کپتان کا خیالی اور حقیقی بجٹ

بجٹ کے پیچیدہ اعداد و شمار، گنجلگ گوشواروں اور ادق اصطلاحوں کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کسی سیانے نے کہا تھا کہ جھوٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ جھوٹ، سفید جھوٹ اور میزانیہ (بجٹ) ۔ یوں توہماری مختصر تاریخ کا ہر بجٹ ہی غریب کُش، عوام دشمن اور زہرناک ہوتا ہے مگر جدید ریاستِ مدینہ کے ماڈرن ”خلیفہ“ کے عہدِ خلافت میں پیش کیا جانے والا حالیہ بجٹ حقیقت میں بجٹ سے زیادہ ٹیکس و محصولات نامہ ہے۔ اشیائے خور و نوش میں سے شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جس پر ٹیکس نہ لگایا گیا ہو۔ مفلس اور مفلوک الحال عوام کو اب کھانے کے لیے غم اور پینے کے لیے آنسوؤں کے سوا کچھ میسر نہیں ہو گا۔ اس موقعے پر ہمیں مشہور شاعر جناب انور مسعود کی بجٹ پر کہی گئی نظم باوجود کہنگی کے یاد آرہی ہے۔ کچھ شعر آپ بھی سن لیں۔

Read more

میرے خلاف بہت بڑی سازش کی گئی;کپتان کا انکشاف

میرے پاکستانیو! میں آج آپ کواپنے خلاف ہونے والی پے در پے سازشوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ سازشوں کی نوعیت اور ماہیت کے بارے میں بتانے سے پہلے میں بھی بتاتا چلوں کہ میرے خلاف خطرناک اور المناک سازشوں کا جال نواز شریف اور اس کے حواریوں نے مودی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر بچھایا ہے۔

Read more

”جورا لنبڑ“ رضاکار تھا یا مکار؟

سکول کے زمانے میں ہمارا ایک ہم جماعت ہوتا تھا۔ نام تو اس کا منظور تھا مگر ”جورا“ کے نام سے مشہور تھا۔ بہت لحیم شحیم، بھاری بھرکم، دیو ہیکل اور ہتھ چھٹ واقع ہوا تھا۔ اپنی طاقت و توانائی پر گھمنڈ تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے ہم جیسے نحیف و نزار اور ڈرپوک ہم مکتبوں کے لنچ باکس پر بھی چوری چھپے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے۔ اس اضافی ہنر مندی کی وجہ سے سکول میں اس کے نام کے ساتھ ”لنبڑ“ کا لاحقہ بھی لگ گیا۔ اب اسے ”جورا لنبڑ“ کے نام سے شہرتِ عام اور بقائے دوام مل گئی تھی۔ مگر کسی کی کیا مجال کہ اس کے روبرو اسے اس نام سے پکار سکے۔ البتہ اس کی عدم موجودگی میں سب اسے ”جورا لنبڑ“ ہی کہتے تھے۔

Read more

نواز شریف، محسن داوڑ، علی وزیر اور جسٹس فائز عیسٰی وغیرہ

کون جانتا تھا کہ 21 مارچ 2009 کو ن لیگ اور وکلا کے ساتھ باہم مل کر جناب افتخار محمد چودھری کو ایک فیصلہ کن احتجاجی جلوس کے نتیجے میں بحال کروانے والے نواز شریف آج پابندِ سلاسل اور جناب عمران خان وزارتِ عظٰمی کی کرسی پر متمکن ہو کر اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال وہی غلطی کریں گے جو جنرل مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے اقتدار پر قابض ہونے کے آٹھ سال بعد کی تھی۔ عوام کو یاد ہوگا دو سالا وکلا تحریک میں بے شمار وکیلوں نے دھماکوں اور آتشزنی کے واقعات میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

Read more

پی ٹی ایم بمقابلہ ریاستی ادارے اور حکومت

 کسی واقعے یا حادثے کے ردعمل کے حوالے سے شدت پسندانہ اور یک طرفہ نقطہ نظر شاید ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہم نتیجہ پہلے اخذ کرتے ہیں واقعے کے بارے میں معلومات بعد میں حاصل کرتے ہیں۔ خوب و زشت، جائز و ناجائز اور وفاداری و غداری کے بھی ہمارے اپنے پیمانے ہیں…

Read more

ایک اور ورلڈ کپ: خدا خیر کرے

بلا شبہ کرکٹ پوری دنیا کا مقبول اور معروف کھیل ہے۔ پاکستانیوں کو تو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ مذہب، افواج اور قومی زبان کے علاوہ جس چیز نے پاکستانیوں کو باہم متحد اور جوڑ کر رکھا ہوا ہے وہ کرکٹ ہے۔ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب ستائیس سال قبل…

Read more

روحانیت بمقابلہ نحوست و آسیب!

روحانی و خلائی مخلوق سمیت ہر کوئی شدت سے منتظر تھا کہ 25 جولائی کو دشمن طاقتوں کو ووٹ کی قوت سے شکستِ فاش ہوگی اور ہر طرف برس ہا برس سے بنجر سر زمین پر تبدیلی کے سوتے پھوٹیں گے۔ پل بھر میں جنگل کا جنگل ہرا ہو جائے گا کیونکہ بنی گالہ کی روحانی طاقتوں کے علاوہ خلائی اور بالائی مخلوق بھی 2018 کو زائچہ دیکھ کر تبدیلی کا سال قرار دے چکی تھی۔ اصحاب غیب، رجالِ رشید اور تمام مافوق الفطرت طاقتیں بھی اپنے اپنے محاذ اور مورچے سنبھال چکے تھے۔

Read more

چیئرمین نیب کی رخصتی کا گجر بج چکا!

اگر راقم الحروف مکافاتِ عمل اور جیسی کرنی ویسی بھرنی جیسے مقولوں پر کما حقہ یقین رکھتا ہوتا تو آج ببانگ دہل چئیرمین نیب کے مبینہ سکینڈل پر یہ نعرہ بلند کرتا کہ کارسازِ قضا و قدرت کی طرف سے ن لیگ کو ہر جمعے عدالتوں میں ذلیل و خوار کرنے والے کا اپنا یوم…

Read more

لاشوں پر سیاست کرنے والے کم ظرف گدھ

قمر زماں کائرہ صاحب کے جواں سال برخودار کی ناگہانی موت پر ہر دردِ دل رکھنے والا آدمی اشک بار ہے۔ میری اہلیہ اسامہ کی موت کی خبر سن کر کئی بار فرط جذبات سے آنسو بہا چکی ہیں۔ بچے بھی ملول و مغموم ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قمر زمان کائرہ بلا شبہ ان سنجیدہ و فہمیدہ سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو پارٹی وابستگی سے بالا تقریباً تمام لوگوں کے لیے قابل قبول ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی مسئلے پر ان کا تجزیہ نہایت منطقی، مربوط، صائب اور حسب حال ہوتا ہے۔

Read more

مائیں کیوں مر جاتی ہیں؟

 ادھر 22 فروری 2006 کا سورج مارگلہ کے پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا اور ادھر پمز ہسپتال کے میڈیکل وارڈ کے ایک کمرے میں ماں نے آخری ہچکی لی۔ ماں جی کے جسمانی عوارض، قلبی نا آسودگیوں اور روحانی بے قراریوں کو گویا قرار آ گیا تھا۔ کم و بیش بیس برس…

Read more