ہماری پارٹیوں میں جمہوریت، ڈکٹیٹر شپ اور جمہوری رویے


ابراہم لنکن نے جمہوریت کے لئے کیا خوب کہا تھا۔ عوام کے ذریعے عوام کی حکومت عوام کے لئے۔ پاکستان کے لئے خوش آئند بات ہے کہ مسلسل دو جمہوری حکومت کے بعد تیسری جمہوری حکومت کو اقتدار مُنتقل ہوا۔ آج کی دُنیا میں بھلا کس کو جمہوریت اور اور اس سے ملنے والے ثمرات سے کوئی رتی برابر بھی اختلاف ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں لیڈران کی اکثریت ہمیشہ مُلک میں جمہوریت کے لئے آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ بظاہر لگتا ہے۔ جیسے جمہوریت کے بغیر شاید یہ جان ہی دے دیں۔ اور جیسے جمہوریت کے لئے کسی بھی قُربانی کے لئے ہمہ وقت تیار ہوں۔

کافی عرصہ سے تو پاکستان میں دو بڑی پارٹیاں پی پی اور ن لیگ ہی اقتدار میں آتی رہیں جن کو آپ تیری واری فیر میری واری جمہوریت بھی کہہ سکتے ہیں۔ پھر تحریک انصاف بھی کوشش کرکے یا ان کے لئے کوشش کراکے جگہ بنائی گئی۔ اب جبکہ یہ پارٹیاں ماشا اللّہ جمہوریت کی بڑی علمبردار کہلاتی ہیں۔ ایک نظر دیکھنے سے باآسانی پتہ چل جاتا ہے کہ پارٹیوں کے اندر کتنی کُچھ جمہوریت ہے بھی کہ نہیں۔ جیسے کہتے ہیں نام بڑے اور درشن چھوٹے۔

جمہوریت کی نام لیوا ان پارٹیوں میں بدترین ڈکٹیٹر شپ ہے۔ کسی بھی پارٹی میں پارٹی سربراہ۔ سربراہ کہنے کے بجائے پارٹی مالک کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہے۔ سربراہ کے علاوہ کسی بھی بڑے سے بڑے پارٹی لیڈر کی جُرات ہی نہیں کہ وہ پارٹی سربراہ کے بیانات، فیصلے یا خیالات سے معمولی اختلاف کرسکے یا کلمہ حق کہہ سکے۔ یہ کہنا کہ ہماری پارٹی میں سب فیصلے جمہوری طریقے سے ہوتے ہیں۔ اختلافی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ایک بھونڈی کوشش اور جھوٹی تاویلات کے سوا کُچھ نہیں ہے۔

پاکستان کی بانی جماعت ہونے کی دعوے دار مسلم لیگ (ن) کو ہی لے لیتے ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور میں پانامہ لیکس گویا ن لیگ کے لئے اور خاص کر ن کے پارٹی سربراہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کے لئے سمجھو بلائے آسمانی تھی۔ اور ان کی لُٹیا ہی ڈبو دی۔ جب یہ سب کُچھ میڈیا کی زینت بننا شروع ہوا۔ ن لیگی لیڈران وُزرائے کرام۔ ممبر پارلیمنٹ سب سارے معاملات حکومت کو پس پشت ڈال کر بس میاں صاحب اور ان کے خاندان کی صفائیاں دینے میں جُت گئے۔ اور سارا دن یہی راگ الاپنا شروع کہ میاں صاحب سے حساب مانگنا جمہوریت پر حملہ کرنا ہے۔ عدلیہ پر جانبداری کے الزام جی آئی ٹی ممبران پر طنزیہ گفتگو گالم گلوچ زمین تنگ کر دیں وغیرہ۔ اور شام کو میڈیا کے ٹاک شو میں آکر سارے خاندان کے بارے صفائیاں دینا اور صادق وامین ثابت کرنے پے لگے رہنا۔

