قائد اعظم نے عید الاضحیٰ کی نماز کیسے ادا کی: عالم دین کی جرات ایمانی کو سلام
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر بنانے کا دعوٰی سبھی حکمران کرتے آئے ہیں لیکن قائد اعظم جیسی فراست اور اصول پسندی و سادگی شاید ہی کسی کے نصیب میں لکھی ہو گی۔ قائد اعظم پروٹوکول کے عادی نہیں تھے بلکہ ایک عام شہری کی حیثیت سے عوام میں گھل مل جایا کرتے تھے۔ قائد اعظم نے اپنی زندگی کی چار عیدیں پاکستان میں ادا کیں اور ہر بار سادگی کے ساتھ اس کو عوام کے ساتھ منایا۔ سرکاری حکام کی کوشش ہوتی تھی کہ قائد اعظم اگلی صف میں نماز ادا کریں لیکن قائد اعظم نمازیوں کو پھلانگنے اور پروٹوکول کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتے تھے۔
معروف محقق عقیل عباس جعفری لکھتے ہیں کہ 25 اکتوبر1947ء کو قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ قائد اعظم اور دیگر سرکاری عمائدین نے 18 اگست 1947ء کوعیدالفطر کی نماز وفاقی دارالحکومت میں بندر روڈ پر مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں میں ادا کی تھی، جو عید گاہ کے نام سے بھی معروف تھی۔ اس نماز کی امامت کا فریضہ مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دیا تھا۔
25 اکتوبر 1947ء کو عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائی کے لیے بھی اسی مقام کا انتخاب ہوا۔ اس مرتبہ بھی امامت کا فریضہ مولانا ظہور الحسن درس کے حصے میں آنا تھا۔ قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا، لیکن تمام لوگ اس وقت بڑے حیران ہوئے جب نماز کا وقت آگیا مگر قائد اعظم عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انھوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نمازکی ادائی کچھ وقت کے لیے موخر کردیں۔
مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ’’میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں‘‘ چناںچہ انھوں نے صفوں کو درست کر کے تکبیر فرما دی۔ ابھی نماز عید کی پہلی ہی رکعت شروع ہوئی تھی کہ قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ نماز شروع ہو چکی تھی۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے پروٹوکول کے مطابق قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں، مگر قائد اعظم نے ان حکام کی درخواست مسترد کردی اورسختی سے کہا ’’ میں پچھلی صف ہی میں نماز ادا کروں گا‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ قائد اعظم کے برابر کھڑے نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا ریاست کا سربراہ تھا۔ نماز کے بعد جب نمازیوں کے علم میں یہ بات آئی تو پوری عید گاہ قائد اعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
قائد اعظم نمازیوں سے گلے ملنے کے بعد آگے تشریف لائے۔ انھوں نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرات ایمانی کی تعریف کی اور خوش ہو کر کہا ’’ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے‘‘ قائد اعظم نے اس روز پروٹوکول کو روند کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ اللہ کے حضور پیش ہوتے ہوئے کسی حکمران کو حفظ مراتب کا خیال رکھنا زیب نہیں دیتا۔


