فائل کے نیچے پہیے لگانے کے بین الاقوامی ماہر ملک ریاض نے ملک سے کرپشن ختم کرنے کا طریقہ بتا دیا


موجودہ حکومت نظام میں بہتری لانے کے دعوے کررہی ہے مگر سرکاری دفاترکو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے؟ ملک ریاض نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک ریاض نے کہا ہے کہ ہم نے بحریہ ٹاون میں اللہ کے فضل و کرم سے گڈ گورننس اور مثالی منیجمنٹ کا موثر نظام ترتیب دیا ہے، اس بہتر سسٹم کی اساس چند بنیادی اصول ہیں جن پر بحریہ ٹاون کے ہزاروں ورکرز کاربند رہنے کے پابند ہیں، درجہ ذیل اصولوں کو سرکاری دفاتر میں صدق دل سے نافذ کردیں، عوام کی حکومت سے آدھی سے زیادہ شکایات دور ہوجائیں گی ۔انشااللہ

دفتروں میں اخبار بند ہونی چاہیے، ایک ٹی روم ہوناچاہیے جس میں ٹی بریک میں جاکر بندہ چائے بھی پیئے اور اخبار بھی پڑھے۔

 دفتروں میں موبائل فون بند ہونا چاہئے۔

دفتر ٹائم میں دوستوں اور رشتے داروں کا ملنا بند ہونا چاہئے۔

ہر آفیسر کے پاس ایک گاڑی ہونی چاہئے جس کا فکسڈ خرچہ ہونا چاہئے۔ ہر آفیسر کی پانچ ،پانچ ،چھ ، چھ گاڑیاں بند ہونی چاہئے، ہر اچھے کام کرنے والے آفیسر کو انسینٹیو ملنا چاہئے۔

ہر ہیڈ کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ اس کے دفتر کے لوگ غیر حاضر نہ ہوں۔ جو غیر حاضر ہو اس کی تنخواہ کٹنی چاہئے۔

پرائز بانڈ کو ڈاکیومنٹ کرنا چاہئے اور ان کی کھلے عام فروخت بند ہونی چاہئے۔

جب تک 5 ہزار کا نوٹ ، 10ہزار کا بانڈ اور 25ہزار کے بانڈ بند نہیں ہوگا اس ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوگی۔ جب تک کیش کا لین دین بند نہیں ہوگا کرپشن کا خاتمہ نا ممکن ہے۔

 ایف بی آر ، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پولیس میں بہت بڑی ریفارمز کی ضرورت ہے، ان اداروں میں انٹر نیشنل سٹینڈرڈ جو دوسرے ممالک نے رکھا ہوا ہے، اسے اپنانا چاہئے۔ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو دبئی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرح ڈویلپمنٹ اتھارٹی بننی چاہئے اور واپڈ، سوئی گیس ، ٹیلی فون جیسے تمام ادارے اس کے ماتحت ہونے چاہئے۔

یاد رہے کہ ملک ریاض رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں کرپٹ ہتھکنڈوں کے لئے بدنام ہیں۔ ان کا ادارہ رہٹائرڈ فوجی افسروں اور عدلیہ کے ججوں کو ملازمت دے کر ناجائز فائدے اٹھانے کی شہرت رکھتا ہے۔ ملک ریاض ایک سے زائد مرتبہ ٹیلی ویژن انٹرویوز میں سرعام بتا چکے ہیں کہ ان کی فائل کبھی نہیں رکتی کیونکہ وہ ہر فائل کے نیچے رشوت کے پہیے لگانے کا کام جانتے ہیں۔

Facebook Comments HS