قوم ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی شکرگزار ہے
بات گردے سے شروع ہوئی تھی ۔جگر سے ہوتی ہوئی اب کینسر کے علاج تک پہنچ چکی ہے۔بات ایک وارڈ سے شروع ہوئی تھی۔اب ایک جہازی سائز کمپلیکس بھی کم پڑ گیا ہے ۔بات کئی برس پہلے چند مریضوں سے شروع ہوئی تھی،اب ضرورت مندوں کی قطاریں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتیں۔آج ہم ایک ایسے مسیحا کی بات کرتے ہیں جو اس زمین کا سب سے خوبصورت اور پیارا انسان ہے ۔انسانی خدمت گزار ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی ماشااللہ 80 برس کے ہوگئے ہیں۔ وہ گردے کی بیماریوں میں مبتلا لاکھوں مریضوں کے مسیحا ہیں،ان سے پیار کرنے والے انہیں ایدھی ثانی بھی کہتے ہیں۔ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی صاحب نے اس زمانے میں گردوں کے علاج کیلئے خدمات سرانجام دینے کا آغاز کیا۔جب اس مرض کا علاج کرنے والا کوئی اور نہیں تھا۔ادیب رضوی صاحب نے1971 میں آٹھ بستروں کے ساتھ ایس آئی یوٹی کا آغاز کیا۔اب کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آٹھ کڈنی سینٹرز کام کررہے ہیں۔ڈاکٹر رضوی صاحب رنگ، نسل، فرقے اور مذہب کی تفریق کے بغیر انسانوں کی خدمت کرتے ہیں۔۔
عبدالستار ایدھی کے بعد اگر کوئی شخصیت پاکستان میں خدمت خلق کر رہی ہے تو وہ ڈاکٹر ادیب رضوی ہی ہیں۔آپ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے بانی اور چئیرمین ہیں۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن جسے لوگ SIUTکے نام سے جانتے ہیں ،نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں واحد مثالی ادارہ ہے جو گُردوں کی بیماریوں میں مبتلا غریب مریضوں کا سہارا ہے۔ ایدھی فائونڈیشن کی طرح SIUT کا نصب العین بھی طبقاتی و مذہبی تقسیم سے بالا تر ہو کر انسانی خدمت ہے۔پچھلی چار دہائیوں کے دوران ڈاکٹر ادیب اور ان کی ٹیم نے لاکھوں لوگوں کا مفت علاج کرکے ایدھی ازم کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔بے کار طرزِ حکمرانی کے درمیان ایک ایسا ادارہ بنایا جہاں امیر غریب ، مرد عورت، ہندو مسلم، شیعہ سنی کی کوئی تفریق نہیں۔ جہاں انسان کا علاج خیرات کے طور پر نہیں عزتِ نفس کے ساتھ اس کا حق سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
ادیب الحسن رضوی صاحب کو 17 سال کی عمر میں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنی پڑی ۔ خاندان کے بغیر انہیں کراچی کے مختلف ہاسٹلز میں رہنا پڑا۔ ۔میڈیکل ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر رضوی لندن چلے گئے۔ دس سال سرجری کی فیلو شپ حاصل کرنے میں صرف کیے۔ 1971 میں واپس کراچی آ کر اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے۔ اب زمینی حقائق دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہیلتھ کئیر مہیا کرنا اتنا آسان کام نہیں۔کچھ دوستوں سے چندہ اکٹھا کیا اور کچھ ساتھی ڈاکٹروں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ۔استعمال شدہ مشینیں بھی لندن سے منگوا ئیں۔ اتنی جان فشانی سے کام شروع کیا کہ عوام نے بہت جلد ان کی نیک نیتی کو پرکھ لیا اور امداد دینا شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہسپتال کو نئے آلات سے مزین کیا گیا۔۔ ہسپتال کی توسیع کے لیے ڈاکٹر صاحب نے لندن اور امریکہ کا دورہ کیا اور 1980 میں واپس آکر مزید ڈاکٹرز ، نرسز اور ٹیکنیشنز بھرتی کیے ۔ آج SIUT پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا میں گردوں کے علاج کے حوالے سے ایک مستند ادارہ مانا جاتا ہے ۔ اس ادارے میں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مفت علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ایس آئی یو ٹی میں گردے کی پیوندکاری کے ہر سال قریب پانچ سو پچپن آپریشن ہوتے ہیں۔ ہرسال30 لاکھ مریضوں کا او پی ڈی میں علاج کیا جاتا ہے جب کہ لاکھوں مریض ہر سال مختلف شعبوں میں علاج کے لیے داخل کیے جاتے ہیں۔ہر روز 900 کے قریب مریضوں کا ڈائیلیسز کیا جاتا ہے اس ادارے میں اب تک 8 لاکھ سے زیادہ مختلف نوعیت کے آپریشن کئے جاچکے ہیں۔