ساری باتوں کو صفائی بیان کرنے کو اگر ہم ایک وقت کے لئے مان بھی لیں۔ ان سارے لیڈران وزرا کرام مُمبران سے کسی ایک نے بھی اپنی پارٹی میں جمہوریت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کبھی میاں صاحب سے اس سارے قضیہ کے بارے سوال کرنے کی جُرات کی کہ میاں صاحب آپ پر آپ کے پورے خاندان پر الزامات ہیں ہمیں مطمین کریں کہ آپ کتنے حد تک قصور وار ہیں کہ نہیں۔ فلیٹ آپ کے ہیں۔ کاروباری پیسے تھے تو لندن پُہنچے کیسے۔ کرپشن کے تھے تو اب خود بُھگتیں۔ اور یہ قطری خط کیا ہے۔ کیسی جمہوری پارٹی ہے کہ پارٹی سربراہان اور خاندان پر لگے کرپشن کے الزام پر کوئی سوال کرنے کی آپ میں جُرات نہ ہو۔ اور پوری حکومت پاکستان کی کابینہ بجائے حکومتی امور چلانے کے خاندان کی صفائیاں دے رہی ہو۔

جمہوریت کے نام پے جو کمال نیا پاکستان کی انصاف پسند جماعت تحریک انصاف نے دکھایا ہے بس اس کی تو ماضی میں مثال ہی نہیں ملتی۔ دو ہزار تیرہ میں چونکہ پارٹی کی پارلیمنٹ میں نشستوں کے حساب سے تیسری پوزیشن تھی اور اس پوزیشن میں خان صاحب وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے لہذا ایسی جمہوریت اور اس میں وجود میں آنے والی پارلیمینٹ کو کسی بھی طریقے سے ختم کرنا اس کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنا ممبر پارلیمنٹ کو گالیاں دینا لعنتی کہنا پارلیمنٹ پر تھوکنا جیسے جملہ کہنا عین جمہوریت کی مثال آپ کو ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ حتیٰ کہ خان صاحب کی پارٹی نے جمہوریت کو ”مضبوط اور بچانے“ کے لئے استعفیٰ تک دے دیا یہ تو بھلا ہو ن لیگ کے سپیکر ایاز صادق کی مُنافقانہ رولنگ کا کہ تحریک انصاف کا ”بھرم“ بھی رہ گیا۔ ممبر پارلیمنٹ میں بھی رہ گئے لعنت بھی بھیج دی تنخواہ بھی لے لی۔

جہاں تک پارٹی کے اندر ہونے والی جمہوریت کا تعلق ہے پارٹی کے بانی ارکان اور پُرانے لیڈران ہیں۔ ماشا اللّہ ایک دو کے علاوہ سب کو بے عزت کرکے نکال دیا گیا یا وہ خود نکل گئے۔ پارٹی پالیسی کے مظابق مُلک کی عدلیہ نے چونکہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیا لہذا وہ چور ہے۔ اور اسی طرح ترین صاحب کو بھی عدلیہ نے نا اہل قرار دیا چونکہ اس نے خان صاحب کو وزیر اعظم بنوانے کے لئے اپنے جہاز کو آزاد سواریوں کے لئے نیو خان بنایا ہوا ہے۔ عین جمہوری عمل ہےاگر کسی کو اس قسم کے جمہوری فیصلے سے اعتراض ہے تو سوشل میڈیا پر کپتان کے کھلاڑی آپ کی شافی کافی خدمت کے لئے تیار ہیں۔

پی پی پی کمال جماعت ہے۔ ابھی تک بھٹو کے نام پر ووٹ لے رہی ہے اور دھڑلے سے لے رہی ہے اور ماشا اللّہ دھڑلہ صرف سندھ کے دیہات تک جا رُکا۔ پارٹی کی جمہوریت کے لئے قُربانیوں کی اگر تعداد بُہت ہے تو اس کے بدلے میں پارٹی نے حکومتوں کے مزے بھی لئے۔ اور عوام کو جس طرح نچوڑا گیا اس کی مثال ملنا مُشکل ہے۔ پارٹی کی آجکل کی مثال دینی ہو تو وہ حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ والا حال ہے۔ دسیوں برانڈ کے حلوہ موجود سب کے سب بھٹوز کے معاف کرنا حافظ کے۔ اس طرح ہی پی پی کا حال ہے۔

