اسد عمر کی رخصتی اور بادشاہ گروں کی مشکلات

ابھی وزیر اطلاعات و خارجہ اور تبدیلی سرکار کے دوسرے جادو بیان لاؤڈ سپیکروں کے بیانات کی بازگشت فضا میں موجود تھی کہ وزیر خزانہ جناب اسد عمر نے اپنے کپتان کے حکم پر وزارت سے مستعفی ہونے کی خوش خبری سنا دی۔ ان کی بصد خواری و رسوائی اپنے عہدے سے رخصتی سب پاکستانیوں کے لیے خوش کن اور خوش آئند و باعث اطمینان ہے۔ ابھی دو تین روز پہلے ہی اسد عمر نے اس طرح کی خبروں پر طنز آمیز پیرائے میں مرزا غالب کی مشہور غزل کے مطلع کا پہلا مصرع پڑھا تھا جو یہ تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

آج راقم ان کی خدمت میں اسی غزل کا ایک شعر پیش کرنا چاہتا ہے جو صوتی اور معنوی گہرائی کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

Read more

بنی گالہ کی روحانی قوتوں کا کمال اور کپتان کی مُردوں سے ملاقاتیں

جو لوگ کپتان کی پوشیدہ، خوابیدہ اور پراسرارطاقتوں اور روحانی ترفع و بالیدگی کے اعلٰی ترین درجوں سے بوجہ بغض و بخل انکار کرتے تھے، شہریار آفریدی کا حالیہ چشم کشا بیان ان کے منہ بلکہ فٹے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ ابھی تو معترضین اور حاسدین کا یہ رونا دھونا ہی ختم نہیں ہوا…

Read more

زخمی گال،خستہ حال ارباب اور ارباب اختیار!

ارباب کے گال تھپڑوں اور گھونسوں سے لال کرنے والا لعلوں کے لعل کا بھی کمال کا جاہ و جلال ہے۔ سیاست دانوں، مدرسے کے کمزور مولویوں، بے بس و مظلوم اساتذہ اور دہاڑی دار ٹھیلے والوں اور ریڑھی بانوں، بمشکل جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے والے ڈھابوں اور چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں…

Read more

تعلیم بالغاں،وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی اور کپتان کے معجزے!

کسی زمانے میں جہاد افغانستان، ہیروئن، کلاشن کوف اور بوری بند لاشوں کے کلچر کے بانی مرد مومن مرد حق نے مملکت خدادا میں علم و تعلیم کے چراغ جلانے کے لیے جگہ جگہ تعلیم بالغاں کے ادارے کھولے تھے۔ تعلیم بالغاں کے اداروں میں درس و تدریس کا آغاز دن گیارہ بجے کے بعد کیا جاتا تھا اور ہر عمر اور جنس کے طالبان علم و حکمت اور جویانِ شعور و آگہی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنی جھولیاں بھرتے تھے۔ایسے ہی کسی ادارے میں استاد صاحب جو عام طور پر مسجد کے مولوی صاحب ہوا کرتے تھے، نے ایک شادی شدہ نوجوان طالب علم کی مسلسل تین دن غیر حاضری لگا دی۔

Read more

تصویر کہانی کہتی ہے!

کہتے ہیں ایک تصویر ہزارلفظوں پر مشتمل فکر انگیز مضمون پر بھاری ہوتی ہے۔ تاریخ میں بے شمار تصویریں نہ صرف دنیا کے جغرافیے اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کر چکی ہیں بلکہ بہت سے مشہور انقلابات کی بنیاد بھی رکھ چکی ہیں۔ مثلاً عرب بہار سے منسوب تیونس، لیبیا اور مصر وغیرہ جیسے…

Read more

بزرگ دانش فروش کا اعتراف جرم اور نیا پاکستان!

