عید قرباں سے پہلے اور بعد۔۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیر سے وطن عزیز میں کوئی مذہبی،سیاسی،سماجی،معاشرتی تہوار ایسا نہیں ہوتا جس میں بدقسمتی سے بےبس عوام کی درگت نہ بنے۔عید میلادالنبی ،محرم کے جلوسوں اور سیاسی جلسے اور دھرنوں کے ہنگام خلق خدا جس طرح عذاب و اذیت میں گرفتار کی جاتی ہے،اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔راستوں اور سڑکوں کی بندش اور ناکہ بندی پر مستزاد سکیورٹی عملے کی امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر شہریوں کی جامہ تلاشی اب باقاعدہ تذلیل و رسوائی کا تباہ کن اور افسوس ناک سانحہ بن چکی ہے۔بقرہ عید جسے ستم ظریفوں نے بکرے کی مناسبت سے بکرا عید ہی بنا دیا ہے;وہ بھی شہریوں کے لیے سخت آزمائش اور امتحان کا پیغام لاتی ہے۔آج سے چارپانچ برس پہلے ہر چھوٹےبڑےشہرکے معروف اور غیر معروف بازاروں کی گلی کوچوں اور چوراہوں میں میلہ مویشیاں کا سماں ہوتا تھا۔گلی گلی جانوروں کی منڈی لگتی تھی۔ساتھ ہی چارے والے،خوانچہ فروش،ٹھیلے والے،چھریاں چاقو تیز کرنے والے،رسیاں بیچنے والے اور طرح طرح کے کاروباری حضرات تمام راستے اور سڑکیں روک کر بیٹھ جاتے تھے،جس کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتی تھی۔آج کل شہر کے بڑےبازاروں میں تو ایسے منظر نہیں ہوتے مگر ملحقہ بازاروں کی گلی کوچوں میں اب بھی تواتر سے ایسےنظارے دیکھنے کومل جاتے ہیں۔اس حوالے سے ہمارے اڈیالہ روڈ کی بھیڑ بھاڑ نے لوگو ں کو بہت پریشان کر رکھا ہے۔خواجہ کارپوریشن چوک سے گلشن آباد تک سڑک کے دونوں طرف اصلی اور موسمی بیوپاریوں نے انت مچا رکھی ہے۔خاص طور پر گلشن آباد چوک میں ٹریفک کئی کئی گھنٹے بند رہتی ہے۔کبھی کبھار چند ٹریفک اہلکار کنٹرول کرنے آ نکلتے ہیں مگر اتنے بڑے ،غیر منظم اور بے ترتیب ہجوم کو قابو کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔بیوپاریوں کےساتھ بھاؤ تاؤ کرنے والےخریداروں کوبھی لوگوں کی مشکلات کا احساس نہیں ہوتا۔ایسے مناظر شہر کے ہر چھوٹے موٹے بازاروں میں دکھائی دیتےہیں۔سڑک پر جانوروں کا فضلہ اور روندا ہوا چارا جگہ جگہ نظر آتا ہے۔تعفن،بدبو کے بھبکے اٹھ رہےہوتےہیں۔مکھیوں،مچھروں اور حشرات الارض کی بہتات نے پورے علاقے کو لپیٹ میں لے رکھا ہوتا ہے۔ایمبولینسز پر مریض اور ان کے لواحقین الگ آفت میں مبتلاہوتے ہیں۔ لوگ غصے ،اضطراب،جھنجھلاہٹ میں ایک دورسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔عید قرباں کا فلسفہ ہی ایثار و قربانی کا ہے مگر یہاں ہر طرف آپا دھاپی ،نفسانفسی،دھکم پیل اور ہڑبونگ مچی ہوتی ہے۔
آج کل ہر طرف نئے پاکستان کا امید افزا اور رجائیت بھرا شورغل مچا ہے۔اگرچہ نئے پاکستان کے اکثر معماروں کا تعلق مشرف کے دور کے پرانے کھلاڑیوں سے ہے مگر ہم پھر بھی جناب وزیر اعظم سے اور ان کی کابینہ سے درخواست کریں گے کہ سعودی عرب ،ابوظہبی ،ایران اور بہت سے دوسرے مہذب اسلامی ملکوں کی طرح یہاں بھی شہر کی سطح پر شہریوں کے لیے آن لائن قربانی کی سہولیات کا آغاز کیا جائے۔ تاکہ ہم بھی مہذب ملکوں کی طرح قربانی کا فریضہ انجام دے سکیں ۔ سرکاری مویشی منڈ یاں تو کمائی کا کا ذریعہ ہی ہیں ۔اس بھیڑ بھاڑ اور حشر سامانی میں وہ لوگ بھی رگڑے جاتےہیں جو صاحب استطاعت نہیں ہوتے اور دل بہلانے کے لیے “اوپن ” مویشی منڈی کارخ کرتے ہیں یا اپنے کسی کام سے آتے جاتے یہاں پھنس جاتے ہیں۔وہ زبان حال سے اس وقت یوں شکوہ کناں ہوتے ہیں

