا تھا۔ یہ جنگ تاریخ انسانی کی چند خوں ریز، ہولناک اور تباہ کن جنگوں میں سے ایک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق…

Read more