ارادہ تو نئے پاکستان کی جدید ترین علمی درسگاہ ”وزیراعظم ہاؤس“ یونیورسٹی کے متعلق لکھنے کا تھا کہ جہاں سنا ہے خیر سے کلاسز کا اجرا کردیا گیا ہے اور ارسطوئے زماں جناب عمران احمد خان نیازی نے ملکی اور غیر ملکی طلبہ کو اپنے لیکچروں سے مستفید کرنا شروع کردیا ہے مگر مقطعے میں…

Read more

میں ”کپتان“ ہوں میرا اعتبار مت کرنا

جج نے پھانسی کے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی۔ مجرم نے لجاجت سے جواب دیا کہ جج صاحب! وزیراعظم عمران خان کو عقل کی بات کرتے ہوئے دیکھنا اورسننا چاہتا ہوں۔ جج نے کہا کہ بڑے سیانے ہو ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہو! ایک اور جج نے پھانسی ہی کے کسی دوسرے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی تو اس نے کہا کہ پشاور میٹرو بس پر سفر کرنا چاہتا ہوں۔ جج نے زیر لب مسکراتے ہوئے متذکرہ بالا جواب ہی دیا۔ یہ تو خیر ہلکے پھلکے لطیفے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری اور دیانت داری سے ان کا تجزیہ کیا جائے تو عمران خان صاحب کے سابقہ اور حالیہ اقوال میں اتنا تضاد دکھائی دیتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ قول کے ساتھ فعل کے تضاد کا ذکر بے محل اور فضول ہے کیونکہ وزیر اعظم صاحب نے ابھی بجز بد فعلی کوئی فعل انجام ہی نہیں دیا۔

Read more

آپریشن رد و بدل، انوکھا لاڈلا اور لے پالک دانش فروش

خواب آگیں اور خوش کن امیدوں کی زمین پر بیٹھ کر سہانے اور مسحور کن مستقبل کا خیالی پلاؤ پکانے والوں کی معصومیت اپنی جگہ۔ موہوم خبر کو اپنی خواہش کا زرق برق لباس زیب تن کروا کر خاکی سامراج سے خالص جمہوری راج و رواج کی برآمدگی کی دلکش لفظی پیکر تراشی بھی کوئی…

Read more

تبدیلی کی ہوا،چوتھا ستون اور نواز شریف

کچھ دن سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا تبدیل ہوتا رنگ، چند جیّد اور کہنہ مشق جغادری اور درباری اینکرز اور صحافیوں کا بدلا ہوا لب و لہجہ اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے پروگراموں اور خبر ناموں میں نئے پاکستان کے نمائشی اور فرمائشی حکمرانوں کی نا اہلی، بد ترین کارکردگی اور کرہشن کی…

Read more

جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی لفظی گولہ باری اور کپتان

سال ہا سال سے بہاؤالدین ذکریا اور شاہ رکن الدین عالم کے درباروں کی گدی نشینی کے کاروبار سے کاروبار سیاست چلانے والے مخدوم کا ضمیر اچانک بیدار ہو گیا ہے یا ایک مدت سے گھاٹ گھاٹ کی سیاسی پارٹیوں کا پانی پینے والے نے کسی نئی شاخ پر نشیمن بنانے کا ارادہ کر لیا ہے؟ جہاندیدہ و تجربہ کار سیاست دان نے واقعی عمرانی اقتدار کی ڈولتی اور ہچکولے کھاتی کشتی سے چھلانگ لگانے کی تیاری کر کے دانشمندی اور سیاسی بصیرت افروزی کا ثبوت دیا ہے یا ملک پر مسلط مہنگائی، بیروزگاری، غیر یقینی اور معاشی و سیاسی بد حالی کی کریہہ اور ظالمانہ تصویر دیکھ کر مداری کی طرح ڈگڈگی بجا کر عوام کی توجہ بانٹنے کی کوشش کی ہے؟

ملکی اور عالمی سیاسی بساط کے پرانے کھلاڑی کو غیبی طاقتوں کی طرف سے ان ہاؤس تبدیلی کے نتیجے میں اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے جانے کا کوئی اشارہ ملا ہے یا کپتان نے نا اہل جہانگیر ترین کے ناروا اور بھاری بوجھ کو اتار پھینکنے کے لیے وہ آزمودہ ہٹھکنڈا اختیار کیا ہے جس کی ایک جھلک علیم خان کیس کے حوالے سے نظر آتی ہے؟ وجوہات کچھ بھی ہوں ملتان کے سجادہ نشین نے بظاہر بالانشینوں اور پردہ نشینوں کو یکبارگی حیران و پریشان کر دیا ہے۔

Read more