صحافت،صحافی اور سید طلعت حسین
سید طلعت حسین سے میں نے سوال پوچھا کہ پاکستانی صحافت اور صحافیوں کو کیسا ہونا چاہیئے؟ سید طلعت حسین کا اس پر کہنا تھا کہ نیوز یا خبر جیسی بھی ہو، اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔اس کے باوجود صحافت میں نیوز کی اہمیت ثانوی ہونی چاہیئے۔نیوز چینلز اور اخبارات میں سب سے زیادہ زور آزمائی صرف نیوز پر نہیں ہونی چاہیئے۔ نیوز چینلز اور اخبارات میں سب سے زیادہ اہمیت عوام کی خوشیوں،ان کے دکھوں،غموں اور مسائل پر دی جانی چاہیئے۔عوام کے نفسیاتی مسائل پر بات کرنا انتہائی اہم ہے۔ اس کے بعد شاعروں،موسیقاروں ،فنکاروں اور رائیٹرز کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیئے۔ یہ خوبصورت، دلکش اور حساس انسان ہوتے ہیں۔ ایسے تخلیقی انسان کسی بھی نیوز چینل، اخبار یا ٹی وی شو میں زیادہ سے زیادہ وقت لینے کے حقدار ہیں۔ سیاست اور اس سے متعلقہ ایشوز کو میڈیا میں سب سے آخر میں جگہ ملنی چاہیئے۔
سیاستدانوں،فوجی جرنیلوں اور مولویوں کو غیر ضروری اہمیت دینے میں جتنا زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے گا ،اتنا ہی ملک و قوم کے لئے فائدہ مند ہے۔ اچھی صحافت میں سیاست اور منفی پہلووں کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیئے ،سارا فوکس صرف سیاستدانوں،جرنیلوں اور جرائم پیشہ افراد پر نہیں رکھنا چاہیئے۔ باشعور اور ترقی یافتہ صحافت میں منفی خبروں سے زیادہ مثبت خبروں کی اہمیت ہوتی ہے،اس لئے سب سے پہلا فوکس مثبت خبریں، اس کے بعد منفی خبروں کو دیکھانا چاہیئے۔ سی این این یا بی بی سی جیسے صحافتی اداروں میں مثبت خبروں کو خوبصورتی سے لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ہر حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی صحافت میں مثبت خبروں کی پروجیکشن ایسی نہ ہو کہ وہ حقیقت سے زیادہ افسانوی محسوس ہوں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ منفی خبریں ہی صرف نیوز چینلز کا منشور نہیں ہونا چاہیئے۔ موت زندگی کا اہم حصہ ضرور ہے لیکن زندگی کی خوبصورتی زیادہ اہم ہے۔جس پر زیادہ سے زیادہ فوکس کیا جانا چاہیئے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں برائی کی سلطنت طاقتور لوگ ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ منفی خیالات ہر وقت میڈیا کا حصہ رہتے ہیں۔ صحافیوں کی یہ اولین زمہ داری ہے کہ وہ منفی خیالات اور نظریات کی بلاوجہ مدد مت کریں۔پاکستانی صحافت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے صحافیوں کی اچھی خبروں کے ساتھ کسی قسم کی دلچسپی نہیں رہی۔ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے دباؤ کی وجہ سے صحافی سنسنی خیزی تخلیق کرتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ سنسنی خیزی شعور اور آگہی کی موت ہے۔اب بیچارہ صحافی بھی سنسنی خیزی پھیلانے پر مجبور ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے پر اسے نوکری سے فارغ بھی کیا جاتا ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ صحافی کی نوکری بدقسمتی سے ریٹنگ کے ساتھ نتھی کردی گئی ہے۔ ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی صحافت میں جاہل اور کم علم صحافیوں کی بادشاہت ہے، جو خود بھی ہر وقت ریٹنگ کے چکر میں سنسنی خیزی پھیلاتے رہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مثبت اور خوبصورت خیالات کو جانچنا اور پرکھنا بھی نہیں آتا۔ مثبت پہلووں کو تو صرف وہ صحافی سمجھ سکتا ہے جو بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہو۔
میڈیا ھاؤسز کے مالکان کے دباؤ اور اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے پاکستانی صحافی ہر وقت سنسنی خیزی کے چکر میں انسانی نفسیات میں زہر ،غصہ،تعصب اور نفرت انڈیلتے رہتے ہیں۔ ہر وقت جب نیوز چینلز پر منفی خبروں اور منفی خیالات کا پرچار کیا جائے گا تو ناظرین ہی اس کی زد میں آئیں گے جس سے معاشرے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پروان چڑھے گی۔ سنسنی خیزی کی وجہ سے اچھائی کی اہمیت انسانی دماغ سے مٹائی جارہی ہے جبکہ گندگی،جھوٹ اور منافقت کی اہمیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ سید طلعت حسین نے کہا یہ کیا بدنصیبی کی بات نہیں کہ صحافی کی نظر میں اچھی خبر کوئی خبر کوئی خبر ہی نہیں ہے۔یہ ضروری ہے کہ اس صحافیانہ نظریئے کو بدلا جائے۔
نظریہ یہ ہونا چاہیئے کہ بڑی اور گھٹیا خبر کوئی خبر نہیں ہوتی۔ مثبت اور اچھی خبر ہی اصلی اور حقیقی خبر ہوتی ہے۔نیوز چینلز میں زیادہ سے زیادہ اہمیت اچھی اور خوشگوار تخلیقی خبروں اور تخلیقی شخصیات کو دی جانی چاہیئے۔ نیوز چینلز میں زیادہ سے زیادہ اہمیت تخلیقی انسانوں،ان کی خبروں اور ان کے خیالات و نظریات کو دی جانی چاہیئے۔
صحافی وہ ہے جو کسی سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔ معاشرے کا سب سے بہادر انسان صحافی ہوتا ہے۔صحافی وہ ہوتا ہے جو سچائی کے لئے کسی بھی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔پریس اور الیکٹرانک میڈیا کتنا آزاد ہو؟ پریس اور الیکٹرانک میڈیا کو مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیئے۔ ایسا میڈیا جو مالکان کے کنٹرول میں بھی نہ ہو۔مالکان کے علاوہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول سے بھی میڈیا کوآزاد ہونا چاہیئے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ میڈیا سیاستدانوں،جرنیلوں اورنیوزچینلز مالکان سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔میڈیا کی اہمیت اس وقت دیکھائی دے گی جب وہ پابندیوں اور دباؤ سے آزاد ہوگا۔ایسی صورتحال ہوگی تو تب ہی میڈیا معاشرے کے تخلیقی لیکن کمزور افراد کے حقوق کے لئے جنگ کر سکے گا۔
ایسے افراد جن کے پاس طاقت اور اقتدار نہیں ہے لیکن وہ انسانیت کے لئے عظیم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیوز میڈیا ایسے تمام افراد کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔۔ ایسا نظر آئے گا تب ہی اچھائی کی بہتر انداز میں پروجیکشن ہوگی۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا جدید دور میں طاقتور ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے طاقتور حلقوں اور سنسنی خیزی کی وجہ سے اس کی اہمیت ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔یہ کوئی بات نہیں کہ عوام سنسنی خیزی چاہتے ہیں ۔ اگر یہ سچ بھی ہوکہ عوام سنسنی خیزی چاہتے ہیں؟ کیا عوام جو کچھ ڈیمانڈ کریں گے وہ سب کچھ اسکرین پر سیکھایا جانا چاہیئے؟ عوام کا مزاج اگر بگڑا ہوا ہے تو ان کی تربیت کرنا کس کا کام ہے؟ ان کی فکری و علمی ترقی کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ناظرین جو چاہتے ہیں وہ سب کچھ دیکھایا جائے گا تو کیا ایسا کرنا بھی ناظرین کا استحصال نہیں ہے۔ صحافی کی زمہ داری ہے کہ وہ جو بھی رپورٹ کرے وہ فطری ہو نہ کہ غیر فطری۔ یہ بھی صحافی کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عوام کے شعور کے لئے کیا فطری اور کیا غیر فطری ہے؟فطری خیالات کو صحافی کو سپورٹ کرنا چاہیئے۔ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ انسانیت قید سے آزاد ہو۔
کیا صحافت کاروبار نہیں ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافت بزنس بھی ہے لیکن یہ کاروباری فوائد سے زیادہ اہم ہے۔ صحافت کو کاروباری فوائد کی خاطر بدعنوان کرنا بھی تو عظیم جرم ہے اور یہ جرم میڈیا ہاوسز کے مالکان اور مقتدر قوتیں کھلم کھلا کررہی ہیں۔ صحافت کاروباری نقصان یا فوائد سے بالاتر ہونی چاہیئے۔۔ صحافی بنیادی طور پرانقلابی یا باغی ہوتا ہے جو افراد اور انسانیت کی بہتری کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اچھے اور عظیم مقاصد کی خاطر جنگ کرتا ہے۔ صحافت انقلاب کا سبب بنتی ہے۔ صرف پروفیشن نہیں ہے۔ صحافی ایسا باغی اورانقلابی ہوتا ہے جو انسانوں کو بتاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ پاکستان میں صحافی کو اب سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ریاستی غلامی پربھی بات کرنا پڑے گی۔ اس دھرتی کا انسان ہزاروں سال سے مقتدر قوتوں کی غلامی کا شکار ہے۔ اس پر بھی بات کرنا پڑے گی