بُہت کم بھٹو صاحب کے جیالے ٹائپ لیڈر کُچھ بی بی جیسے پڑھے لکھے مظلوم۔ اکثریت زرداری صاحب کے ماننے والے روزی روٹی کمانے والے حضرات۔ کہنے کو تو بلاول پارٹی چیرمین ہیں لیکن اُن کے خیالات والے سوہن حلوہ ٹائپ لیڈر اور کارکن ابھی بننا شروع نہیں ہوئے۔ بھٹو مرحوم کی جمہوری خدمات (مُثبت یا منفی اس کا فیصلہ کرلیں گے)پے تو کم از کم ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ بی بی شہید ماشا اللّہ اعلےٰ تعلیم یافتہ ایک بڑے لیڈر کی بیٹی ہونے کے باوجود بھٹو مرحوم کے دور کے لیڈرز جن کو انکلز کہتی تھیں۔ بغیر کسی جمہوری طریقے سے ان کو چٹکی بجا کے پارٹی سے نکال دیا اور خود ساختہ سی ای سی بنوا کے پارٹی سربراہ بن بیٹھیں۔

اپنے دور کے بڑے بڑے لیڈرز کی کھڑے کھڑے گوشمالی کر دیتی تھیں۔ دبنگ لیڈر تھیں۔ اگر واقعی جمہوری سوچ رکھتی تو وصیت میں پارٹی کو چلانے کے لئے زرداری یا بلاول کو سربراہ بنانے کے بجائے الیکشن کے ذریعے فیصلے کا کہتیں۔ آجکل پارٹی کی کمان زرداری صاحب کے پاس ہے۔ پارٹی ورکر کا نعرہ ایک زرداری سب پے بھاری اور الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کی اکثریت اس بات کو مانتی اور کہتی ہے کہ اس وقت زرداری جیسا سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی بصیرت والا پاکستان میں اور کوئی بھی لیڈر نہیں ہے۔ ان ساری خوبیوں کا استعمال کرکے جس طرح بلوچستان کی جمہوری حکومت کو دو چار دن میں ختم کیا گیا۔ ن لیگ کی پوری صوبائی پارٹی کو ” گُم“ کیا گیا۔ پی پی کے ایک صوبائی ممبر نہ ہونے کے باوجود وہاں حکومت کو تبدیل کرنا کون سی جمہوریت اور جمہوری رویہ ہے۔

اس قضیہ کو لے کر پارٹی میں موجود بڑے بڑے جمہوریت پر بھاشن دینے والے چیمپینوں رضا ربانی خورشید شاہ فرحت بابر اعتزاز احسن شیریں بی بی نے زرداری صاحب سے پوچھا؟ محترم ہم جمہوری لوگ ہیں یہ کیا حرکت ہے حضور۔ کسی کی جُرات ہی نہیں ہوئی حتیٰ کہ کُچھ لیڈر بڑی بے شرمی سے اس ساری غیر جمہوری حرکت کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ دو باتوں کا کریڈٹ پھر بھی آپ پی پی کو دیں ایک پی پی کے لئے کرپشن کوئی مسئلہ ہی نہیں وہ اس معاملے پر گفتگو کرنا سمجھو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے! دوسری بات لیڈر شپ کی اکثریت خواتین اور اقلیت کی عزت کرتی ہے۔ اخلاقی طور پر اچھی گفتگو اور گالم گلوچ سے دور رہتی ہے۔ آج کے دور میں یہ بھی غنیمت ہے۔

اگر ووٹ کو عزت دو۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے جیسے لچھے دار اور کانوں کو بھلے لگنے والے نعروں کے بجائے پارٹی سربراہان اور لیڈرز اپنے اندر اور پارٹی میں ڈکٹیٹر شپ کے بجائے جمہوریت جمہوری رویہ اور برداشت کا کلچر لے آئیں تو کوئی وجہ نہیں مُلک دُرست سمت میں آگے نہ بڑھے۔

Facebook Comments HS