لاتعداد وعدوں اور دعووں کے ساتھ مسلط کی گئی حکومت کے پاس جب کارگردگی اور کارگزاری کے نام پر دکھانے کو کچھ نہ ہو تو اس کا لاڈلا سربراہ فرمائشی اجتماعات میں کبھی حریف سیاسی پارٹی کے تیسرے درجے کے قائد کے ایک غیر اہم انٹرویو پر طنز و تعریض کے تیر برساتا ہے۔ کبھی اپنی بے ربط تقریروں میں ترکی ڈرامے دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کبھی سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی پر محمول کر کے سیاسی حریفوں کے خلاف انتہائی گھٹیا اور اخلاق باختہ زبان استعمال کرتا ہے۔ کبھی این آر او نہ دینے کا فرسودہ اور بے ہودہ نعرہ لگا کر اپنی بے اختیاری کا واویلا کرتا ہے اور کبھی ملک کی فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر اسے متنازعہ بناتا ہے۔
آپ اس حکومت کی نا اہلی اور نالائقی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ آج ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ غربت کے نام پر غریب ختم کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ بیٹھ چکی ہے۔ گردشی قرضے خطرے کی حد عبور کر چکے ہیں۔ کرپشن کے ہوش ربا سکینڈل سر اٹھا رہے ہیں۔ گیس کی کمیابی کا بحران منہ کھولے کھڑا ہے۔ کورونا کی دوسری یلغار ہمارے لوگ تیزی سے اچک رہی ہے۔ خارجہ محاذ پر ہم بالکل تنہا ہو چکے ہیں اور کشمیر ہم سے چھن چکا ہے اور ہمارے وزیر اعظم صاحب، وزرا، کابینہ اور کرائے کے ترجمان اسحٰق ڈار کے انٹرویو کے مندرجات اور مختلف پہلووٴں پر وقت، وسائل اور پیسہ برباد کر رہے ہیں۔
Read more