ڈاکٹر ادیب رضوی اور ان کی ٹیم نے پاکستان میں گردوں کا پہلا ٹرانسپلانٹ 1985ء میں کیا تھا اور اس وقت سے اب تک ایس آئی یو ٹی میں گردوں کے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مفت ٹرانسپلانٹ ہو چکے ہیں۔۔کچھ لوگ دُنیامیں ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں تقدیر اپنے کسی خاص کام کے لئے چن لیتی ہے وہ لوگ دُنیا کے کسی بھی حصے میں رہیں ان کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو جب قدرت کو ان سے کام لینا ہوتا ہے تو ان کے لئے راہیں خود بخود ہموار ہوجاتی ہیں وہ لوگ بھی اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہررکاوٹ کو برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو قدرت کے کسی خاص مقصد کے لئے منتخب کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب کہتے ہیں کہ دوائیں یا علاج و معالجے سے صحتمند معاشرہ وجود میں نہیں آتا بلکہ یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب پوری طرززندگی ہی صحت مند ہو جس میں حفاظتی تدابیر، غذا، تعلیم پانی و نکاسی کا نظام، رہائش اور نقل و حمل کے ذرائع شامل ہیں۔ جب تک یہ تمام شرائط پوری نہ کی جائیں تندرست بچہ اور تندرست معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیرہونا ممکن نہیں ہوسکتا۔گردوں اور ان سے متعلق امراض کے علاج کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے ادارے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے سربراہ ڈاکٹر رضوی کی کوششوں سے اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے کرشمہ ساز مسیحا کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ وہ جن دنوں ڈی جے سائنس کالج میں زیر تعلیم تھے، ان دنوں ایک تحریک بہت زور و شور سے جاری تھی۔ اس تحریک کا نعرہ تھا کہ تعلیم اور صحت ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ شروع میں ہم صرف نعرے لگاتے تھے لیکن آگے جا کر احساس ہوا کہ اس پر عمل بہت ضروری ہے۔ جب میڈیکل کی تعلیم لینا شروع کی تو لوگوں کی پریشانیاں دیکھیں کہ کس طرح وہ اپنے عزیز و اقارب کو ہسپتال میں داخل کرانے کے لیے پریشانیاں اٹھاتے تھے۔ علاج کے لیے پریشان ہوتے تھے۔ کہتے ہیں انہوں نے غریب خواتین کو کانوں کی بالیاں اور دیگر ساز و سامان بیچتے دیکھا تو ان مسائل کا شدت سے احساس ہوا۔ جب یہ سوچتا تھا کہ لوگوں کو بلا معاوضہ صحت کی سہولیات ملنی چاہییں تو لوگ کہتے تھے کہ ایسا کرنے کا تصور صرف خام خیالی ہے۔لیکن آج اپنے خواب کو عملی شکل میں دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔ڈاکٹر رضوی کہتے ہیں کہ انہیں لفظ چیریٹی ناپسند ہے۔ ان کے مطابق یہ چیریٹی نہیں شئیرنگ ہے، بس اسی خیال کو لے کر ان کی ٹیم آگے بڑھتی چلی گئی اورکارواں بڑھتا گیا۔ کبھی حکومت کی طرٖف سے فنڈز کے لیے نہیں رکے بلکہ نجی سیکٹرز اور لوگوں کی طرف سے کی جانے والی مدد کے تحت اس کام کو اور ادارے کو بڑھاتے چلے گئے۔ڈاکٹر رضوی کے مطابق سنتالیس برس قبل آٹھ بستروں پر شروع ہونے والا وارڈ آج آٹھ سو بیڈز پر مبنی ہسپتال ہے، اس وقت ہمارے پاس ہسپتال کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جبکہ اب دو ملٹی اسٹوری عمارتیں ہیں جبکہ تین مزید زیر تعمیر ہیں۔
ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کہتے ہیں کہ ابتدا صرف گردوں کے امراض سے کی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ سہولیات اور شعبہ جات میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس وقت ایس آئی یو ٹی میں یورولوجی، نیفرولوجی، جی آئی، پیڈیاٹرک، کینسر اور ٹرانسپلانٹیشن کے شعبے بھی کام کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی ہر ممکن یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو کر سکتے ہیں وہ کریں اور جو کریں وہ بلا معاوضہ مگر عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کریں۔ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی جیسا مسیحا لاکھوں نہیں اربوں انسانوں میں ایک ہوتا ہے ۔ایسا مسیحا جو اس وقت اسی سال کی عمر میں بھی ہر روز اٹھارہ اٹھار گھنٹے کام کرتا ہے ۔ایک انٹرویو کے دوران مسکراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دوست کہتے ہیں کہ ان کی حالت ایک مکڑی جیسی ہے جو جالے بنتی چلی جاتی ہے اور پھر اسی میں پھنستی چلی جاتی ہے ۔کہتے ہیں کہ ہر روز ،ہر لمحہ مریضوں کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ کوئی اور سوچ زہن میں نہیں آتی ۔اب تو زندگی کا ایک ہی کام ہے کہ ہر وقت مریضوں کا اعلاج کرتا رہوں ،اسی میں بہت سکون اور آرام نصیب ہوجاتا ہے ۔سچ کہتے ہیں مسیحا ہو تو ایسا ہو.