جب میری پہنچ میں کوئی سودا ہی نہیں
پھر کس لیے لگتا ہے یہ میلہ مرے آگے
میں ایک سبک جیب ادھر کانہ ادھرکا
بکرا میرے پیچھے ہے تو لیلا میرے آگے
منڈی سے جانوروں کو گھرتک پہنچانے کے لیے بھی خریداروں پر کئ قیامتیں گزرجاتی ہیں۔وہ بھاری کرائے ادا کر کے جانوروں کو قربان گاہ تک پہنچاتے ہیں۔ پھر چند دن تک ان کو سنبھالےرکھنا اور ان کے چارے پانی کا انتظام کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔چارے،دانے پانی دام بھی ان دنوں آسمان سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اب ذرا عید قرباں کے دن کی روداد بھی سنیے; پہلامرحلہ تو ماہر قصاب کی دستیابی اور اجرت کا طے کرنا ہوتا ہے۔ہر محلے کی ہر گلی میں جگہ جگہ مذبح خانے قائم ہوتے ہیں۔جانوروں کا خون پانی کی طرح بہہ رہاہوتا ہے۔لوگوں کو اپنے کپڑے جاتے بچانا مشکل ہو رہا ہوتا ہے۔بچہ پارٹی نے تو قربانی کو کھیل اور شغل تماشا بنا رکھا ہے۔جانوروں کا خون اور فضلہ جگہ جگہ پھیلا دکھائی دیتا ہے۔کچھ باثر اور طاقت ورلوگ تو باقاعدہ پبلک گلی بندکر کے قربانی کا فریضہ اداکرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔اسلام جو ہر معاملے میں صفائی،طہارت اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے،عید قرباں کے موقعے پر اس کی چھوٹی سی جھلک بھی نہیں ملتی۔البتہ ڈی ایچ اے ،بحریہ ٹاؤن اور اسی طرح کی پوش سوسائیٹیوں میں عید کے دن بھی سلیقے اور قرینےسے قربانی دی جاتی ہے اور صفائی و حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔کاش پورے ملک میں اسی طرح کا اہتمام کیا جا سکے۔
عید کے بعد ہمارے بلدیاتی ادارے جانوروں کی آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں اور یہ آلائشیں کئی کئی دن تک گلی محلے میں پڑی رہتی ہیں جس کی وجہ سے مختلفب بیماریاں اور وبائیں پھوٹ پڑنےکے خطرات ہوتے ہیں۔پنجاب اور اسلام آباد میں تو اس حوالے سے بتریج بہتری آئی ہے مگر باقی صوبوں خاص طور پر سندھ اورکراچی کا حال بہت ابتر ہے۔قربانی کےگوشتب کی تقسیم بھی ایک اہم مسئلہ ہے مگربہتبسے مقامات پراس کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا جاتا۔گوشت عام طور پر انہیں لوگوں کے ڈیپ فریزرز اور کولڈ سٹورز کی زینت بنتاہےجن کے پاس پہلے ہی اللہ کا دیا بہت کچھ ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقعے پر ہم مستحقین اور خاص طور پر سفید پوش طبقے کا بھرپور خیال رکھیں تاکہ ان کے بچے بھی کم از کم سال میں ایک مرتبہ پیٹ بھر کر گوشت کھا سکیں۔عید قرباں کو دکھاوے اور نمود و نمائش کا ذریعہ بھی نہیں بنانا چاہیے،جیسا کہ ہمارے ہاں عام طورپر دیکھا جاتا ہے۔اب تو باقاعدہ فی بک،وٹس اپ ،ٹویٹر وغیرہ پرجانوروں کی تصویری تشہیرکی جاتی ہے اور لوگوں سے قربانی کی قبولیت کی دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔حالانکہ یہ براہ راست اللہ اوربندے کی نیت کا معاملہ ہوتا ہے۔قربانی دینے والوں کو اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے کہ ست ابراہیمی کی ادائیگی کہیں ریاکاری کا باعث تو نہیں بن رہی؟بہرحا ل ہم نئے پاکستان کے بانیوں سے امیدرکھیں گے کہ اگلی عید قرباں کے مبارک موقعے پر ہم آج کے مقابلے میں بہتر صورت حال میں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •